الثلاثاء، 8 أبريل 2025

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟! 


مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ شیخ محمد حامد الفقی، شیخ عبد الرزاق عفیفی، شیخ عبد الرحمن الوکیل، الشيخ محمد عبد المجيد الشافعی، شیخ احمد فہمی، الشيخ محمد خليل هراس صاحب شرح العقيدة الواسطية، محدث شيخ أحمد محمد شاكر، الشيخ عبد الظاهر أبو السمح، یہ حرم مکی کے پہلے امام ہیں، دار الحدیث خیریہ مکہ کے بانی ہیں، الشيخ محمد علي عبد الرحيم، شیخ عبد الوہاب مرزوق البنا وغیرہ۔ 

سیلفیوں کا یہی دعوتی تنظیم ہے اس کے علاوہ ان کا کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے نہ ہی یہ سیاست میں حصہ لیتے ہیں ۔


یاسر برہامی جنکی پیدائش 1958 میں اسکندریہ کے اندر ہوئی ہے، کا اس جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے.. 

بلکہ یاسر برھامی کا تعلق اخوانی جماعت سے ہے، 90/ کی دہائی میں اخوانیوں سے الگ ہو کر اپنی الگ تنظیم قائم کی جس کا نام حرکۃ الدعو السلفیہ رکھا اور یہ اپنا اسوہ اور نمونہ عبدالرحمن عبدالخالق اور محمد سرور زین العابدین کو مانتے ہیں، جیسے یہ لوگ اخوانیت سے نکل کر اپنی الگ فکر قائم کیے جو اپنے آپ کو سلفی کہنے لگے لیکن یہ سروری خوانی ہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ اخوانیوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، اور ان میں اکثر کویت کے اندر پائے جاتے ہیں باقی دیگر عرب ممالک میں جیسے کہ سعودی عرب، اردن اور مصر وغیرہ میں، عقائد میں اگرچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور شیخ محمد عبدالوہاب رحمہما اللہ کو فالو کرتے ہیں مگر فکری اور تنظیمی اعتبار سے یہ متشدد قسم کے قطبی ہوتے ہیں۔ 

یاسر برہامی کوئی عالم دین نہیں ہیں، علماء ومشائخ سے نہ تو انہوں نے علم دین حاصل کیا اور نہ ہی نظامی طور پر پڑھائی کی بلکہ عام اخوانیوں کے طرز پر یاسر برہامی نے طب یعنی ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی ہے، پیشے سے ڈاکٹر ہیں مگر اپنے پیشے کو چھوڑ کر سیاست اور دعوت دین کو پکڑ لیا جیسا کہ عام اخوانیوں کی حالت ہوتی ہے، پڑھائی کے دنوں میں طلبہ تنظیم کا حصہ رہے، جس طرح سے مصری حکمرانوں کے اغوا اور قتل اور اس کے علاوہ حکومت مخالف مظاہرات اور شر وفساد پھیلانے میں اخوانیوں کا نام آتا تھا وہ پکڑے جاتے تھے جیل جاتے تھے اسی طرح یہ بھی اور ان کے والد بھی پکڑے گئے اور جیل گئے.. اور عرب بہاریہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے الگ سے حزب النور کے نام سے سیاسی پارٹی بنائی تاکہ اقتدار میں آکر فائدہ اٹھائیں۔ 

دعوہ سلفیہ ویسے ہی ہے جیسے کہ محمد حازم صلاح ابو اسماعیل نے الجبھۃ السلفیہ کے نام سے سیاسی تنظیم بنائی تاکہ سیاست میں آکر پنجا آزمائی کرے، یہ صلاح ابو اسماعیل جو کہ اخوانی جماعت کی سرغنوں میں شمار ہوتا ہے اسی کا بیٹا ہے، اخوانی جماعت میں اپنے عہدے سے استعفی دے کر اپنی نئی پارٹی قائم کر لی تاکہ اقتدار میں مزہ لے... اس کی بہت ساری ویڈیو آپ سوشل میڈیا پہ دیکھ سکتے ہیں.. 

اس لیے سلفی نام سے یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ اسکا تعلق حقیقی سلفیوں سے ہی ہوگا، کیوں کہ انکی طرح القاعدہ والے بھی اپنے آپ کو سلفی کہتے تھے، داعشی بھی اپنے آپ کو سلفی کہتے ہیں اور خلیج کے اخوانی بھی اپنے آپ کو سلفی کہتے ہیں اور جتنے سروری اخوانی ہیں یہ سب اپنے آپ کو سلفی کہتے ہیں، جماعت التکفیر والھجرہ والے بھی اپنے آپ کو سلفی کہتے تھے، الجزائر کے اندر الجبھہ السلفیہ نام کی تنظیم اخوانیوں نے بنا رکھی ہے اس لیے سلفی سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے.. 


غزہ کے قضیہ کو لیکر اخوانیوں نے جو جہاد عام کا فتوی دیا اس کے خلاف یاسر برہامی نے مصر میں جو فتوی دیا اس کی وجہ سے سلفیوں کو بدنام کیا جا رہا ہے؛ کیونکہ انہوں نے دعوہ سلفیہ کے نام سے اپنی تنظیم بنا رکھی ہے، ان کا یہ فتوی اپنے آپ میں صحیح یا غلط وہ اپنی جگہ البتہ اس مضمون میں ہم صرف اس حقیقت سے پردہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ یاسر برہامی سروری اخوانی ہیں سلفی نہیں، اور مصر کے اندر جو سلفی جماعت انصار السنہ المحمدیہ کے نام سے پائی جاتی ہے اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 


شيخ هشام البيلي مصر کے سلفی عالم دین ہیں انہوں نے یاسر برہامی اور حزب النور وغیرہ پر تفصیلی رد کیا ہے جسے آپ اطمینان سے سن سکتے ہیں...

https://www.elbeialy.com/catplay.php?catsmktba=2601 


یہ شیخ محمد سعید رسلان حفظہ اللہ ہیں جو مصر کے مشہور سلفی عالم دین ہیں ان کی رائے بھی یاسر برہامی اور ان کی جماعت کے بارے میں سن لیں: 

https://youtu.be/OOLDXNj9NkI?feature=shared


حزب النور پر میں نے چار سال پہلے ایک پوسٹ لکھا تھا اسے آپ دیکھ سکتے ہیں :

https://www.facebook.com/share/p/1AQ1FsSfuc/


مزید تفصیل کیلئے عثمان حسن بابکر کی کتاب (البؤر الارھابیۃ فی مجتمعاتنا العربیۃ والإسلامیۃ) کا مطالعہ کریں بالخصوص ص 190.


نوٹ : سلفی سے مشہور کرکے دراصل اصل سلفیوں کو بدنام کیا جاتا ہے، سروری اخوانیوں اور داعشیوں کی طرف کسی کی نظر نہیں جاتی ہے، تقیہ باز مکار اخوانیوں کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے، جیسے کہ جب داعش کا فتنہ پیدا ہوا تھا تو ان اخونجیوں نے انہیں سلفی کہہ کر اصل سلفیوں کو بدنام کیا تھا حالانکہ سلفیوں نے سب سے پہلے ان خبیثوں سے اپنی براءت کا اظہار کیا اور انکے خلاف کانفرنسز کئے اور کتابیں لکھی تھیں، بالکل اسی طرح اصل سلفیوں کو بدنام کرنے کیلئے اس وقت یاسر برہامی کے بیانیے کو وائرل کیا جا رہا ہے، اور آپ گوگل کریں گے تو صرف یہی نظر آئے گا کہ دعوہ سلفیہ کے صدر کا ج@ہاد غزہ کے خلاف بیان آیا ہے.... ایک سلفی عالم کا بیان آیا ہے وغیرہ وغیرہ، چنانچہ اسی اخونجی مکاری اور خباثت کا پردہ چاک کرنے کیلئے یہ تحقیقی مضمون لکھا گیا... ورنہ کوئی ضرورت نہیں تھی...  


https://www.facebook.com/share/p/18qdpuYUxd/

الاثنين، 7 أبريل 2025

اخوانیوں کا دوغلا چہرہ!

 اخوانیوں کا دوسرا چہرہ! 


افغانستان کے بگرام فوجی اڈے پر امریکہ نے دوبارہ قبضہ جما لیا ہے جس کے اندر ایک لاکھ امریکی فوج رہنے کی گنجائش ہے... (یہ اخوانیوں کی واحد اسلامی حکومت ہے) 


قطر میں دو فوجی اڈوں پر امریکہ قابض ہے 10 ہزار امریکی فوج موجود ہیں... 


سات اکتوبر سے برابر امریکہ قطر سے اسرائیل کو اسلحہ بھیج رہا ہے.....


اور قطری حکومت اسرائیل کے واسطے سے حماسیوں کو پیسہ دے رہا ہے...

(یہ اخوانیوں کی واحد عدل پر مبنی بادشاہت اور وہاں کا بادشاہ عادل اور بڑا رحم دل ہے) 


لگزری گاڑیاں اسرائیل سے ھماسیوں کے لیے جاتی ہیں...


ایرانی امداد اور اسلحے اسرائیل کے ہاتھوں ھماسیوں کو جاتا ہے...

(اخوانیوں کے یہاں یہ واحد اسلامی جمہوریہ ہے)


ترکی سے اردگان اسرائیلی فوجیوں کے لیے ہر طرح کے ساز و سامان اور پٹرول برابر سپلائی کر رہا ہے..

(اخوانیوں کے یہاں یہ واحد مسلم شرعی صدر ہے)


کیا یہ سب مودودیوں اور تحریکیوں اخوانیوں کو نہیں معلوم ہے...؟!!!؟


اس پر بات کیوں نہیں کرتے؟!؟! ؟


صرف اور صرف پروپیگنڈا اور جھوٹی خبریں کیوں پھیلاتے ہیں؟!!!!!


اور وہ ممالک جو فلسطینیوں کی ہمیشہ سے مدد کرتے آئے ہیں اور جن کے سہارے فلسطین قائم ہے چاہے وہاں کے اسکول ہوں ہسپتال ہوں وہاں کی حکومت ہو دنیا بھر میں فلسطین کے سفارت خانے ہوں سب جن اربوں کے پیسے سے قائم ہے اور جن عربوں نے تین بار فلسطین کے لیے لڑائی لڑی ہے... ان کی فوجیوں کی قبریں آج بھی وہاں موجود ہیں..


اس وقت قطر کا نام و نشان نہیں تھا...

اس وقت ترکی عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دے رہا تھا...

ایران عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دے رہا تھا...


(یہ سارے عرب ممالک اخوانیوں کے یہاں طاغوتی نظام ہیں جنہیں انقلاب برپا کر کے مٹا دینا چاہیے)..


سوال یہ ہے کہ اس وقت سارے اخوانی مودودی تحریکی ان طاغوتوں کے سامنے کیوں واویلا مچا رہے ہیں؟!!!

اپنے عادل بادشاہوں مسلم حکمرانوں اسلامی جمہوریہوں اسلامی امارتوں اور اپنی اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کا نام کیوں نہیں لے رہے ہیں اور کیوں نہیں مل کر چوتھی بار یہی لوگ اٹیک کر رہے ہیں؟!؟ ؟


ایک بار یہ جمہورے بھی اپنی طاقت آزما لیں.... طاغوتوں سے بھیک کیوں مانگ رہے ہیں؟!؟ ؟؟


✍️شیخ اجمل منظور حفظہ اللہ

قطر اور اسرائیل کا ھماسی ٹول!


اسرائیلی راجدھانی تل ابیب کے اندر حزب مخالف پارٹی نے بنیامن نتنیاہو کی رولنگ پارٹی لیکود کے نام سے قطر کا جھنڈا لہرا رکھا ہے جس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ قطری حکومت سے پیسہ لے کر نتن یاہو حماسیوں تک پہنچاتا ہے اور رشوت کھا کر قطر کی شبیہہ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے... 

دو دن پہلے رشوت خوری کے معاملے میں ایک عدالت کے اندر بنیامین نیتنیاہو کی حاضری تھی وہاں پر اس کے خلاف جم کر احتجاج ہوا اور قطر گیٹ اسکیم کے معاملے سے متعلق پوچھ گچھ ہوئی اس کے علاوہ بھی کئی طرح کے کرپشن میں بنیامتنیاہو مبتلا ہے... 

اور قطری وزیراعظم نے باقاعدہ میڈیا میں اس پر اعتراف کیا ہے کہ امریکہ کے کہنے پر ہم ھماس کی مدد کرتے ہیں... 


بہرحال یہاں بیان کرنے کا جو مقصد ہے کہ آپ کسی بھی اخوانی تحریکی چینل سے خواہ وہ جزیرہ ہو یا کوئی بھی ہو یا سوشل میڈیا میں کہیں بھی خاص طور سے عربی اردو فارسی وغیرہ میں یہ خبریں آپ نہیں پائیں گے کہ کیسے قطر اسرائیلی حکومت سے ملا ہوا ہے حماسیوں کو پیسہ اسرائیلی حکومت کے ذریعے سے جاتا ہے ھماسیوں کو لگزری گاڑیاں اسرائیلی حکومت کے ذریعے سے پہنچائی جاتی ہیں حتی کہ سارے اسلحے جو ان کے ہاتھ میں آپ مشین گن اور چھوٹے بڑے ہتھیار دیکھتے ہیں وہ سب اسرائیل کے ذریعے سے پہنچتے ہیں تو کیا یہ سوچنے والی بات نہیں ہے کہ ایران قطر حماس کی مدد اسرائیل کے ذریعے سے کرتے ہیں اور اسرائیل ایسے لوگوں کی مدد کیوں کر رہا ہے؟ انہیں اسلحہ کیوں پہونچا رہا ہے؟ رشوت لیکر انہیں پیسہ کیوں  پہونچا رہا ہے؟؟ 

جن کو میڈیا میں دہشت گرد کہتا ہے اور پھر ان کو پال رہا ہے کبھی اخوانیوں نے اس پر سوچا؟!! 

جب ہم دوسرے ان کو دہشت گرد کہتے ہیں، ان کو فتنہ اور فساد مچانے والا کہا جاتا ہے، ان کو جب فلسطینیوں کو تباہ کرنے کا سبب بتایا جاتا ہے، اور جب یہ اعترافات سامنے آتے ہیں چاہے وہ غزہ کے سابق یہودی گورنر کی طرف سے ہو یا امریکی سینیٹر کی طرف سے ہو یا اسرائیلی سینیٹر کی طرف سے ہو یا دوسرے امریکی سربراہان کی طرف سے ہو کہ حماس کو باقاعدہ کھڑا کیا گیا ہے فلسطین کو مزید توڑنے کے لیے اور اس میں ایران قطر امریکہ اسرائیل یہ چاروں ممالک شامل ہیں... تو پھر واویلا کیوں مچایا جاتا ہے؟؟ 


تفصیل ان اخبارات میں دیکھ سکتے ہیں : 


https://www.theguardian.com/world/2025/apr/06/is-qatargate-a-scandal-too-far-even-for-benjamin-netanyahu


https://www.timesofisrael.com/second-businessman-questioned-in-qatargate-probe-identified-as-david-saig/


https://time.com/7274186/israel-netanyahu-qatargate-scandal-qatar-bribery-corruption-prime-minister-office/


https://www.facebook.com/share/p/19MMuNE25c/

اسراری ٹولہ کا فلسطینی کاز میں کیا رول ہے سوائے لعن طعن کے؟!

 ترکی، ایران، افغانستان اور پاکستان جن کی جیوتشی بابا ڈاکٹر اسرار برابر سراہنا کرتے نظر آتے ہیں اپنی ویڈیوز میں اور یہ پیشن گوئی کرتے ہیں کہ عرب تو گئے ختم ہو گئے، انکی تو اب خانہ کعبہ میں بھی دعائیں قبول نہیں ہو رہی ہیں... یہ عجمی ممالک ابھر رہے ہیں یہی چاروں ممالک عالم اسلام کی قیادت کریں گے.. یہیں سے کالے جھنڈے والے نکلیں گے اور یہیں سے اسلام کو طاقت پہونچے گی، آیت اللہ العظمی کھومینی، کھلیفہ رجب طیب اردگان اور ملا عمر کے جانشین نے آغاز کر دیا ہے (اور پاکستان میں تو دو دو حافظ موجود ہیں مودودی کا جانشین حافظ نعیم اور فوجی سربراہ حافظ منیر...) 


جیوتشی بابا کے بیانیہ اور فکر سے قطع نظر حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو نفری اور اسلحہ جاتی طاقت کے اعتبار سے مسلم ملکوں میں یہ ہیں بھی آگے؛ کیونکہ پاکستان واحد ایٹمی طاقت والا ملک ہے دوسرے نمبر پر فوجی اعتبار سے ترکی ہے تیسرے نمبر پر ایران ہے افغانستان کے ظالمان تو جہاد میں مشہور ہی ہیں انہوں نے تو روس امریکہ کو ہرا دیا ہے تو چار ہیکٹر زمین پر واقع خسرائیل کی کیا اوقات ہے....


پھر سوال یہ ہے کہ سارا اسراری ٹولہ ان چاروں ملکوں سے اپیل کیوں نہیں کرتا؟!!

جب ان کے پاس نفری طاقت بھی ہے اسلحہ بھی ہے ان کے پاس سو کالڈ نمبر ون کے مگاہدین بھی ہیں تو پھر یہ اپنے فکری بھائی ہماسیوں کی مدد کیوں نہیں کرتے؟!! ہر ملک نے چپی کیوں سادی ہوئی ہے؟!؟ بلکہ ایران اور ترکی کی طرف سے تو معذرت نامہ بھی آچکا ہے... اور باقی دو ملکوں کی طرف سے بھی خاموش انداز میں معذرت ہی ہے....


کم سے کم عربوں نے تو تین لڑائی کی ہے اپنی طاقت اور جان گنوائی ہے اور 1948 سے آج تک یہی ممالک فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی عوام کی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں؛ ان کے گھر انکے شفا خانے حتی کہ اشیائے خرد و نوش یہ سب وہی عرب ممالک برداشت کر رہے ہیں... فلسطین کے دنیا بھر میں جہاں بھی سفارتی خانے ہیں ان کا خرچہ بھی یہی اٹھا رہے ہیں، فلسطینی اتھارٹی کا جو سالانہ خرچ ہے اسے بھی یہی عرب برداشت کر رہے ہیں، فلسطینی مہاجرین کی امداد بھی یہی کر رہے ہیں، عالمی فارموں پر سیاسی اور سفارتی لڑائی بھی یہی لڑ رہے ہیں... چلیے مذکورہ تمام سطح  پر تو ابھی یہ مدد کر رہے ہیں اور تین بار لڑائی کر کے یہ ہار بیٹھے ہیں، یہ اب اس قضیے کو سیاسی پیمانے پر حل کرنا چاہتے ہیں، تو یہ چار عجمی ممالک کم سے کم چوتھی بار اپنے تمام سو کالڈ گاہدین اور سو کالڈ جہادی وتحریکی تنظیموں اور جماعتوں کو لے کر کیوں نہیں حملہ آور ہو جاتے؟!!!!فھل من مجیب؟!

ھماسیوں کی دلالی

 دیر البلح نامی علاقہ جو غزہ کے وسط میں واقع ہے جہاں پر یہ حماسی چوہے سرنگ سے نکلتے ہیں اور وہیں سے یہ اسرائیل پر پٹاخے پھینکتے ہیں.. اسی علاقے میں یہ اپنے ہتھیاروں کا جشن بھی مناتے ہیں یہیں پر یہ اسرائیل سے امپورٹڈ لگزری گاڑیوں میں بیٹھ کر گھومتے ہیں مگر اسرائیل نے آج تک اس علاقے پر ایک بھی فائر نہیں کیا ہے کیونکہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ ان کے کارندے یہیں پر رہتے ہیں.....


ابھی آج رات میں انہوں نے کچھ پٹاخے اسرائیل پر پھینکے ہیں الجزیرہ نے دکھایا ہے اور یہ دعوی کیا ہے یہ اسرائیلی جارحیت کو جواب دیا گیا ہے... اس سے تو اسرائیل کا ایک پرندہ بھی نہیں مرا مگر ایسا کر کے جہاں ایک طرف اندھ بھکتوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ یہاں ایک طرفہ کاروائی نہیں بلکہ مقابلہ چل رہا ہے... جنگ ہو رہی ہے.... دوسری طرف اسرائیل نے جہاں پورے غزہ کو برباد کر دیا ہے شاید یہی ایک خطہ باقی رہ گیا تھا جہاں کے لوگ ابھی محفوظ تھے وہاں کے مکانات ابھی باقی تھے اب اسے بھی ممکن ہے اسرائیل بنیاد بنا کر یہاں بھی پورے طرح حملہ کرنا شروع کر دے اور یہاں کے لوگ بھی منتشر اور بکھر جائیں اور ان کے مکانات بھی زمین کے برابر ہو جائیں....

یہ سرنگی چوہے تو اپنا سرنگ میں چلے جائیں گے....


غزہ ہی کے ایک صحافی نے ان سرنگی چوہوں کے پٹاخہ پھینکنے پر کیا ہی بہترین درد بھرا مضمون لکھا ہے جو پڑھنے کے لائق ہے اس نے صاف صاف لکھا ہے کہ اس وقت ہم ایک دہشت گرد گروہ کے بندھک بنے ہوئے ہیں:⬇️⬇️

https://www.facebook.com/share/p/15yb2QJDy4/

السبت، 29 مارس 2025

امارات اور اخوانی بیچارے!

 امارات اور بیچارے اخوانی! 


ترکی میں جب یہ دیکھا گیا کہ استنبول پر اردگان مخالف امام اوگلو تین انتخابات سے برابر جیت رہا ہے اور پورے ملک میں اپنی مقبولیت بڑھا رہا ہے تو اس کے خلاف سازش کرتے ہوئے اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کر کے اس کو جیل میں ڈلوا دیا گیا حتی کہ اس پر دہشت گردی تک کا الزام لگایا گیا تو استنبول پر شہر کے اندر اور اس کے علاوہ پچاسوں شہروں میں اردگانی حکومت کے خلاف پورا سیلاب امڈ پڑا اور پبلک جگہ جگہ دھرنا دینے لگی مگر وہاں کے ڈکٹیٹر حاکم اردگان نے فوج کے ذریعے اس احتجاج کو بے رحمی سے کچل دیا اور ہزاروں لوگوں کو جیل میں ڈلوا دیا...

اسی طرح غزہ کے اندر بھی ایرانی ایجنٹ اخوانی ھماسیوں کے خلاف پورا شہر امڈ بڑا کیونکہ ان کی وجہ سے پورا شہر تباہ و برباد ہو رہا تھا اور یہ تو سرنگوں میں گھسے رہتے ہیں یا پھر ترکی اور قطر میں بیٹھے رہتے ہیں اور سوشل میڈیا سے بھڑکاؤ بیان دے کر دشمنوں سے حملہ کرواتے ہیں اور اپنے آقاؤں کو خوش کرتے ہیں، عوام مار کھاتی ہے بے گھر ہوتی ہے لاکھوں لوگ مارے گئے اور بے گھر ہوئے پورا شہر تباہ ہو گیا پورا اسٹرکچر برباد ہو گیا نہ کوئی سکول ہے نہ کوئی شفا خانہ نہ کوئی گھر پبلک کھلے آسمان میں رہنے پر مجبور ہے..

اس وقت اخوانی اسی وجہ سے ہر جگہ دھتکارے جا رہے ہیں یہ صرف سوشل میڈیا میں دکھائی دیتے ہیں زمینی طور پر انہیں کہیں بھی جگہ نہیں ملتی ہے ترکی اور قطر کے سوا...


ان ساری باتوں کو چھپانے کے لیے اور ان پر پردہ ڈالنے کے لیے ان دلال اخوانیوں نے امارات کے خلاف محاذ کھول دیا ہے وہ ساری جھوٹی کہانیاں اور پروپیگنڈے جو 10 سال سے چل رہے تھے انہی کو دوبارہ یہ پھیلا رہے ہیں کہ امارات کا احتجاجوں کے پیچھے ہاتھ ہے امارات ایسا کر رہا ہے ویسا کر رہا ہے...

دراصل امارات اخوانیوں کے خلاف بہت سخت ہے امارات میں سب سے بڑا گناہ اخوانی جماعت میں شامل ہونا ہے چونکہ انہیں وہاں پر کسی طرح کی کوئی آزادی نہیں ہے یہ لوگ وہاں بول بھی نہیں سکتے کہ یہ اخوانی ہیں، یہ وہاں صوفی بول کر یا سلفی بول کر رہتے ہیں، اسی لیے یہ سب سے زیادہ پروپیگنڈا اور سب سے زیادہ جھوٹ الزام امارات کے خلاف بکتے ہیں اور اسے بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے...


https://www.facebook.com/share/p/15 cEySYvcL/

ھماسی چوہوں کی عمالت

 یہ حماسی چوہا جو دکھنے میں بھی ایرانی لگتا ہے الجزیرہ اس کا بیان نقل کر رہا ہے  یہ خوف کے مارے کپکپا رہا ہے اور کہہ رہا ہے دنیا والوں سے مخاطب کر کے کہ اسرائیلی بندھک جو ہمارے پاس ہیں انہیں اس وقت خطرہ ہے غزہ والوں سے جو ہمارے خلاف احتجاج کر رہے ہیں...

اسکو یہودی بندھکوں کی بڑی فکر ہے لیکن لاکھوں مسلمان فلسطینی قتل اور تباہ ہو گئے اس کی کوئی فکر نہیں ہے... اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس ایرانی ایجنٹ کی نگاہ میں یہودیوں اور ایرانیوں کی جو قدر و قیمت ہے وہ کسی مسلمان کی نہیں ہے اور یہی حقیقت ہے...
ہماسی ترجمان موسی ابو مرزوق نے صاف صاف کہا تھا کہ ہمیں صرف اپنے بندوں سے مطلب ہے فلسطینیوں کی ہمیں کوئی فکر نہیں ہے ان کی حفاظت کی ذمہ داری اقوام متحدہ اور اسرائیل کی ہے نعوذ باللہ من ھذا الخذلان...
اور مقتول اسماعیل ھنیہ نے کہا تھا کہ ہم یہاں پر اسرائیل کو مشغول رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ منظم پلان بنا کر ہمارے ایران پہ حملہ نہ کرے. استغفر اللہ!
یعنی غزہ کے اندر فلسطینیوں کو کٹوا رہا ہے اپنے آقاؤں کو تحفظ دینے کی خاطر!!!؟

https://www.facebook.com/share/p/18ehMcbZdy/?mibextid=wwXIfr

حرمین شریفین اور آل سعود

 آل سعود کے کارنامے

ایسے عظیم کارناموں پر بھی اہل بدعت اور دشمنانِ توحید کو اعتراض ہے...

🚨 *"مسجد الحرام: دنیا کی سب سے بڑی اور مصروف عبادت گاہ کے حیرت انگیز حقائق!"*

🕋 رقبہ: 3,56,000 مربع میٹر
🕋 گنجائش: 20 لاکھ نمازیوں کی
🕋 سالانہ زائرین: 2 کروڑ سے زائد
🕋 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے، کبھی بند نہیں ہوتی
🕋 صفائی کے انتظامات:

1800 صفائی کرنے والے عملہ

40 برقی صفائی گاڑیاں

60 صحن کی صفائی کی مشینیں

2000 کچرا دان
🕋 مسجد میں 40,000 قالین موجود
🕋 قالینوں کا ایک بڑا گودام، 15,000 قالینوں کی گنجائش کے ساتھ
🕋 13,000 واش رومز، دن میں 4 بار مکمل صفائی
🕋 25,000 زم زم کی بوتلیں دستیاب
🕋 یومیہ 100 زمزم کے نمونوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے
🕋 زمزم کے پانی کے فاضل ذخائر محفوظ کیے جاتے ہیں
🕋 الحرمین قرآنی تلاوت مرکز
🕋 2000 سے زائد محفوظ لاکرز
🕋 مسجد میں سینکڑوں کولنگ یونٹس
🕋 مسجد کی ٹائلیں روشنی منعکس کرتی ہیں اور گرمی کم کرتی ہیں
🕋 مقصد ایپلیکیشن: مسجد میں کسی بھی جگہ تک رہنمائی فراہم کرتی ہے

🕋 آواز کا نظام:

غلطی کی شرح 0%

6000 اسپیکرز

4 جدید آڈیو سسٹمز

50 آڈیو سٹاف ممبران
🕋 قرآن کریم کا ترجمہ 65 مختلف زبانوں میں دستیاب
🕋 جمعہ کے خطبے کا ترجمہ 5 مختلف زبانوں میں

🕋 خصوصی افراد کے لیے سہولیات:

10,000 عام ویل چیئرز مفت فراہم کی جاتی ہیں

400 الیکٹرانک وہیل چیئرز

ڈبل اور ٹرپل وہیل چیئرز دستیاب

🕋 افطار انتظامات:

4,000,000 افراد کا افطار

5,000,000 کھجوریں مسجد کے اندر تقسیم کی جاتی ہیں

5,000,000 کھجوریں مسجد کے باہر تقسیم کی جاتی ہیں

افطار کے بعد صرف 2 منٹ میں صفائی مکمل کی جاتی ہے

یہ سب خدمات زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے مسجد الحرام میں دستیاب
ہیں۔ سبحان اللہ!

اخونجیوں کی پیرلل مسلح فوج تاریخ کے آئینے میں!

 اخوانجیوں کی پیرالل مسلح فوج تاریخ کے آئینے میں!!!!


سوڈان کو دو سال سے جس طرح اخونجی فسادی گروپ پیرا ملٹری نے یرغمال بنا رکھا تھا اور جگہ جگہ قتل خوریزی مچا رہے تھے اس پر قابو پاکر وہاں کی فوج نے تمام جگہوں پر بطور خاص خرطوم پر پورا کنٹرول حاصل کر لیا ہے...

قطر سے خنزیرہ چینل آج بھی اس فسادی اور قاتل ملیشیا کے حق میں خبر نشر کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یہ عسکری اسٹریٹیجک حکمت عملی ہے اس نے اپنی جگہ گرچہ چھوڑ دی ہے مزید قوت کے ساتھ واپس آئے گی وغیرہ وغیرہ... ایسے فسادی چینلوں سے فتنوں کے وقت دور رہنا بہت ضروری ہے...

کہتے ہیں کہ جنوبی سوڈان میں کوئی ایک جگہ باقی ہے...
اس میں پورے طور پر مصر اور وہاں کے فوجی جنرل عبد الفتاح سیسی نے اور اسی طریقے سے سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے بڑا کردار ادا کیا ہے..

ہر طرح سے سوڈانی حکومت کی مدد کی اور وہاں کے فتنہ و فساد قتل و خوریزی کو ختم کرنے میں پورا پورا ساتھ دیا...

چنانچہ یہ دیکھنے میں آیا کہ سوڈان کی عوام مصر اور وہاں کے فوجی جنرل عبدالفتاح سیسی اور اسی طریقے سے سعودی عرب اور وہاں کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سڑکوں پر آئے...

اور سوڈان کے فوجی جنرل نے پریس کانفرنس کر کے باقاعدہ ان دونوں ملکوں کا بطور خاص سعودی عرب کا اور وہاں کے حکمرانوں کا شکریہ ادا کیا ہے...

نوٹ:
ایک ملک میں ایک ہی فوج ہوتی ہے... دو فوج اگر بنائی جائے گی تو ایک طرح سے خانہ جنگی ہونا طے ہے.... یہ رافضیوں اور اخوانیوں کی سوچ ہے کہ جہاں بھی کنٹرول ہو تو ملکی فوج کے علاوہ الگ سے ایک پیراملٹری فوج بنائی جائے...
دراصل ان کی سوچ یہ ہے کہ ایک بار جب اقتدار پر قبضہ کر لو تو اسے نہ چھوڑو... ملکی فوج کا کوئی سہارا نہیں ہے تو یہ پیراملٹری ہمارا ساتھ دے گی...
چنانچہ سوڈان کے اندر عمر بشیر کے زمانے میں یہ پیراملٹری 2008 کے اندر بنائی گئی تھی جبکہ اس سے پہلے ہی زندیق اخمنجی حسن ترابی نے جب سوڈان پر ظالمانہ قبضہ کیا تھا اسی وقت اسکے لئے تیاری شروع ہو گئی تھی....
یاد رہے کہ جس وقت صدام نے کویت پر قبضہ کیا تھا اور سعودی عرب کو دھمکی دے رہا تھا اس وقت اس خبیث ترابی نے صدام حسین کی انٹیلیجنس اور فوج کے اعتبار سے مدد کی تھی اور عراق جا کر اسے مبارکبادی دی تھی اسی طرح دیگر اخوانیوں نے بھی اس سنگین موقع پر خلیجی ملکوں کے خلاف صدام حسین کا ساتھ دیا تھا...
آپ ان کی دوغلا پنی دیکھیں کہ اس سے پہلے جب صدام خمینی سے لڑ رہا تھا تو ان دوغلوں نے صدام کے خلاف خمینی کا ساتھ دیا تھا...
آپ یہاں اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کی نگاہ میں اصل جن کے خلاف انہیں برپا کیا گیا ہے وہ اصل عرب سنی ممالک ہیں ان کے خلاف کوئی بھی کھڑا ہوگا اس کا یہ ساتھ دیں گے... ایران کا ساتھ تو اس لیے دے رہے تھے کیونکہ اس کا اصل ٹارگٹ حرمین اور خلیجی ممالک تھے صدام راہ کا روڑا تھا...
صدام کا اس لیے ساتھ دے رہے تھے کیونکہ اس کا ٹارگٹ بھی یہی خلیجی ممالک تھے...
اسی طریقے سے عمومی پیمانے پر خلیجی ممالک کے خلاف کوئی ملک بھی اٹھ کھڑا ہو یا کوئی بیان دے یا کوئی مسئلہ ہو تو فورا یہ خلیجی ممالک کے خلاف بطور خاص امارات اور سعودی کے خلاف اس کا ساتھ دیں گے...
اسی لیے عربوں میں مشہور ہے کہ اگر کوئی بھی خلیجی ملک اسرائیل سے لڑائی کرے تو یہ سارے اخونجی اسرائیل کا ساتھ دیں گے... وہاں کے لوگوں کو باقاعدہ یہ یقین ہے۔

اور اس سوڈانی ملیشیا پیرا ملٹری کو امریکہ اور دیگر فسادی ملکوں بالخصوص اسرائیل کی طرف سے فوجی امداد ملتی تھی... یہ سرحدوں پر نہیں بلکہ ملک کے اندر شہروں میں لڑائی کرنے میں ماہر ہوتے ہیں..
آپ دیکھیں گے اسی طریقے سے عراق کے اندر ملکی فوج کے علاوہ وہاں پر جب رافضیوں اور اخوانیوں کا قبضہ ہوا تو ایک پیراملٹری فوج بنائی گئی جس کو حشد شعبی بولتے ہیں کہ اگر ملک کی فوج ساتھ نہ دے تو اسے سہارا بنایا جائے...

اسی طریقے سے انہوں نے لبنان میں وہاں کے ملکی فوج کے علاوہ ایک پیرا ملٹری فوج کے طور پر حزب اللہ کے نام پہ بنایا ہے جو دھیرے دھیرے ملکی فوج کا ٹکر لینے لگی ہے جس کی وجہ سے وہاں ہمیشہ خانہ جنگی فتنہ و فساد پھیلا رہتا ہے....

اور اسی طرح سے انہوں نے یمن میں ھوسیوں کو وہاں کے ملکی فوج کے مقابلے میں تیار کیا اور اس میں ایرانی رافزیوں اور اخوانیوں کا پورا پورا ہاتھ رہا ہے...

مصر میں بھی ان کی یہی سازش تھی جس وقت اکھوانیوں کا وہاں پر قبضہ ہوا تھا محمد مرسی کے زمانے میں ایرانی جنرل سلیمانی کو مصر میں بلا کر اسی طرح کی ایک رضاکارانہ فوج بنانے اور انہیں تربیت دینے پر باتیں ہوئی تھیں لیکن مصر کی فوج نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا...
بہرحال ان فسادیوں کی یہی پوری کوشش رہتی ہے کہ جہاں بھی یہ قبضہ کرتے ہیں اقتدار پر یا کسی طرح سے انہیں کسی بھی ملک میں طاقت حاصل ہوتی ہے تو یہ ملکی فوج کے مقابلے میں مسلح گروپ تیار کرتے ہیں یا مسلح نوجوانوں کو کم سے کم تربیت دینے اور انہیں تیار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں... 
حسن بنا سید قطب کے زمانے میں ان فسادی خوانیوں نے مصر کے اندر نوجوانوں کی ایک بڑی فوج تیار کر رکھی تھی لیکن وہ انڈر گراؤنڈ رہتے تھے فلسطین میں جہاد کے نام پر عوام کو بیوقوف بنایا اور اس طرح سے انہوں نے بہت سارے نوجوانوں کو برین واش کر کے پہاڑوں میں لے جا کر تربیت دیتے تھے تاکہ وہ ملک میں بم دھماکے کریں فساد مچائیں اور حکمرانوں کا اغوا کریں انہیں قتل کریں اور بہت سارے مواقع پر انہوں نے ایسا کیا بھی اور پکڑے بھی گئے ان کی سازشیں طشت از بام بھی ہوئیں... اس میں جیپ کیس بہت معروف ہے جس میں ان کے تمام خبیث عزائم کا پردہ فاش ہوا جس کے اندر پورے دستاویزات ان کے نام ساری چیزیں مل گئیں....

🖋️ د/ اجمل منظور المدنی

https://www.facebook.com/share/p/186KycHZAi/

سورہ فتح اور صحابہ کرام کا مقام!

 سورہ فتح اور صحابہ کا مقام! 


اس سورت کے اندر اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی چار جگہوں پر تعریف کی ہے:

1- ان میں پہلی جگہ اللہ تعالی کا یہ قول ہے:(هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ) ترجمہ : وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں۔ (الفتح :4)۔

«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے۔ 

صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ” مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے “ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔


2- انہی میں سے ایک اللہ تعالی کا یہ قول بھی ہے:(لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا) ترجمہ : یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی [الفتح : 18]۔

اللہ تعالی ان سے راضی ہوا اور وہ بھی اللہ تعالی سے راضی ہوئے، روافض قرآن کریم کے اس واضح نص کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے معنی میں تحریر کرتے ہیں -اللہ تعالی انہیں برباد کرے- یہ زنادقہ مجرمین سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس آیت کے بعد مرتد ہو گئے تھے -اللہ ان کا پورا کرے- حالانکہ یہ اللہ کی طرف سے ابدی رضامندی کی سرٹیفیکیٹ ہے ان صحابہ کرام کے لیے، اللہ تعالی ان کے ایمان اور ایمان پر ثابت قدمی ہی کی وجہ سے راضی ہوا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا کے مل گئے ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہوا، بعض جاہل دیہاتی جو شہر سے دور رہتے تھے وہ مرتد ہوئے تھے جن سے خود صحابہ کرام نے قتال کیا، ان میں سے کچھ مارے گئے اور باقی اسلام کی طرف واپس آگئے، پھر یہی صحابہ کرام آگے بڑھ کر دنیا کو فتح کیا یہاں تک کہ ان روافض کے ملک بلاد فارس کو بھی فتح کیا، بلاد روم، مصر اور افریقہ کے دیگر مغربی علاقوں کو فتح کیا -رضوان اللہ علیہم اجمعین- یہاں تک کہ وہ بحر اٹلانٹک تک پہنچ گئے، اور یہ بے ہودے کہتے ہیں کہ وہ مرتد ہو گئے تھے، کیا دین اسلام سے مرتد ہو کر کوئی دین اسلام کے لیے یہ عظیم خدمات اور یہ کارنامے انجام دے گا اور فتوحات پر فتوحات حاصل کرے گا اسلامی قلمرو کو وسیع کرتا جائے گا؟! 

یہ وہ صحابہ کرام ہیں جن کے ہاتھوں پر بہت ساری قوموں نے اسلام قبول کیا، اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد زریں میں صحابہ کرام کے ہاتھوں پر جتنے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اتنا کبھی بھی لوگ اسلام میں داخل نہیں ہوئے ہیں، اور یہ زنادقہ مجرمین اس کے بدلے میں ان صحابہ کرام کو گالی دیتے ہیں، ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں اور ان کی تکفیر کرتے ہیں۔ دراصل یہ اس طعن و تشنیع کے ذریعے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹارگٹ کر رہے ہوتے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر طعن و تشنیع کر رہے ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ ڈائریکٹ ایسا کر نہیں سکتے؛ کیونکہ ایسا کر کے یہ اپنے آپ کو ایکسپوز کر لیں گے اور اس سے سارے لوگوں کی تکفیر ہو جائے گی، اسی لیے انہوں نے یہ خبیث طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ 


3- اسی طرح اللہ تعالی نے فرمایا: (هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا) ترجمہ : وہی ہے جس نےاپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے، اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے واﻻ [الفتح : 28]۔

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی نے اس دین کو اصحاب محمد ہی کے ہاتھوں پر غالب کیا ہے، انہی کے جہاد، انہی کی تلواروں اور انہی کے علم و حکمت اور انہی کی دعوت کے ذریعے اسلام کو سر بلند کیا اور تمام ادیان پر اسے غالب کیا، اور ان شاء اللہ ایسے ہی سچے مومنوں کے ہاتھوں اللہ تعالی دوبارہ بھی اسے غالب کرے گا، اس لیے صدق دل سے اللہ کے کلمے کی سربلندی اور اس کے دین کے غالب کرنے اور تمام ادیان پر اسے سر بلند کرنے کے لیے اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔ 


4- اس سورت کے آخر میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی زبردست تعریف کی ہے، ان کی مدح و ستائش کی ہے اور ان سے بغض اور دشمنی رکھنے والوں کو کافر کہا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:(مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا) ترجمہ : محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ﺛواب کا وعده کیا ہے [الفتح : 29]۔

ان آیت میں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا بیان ہوئی کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں پھر آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفت و ثنا بیان ہو رہی ہے کہ وہ مخالفین پر سختی کرنے والے اور مسلمانوں پر نرمی کرنے والے ہیں۔ 

پھر ان کا اور وصف بیان فرمایا کہ نیکیاں بکثرت کرتے ہیں خصوصاً نماز جو تمام نیکیوں سے افضل و اعلیٰ ہے، پھر ان کی نیکیوں میں چار چاند لگانے والی چیز کا بیان یعنی ان کے خلوص اور رضائے اللہ طلبی کا کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ یہ اپنے اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں جو جنت ہے اور اللہ کے فضل سے انہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی بھی انہیں عطا فرمائے گا جو بہت بڑی چیز ہے۔

جیسے کہ فرمایا :(وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ) [9-التوبة:72] ‏‏‏ترجمہ:  اللہ تعالیٰ کی ذرا سی رضا بھی سب سے بڑی چیز ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چہروں پر سجدوں کے اثر سے علامت ہونے سے مراد اچھے اخلاق ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:370/11] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں خشوع اور تواضع ہے۔

الغرض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نیتیں خالص تھیں اعمال اچھے تھے پس جس کی نگاہ ان کے پاک چہروں پر پڑتی تھی اسے ان کی پاکبازی جچ جاتی تھی اور وہ ان کے چال چلن اور ان کے اخلاق اور ان کے طریقہ کار پر خوش ہوتا تھا۔

امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے شام کا ملک فتح کیا جب وہاں کے نصرانی ان کے چہرے دیکھتے تو بےساختہ پکار اٹھتے، اللہ کی قسم یہ عیسیٰ کے حواریوں سے بہت ہی بہتر و افضل ہیں۔ فی الواقع ان کا یہ قول سچا ہے، اگلی کتابوں میں اس امت کی فضیلت و عظمت موجود ہے اور اس امت کی صف اول ان کے بہتر بزرگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور خود ان کا ذکر بھی اگلی اللہ کی کتابوں میں اور پہلے کے واقعات میں موجود ہے۔ پس فرمایا یہی مثال ان کی توراۃ میں ہے۔

پھر فرماتا ہے اور ان کی مثال انجیل کی مانند کھیتی کے بیان کی گئی ہے جو اپنا سبزہ نکالتی ہے پھر اسے مضبوط اور قوی کرتی ہے پھر وہ طاقتور اور موٹا ہو جاتا ہے اور اپنی بال پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اب کھیتی والے کی خوشی کا کیا پوچھنا ہے؟

اسی طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ انہوں نے آپ کی تائید و نصرت کی پس وہ آپ کے ساتھ وہی تعلق رکھتے ہیں جو پٹھے اور سبزے کو کھیتی سے تھا یہ اس لیے کہ کفار شرمسار ہوں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضیوں کے کفر پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے چڑتے اور ان سے بغض رکھنے والا کافر ہے۔

فضیلت اور سبقت کمال اور بزرگی جو ان صحابہ کرام کو حاصل ہے امت میں سے کسی کو حاصل نہیں، اللہ ان سے خوش، اللہ ان سے راضی، یہ جنتی ہو چکے اور بدلے پالئے۔


دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو دین اسلام پر ثابت قدم رکھے اور ہم کو ان لوگوں میں شامل کر دے جو دین حق کی پابندی کرتے ہیں اور سنت رسول پر قائم ہیں اور کتاب اللہ اور سنت رسول کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام کرتے ہیں وہ اصحاب جنہوں نے اس قرآن کو یاد کیا اسے سمجھا اور اسے دوسروں تک پہنچایا، اسی طرح سنت رسول کو یاد کیا اور اسے دوسروں تک پہنچایا، اور اسی لیے اللہ تعالی ان سے راضی ہوا، سو ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم ان سے محبت کریں، ان کی مدح و ستائش کریں اور ان کے حق میں دعا کرتے رہیں۔ 

و صلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحاب وسلم۔


📖نفحات الھدی والایمان من مجالس القرآن، ص 390

🖋️شیخ ربیع بن ہادی مدخلی حفظہ اللہ

السبت، 4 يناير 2025

فہم سلف کی ضرورت و اہمیت

 فہم سلف کی ضرورت واہمیت 

بقلم: د/اجمل منظور المدنی وکیل جامعۃ التوحید، بھیونڈی  

*فہم سلف کی ضرورت کیوں ہے؟ سب سے پہلےہمیں یہ یقین کر لینی چاہیے کہ جو بھی شخص سلف صالحین کے فہم سے اعراض کرکے اپنی عقل و فہم کے مطابق نصوص کتاب و سنت کو سمجھنے کی کوشش کرے گا وہ رشد و ہدایت کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، اور صراط مستقیم پر اس کا قدم نہیں جم سکتا۔ لیکن کچھ لوگوں کا اشکال ہے کہ ہمیں صرف کتاب وسنت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے پھر ہمیں فہم سلف یعنی فہم صحابہ کے اقوال وافعال اورانکے فتاوے کی یعنی انکے فہم کی ضرورت کیوں؟ یہ اشکال در اصل قلت علم اور اسلامی اصول وقواعد سے تغافل کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ ہمیں صرف کتاب و سنت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن کتاب و سنت پر عمل کرنے کے لیے سب سے پہلے کتاب و سنت کو صحیح طور سمجھنا اور شریعت کے اسرار و مقاصد کو جاننا ضروری ہے، تب ہی ہم کتاب و سنت پر عمل کرسکتے ہیں۔ اب قدرتی طور پر یہاں سوال اٹھے گا کہ کتاب و سنت اور شریعت کو سلف نے یعنی صحابہ نے بہتر سمجھا ہے جنہوں نے بلا واسطہ شارع اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کو سیکھا اور سمجھا ہے یا بعد والوں نے؟ تو کوئی بھی مسلمان یہ کہنے کی جسارت نہیں کرسکتا کہ بعد والوں کا فہم یا خود اس کا فہم صحابہ کے فہم سے بہتر ہے۔ تو جب یہ اتفاقی مسئلہ ہے کہ سلف ہم سے زیادہ کتاب و سنت کو سمجھنے والے تھے تو پھر سلف کے فہم کو چھوڑ کر اپنی عقل و فہم کے مطابق کتاب و سنت کو سمجھنے کی کوشش کیوں کی جائے؟!بطور خاص جب شریعت کے فہم وتفہیم اور اسکی دعوت میں صحابہ کرام ہی کو اسوہ اور آئیڈیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ *فہم سلف سے کیا مراد ہے؟  فَہم سلف، دو الفاظ سے مرکب ہے۔ ضروری ہے کہ ہر ایک کی علیحدہ وضاحت کی جائے پھر بطور اصطلاح مفہوم پیش کیا جائے۔ فہم کی وضاحت: عربی زبان میں معلومات کے ادراک کیلئے مختلف مراتب ہیں۔ ان میں سے ایک خاص مرتبے کا نام فہم ہے۔ جیساکہ صاحب ’’لسان العرب‘‘ کے مطابق، فہم سے مراد :مَعْرِفَتُكَ الشَّيْءَ بِالْقَلْبِ. ’’دل سے کسی چیز کو جان لینا ’’فہم‘‘کہلاتا ہے۔‘‘ لسان العرب :12/ 459۔ گویا عمومی علم کی بہ نسبت ’’فہم‘‘ ایک خاص درجے کی سمجھ بوجھ کا نام ہے۔ حضرت داؤد کی عدالت میں فریقین کا ایک مقدمہ پیش ہوا۔ مقدمے کا علم حضرت داؤد اور حضرت سلیمان دونوں کو ہی تھا۔ لیکن احوال و قرائن سے خاص فہم حضرت سلیمان کو نصیب ہواجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ ]  ’’ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘[الانبیاء: 79]۔حضرت سلیمان   جو اس قضیے کی تہ تک پہنچے اور فیصلہ کیا، اسے اللہ تعالیٰ نے ’’فہم‘‘ کہا۔ اور ساتھ ہی فرمایا: [وَ كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًاٞ]  ’’ قوت فیصلہ اور علم ہم نے ہر ایک کو عطا کر رکھا تھا۔‘‘[الانبیاء: 79]۔ امام ابن حجرنے ’’فہم ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے کہا: فالفهم فطنة يفهم بها صاحبها من الكلام ما يقترن به من قول أو فعل.  ’’ فہم سے مراد ایسی سمجھ بوجھ ہے جس کے ذریعے انسان کلام میں سے وہ سب کچھ سمجھ جاتا ہے جو اس کے ساتھ کوئی بات یا عمل منسلک ہوتا ہے ۔‘‘ فتح الباري لابن حجر :1/ 165۔ گویا احوال و ظروف کو سامنے رکھتے ہوئے کسی کلام  کے درست مفہوم اور اس سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت کو فہم کہا جاتا ہے اور یہ علم کا ایک خاص درجہ ہے۔ سلف کا مفہوم: عربی زبان میں لفظ  سَلَفَ  گزرنے اور ماضی میں ہونے کا مفہوم دیتا ہے۔ پہلے گزرے ہوئے کو  سَالِفٌ کہتے ہیں۔ اور اس کی جمع  سَلَف  ہے۔ لغوی طور پر پہلے گزرے ہوئے لوگ  سَلَف  ہیں، قطع نظر اس سے کہ وہ اچھے ہوں یا برے۔ اللہ تعالیٰ نے  قوم فرعون کی غرقابی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:[ فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا] ’’ہم نے انہیں قصۂ ماضی بنا دیا۔‘‘[الزخرف: 56]۔ جو کام ماضی میں ہو چکا ہو، اس کے لیے  سَلَفَ  کا لفظ قرآن مجید میں متعدد بار مستعمل ہے؛ملاحظہ ہو: النساء: 22،23، المائدہ: 95، الانفال: 38۔ سَلَف کا اصطلاحی مفہوم:سلف کے اصطلاحی مفہوم میں تین معتبر اقوال ہیں: - اس سے مراد صرف صحابۂ کرام  ہیں۔ عہد تابعین میں صحابۂ کرام  کو ہی سَلَف  کہا جاتا تھا۔ عبداللہ بن مبارک برسر عوام کہا کرتے تھے: دَعُوا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ يَسُبُّ السَّلَفَ.’’عمرو بن ثابت کی  روایت کردہ احادیث ترک کر دو،کیونکہ یہ سلف پر سب وشتم کیا کرتا تھا ۔‘‘یہاں سلف سے مراد صحابہ کرام ہی ہیں ۔ مقدمہ صحیح مسلم ،باب الاسناد من الدین۔ - بعض اہل علم کے نزدیک سلف سے مراد صحابہ اور تابعین ہیں۔ تفصیل کیلئے دیکھیں: ترتیب المدارک، لقاضی عیاض2 /93، بحوالہ : فهم السلف الصالح للنصوص الشرعیہ، للدکتورعبدالله بن عمرالدُّمیجی:32 - اکثر اہل علم کے نزدیک سَلَف سے اصطلاحی طور پر صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین ییں۔ تفصیل کیلئے دیکھیں: التحف من مذاهب السلف، شوکانی:7 - 8 بحوالہ: فهم السلف للدمیجی:32۔ سلف کا راجح مفہوم: سلف صالحین کے تحت گرچہ صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین تینوں داخل ہیں مگر حجیت اور استدلال کے اعتبار سے سلف کا اطلاق صرف صحابہ کرام ہی پر ہوتاہے۔  حجیت کےلحاظ سے فہم سلف کی درجہ بندی : - سلف صالحین انفرادی حیثیت سےنہ معصوم ہیں اورنہ ہی حجت۔ان کاانفرادی فہم اوررائے بشری تقاضوں میں مقید ہے۔ یہ  ہوسکتاہےکہ کوئی آیت یاحدیث ان میں سےکسی فرد کےعلم میں ہی نہ ہواوراس بناپراس کے خلاف کوئی رائے یافتویٰ دےدیاہواورشاذرائے،بلکہ حدیث رسول کے خلاف کوئی رائے اپنائی ہو۔ان تمام صورتوں میں ان کے بارے حسن ظن اورمکمل احترام کےساتھ ان سے اختلاف رائے کیاجاسکتاہے۔ ان صورتوں میں اسے فہم سلف نہیں کہاجاتا، کیونکہ لفظ ’’سلف‘‘جمع ہے،اس سےمراداسلاف کی جماعت ہےنہ کہ فردواحد،انفرادی رائےبعض سلف کاانفرادی فہم ہے،’’فہم سلف‘‘نہیں ہے۔ - شرعی نصوص سے اللہ اوراس کے رسول کی مرادمتعین کرتےہوئےجب سلف صالحین کسی ایک فہم پرجمع ہوجائیں اورسب کےاقوال یاافعال یاتقریرات ایک متعین مفہوم پردلالت کررہےہوں تویہ ’’فہم سلف‘‘ہے۔اسے قبول کرنا،اس کی پابندی کرناضروری ہےاوریہ حجت ہے۔کیونکہ وہ درحقیقت مرادالٰہی کی تعیین ہےاورحکم نبوی ﷺ کی نشان دہی ہے۔ فهم السلف الصالح للنصوص الشرعیہ:48 -نص شرعی کےمفہوم میں سلف کااتفاق ہوتویہ صورت بلاشبہ قطعی حجت کےدرجےمیں ہے۔ اگر اتفاق تونہ ہو،لیکن کسی ایک کاایسامشہورقول ہوجسےاس دورمیں قبول عام حاصل ہوگیااورکسی دوسرے سے کوئی  مخالف رائےثابت نہ ہوتوجمہورعلماءکےنزدیک یہ بھی حجت اوراجماع ہے۔ اعلام الموقعین :4/104، مزید تفصیل کیلئے دیکھیں: فتاویٰ ابن تیمیہ ،14/20 *فہم سلف کی اہمیت:   قرآن مجید میں سینکڑوں آیات مبارکہ صحابہ کرام کی فضیلت بتا رہی ہیں ،ان سے جس طرح صحابہ کر۱م کے کردار کا سرٹیفکیٹ ملتا ہے ان کے علم کا تزکیہ بھی  از خود  مترشح ہوتا ہے۔ کیونکہ  علم ہمیشہ عمل سے مقدم ہوتا ہے، جب علم درست ہو تو عمل بھی درست ہوتا ہے ، علم ہی غلط ہو تو عمل کیسے درست ہو سکتا ہے ؟۔صحابہ کرام کے لیے مفلحون،مخلصون،صادقون،کتب فی قلوبہم الایمان،ألزمہم کلمة التقوی،رضوان کے سرٹیفکیٹس محض لفظی فضائل نہیں ہیں ،بلکہ ان کے اعمال و افکار اور علم وعمل کا تزکیہ بھی ہیں ۔بلکہ صحابہ کرام  کے ایمان کو معیار قرار دینا خود ان کے عقائد تک کا ربانی سرٹیفکیٹ ہے۔ان میں سے صرف ایک آیت پیش خدمت ہے:  [وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا ][النساء:115]’’جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بھی رسول اللہﷺ کے خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔‘‘ اس آیت میں  ان لوگوں کی اتباع کوثابت اور مخالفت کو ممنوع قرار دیا جارہا ہے ۔ ان کی اتباع اور مخالفت دونوں کی بنیادفہم ہی ہے۔ان کافہم حجت نہیں ہوگا تو ان کی اتباع کیونکر ہوگی ؟ احادیث مبارکہ میں بھی جابجا صحابہ کرام کے علم وفکر اور عقیدہ وعمل کے مناقب درج ہیں: فرقہ ناجیہ کی وضاحت کرتےہوئےرسول اللہﷺ نےفرمایا:وتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي.’’اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی جماعت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے“۔جامع ترمذی:2641 رسول اللہ ﷺ صرف اتنا  فرما دیتے :  ما أنا عليه’’وہ راستہ و منہج جس پر میں ہوں‘‘  تو کافی تھا، لیکن  آپ نے فرمایا: ما أنا عليه وأصحابي ’’جس راہ پر میں خود ہوں اور میرے صحابہ‘‘ ۔اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ  دین کے وہ مُسلّمات جو صحابہ   کے ہاں قائم ہو گئے اور حق و باطل کی جو بنیادیں اور نصوص وحی سے استدلال کے جو اصول ان کے دور میں قائم ہو گئے، بعد والے خصوصاً اختلاف و تفرقہ کے ادوار سے وابستہ لوگ انہی بنیادوں، انہی مُسلّمات اور انہی اصولوں کو اپنانے اور انہی پر کاربند رہنے کے پابند ہیں۔  خود صحابہ کرام   وتابعین عظام سےبھی سلف کی اتباع واقتداکےبارےمیں کثرت سےآثارمنقول ہیں ،ان سےچندمندرجہ ذیل ہیں۔ - سیدنا ابن مسعود کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے قابل ہے : مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَأَسِّيًا فَلْيَتَأَسَّ بِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَبَرَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ قُلُوبًا وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا وَأَقْوَمَهَا هَدْيًا وَأَحْسَنَهَا حَالًا، قَوْمًا اخْتَارَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْرِفُوا لَهُمْ فَضْلَهُمْ وَاتَّبِعُوهُمْ فِي آثَارِهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْهُدَى الْمُسْتَقِيمِ.  ’’جو آدمی کسی طریقہ کی پیروی کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ ان لوگوں کی راہ اختیار کرے جو فوت ہو گئے ہیں، کیونکہ زندہ آدمی (دین میں) فتنہ سے محفوظ نہیں ہوتا اور وہ لوگ (جو فوت ہو گئے ہیں اور جن کی پیروی کرنی چاہیے) رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ہیں، جو اس اُمت کے بہترین لوگ تھے، دلوں کے اعتبار سے انتہا درجہ کے نیک، علم کے اعتبار سے انتہائی کامل اور بہت کم تکلّف کرنے والے تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺکی رفاقت اور اپنے دین کو قائم کرنے کے لیے منتخب کیا تھا، لہٰذا تم ان کی بزرگی کو پہچانو اور ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرو اور جہاں تک ہو سکے ان سے آداب و اخلاق کو اختیار کرتے رہو، (اس لیے کہ) وہی لوگ ہدایت کے سیدھے راستہ پر تھے۔‘‘ جامع بيان العلم وفضله لابن عبدالبر (2/ 947):  1810،اس کی سندمیں اگرچہ ضعف ہے،تاہم معنی درست اورطےشدہ ہے۔ حضرت ابنِ مسعودکا یہ قول فہم سلف کا ٹھیک ٹھیک مقام متعین کرتا ہے کہ  دین کی تعبیر میں جب آپ  یہ فیصلہ کرنا چاہیں کہ صحابہ کرام کے پیچھے چلوں یا کسی معاصر مفکر کی تقلید کروں ؟تو صحابہ کا دامن تھام لینا ۔ - سیدنا ابن عباس  نے خوارج سے مناظرہ کرتے ہوئے ،فہم سلف کو بطور مقدمہ پیش کیا :أتيتُكم من عِندِ صحابةِ النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم من المهاجِرين والأنصارِ لأُبَلِّغَكم ما يقولون وتُخبروني بما تقولون، فعليهم نَزَل القرآنُ وهم أعلَمُ بالوحي منكم، وفيهم أُنزِلَ، وليس فيكم منهم أحَدٌ.’’میں تمہارے پاس انصار و مہاجرین  کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔ تاکہ میں تمہیں ان کا موقف پہنچا سکوں ،اور تم میرے سامنے اپنا موقف رکھ سکو۔(سنو ! ) اُن کی موجودگی میں قرآن مجید نازل ہوا،اور وہ اس کی تفسیروتاویل کا تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ اور تم میں سے کوئی شخص بھی صحابی نہیں ہے۔‘‘ سنن بیہقی :۱۷۱۸۶ - مسجد میں مخصوص اجتماعی ذکر  کی مجلس منعقد کرنے والوں کا رد کرتے ہوئے  ابن مسعودنے فرمایا: إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ ’’ تم یا تو محمد ﷺ کی جماعت سے زیادہ ہدایت یافتہ  بنناچاہتےہو یا تم گمراہی کا دروازہ کھولنے والے   ہو؟! سنن الدارمی : 210 *فہم سلف کی اہمیت پرتاریخی وعقلی شواہد: -تاریخی لحاظ سے اہمیت:صحابہ کرام کے پاس روحانی اور لغوی وتاریخی لحاظ سے علم دین کے وہ تمام اسباب مجتمع ہوگئے تھے جن کا بعد کے لوگوں کو عشر عشیر بھی میسر نہیں ۔مجموعی طور پر جو صحابہ کے عمل اور بعد والوں کے عمل میں تفاوت ہے وہی ان کے فہم میں بھی من حیث الجماعہ تفاوت ہے۔بلکہ غیبیات کے متعلق ان کے ارشادات کو مرفوع حکمی کا درجہ حاصل ہے ۔  -ملاوٹ سے محفوظ خالص فہم:سلف کافہم خالص قرآن وسنت کی عبارات پرمبنی ہوتاہے۔ اس میں نہ  فلسفہ کی موشگافیاں ہیں ،نہ تحریف وتاویل،نہ غیراسلامی نظریات کی آمیزش اور نہ ہی درآمدشدہ افکارکی ملاوٹ ہے ۔سلف کاذہنی سانچہ خالصتاً قرآن وسنت میں ڈھلاہواتھا،اس لیے وہ اہم ہے، بعدوالےلوگوں کےفہم میں یہ چیز یں  عموماًجمع نہیں ہوتیں ۔  -اخلاص پرمبنی فہم:سلف کافہم اخلاص پرمبنی تھا۔نہ اس میں سیاسی مفادات تھے،نہ جماعتی تعصبات ،نہ گروہ بندی کےاسیرتھے،نہ فرقہ واریت کےقیدی ،نہ انہیں دنیاکی کوئی متاع عزیزتھی،نہ ہی کوئی تعلق،انہوں نے جو سمجھا پورے خلوص سے سمجھا اورسمجھایا۔ بعد والوں   کے فہم میں یہ اخلاقی قدریں اس درجےپر نہیں ملتیں ۔ - تعلق باللہ اورخاص ایمانی بصیرت:تعبیردین میں تقویٰ ،للہیت،تعلق باللہ ،تہجد،اذکار،رزق حلال،پابندی شریعت کابھی بڑاعمل دخل ہوتاہے۔یہ چیزیں جس درجےمیں خیرالقرون میں پائی جاتی تھیں ،بعدکےادوارمیں اس درجےکی نہیں ہیں۔اس وجہ سے جوسلف کے فہم میں معیارہےوہ بعدکےلوگوں میں نہیں ہے۔ - فصاحت قرآنی کاتقاضا: فہم سلف کی اہمیت اس زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ  سفر و حضر میں نبی مکرمﷺکے ساتھ رہنے والے ، نزول ملائکہ  کا مشاہدہ کرنے والے، آیات  کی تنزیل کا مصداق بننے والے صحابہ کرام  ہی اگر کسی آیت کو سمجھ نہیں پائے تو پھر کیا بعد میں آنے والے اسے زیادہ اچھی طرح سمجھ لیں گے؟!  -گمراہی اوربدعات سےحفاظت کی ضمانت: فہم سلف چونکہ قرآن وسنت کی صحیح تعبیرہی کادوسرانام ہے۔اس لیےیہ گمراہی سے حفاظت کی ضمانت فراہم کرتاہے،یہ انسان کوبدعات سےبچاتاہے۔ کیونکہ جن کو سکھانےکےلیے جبریل انسانی شکل میں آسمان سےنازل ہوتے رہےاورپیغمبراسلام خودان کی تربیت کرتے رہے، بھلاان سے بھی بہترکسی کاعقیدہ ہوسکتاہے؟! یہی وجہ ہے کہ مقام صحابہ کرام اور ان کے درجات اوران سب کے متعلقہ نصوص کو سمجھنے میں جتنے بھی گم راہ فرقوں نے گم راہیاں ایجاد کیں ،سب کی بنیادی وجہ فہم سلف سے دوری ہے۔شرک کی دلدل میں وہی لوگ جا گرے جنہوں نے توحید وشرک سے متعلق آیات بینات کو سلف کی راہ سے ہٹ کر سمجھا ۔کسی نے عقل کو معیار بنایا ،کسی نے چند مخصوص اہل بیت کو فہم نصوص میں حرف آخر سمجھا، اور کسی نے اپنے اپنے اکابر تراش لیے ،اور کچھ تجددپسندوں نے اپنی خود ساختہ ،تحریف پر مبنی ،جدیدیت سے مرعوب غلامانہ ذہنیت کو ہی خالص قرآن کا نام دے ڈالا۔ ان سب اندھیروں میں اہل السنہ نے ہی ایک قندیل روشن کی۔خوارج  ،روافض،معتزلہ،قدریہ اورجہمیہ  نیزدیگر گمراہ فرقوں نے تبھی جنم لیا،جب انہوں نےصحابہ کے فہم سے دوری اختیارکی اورسبیل المؤمنین سے اپناراستہ الگ کرلیا۔ *فہم سلف کی ضرورت کیوں؟ ۱-کیونکہ سلف صالحین سب سے زیادہ پاکیزہ سيرت و کردار کے مالک، گہرے علم کے حامل اور دلوں میں سب سے زیادہ اخلاص و للہیت رکھنے والے تھے۔ ۲-کیونکہ انھیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کی معیت میں انھوں نے جہاد کیا اور آپ کی سیرت طیبہ کو قریب سے جانا پہچانا۔ ۳-کیونکہ اللہ تعالی نے انھیں اپنے نبی پاک کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا۔ ۴-کیونکہ اللہ تعالی نے بہت ساری آیات کے اندر ان سلف صالحین کا تزکیہ فرمایا ہے اور ان کی تعریف و توصیف بیان کی اور ان سے اپنی رضا اور خوشنودی کا اعلان کیا ہے۔ ۵-کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اتباع اور اقتدا کاحکم دیا ہے۔ ۶-کیونکہ ان سلف صالحین نے دین میں کوئی نئی چیز نہیں ایجاد کی نیز ان کا اجماع بھی قطعی حجت اور دلیل ہے۔ ۷-کیونکہ وہ اس امت کے افضل ترین لوگ اور نصوص شریعت کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے تھے۔ ۸-کیونکہ قرآن کی تفسیر اور قرآن کی زبان کے متعلق سب سے زیادہ علم و معرفت رکھنے والے تھے۔ ۹-کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا کہ فرقہ ناجیہ (نجات پانے والی جماعت) وہ ہے جو رسول پاک اور ان کے صحابہ کرام کے طریقہ پر کاربند ہوگی۔ *فہم سلف کے مطابق قرآن و سنت کو سمجھنے کے فوائد و ثمرات: ۱-قرآن و سنت اور سلف صالحین کے اجماع کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہنے سے ایک مسلمان اختلاف و انتشار اور مختلف آراء و اجتہادات کے تضاد سے محفوظ رہتا ہے۔ ۲-شرعی دلیل پر سلف صالحین کے عمل و فہم پر غور و فکر کرنے سے استدلال کی صحت و صداقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کیونکہ سلف صالحین کے کسی دلیل  کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے اس دلیل میں کسی احتمال کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہتا اور دیگر اشکال بھی دور ہو جاتے ہیں۔ امام شاطبی نے کہا: شرعی دلیل پر غور و فکر کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دلیل کے متعلق سلف صالحین کے فہم اور ان کے عمل کو سامنے رکھے۔ اس لیے کہ ان کا فہم و عمل زیادہ درست اور علم و عمل کے لیے زیادہ مناسب و پائیدار ہے۔(الموافقات:۳/۷۷) ۳-سلف صالحین کے فہم و عمل پر چلنے سے انسان غلط اور باطل قول و عمل میں پڑنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اس لیے کہ سلف صالحین نے جن چیزوں میں خاموشی اختیار کی ہے اور بعد کے لوگوں نے اس میں کلام کیا ہے تو اس میں خاموشی ہی زیادہ لائق اور مناسب تھی۔  ۴- اس سے بدعت و گمراہی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اس لیے کہ بعض گمراہ فرقے اپنے مذہب کی حمایت اور بدعات کی تائید کے لیے نصوص شریعت میں تحریف کرتے ہیں۔ جب کہ ان نصوص کو سمجھنے کے لیے سلف صالحین کا فہم ہی فیصل اور برحق ہے۔ یہی وجہ ہےکہ جب فہم نصوص میں صحابہ کا قول پیش کیا جاتا ہے تو اہل بدعت کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ ۵-مخالف کو جواب دینے کے لیے سلف صالحین کے فہم کا استعمال: چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خوارج سے مناظرہ کے وقت کہا تھا: میں تمھارے پاس صحابہ رسول کے پاس سے آ رہا ہوں اور تمھارے درمیان کوئی بھی ان میں سے موجود نہیں ہے۔ حالانکہ قرآن انھی پر نازل ہوا ہے اور وہی اس کی تفسیر کو زیادہ بہتر جاننے والے ہیں۔(جامع بيان العلم:۲/۱۲۷) دارقطنی کی روایت ہے، عباد بن العوام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے پاس شریک تشریف لائے تو ہم نے ان سے کہا: ہمارے یہاں کچھ معتزلہ کے لوگ ان احادیث کا انکار کرتے ہیں:«إن الله ينزل إلى السماء الدنيا» و «إن أهل الجنة يرون ربهم» انھوں نے جواب دیا: رہی ہماری بات تو ہم نے اپنا دین تابعین کی نسل سے اور تابعین نے صحابہ کرام سے اخذ کیا ہے۔ بھلا بتاؤ ان لوگوں نے یہ دین کہاں سے حاصل کیا ہے؟(كتاب الصفات للدارقطنی ص۴۳) 

الخميس، 21 نوفمبر 2024

عوام وخواص میں تحریکی جراثیم

 

عوام وخواص میں تحریکی جراثیم

د/ اجمل منظور المدنی
وکیل جامعہ التوحید ،بھیونڈی ممبئی

اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جسے دیکر اللہ رب العالمین نے خاتم النبیین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت تک کے لیے مبعوث کیا ہے تاکہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو براہ راست پر لائیں اور اسے شرک و بدعت کی کھائی سے نکال کر توحید کی روشن راہ پر گامزن کریں۔
سو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی طرف سے جو دعوتی مشن سونپا گیا تھا اسے آپ نے اپنی تیئس سالہ نبوی زندگی میں پایہ تکمیل تک پہنچایا، ارشاد باری تعالیٰ ہے يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ) ترجمہ : اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی۔ (-المائدة:67)۔
حتی کہ زندگی کے آخری وقت میں حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں موجود ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام سے اسی دعوت دین اور اسکی تبلیغ کی شہادت لی نیز دوسروں تک اسے پہونچانے کا وعدہ بھی لیا اور سب نے یک زبان ہو کر اس بات کا اقرار کیا کہ آپ نے دین کو پورا پورا پہونچا دیا ہے اور ہم بھی دوسروں تک اسے اسی طرح پہنچائیں گے جس طرح ہم نے آپ سے اسے حاصل کیا ہے۔
لیکن جب ہم تحریکیوں کی فکر ودعوت کا مطالعہ کرتے ہیں تو بالکل اسکے برعکس پاتے ہیں، یعنی یہ انبیاء کے اس اصل دعوتی مشن کو تحریک وانقلاب اور حصول اقتدار میں بدل کر پیش کرتے ہیں، اسکے لئے انہوں نے ایک طرف کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کے اندر تحریف کرکے اسے الوہیت سے حاکمیت کا معنی پہنایا اور اسی حاکمیت کو انبیاء کا اصل مشن بتا دیا
تو دوسری طرف دین کے احکام وفرائض کو ٹریننگ کورس کہہ کر عوام کی نظر میں انکی وقعت گھٹا دی تاکہ انہیں اقامت دین کے نام پر اپنے مزعومہ نصب العین قیام اقتدار کیلئے اکٹھا کرسکیں۔ اسکے لئے ضرورت تھی دعوت اتحاد کی، سو انہوں نے اپنے اس مزعومہ مقصد کو پورا کرنے کیلئے دین کے اہم فریضہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو بھی پس پشت ڈال دیا؛ کیونکہ تمام فرقوں کو اکٹھا کرنے میں یہ بہت بڑی رکاوٹ تھی۔
اس طرح دین کے نام پر حصول اقتدار کیلئے انہوں نے عوام وخواص ہر ایک کے اندر طرح طرح کے جراثیم پھیلائے جن سے بھاری اکثریت متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی بالخصوص سلفی نوجوان، اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ ان تحریکیوں کے ان جراثیم کو ایکسپوز کیا جائے تاکہ آج کا نوجوان ان داعشی تحریکی جراثیم سے محفوظ رہ سکیں۔
ذیل میں ان جراثیم کا ایک سرسری جائزہ پیش کیا جا رہا ہے :

1- عقیدہ توحید کی اہمیت کو کم کرنا اور لوگوں کو اس سے متنفر کرنا:
چنانچہ یہ عقیدہ توحید سے لوگوں کو متنفر کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ تم نے عقیدے کی پیچیدگیوں میں لوگوں کو پھنسا کر اصل مقصد سے دور کردیا ہے، جبکہ یہ تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے، زندگی بھر انہوں نے لوگوں کو اسی کی طرف دعوت دی ہے، نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک اسی عقیدے کی طرف لوگوں کو بلایا۔ تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوم کو توحید الوہیت اور اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دی ہے۔
  مگر ان لوگوں نے اس عقیدے سے لوگوں کو بھٹکانے کیلئے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں جن میں سب سے بڑا ابلیسی ہتھکنڈا یہ اپنایا کہ توحید الوہیت اور عقیدہ توحید کا معنی ہی بدل دیا، چنانچہ اسے توحید حاکمیت کا معنی دے دیا۔ اور بدترین جراءت کا مظاہرہ کرکے یہاں تک کہہ دیا کہ انبیاء کو اسی توحید حاکمیت کیلئے بھیجا گیا تھا مگر اس کے قیام میں اکثر ناکام رہے، چند انبیاء ہی کامیاب ہوسکے نعوذ باللہ من ھذا الخزلان والھذیان، ان میں سلیمان اور داود علیہما السلام ہیں اور آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
چنانچہ یہ لوگ سب سے پہلے اسی عقیدہ توحید میں لوگوں کو بھٹکاتے ہیں اور اس سے متنفر کرتے ہیں، ان علماء سے نوجوانوں کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو اس فن میں مشہور اور متخصص ہیں۔

2- علماء پر طعن وتشنیع کرنا اور انکی عیب جوئی کرنا اور انہیں برے القابات سے نوازنا:
    چنانچہ یہ علماء کو مختلف طریقوں سے بدنام کرتے ہیں، ان پر تہمتیں اور الزامات لگاتے ہیں، ان پر طعن وتشنیع اور انکی عیب جوئی کرتے ہیں، اس سے انکا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ نوجوانان امت ان ربانی علماء سے دور ہوجائیں، یہ ان ربانی علماء کو بدنام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ شاہی مہمان بن کر درباروں میں عیش کے ساتھ رہتے ہیں، کبھی درباری ملا کہہ کر بدنام کرتے ہیں کبھی بوٹ لیچر کہتے ہیں، کبھی انہیں حیض ونفاس کا مولوی کہتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ وہی بولتے ہیں جو انہیں حکم ہوتا ہے، انہیں کچھ بھی اختیار نہیں ہوتا۔
اور متبادل میں اپنے منحرف مفکرین کو علماء حق کے طور پر پیش کرتے ہیں، جن کے تعلق سے یہ مشہور کرتے ہیں کہ اہل حق علماء کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے، اہل حق علماء سرحدوں پر جہاد کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

3- حکام سے لوگوں کو متنفر کرنا اور ان پر طعن وتشنیع کرنا:
       چنانچہ یہ حکام کی عیب جوئی کرتے ہیں اور انکی قانونی حیثیت پر طعن وتشنیع کرتے ہیں، اگر کوئی عالم اس تعلق سے شرعی احکام بیان کرتا ہے، حکام کی سمع وطاعت کے دلائل پیش کرتا ہے تو یہ اسے حاکم پرست اور درباری ملا کہہ کر بدنام کرتے ہیں، اس طرح یہ دونوں جانب سے نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں، ایک طرف حکام سے اور دوسری طرف علماء سے متنفر کرتے ہیں، جب کہ یہی لوگ دوہرا معیار اپناتے ہوئے دوسری طرف اپنے پیر و مرشد اور اپنی جماعتوں کے اماموں اور سرغنوں سے بیعت کرتے ہیں اور بلا کسی شرط کے انکی سمع وطاعت اور اندھی تقلید کرتے ہیں۔
حکام سے انکی نفرت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ یہ انہیں طاغوت کہہ کر پکارتے ہیں، چنانچہ انکا مرشد یا ان کا کوئی سرغنہ اور مفکرجب طاغوت کہتا ہے تو ان کا ذہن فورا مسلم حکمرانوں کی طرف جاتا ہے۔ اس قدر ان جماعتوں نے نوجوانوں کو اپنے گمراہ کن لٹریچر سے گمراہ کر رکھا ہے کہ یہ مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور انہیں سوائے طاغوت کے کچھ نہیں کہتے۔ یہ اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ان حکام کو مختلف طریقوں سے بدنام کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ یہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں کبھی کہتے ہیں کہ یہ کفار کی اطاعت کرتے ہیں۔

اسی طرح غیر شرعی حکومت کرنے والے حاکم کی تکفیر کرنے کا مسئلہ ہے کہ یہ مطلق طور پر اسکی تکفیر کر دیتے ہیں۔ اسکی کوئی تفصیل نہیں بتاتے جبکہ یہ دھوکہ ہے اور اہل سنت والجماعہ کے منہج کے خلاف ہے، کیونکہ اس مسئلے میں تفصیل ہے مطلق طور پر ان تمام حکام کی تکفیر نہیں کرسکتے جو غیر شرعی حکومت کرتے ہیں، چنانچہ اگر کوئی وضعی قوانین کو شریعت کے مقابلے میں بہتر سمجھ کر یا اسکے جواز کا عقیدہ رکھ کر حکومت کرتا ہے تو اسکے کفر میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن اگر وہ شریعت پر اعتقاد رکھتا ہے اسی کو بہتر سمجھتا ہے لیکن کسی مجبوری میں یا ایمان کی کمزوری میں یا ظالمانہ طور پر ایسا کرتا ہے تو اسکی تکفیر نہیں کی جائے گی، یقینا یہ جرم ہے اور گناہ کبیرہ ہے مگر ایسا کفر نہیں ہے کہ دین اسلام کے دائرے سے اسکی وجہ سے نکل جائے، اسی کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کفر دون کفر کہا ہے۔

4- حکومت کی طاقت، فوج اور سیکورٹی فورسز کو مشکوک بنا کر پیش کرنا:
چنانچہ یہ حکومت کے تمام محکموں بالخصوص فوجی اور پولیس محکموں کو بدنام کرتے ہیں تاکہ عوام بالخصوص نوجوانوں کا اعتماد حکومت سے ختم ہوجائے۔ یہاں تک کہ یہ لوگ حکومتی اداروں اور سیکورٹی فورسز کو اجنبی ملکوں کا ایجنٹ کہتے ہیں اور عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ یہ سب ہمارے خلاف جاسوسی کرتے ہیں۔

5- سلف کے منہج اور طریقے پر طعن وتشنیع کرنا:
چنانچہ یہ نہیں چاہتے کہ مسلمان صحابہ کے منہج پر قائم رہیں، سلف کے طریقے کو اپنائیں۔ اسی لئے یہ منہج وعقیدہ پر بات کرنے والوں پر طعن وتشنیع کرتے ہیں ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں تاکہ وہ عقیدہ اور منہج پر بات کرنا چھوڑ دیں؛ کیونکہ یہ انکے مزعومہ اتحاد بین المذاہب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

6- تکفیری ذہن سازی کرنا، چنانچہ اپنے مخالف مسلم حکام کیلئے طاغوت، مخالف علماء کیلئے درباری ملا اور مخالف عوام کیلئے فرقہ پرست اور فروعی مسائل میں الجھا ہوا جیسے القاب استعمال کرتے ہیں..
تکفیری ذہن سازی کیلئے یہ عموما متشابہ نصوص کا استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ کا یہ قول :(ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون) اور اس سے یہ مطلق طور پر ہر اس حاکم کو کافر گردانتے ہیں جو وضعی قوانین نافذ کرتا ہے، حالانکہ سلف کے یہاں اس میں تفصیل ہے۔ مگر ان تحریکیوں کی دوغلا پنی دیکھیں کہ یہ ایسے نصوص کو اپنے مخالفین کیلئے استعمال کرکے عوام کے بیچ انہیں بدنام کرتے ہیں مگر اپنے محبوب حکام کو ان سے مستثنیٰ کردیتے ہیں بلکہ یہ خود جمہوریت کے وضعی دستور پر یقین رکھتے ہیں۔

7- اقامت دین کی غلط تشریح :
ایمان واسلام کے ارکان اور دین کے اہم فرائض کو فروعی مسائل اور تربیتی کورس کا نام دیکر انکی اہمیت کم کرتے ہیں اور اقامت دین کی غلط تشریح کرکے حکومت واقتدار کو سب سے بڑا فرض اور واجب قرار دیتے ہیں حالانکہ اقامت دین سے مراد دین کے احکامات وفرائض کی پابندی کرنا ہے اور حکومت واقتدار محض ایک نعمت ہے، نہ کہ مطلوب ومقصد، تمام انبیاء کو دعوت دین کیلئے مبعوث کیا گیا تھا نہ کہ حصول اقتدار کیلئے...
چنانچہ آپ اہل سنت کے برعکس تحریکیوں کو دیکھیں گے کہ وہ اہل شبہات پر خاموش رہتے ہیں جبکہ اہل شہوات پر سارا زور صرف کردیتے ہیں، اگر کسی نوجوان کو معاصی کرتے دیکھ لیں گے تو اس پر حد درجہ سختی برتیں گے اس پر لعن طعن کریں گے، مگر وہ اہل بدعت پر کوئی نکیر نہیں کریں گے

8- نوجوانوں کے اندر لبرلزم اور آزاد خیالی کا رجحان عام کرنا:
چنانچہ حکومت واقتدار کو اصل ٹارگٹ ماننے کی وجہ سے یہ لوگوں کے اندر دنیا داری، دین بیزاری، آزاد خیالی پیدا کرتے ہیں، دینی علوم سے زیادہ انکے یہاں عصری علوم کی قدر ہے، یہ چیز آپ سید مودودی اور حسن بنا سے لیکر ان کے حالیہ مرشدین ومفکرین ومنظرین تک کے یہاں یہی حالت پائیں گے... سید مودودی نے اپنی ساری اولاد کو عصری تعلیم دلائی، دینی علوم سے بے بہرہ رکھا، یہاں تک کہ ایک لڑکا ملحد ہوگیا، انکے دوسرے مرشد میاں طفیل اور تیسرے مرشد قاضی حسین احمد کے بارے میں یہی پائیں گے جس طرح کہ اخوانی مرشدین ومفکرین کا بھی یہی حال ہے خواہ وہ حسن بنا اور حسن ہضیبی ہوں یا عمر تلمسانی اور دیگر مفکرین ہوں۔

9- جمہوریت کو اسلامائز کرنا:
چونکہ ان کے یہاں اصل ٹارگٹ حصول اقتدار ہے؛ اسی لئے انکے یہاں جمہوریت کی بڑی اہمیت ہے، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت ہی اقامت دین کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اور چونکہ ملوکیت انکے لئے خطرہ ہے اسی لئے یہ اسکی جم کر مذمت کرتے ہیں بلکہ اسے حرام تک سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام میں شورائی خلافت اور ملوکیت کے سوا کوئی تیسرا نظام حکمرانی ہے ہی نہیں، جمہوریت تو یہودیوں کا بنایا ہوا نظام ہے.

10- اہل سنت کے اندر رافضیت کا زہر پھیلانا:
چونکہ اخوانیوں اور تحریکیوں کے مرشدوں کا خمینی اور اسکے ساتھیوں سے گہرا تعلق تھا اور دونوں کی فکر اور طریقہ تنفیذ میں یکسانیت تھی؛ اسی لئے یہ خاموشی سے رافضیت کو عام کرتے ہیں، اور اسکی سب سے بڑی نشانی انکی بنو امیہ سے دشمنی ہے، حتی کہ اموی صحابہ تک پر طعن وتشنیع کرتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی..

11- تشکیک وانکار کے جراثیم :
سید مودودی ہوں یا کوئی دوسرا تحریکی، چونکہ انکے یہاں عقیدے، اصول اور منہج کی پختگی نہیں ہوتی بلکہ منطق وفلسفہ پڑھ کر دین کی تشریح کرنے لگتے ہیں۔ یہی سبب ہیکہ یہ اپنی دو چھٹانک بھیجے کا استعمال کرکے درایت کے نام پر کبھی احادیث کا انکار کرتے ہیں ، کبھی دینی مسلمات کا انکار تو کبھی ان میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔

12- صحابہ پر طعن وتشنیع کے جراثیم:
رافضیت دوستی کے نتیجے میں صحابہ کرام تک پر انہوں نے طعن وتشنیع کر ڈالا، صحابہ کے دفاع میں مایہ ناز کتابیں تالیف کرنے والے مشہور محققین علماء دین شیخ الاسلام ابن تیمیہ، قاضی ابو بکر ابن العربی اور شاہ اسماعیل شہید کو وکیل صفائی کہہ کر سید مودودی نے انہیں غلط ٹہرا کر خود روافض کی جھوٹی روایتوں پر بھروسہ کرکے صحابہ کرام پر چارج شیٹ تیار کردیا اور اسے غیر جانبداری کا نام دیا اور ایران میں آیت اللہ کا خطاب حاصل کیا۔
صلح کی خاطر بصرہ کیلئے ام المؤمنين عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکلنے پر انہیں طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا مگر دوسری طرف فاطمہ جناح کو ملک کی سربراہی کیلئے ووٹ دے دیا۔

13- لٹریچر بازی کے جراثیم:
انکے یہاں سب کچھ فکر مودودی فکر فراہی اور فکر اخوانی ہے جس کے نام پر عقل پرستی اور ہوائے نفس پر مبنی لٹریچر کا ایک ملغوبہ ہے جس میں بے راہ روی، عقیدے میں انحراف، صحابہ پر طعن وتشنیع ، دینی مسلمات میں تشکیک وانکار اور حکومت الہیہ کے نام پر اقتدار کے جھوٹے خواب بھرے ہوئے ہیں، کتاب وسنت پر مبنی خالص دینی علوم ومعارف سے خالی ہوتے ہیں، یہ لوگوں کو انہیں کتابوں سے جوڑ کر رکھتے ہیں، دوسروں کی کتابوں سے دور رکھتے ہیں بلکہ ان سے متنفر کرتے ہیں۔ اس طرح ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد منحرف تحریکی لٹریچر میں پھنس کر رہ گئی ہے۔

14- سیاسی اور عالمی المناک واقعات کا استغلال کرنا نیز امت کے اہم ایشوز کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنا:
دنیا میں امت مسلمہ کے خلاف کہیں بھی کوئی حادثہ ہوگا اسے یہ فورا اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کردیں گے، ایسے موقع پر یہ جذباتی تقریریں کرتے ہیں اور لوگوں کی ہمدردی بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں، امت تڑپ رہی ہے، امت زخموں سے چور چور ہے مگر ہم عیش مستی میں ڈوبے ہوئے ہیں، عالم اسلام کے حکام گہری نیند میں سوئے ہوئے ہیں۔ اس میں یہ سب سے زیادہ فلسطین ایشو کو بھناتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا دل طہران کہ طرف ہوتا ہے۔ بیت المقدس سے انہیں کچھ لینا دینا نہیں ہے، یہ صرف امت مسلمہ کو گمراہ کرتے ہیں۔
ایسے کربناک موقعوں پر سب سے زیادہ یہ مسلم حکام کو بدنام کرنے اور انکے خلاف عوام کو بھڑکانے کیلئے بے روزگاری، اہم اسلامی قضیوں، منکرات اور برائیوں اور دیگر امور کو استعمال کرتے ہیں۔

15- میڈیا کا استغلال کرنا:
   چنانچہ یہ لوگ میڈیا کے تمام ذرائع کا استعمال کرتے ہیں، فیس بک ہو یا ٹیوٹر، ویب سائیٹ ہو واٹساپ، ٹی وی چینلز ہوں یا ریڈیو اسٹیشن، اخبارات ہوں یا میگزین سب کا یہ زبردست استعمال کرتے ہیں اور اپنے باطل افکار و نظریات کو انہیں کے ذریعے پھیلاتے ہیں اور نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں، اور گمراہ کرتے ہیں، مسلم حکمرانوں اور علمائے ربانیین کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلاتے ہیں۔
مگر اس وقت انکے باطل افکار و نظریات کو اسی میڈیا سے انہیں ایکسپوز کیا جا رہا ہے اور اسے اچھے مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، مگر چونکہ میڈیا پر انکا اور انکے آقاؤں کا اکثر قبضہ ہے اسلئے انکی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں تک حق بات نہ پہونچنے پائے، اس کے لئے یہ مختلف طریقے استعمال کرکے حق بات کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

16- نوجوانوں کو سماج سے الگ تھلگ کرنا:
   یہ اسے فکری گوشہ نشینی کا نام دیتے ہیں، کہ اپنے پیروکاروں کو حکام اور سماج سب سے فکری طور پر کٹ کر رہنے کی ہدایت کرتے ہیں، یہ جسمانی طور پر اسی سماج میں رہتے ہیں مگر فکری اور ذہنی طور پر سب سے الگ رہتے ہیں، یہ حکومت اور اسکے تابع سماج کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں؛چنانچہ یہ کبھی تو وطنیت کو بت کہتے ہیں اور کبھی شرک۔ اسی لئے یہ خود کو وطن سے منسوب نہیں کرتے۔ یہ صرف امت کا لفظ استعمال کرتے ہیں مگر امت کا حقیقی مفہوم اپنے پیروکاروں کو نہیں بتاتے کہ امت کے قائدین اور حکام بھی ہوتے ہیں، امت کا وطن اور ملک بھی ہوتا ہے، ہوا میں امت قائم نہیں ہوسکتی، بلکہ اسکی زمینی حقیقت بھی ہے۔
   اور چونکہ یہ قوم و وطن کو مانتے نہیں اور انکے اندر وطن اور قوم سے محبت نہیں ہوتی ہے اسی لئے یہ نوجوانوں کے قلوب واذہان کے اندر داعشی تخریبی فکر انڈیلتے ہیں جو ملک کے اندر بم دھماکہ کرتے ہیں، تخریب کاری کرتے ہیں اور فتنہ وفساد مچاتے ہیں۔ جیسا کہ خوارج کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں اور اہل کفر کو چھوڑ دیتے ہیں۔
اور اسی لئے جب ملک کے اندر تباہی آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں اور جب خوشحالی آتی ہے تو یہ غم میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ قاتلھم اللہ انی یوفکون۔

17- اپنے فساد کو جہاد کے نام پر پروموٹ کرتے ہیں :
چنانچہ جہاں تک جہاد کے وجوب کا مسئلہ ہے کہ یہ خارجی جماعتیں اسے مطلق طور پر فرض عین سمجھتی ہیں اور ہر ایک پر واجب کرتی ہیں جیسا کہ عبد اللہ عزام، سلیمان علوان وغیرہ نے اپنی کتابوں میں اسے ثابت کیا ہے، جب کہ جہاد کے کچھ شرائط، ضوابط اور احکام ہیں، انکے پورا ہوئے بغیر جہاد نہیں ہے۔ سب سے بڑا ضابطہ طاقت اور کمزوری کا ہے۔
اسکے کیلئے یہ مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہیں جیسے کہ یہ نوجوانوں کو جہادی گیت کے ذریعے انکے جذبات کو بھڑکاتے ہیں ، یہ جہادی گیت بہت ہی خطرناک ہوتی ہیں، ایک جہادی گیت کبھی کبھی ہزاروں لیکچرز پر بھاری ہوتی ہے۔ ایک نوجوان کبھی ایک جہادی گیت کو سن کر اپنی کمر میں خود کش بم باندھ کر جنگ زدہ علاقوں میں کود جاتا ہے اور اپنی جان گنوا کر خود کشی جیسے گناہ عظیم کا مرتکب ہوتا ہے۔

18- تاریخی قصوں، ناولوں اور دستاویزی فلموں کا استعمال:
اسی طرح یہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے تاریخی قصوں اور ناولوں کو استعمال کرتے ہیں، بطور خاص ان میں جو انقلابی قسم کی ناولیں ہوتی ہیں انکا بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں جن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انقلاب اور بغاوت کیسے پیدا کئے جاتے ہیں، ایسی ناولوں کو یہ خوب مرچ مسالوں کے ساتھ نستعلیقی اسلوب میں لکھتے ہیں کہ نوجوان جب اسے پڑھنا شروع کرتا ہے تو دو تین سو صفحات کی یہ ناول بغیر ختم کئے دم نہیں لیتا ہے۔
بعض ناولیں ایسی ہیں جنہیں یہ ادب السجون کے نام سے جانتے ہیں، اس میں کچھ من گھڑت واقعے ہوتے ہیں اور کچھ حقیقی ہوتے ہیں مگر اضافات کے ساتھ مزید نمک مرچ لگا کر اسے بیان کرتے ہیں۔ جس میں قید و بند کی جعلی صعوبتوں اور من گھڑت سزاؤں کا ذکر ہوتا ہے۔ جسے قاری پڑھ کر جب ختم کرتا ہے تو ملک اور حکام کے خلاف دشمن بن جاتا ہے۔ اس طرح یہ ناول اس قدر اثر انداز ہوتی ہے کہ دسیوں لیکچرز بھی وہ اثر نہیں ڈال سکتے ہیں۔
اسی طرح دستاویزی فلمیں ہیں جنہیں یہ خروج و بغاوت کیلئے استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ گاندھی، نیلسن مینڈیلا اور ابرہم لنکن وغیرہ پر بنی فلمیں، جنہوں نے سامراجوں سے اپنے ملک کو آزاد کرایا تھا، اسی طرح یہ خود کو سمجھتے ہیں اور مسلم حکام کو سامراج مانتے ہیں۔ اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایک دن یہ بھی بغاوت اور انقلاب کے ذریعے حکومت حاصل کریں گے اور ملک کے مختلف عہدوں اور مناصب پر قبضہ کریں گے۔

19- جھوٹ، افواہ اور پروپیگنڈا عام کرنا: اب سب سے ان کا مقصد اپنے مخالف کو بدنام کرنا اور اپنے مذموم مقاصد کا حصول ہوتا ہے۔ ان میں سب سے اہم مقصد لوگوں کو اپنی تنظیم اور اپنے مرشدین ومفکرین سے جوڑنا ہوتا ہے۔
  چنانچہ انکی کوشش ہوتی ہے کہ یہ نوجوانوں کو اپنے مرشدین کی اندھی تقلید کرنے پر قائل کرلیں، یہاں تک کہ نوجوان ان کے مرید اور اندھے مطیع بن جاتے ہیں، اپنے گھر اور قوم وملت سے بیگانہ ہوجاتے ہیں، والدین کی نافرمانی کرتے ہیں، بعض نے تو اسی اندھاپنی میں
اپنے والدین تک کو قتل کردیا ہے۔

20- پیچھے پڑنا، راز چھپانا اور تقیہ کا استعمال کرنا:
    یہ دوسروں کے ٹوہ میں پڑتے ہیں، ان کے حقائق جاننے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اپنے کاموں کو چھپاتے ہیں، اپنے تمام امور کو صیغہ راز میں رکھتے ہیں۔
تقیہ جھوٹ بولنے اور سچ چھپانے کو کہتے ہیں، چنانچہ یہ صریح جھوٹ بولتے ہیں اور تقیہ بازی میں یہ روافض سے بھی آگے ہیں۔
اس سے یہ دو مقاصد حاصل کرتے ہیں :
الف- جاہ ومنصب اور اہل ثروت کے بچوں کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کرنا تاکہ انکی تربیت کرکے قوم کے اونچے طبقے پر اپنا قبضہ قائم کرسکیں۔
ب- منبر ومحراب پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنا: یہ منبر ومحراب کے ذریعے اور اسی طرح دیگر سرکاری وغیر سرکاری اسٹیجوں کے ذریعے اپنے باطل افکار کو پھیلاتے ہیں۔

21- نصاب تعلیم کو تحریکی لٹریچر میں تبدیل کرنا:
  چنانچہ یہ عام دینی کتابوں کے مد مقابل فکری کتابوں کو پڑھاتے ہیں، اور بطور خاص فکری، تحریکی، فقہ الحرکہ، جہادی اور فقہ الواقع اور ان جیسے دوسرے ناموں سے نوجوانوں کو بہلاتے ہیں اور دین کی صحیح تعلیمات سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
  اسی طرح یہ نسوانی پرچے اور میگزین نکالتے ہیں اور خواتین کے اندر انہیں پرچوں کے ذریعے اپنے باطل افکار کو پھیلاتے ہیں۔

22- ڈراموں، دستاویزی فلموں اور کارٹونوں کا استعمال کرنا:
یہ اپنے مذموم باغیانہ مقاصد کے حصول کی خاطر ڈرامے، دستاویزی فلمیں اور بچوں کے لیے کارٹون بھی بناتے ہیں، آپ سوچیں کہ ان کے مذموم مقاصد سے ہمارے چھوٹے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں، یہ انقلاب و بغاوت کو کارٹون کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور انہیں ٹی وی چینلوں پر دکھاتے ہیں جنہیں یہ اسلامی چینل کہتے ہیں، ان فلموں اور کارٹونون کو یہ جانوروں کی شکل میں بھی دکھاتے ہیں، اس کے ساتھ بیک گراؤنڈ میں جوشیلے اور انقلابی گیت بھی پیش کر دیتے ہیں، ایسے ڈراموں، فلموں اور کارٹونون سے انکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بغاوت اور انقلاب کہیں بھی واقع ہو وہاں کے بچے بچپن ہی سے ذہنی طور پر اسکے لئے تیار رہیں۔

اللہ ہمیں تحریکیت، حزبیت، شخصیت پرستی نیز جمود وتعصب سے دور رکھے۔ کتاب وسنت اور منہج سلف کا پیروکار بنائے۔ حقیقت پسند، حق گو اور باطل سے نفرت کرنے والا بنائے۔ دین اسلام کا حقیقی خادم بنائے نیز ریا ونفاق سے بچائے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت دین حق اور توحید کی سربلندی عطا کرے نیز شرک وکفر اور بدعت وتقلید کی لعنتوں نیز تحریکی جراثیم سے عالم اسلام کو پاک کرے۔ آمین
اللہم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ، وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ، ولا تجعلہ متلبسا علینا فنضل، واجعلنا خادماً للإسلام والمسلمین۔آمین



الثلاثاء، 29 أكتوبر 2024

تحریک اہل حدیث کی تنزلی کے اسباب اور علاج

تحریک اہل حدیث کی تنزلی کے اسباب اور علاج


بقلم : د/ اجمل منظور المدنی 


یہ تحریک ایمان وعمل، منہج وعقیدہ اور فقہ وفتاوی نیز جدید پیش آنے والے سنگین مسائل ونوازل ہر ایک میں اصلاح کی تحریک ہے کہ جس کا آغاز صحابہ کے دور ہی سے ہوچکا تھا کہ جیسے جیسے لوگوں کے اندر ایمان وعمل، عقیدہ و منہج حتی کہ فقہ و فتاوی میں انحراف اور خامیاں پیدا ہوتی گئیں صحابہ تابعین اور تبع تابعین نے کھل کر ان پر نکیر کی اور لوگوں کی اصلاح کی کوشش کی۔

اگر ایک طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے خوارج کے انحراف پر نکیر کرکے لوگوں کی اصلاح کی تو دوسری طرف ابن عمر رضی اللہ عنہما نے منکرین تقدیر پر نکیر کر کے لوگوں کی اصلاح کی۔

دوسری صدی ہجری کے آغاز ہی میں جب کتاب و سنت کے نصوص سے لاپرواہی سامنے آئی اور لوگوں نے عقل و رائے کا استعمال کثرت سے کرنا شروع کیا تو اس وقت محدثین کرام کی جماعت نے آگے بڑھ کر اس پر نکیر کی اور نصوص کتاب وسنت اور آثار صحابہ کا کثرت سے استعمال کر کے کتاب اللہ، سنت رسول اور فہم صحابہ کی روشنی میں لوگوں کی اصلاح کی اور اسی وجہ سے اس تحریک سے جڑے لوگوں کو اصحاب الحدیث اور مخالفین کو اہل الرائے کہا گیا۔ 

تیسری صدی کے آغاز میں فلسفہ ومنطق اور علم الکلام وعقلیات کے عروج کے وقت جب عقل پرست جہمیہ اور معتزلہ کا عروج ہوا اور مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوئی تو امام احمد بن حنبل اور دیگر علمائے امت نے کھل کر لوگوں کی اصلاح کی خاطر اس پر نکیر کی اور فہم صحابہ کی روشنی میں کتاب وسنت کا درس دیا۔

چھٹی اور ساتویں صدی ہجری میں جب عقدی، فقہی اور ذہنی جمود کی وجہ سے تقلید و تصوف اور فلسفہ وعلم الکلام کا بھیانک سایہ مسلمانوں پر چھا گیا تو اس دبیز سائے کو ہٹانے کے لیے میدان اصلاح میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنا قدم جمایا اور ہر میدان میں اصلاح کی ایک تحریک پیدا کر دی اور اپنے پیچھے سچے اور مخلص شاگردوں کی ایک بڑی جماعت چھوڑ دی جو دنیا کے مختلف خطوں میں اس تحریک کو لے کر پھیل گئے۔

اور ماضی قریب میں جبکہ مسلمانوں کے سیاسی اور فکری زوال کی وجہ سے مغربی اقوام کا تسلط قائم ہوا اور مسلمان فکر و عقیدہ اور ایمان و عمل بلکہ ہر میدان میں کوتاہی کا شکار ہوئے تو دنیا کے مختلف خطوں میں اصلاحی تحریکیں پیدا ہوئیں جن میں اگر ایک طرف نجد وحجاز کے علاقے میں شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے ہاتھوں اس تحریک کی تجدید ہوئی تو دوسری طرف مصر وسوڈان اور لیبیا وجزائر کے اندر ابن بادیس، محمد حامد الفقی اور عبد الرزاق عفیفی جیسے سلفی جیالوں کے ہاتھوں انصار السنہ المحمدیہ کے نام سے اس تحریک کی تجدید ہوئی۔

اور تیسری طرف بر صغیر میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ اسماعیل شہید، نواب صدیق حسن خان بھوپالی جیسے غیور اہل حدیثوں کے ہاتھوں اس تحریک کی تجدید ہوئی جسے سید نذیر حسین محدث دہلوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا داؤد راز دہلوی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی جیسے غیور اہل حدیثوں نے اس تحریک کو آگے بڑھایا۔ 

اس کے بعد برصغیر کے اندر باقاعدہ اس تحریک کو ہر میدان میں متحرک کرنے کے لیے ایک جمیعت کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ذریعے یہ قافلہ آج تک رواں دواں ہے۔

یہ تحریک جس ایمان و عمل اور عقیدہ و منہج کی اصلاح کو لے کر اٹھی تھی آج بھی وہ اپنے اسی اصول پر قائم اور باقی ہے مگر آج جن اصلاحی کاموں اور وسیع تر وسائل اور طریقوں کی ضرورت ہے اور جس بڑے پیمانے پر کام کرنے کی حاجت ہے ان میں ہم پیچھے ہیں بلکہ تنزلی کا شکار ہیں، ذیل میں ہم اسی قسم تنزلی کے چند اہم اسباب کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:

1-جمود وتعطل:

زندہ اور باشعور سماج کے لوگ ہمیشہ علمی بحث و مباحثوں کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، علمی، ثقافتی اور سماجی حرکت نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے جمود کا شکار ہوکر زنگ آلود ہو جاتے ہیں، 

جمود زدہ زندگی اور ایسی زندگی جس میں کچھ کرنے کی، آگے بڑھنے کی چاہ نہ ہو اُسے مفلوج زندگی کہتے ہیں، ایسی زندگی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ چونکہ رواں دواں زندگی اور ایک کامیاب زندگی کے لئے رفتار ضروری ہے اس لیے تحریک اہل حدیث کے اندر رفتار اور تیزی لانے کیلئے ہمیں اس جمود وتعطل کو توڑنا ہوگا، اور سعی پیہم نیز جہد مسلسل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ 


2- عملی کوتاہی

عملی کوتاہی اور غفلت قوم و ملت کی بربادی کا سبب ہے، آج یہ تحریک تقریبا ہر میدان میں عملی کوتاہی اور غفلت کا شکار ہے، نو نہالان امت کی تعلیم و تربیت کا میدان ہو یا دعوتی و تبلیغی پیمانے پر اصلاح عمل کا میدان ہو، سماجی و معاشرتی پیمانے پر نوجوانان ملت کے اندر اخلاقی برائیوں اور خامیوں کی اصلاح کا میدان ہو یا اہل حدیثوں کے درمیان باطل تحریکوں کے اثرات کی وجہ سے عقیدہ و منہج میں انحراف کا میدان ہو، یہ عملی کوتاہی جماعتی اور انفرادی ہر اعتبار سے ہر میدان میں پائی جاتی ہے۔

آج ضرورت ہے کہ ہم عملی کوتاہی اور غفلت کی نیند سے بیدار ہو کر اس تحریک کو باطل تحریکوں پر غالب کریں، اور اس مژدہ نبوی کا مستحق ٹھہریں : 

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: (يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين) ترجمہ : اس علم کو ہر دور کے قابل اعتماد لوگ آگے لے کر جائینگے، یہ لوگ اس علم سے غلو کرنے والوں کی تحریفات سے، کذابوں کے جھوٹ اور جاہل لوگوں کی غلط تشریحات کو خارج کر دینگے- (صحیح- سنن الکبریٰ بیہقی (209/10)۔ 


3- تنظیم واجتماعیت کا فقدان:

جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کے مختلف نت نئے وسائل کو استعمال کرنے میں گلوبلائزیشن کے اس دور میں آفاقی شعور کا میدان ہو یا تنظیمی پیمانے پر افراد جماعت کو جوڑنے اس تحریک کو وسیع کرنے اور احباب جماعت میں موجود علم و شعور کے مالک افراد کا بہتر استعمال کر کے اس تحریک کو غالب کرنے کا میدان ہو ہر جگہ ہمیں تنظیم وتنسیق کا فقدان نظر آتا ہے خواہ یہ جماعتی اعتبار سے ہو یا شخصی اعتبار سے۔ 


4- آپسی اختلاف وانتشار:

ایک طرف اگر فاسد مذاہب اور باطل تحریکوں کے گہرے اثرات کی وجہ سے یہ تحریک منہج و عقیدہ اور فقہ و عمل کے میدان میں انحراف کا شکار ہو کر آپسی اختلاف میں مبتلا ہے، تو دوسری طرف جماعتی اور تنظیمی اعتبار سے اتفاق و اتحاد کو لے کر بڑے پیمانے پر یہ تحریک اختلاف و انتشار کا شکار ہے۔ 

آج ضرورت ہے کہ اہل حدیث ہر دو پیمانے پر منظم طور پر کام کر کے اپنے اندر اصلاح پیدا کریں، نچلی سطح سے لے کر اوپر تک آج ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے ورنہ اگر یہی صورتحال رہی تو وہ دن دور نہیں کہ ہم بھی مختلف ٹکڑیوں میں بٹ کر باطل تحریکوں کا لقمہ تر بن جائیں۔ 


5- فکری انارکی:

 جماعتی پیمانے پر منظم طور سے کام نہ ہونے اور تحریکی وتنظیمی کوتاہی کا ہی نتیجہ ہے کہ جسکی وجہ سے ہماری جماعت کے اندر بڑے پیمانے پر فکری لٹریچر اور باطل افکار و نظریات کے حاملین کی کتابیں پھیلی ہوئی ہیں حتی کی مدارس و مساجد کے اندر بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری جماعت کے طلبہ اور دیگر نوجوان باطل تحریکوں کا شکار جلد ہوجاتے ہیں۔

دوسری طرف اخلاقی اور منہجی اعتبار سے ہمارے یہاں تربیتی اور ریفریشر پروگراموں کے نہ ہونے یا بڑے ہی محدود انداز میں ہونے کی وجہ سے جہاں ایک طرف ہماری جماعت اخلاقی کوتاہیوں کا شکار ہے تو دوسری طرف لبرلزم اور فکری انارکی کی طرف مائل ہیں۔


6- احساس برتری:

اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو لوگ اس پر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اسے اپنی کاوشوں کا نیتجہ سمجھتے ہیں۔ اپنی کامیابیوں کے زعم میں وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔ دین اسلام ہمیں غرور و تکبر کے مقابلے میں عجز و انکسار اور احساس کمتری کے مقابلے میں عزت نفس کا تصور دیتا ہے۔ دین اسلام ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ 

یقینا اللہ تعالی نے اس جماعت کو توحید و سنت جیسی نعمت سے نوازا ہے، اس پر ہمیں کسی احساس برتری کی نہیں بلکہ حمد و شکر اور تواضع اختیار کرنے نیز اس کی طرف دوسروں کو بھی دعوت دینے کی ضرورت ہے۔

احساس برتری دراصل احساس فخر کو جنم دیتی ہے، یہ بیماری معاشرے اور تنظیم وتحریک کے لئے ایک ناسور ہے کیونکہ یہ ایک بڑے فساد اور بگاڑ کا سبب ہے اور لوگوں کی دل آزاری کا ذریعہ بھی، ساتھ ہی اس احساس کی وجہ سے عمل واخلاق میں لاپرواہی عام ہے؛ لہذا جس قدر جلد ممکن ہو سکے اسکا تدارک بہت ضروری ہے۔ 


7- مستحکم دعوتی سسٹم کا فقدان:

جمعہ کے خطبات، نمازوں کے بعد دروس اور تربیتی اور دینی اجتماعات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہماری جماعت میں پایا جاتا ہے لیکن ہمارے پاس کوئی مضبوط، ٹھوس اور مستحکم دعوتی سسٹم نہیں ہے کہ جس کے ذریعے ہم اپنے ان خالص دعوتی نمایاں کارناموں کو ہائی لائٹ کر سکیں جنہیں دیکھ کر دوسرے لو گ بھی متاثر ہوں اور ہمارے قریب آسکیں، ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے ان تمام مخلص کوششوں کو اپنے ہی اندر محدود رکھتے ہیں اور انہیں اگے بڑھانے کے لیے ہمارے پاس کوئی منظم سسٹم نہیں ہے لہذا یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے ان کاموں کو ہائی لائٹ کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کے لیے جماعتی پیمانے پر مستحکم اور منظم دعوتی پلیٹ فارم تیار کرنا ہوگا۔ 


8- لائحہ عمل اور منصوبہ سازی:

اجتماعیت پسند ذہن بنانے اور ملکر کام کرنے کیلئے ذہن سازی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اسے مستحکم لائحہ عمل منصوبہ سازی اور پروگرامنگ کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے، کوئی بھی قوم جب بغیر منصوبہ سازی اور بغیر نصب العین اور ٹارگٹ کے کام کرتی ہے تو وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ پاتی ہے۔ اس لیے آج ہمیں شخصی، ادارہ جاتی اور جماعتی ہر پہلو سے منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تحریک اہل حدیث کو آگے بڑھانے میں یہ مہمیز کا کام کرے۔


9- دعوتی کاز پر ترکیز:

باطل تحریکوں کے پروپیگنڈوں کا شکار ہو کر ہماری جماعت کے بہت سارے لوگ رفاہی اور انسانی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اسی کو اصل دینی اور دعوتی کاز سمجھنے ہیں، یہ ہماری بہت بڑی بھول ہے، رفاہی اور انسانی کاموں کے لیے ہر جماعت اور ہر قوم وملت میں متمول اور مخیر لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر کام کر رہے ہیں، یہ کوئی دینی و دعوتی اعتبار سے امتیازی کام نہیں ہے، 

تحریک اہل حدیث کا اصل اور نمایاں کام توحید کی دعوت ہے، منہج و عقیدہ کی اصلاح ہے، شرک و بدعت اور تقلید و تصوف پر رد ہے نیز اخلاقی برائیوں پر نکیر ہے۔ 

اس کے ساتھ اگر استطاعت ہے تو رفاہی اور انسانی کام بھی کیا جائے اس پر کوئی قدغن نہیں لگاتا ہے مگر دوسری تحریکات کی طرح دینی اور دعوتی پیمانے پر اسی کو سب کچھ سمجھ لیا جائے یہ ایک سنگین غلطی ہے۔ لہذا آج ضرورت ہے کہ ہم دعوتی کاز کے نام پر اپنے اصل اور بنیادی امور پر ترکیز کریں۔ 


10- فقہ وفتاوی کا مرکزی اہتمام:

احکام شرعیہ کے استنباط کا اصل منبع کتاب اللہ، سنت رسول، آثار صحابہ اور قیاس و اجماع رہے ہیں، عہد صحابہ و تابعین میں فقہ کا لفظ ہر قسم کے دینی احکام کے فہم پر بولا جاتا تھا جس میں ایمان و عقائد، عبادات واخلاق، معاملات اور حدود و فرائض سب شامل تھے۔ 

پیش آمدہ مسائل اور نوازل کو مذکورہ مصادر کی روشنی میں حل کیا جاتا تھا، اور آج بھی الحمدللہ اہل حدیثوں کے یہاں یہی سسٹم قائم ہے مگر اس کے لیے جس طرح منظم انداز میں جماعتی پیمانے پر فقہ و فتاوی کا اہتمام ہونا چاہیے اس طرح دیکھنے میں نہیں آ رہا ہے، ہاں بعض اداروں اور شخصیتوں کی طرف سے انفرادی کام ضرور ہوا ہے جن کی ہمیں حوصلہ افزائی کرنی چاہیے مگر منظم طور پر جماعتی پیمانے پر جس طرح یہ کام ہونا چاہیے وہ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے ہماری جماعت کے اندر بالخصوص نوجوانوں میں دینی مسائل کے اندر خاص طور سے پیش آمدہ سنگین مسائل اور نوازل میں حیران اور پریشان نظر آتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے مسالک اور مذاہب کے فتاووں سے حتی کہ باطل تحریکوں کے جذباتی فتووں اور بیانات سے متاثر ہو جاتے ہیں اور اپنی جماعت سے بدظن اور مایوس ہو جاتے ہیں۔


11- وفاق المدارس کا عدم وجود 

نصاب تعلیم:

ملک کے تمام مدارس دینیہ کے کاموں کو مربوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا، اُن کے لیے یکساں نصاب تعلیم، امتحانات اور سند کا اجرا، مدارس کے درمیان باہمی ربط وتعاون، جدید عصری تقاضوں کے مطابق دینی تعلیم کی ترویج واشاعت اور اساتذہ کیلئے تربیت کا انتظام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ 

یہ کام پڑوسی ملک میں منظم طور پر ہو رہا ہے اور اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہو رہا ہے خواہ بیرون ممالک یونیورسٹیوں میں الحاق کا معاملہ ہو یا اندرون ملک سرکاری سطح پر اور دیگر یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خاطر آگے بڑھنے کا معاملہ ہو طلبہ کو اکثر پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اس لئے آج ہمیں ملکی سطح پر ایک تعلیمی وفاق کی ضرورت ہے۔ 


آخر میں عرض یہ ہے کہ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنی تمام دینی دعوتی اور منہجی کاموں کو منظم کرکے انہیں مستحکم اور ٹھوس انداز میں جدید وسائل کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کریں، باطل تحریکوں اور لبرل تنظیموں کے پروپیگنڈوں میں آ کر ملکی اور عالمی سیاسی امور نیز انسانی خدمات کو ہی دعوت نہ سمجھ کر دین و دعوت کے جو اہم امور اور مسائل ہیں جیسے توحید و عقیدہ منہج و سنت اور ایمان و اخلاق کی ترویج نیز شرک و بدعت اور بد عقیدگی اور دیگر خرافات پر نکیر کرنا انہیں پر اپنی دعوت کو مرکوز رکھیں۔

ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم و تربیت کے اعتبار سے جماعتی پیمانے پر وفاق المدارس یا اور کسی بھی دوسرے جامع نام سے اہل حدیث کے تمام مکاتب اور مدارس کو منظم کیا جائے تاکہ ہماری جماعت میں منظم طور پر ایک تعلیمی سسٹم سامنے آئے اور اسے ملکی اور عالمی پیمانے پر ایک نمایاں حیثیت سے ہم پیش کر سکیں۔ 

اسی طرح سب سے زیادہ ہمیں جماعتی پہلو سے متحد اور منظم ہونے کی ضرورت ہے اوپری سطح سے لے کر صوبائی ضلعی اور علاقائی سطح تک سسٹمیٹک اعتبار سے منصوبہ بندی کے ساتھ اور ایک منظم لائحہ عمل کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے؛ کیونکہ یہ تحریک اسلام کے حقیقی چہرے کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے برپا کی گئی ہے اور یہ تحریک ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی یہ عام تحریکوں کی طرح نہیں ہے کہ جیسے ہی ان کی دعوت ختم ہوتی ہے ان کے افراد تنزلی کا شکار ہوتے ہیں وہ تحریک ختم ہو جاتی ہے اور اس دعوت کے ساتھ وہ تحریک مٹ جاتی ہے ایسا بالکل نہیں ہے یہ اسلام کے حقیقی چہرے کو پیش کرنے والی تحریک ہے یہ صحابہ کی تحریک ہے سلف صالحین کی تحریک ہے جنہوں نے اسلام کے چشمہ صافی کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کتاب و سنت پر اٹے گرد و غبار کو ہٹا کر اسے خالص شکل میں لوگوں کے سامنے اجاگر کیا ہے اور یہ قیامت تک تحریک باقی رہے گی کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت تکلیف دینے والے کی تکلیف رسوا کرنے والے کی رسوائی اسے ختم نہیں کر سکے گی نہ اسے روک سکے گی حدیث نبوی بالکل واضح ہے:

عن عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ ".

عمیر بن ہانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے دین کو تھامے رکھے گا، جو ان کو بے یارومددگار چھوڑے گا، یا ان کی مخالفت کرے گا، وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا، حتیٰ کہ اللہ کا حکم آن پہنچے گا اور وہ لوگوں پر غالب ہی ہوں گے۔“ (صحیح مسلم :1037)۔ 


اس لئے ایک بار پھر کہوں گا کہ تحریک اہلحدیث کوئی نئی یا کوئی عام تحریک نہیں ہے۔ بلکہ یہ وہی تحریک ہے جو عہد نبوی اور عہد صحابہ سے چلی آرہی ہے۔ جس کا شعار کتاب اللہ اور سنت رسول ہے۔ 

اسلام کی ابتدائی تاریخ اور مرور زمانہ کے ساتھ پیدا ہونے والے مکاتب فکر کے افکار ونظریات کا تحقیقی جائزہ لینے پر یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے کہ تحریک اہل حدیث ہی اسلام کا حقیقی پاسباں ہے جسکا کوئی حقیقت پسند اور غیرجانب دار شخص انکار نہیں کرسکتا ۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ جیسی علمی اور تحقیقی شخصیت نے اپنی دوربینی اور دور اندیشی سے اسی حقیقت کو واشگاف انداز میں کہا تھا کہ:‘‘اہل حدیث کو فرقوں میں وہی حیثیت حاصل ہے جو اسلام کو ملتوں میں’’ (رد المنطق)-

آج ہمیں اسی حقیقت کو کتاب وسنت، آثار سلف اور تاریخی شواہد کی روشنی میں واضح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حق کے متلاشی کیلئے بھانت بھانت کے فرقوں میں حق کو پہچاننا آسان ہوجائے اور امت اسلام کی صحیح رہنمائی ہوسکے۔

 وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

الاثنين، 28 أكتوبر 2024

علماء کا شخصی ارتقاء ضرورت وافادیت

 علماء کا شخصی ارتقاء، ضرورت وافادیت

د/ اجمل منظور المدنی 

وکیل جامعۃ التوحید بھیونڈی ممبئی 


الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الصادق الامین، وعلی آلہ وصحبہ اجمعین، وبعد! 


1-علماء اور انکا مقام:

سوال یہ ہے کہ حقیقی علماء کون ہیں؟

- حقیقی معنوں میں علماء وہ ہیں کتاب وسنت کا جنہیں زیادہ علم ہو؛ کیونکہ دین قال اللہ اور قال الرسول یعنی کتاب وسنت کا نام ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :(إنِّي قد تَرَكْتُ فيكُمْ شَيْئَيْنِ لن تَضِلُّوا بَعْدَهُما: كتابَ اللهِ وسُنَّتي، ولن يَتَفَرَّقا حتّى يَرِدا عَلَيَّ الحَوْضَ) ترجمہ : میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں انہیں اگر مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت ہے یہ دونوں کبھی الگ نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ میرے پاس ہاؤس پر ا کر مجھ سے ملیں گی۔ (المستدرك على الصحيحين:٣٢٣)

- حقیقی علماء وہ ہیں جو منہج سلف کا پیکر ہوں۔ اہل بدعت اور منحرف علماء نہیں جو دین اسلام  اور مسلمانوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔

- اسی طرح حقیقی علماء وہ ہیں جو تقوی شعار اور خشیت الہی سے معمور ہوں؛ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ) ترجمہ : اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ (فاطر :28)۔ 

- اسی طرح حقیقی علماء وہ ہیں جنہیں فقہ الواقع اور مدعو کی زمینی حقائق کا ادراک ہو؛ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ) ترجمہ : اور جب ان کے پاس امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ہے اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور اپنے حکم دینے والوں کی طرف لوٹاتے تو وہ لوگ اسے ضرور جان لیتے جو ان میں سے اس کا اصل مطلب نکالتے ہیں۔ (النساء :83)۔ 


عند اللہ علماء کا مقام ومرتبہ کیا ہے؟

امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء کرام نے انجام دیا ہے او رہر دور میں  اللہ تعالی نے ایسے  علماء پیدافرمائے ہیں جنہوں نے  امت کو خطرات سےنکالا ہے اوراس کی  ڈوبتی  ہوئی  کشتی  کو پار لگانے کی کوشش کی ہے ۔ اسلامی تاریخ ایسے افراد سے روشن ہے  جنہوں نے  حالات کو سمجھا  اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے  لیے  اور ان کو صحیح رخ  پر لانے  کے لیے  ہر طرح کی قربانیاں دیں  جو اسلامی تاریخ کا  ایک سنہرا باب ہے۔ 

اللہ تعالی نے علماء کے مقام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:(يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ) ترجمہ : اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گاجو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا۔ (المجادلہ:11)۔ اسی طرح مزید ارشاد فرمایا :(قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ) ترجمہ : کہہ دیں کیا برابر ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے؟ نصیحت تو بس عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔ (الزمر:9)۔ 

اسی طرح علم اور علماء کے مقام کو واضح کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ) ترجمہ : جو شخص اس راستے پر چلتا ہے جس میں وہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم : 2699)۔ 


2- شخصی ارتقاء :

*انسانی شخصیت:

انسانی شخصیت(Personality) کا ایک جسمانی روپ ہوتا ہے جو اس کے ظاہری جسم، اعضاو جوارح اور اس کے جسمانی خدوخال کی شکل میں سامنے ہوتا ہے۔ جبکہ اس کا دوسرا روپ کرداری ہوتا ہے جواسی انسان کے برتاو، رویوں اور اخلاق وکردار کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ شخصیت کاپہلاروپ وقتی اور عارضی ہوتا ہے مثلا کوئی انسان جسمانی طور پر بہت خوب صورت اور جاذب نظر ہو تو وقتی طورپر لوگوں کی توجہ حاصل کرسکتا ہے لیکن کچھ ہی عرصے بعد یہ روپ زوال پذیر ہوناشروع ہوجاتا ہے جبکہ دوسرا کرداری روپ اگر اعلی اخلاقی اقدار اور اچھے کردار پر مشتمل ہوتو اس کاحسن اور اس کے اثرات طویل المدت ہوتےہیں۔

جب ہم پوری شخصیت کی تعمیر کی بات کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر انسانی شخصیت کے یہ دونوں پہلو ہوتے ہیں۔ ظاہر میں نظرآنے والے جسمانی روپ کی تہذیب بھی ضروری ہے مثال کے طور پر صفائی ستھرائی، ہاں یہ صفائی ستھرائی چہرے اور بدن کا ہو یا ڈریس کا ہو لباس شرعی ہو، چہرے پر مسکراہٹ اور گفتگو شیریں ہو۔ 

اور ساتھ ہی اس جسمانی روپ میں نکھار ،خوب صورتی ،اعلی خصوصیات اور دوام پیدا کرنے والا کرداری روپ کی اصلاح بھی ناگزیر ہے تاکہ بلند اخلاق پیش کرکے اپنے مدعو پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ 

چنانچہ جہاں ایک طرف اللہ تعالی نے انسان کے جسمانی روپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:(وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ) ترجمہ : اور تمھاری صورت بنائی تو تمھاری صورتیں اچھی بنائیں اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، یہ ہے اللہ تمھارا رب، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ (غافر:64)۔ 

مزید ارشاد فرمایا :(ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ) ترجمہ : پھر ہم نے اسے ایک اور صورت میں پیدا کر دیا، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔ (المؤمنون:14)۔ 

مزید ارشاد فرمایا :(الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ[7] فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ) ترجمہ : وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا. (الانفطار :18)۔ 

مزید ارشاد فرمایا :(لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ) ترجمہ : یقینا ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں پیدا کیا ہے۔ (التين:4)۔ 

تو دوسری طرف انسان کے کرداری روپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا : (لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ) ترجمہ : اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچے گا۔ (الحج:37)۔ 

مزید ارشاد فرمایا :(وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ) ترجمہ : اور تم نیکی میں سے جو بھی کرو گے اللہ اسے جان لے گا اور زاد راہ لے لو کہ بے شک زاد راہ کی سب سے بہتر خوبی(سوال سے) بچنا ہے اور مجھ سے ڈرو اے عقلوں والو!

(البقرة:197)۔ 


- محلوقات باری میں انسان کا مقام:

انسان کی دوسری مخلوقات پر برتری کی وجہ: 

اللہ تعالی نے انسان کو کائنات کی دیگر مخلوقات پر فوقیت عطا فرمائی ہے چنانچہ سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا: (وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا) ترجمہ : اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کی اولاد کو بہت عزت بخشی اور انھیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے جو مخلوق پیدا کی اس میں سے بہت سوں پر انھیں فضیلت دی، بڑی فضیلت دینا۔ [الإسراء : 70]۔ 

دیگر مخلوقات پر یہ فضلیت انسان کو علم، عقل وشعور،غوروفکرکی صلاحیت اور اخلاق وکردار کی وجہ سے عطاہوئی ہے کیونکہ یہ چیزیں انسان ہی کی امتیازی خصوصیات ہیں۔چنانچہ انسان اپنی ان صلاحیتوں کی بناپر دنیا کی ہرمخلوق کو کو اپنے قابو میں کر لیتا ہے اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے چاہے وہ مخلوق انسان سے جسمانی طورپر زیادہ طاقت ور ہی کیوں نہ ہو ۔

 

- شخصی فضیلت کا معیار :

انسانوں میں فضیلت کا معیار:

افراد انسانی کے درمیان باہمی فضلیت کی اگر بات کی جائے تو اللہ کے ہاں سب سے زیادہ فضلیت والا انسان وہ ہےسب سے زیادہ متقی اور اعلی کردار والا ہو۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انسا ن کو اپنی پوری شخصیت کی تعمیر پر کام کرنا پڑتا ہے یعنی ظاہری جسم ، لباس وپوشاک کی تہذیب ودرستگی کے علاوہ تہذیب نفس اور بلندکرداری پربھی باقاعدہ کام کرنا پڑے گا۔

اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا : (إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ) ترجمہ : یقینا اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں زیادہ تقوی والا ہے، یقینا اللہ تعالی ہر چیز جاننے والا اور ہر چیز سے باخبر ہے۔ (الحجرات:13)، 

اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ، وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَعْمَالِكُمْ) ترجمہ : یقینا اللہ تعالی نہ تو تمہاری شکلوں کو دیکھتا ہے اور نہ ہی تمہارے مال و دولت کو بلکہ وہ تمہارے دلوں کو اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔  اسی طرح ایک دوسری جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور اسی طرح نہ ہی کسی کالے کو کسی گورے پر اور نہ ہی کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت ہے سوائے تقوی کے۔ 


- شخصی ارتقاء کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں :

شخصی ارتقاء اور تعمیر شخصیت کی راہ میں بہت ساری رکاوٹیں درپیش ہوں گی جن میں تین رکاوٹیں بہت اہم ہیں:

الف: نفس امارہ: 

یہ انسان کا داخلی دشمن ہے جو ہما وقت ہے اسے برائیوں کی طرف مائل کرتا ہے اور شہوات و شبہات میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے ارشاد باری تعالی ہے: (وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ) ترجمہ : اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتی، بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے۔ بے شک میرا رب بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ (يوسف:53)۔ 

مزید ارشاد فرمایا :(وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا[7] فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا[8] قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا[9] وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا)ترجمہ : اور نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک بنایا! [7] پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری ( کی پہچان) اس کے دل میں ڈال دی۔ [8] یقینا وہ کامیاب ہوگیا جس نے اسے پاک کرلیا۔ [9] اور یقینا وہ نامراد ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دبا دیا۔ (الشمس:10)۔ 

معلوم ہوا کہ داخلی محاذ کو محفوظ رکھنے کے لئے نفس امارہ پر قابو پانا ضروری ہے۔ 

ب- خارجی ماحول: 

اس خارجی دشمن میں سب سے خطرناک کردار بری صحبت کا ہوتا ہے، اس سے بچنے کیلئے اچھے ماحول میں رہنے اور اچھی صحبت اختیار کرنے کی ضرورت ہے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :(مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً) ترجمہ : نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے (جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی محبت میں ہو) وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا (کم از کم) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے (بھٹی کی آگ سے) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبودار دھواں پہنچے گا۔ (صحیح بخاری :5534)۔ 

اسی طرح ایک دوسری روایت میں آیا ہے :(لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ) ترجمہ : ساتھ ہی نہ بناؤ مگر مومن کو اور تمہارا کھانا نہ کوئی کھائے مگر متقی اور پرہیزگار۔ 

اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری حدیث کے اندر فرمایا:(الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ)ترجمہ : ادمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لیے جب کوئی کسی سے دوستی کرے تو اس کے بارے میں اچھی طرح معلومات حاصل کر لے۔  

ج- شیطان:

یہ خارجی اور داخلی دونوں پیمانے پر انسان کا کھلا دشمن ہے انسانوں کی رگوں میں یہ رچتا بستا ہے دلوں پر ڈیرہ جما کر بیٹھ جاتا ہے انسان کو ہمہ وقت وسوسہ دلاتا ہے، انسان کو گمراہ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے، قرآن کریم کے اندر اللہ تعالی نے جا بجا شیطان لعین سے آگاہ رہنے اور اس سے بچنے کی تنبیہ کی ہے۔ اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیث پاک کے اندر شیطان لعین سے پناہ مانگی ہے اور امت کو اس سے، اس کی چالوں اور اس کے خبیث عزائم سے آگاہ کیا ہے، اس تعلق سے سب سے اہم حدیث سنن ابن ماجہ کے اندر موجود ہے، عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور دو لکیریں اس کے دائیں جانب اور دو بائیں جانب کھینچیں، پھر اپنا ہاتھ بیچ والی لکیر پر رکھا اور فرمایا: ”یہ اللہ کا راستہ ہے“، پھر اس آیت کی تلاوت کی: (وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله) ”یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ یہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے“ (سورۃ الانعام: ۱۵۳)۔ 


3- شخصی ارتقاء کی ضرورت :

یہ معلوم رہے کہ انسان کی تعمیر شخصیت اور اسکے ارتقاء میں کئی عناصر حصہ لیتے ہیں۔ جن میں ماں باپ کی نشوونما اور تعلیم و تربیت، گھراور خاندان کا ماحول، مسجد، معاشرہ ، مکتب ومدرسہ، اسکول وکالج اور یونیورسٹی ، اساتذہ ، یہ سب مل کر انسان کی شخصیت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:( مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ) ترجمہ : ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جانور صحیح سالم بچہ جنتا ہے۔ کیا تم نے کوئی کان کٹا ہوا بچہ بھی دیکھا ہے؟ (صحیح بخاری :1358)۔ 

اگر خوش قسمتی سے ان عناصر نے تعمیر شخصیت میں مثبت کردار ادا کیا ہو تو بچے کی شخصیت مثبت بنیادوں تعمیر ہوجاتی ہے لیکن بدقسمتی سے اگر ان عناصر نے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا یا غلط کردار کا باعث بنے ، تو تعمیر شخصیت غلط بنیادوں پرہوجاتی ہے۔

- صبر وتحمل: 

شخصی ارتقا اور شخصیت سازی میں صبر و تحمل بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے؛ چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے اندر 13/ سال رہ کر صحابہ کرام کو صبر و تحمل کا درس دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تکلیفیں برداشت کیں اور اپنے ساتھیوں کو بھی تکلیفیں برداشت کرنے اور انہیں جھیلنے کی تلقین کی، یہ کون نہیں جانتا کہ اہل طائف اور اہل مکہ کی طرف سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ساتھیوں کو کن کن تکلیفوں اور پریشانیوں کو جھیلنا پڑا ہے؟! اور یہ حقیقت ہے کہ بھٹی میں جل کر ہی سونا کندن بنتا ہے۔ 

- عفو ودر گزر:

شخصیت سازی میں معافی اور عفو درگزر بھی بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے؛ کتاب و سنت کے اندر بارہا اس عظیم وصف کا ذکر آیا ہے اور مسلمانوں کو اس عظیم صفت سے متصف ہونے پر ابھارا گیا ہے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت مسلمہ کے لیے آئیڈیل اور رہنما ہیں، آپ کی زندگی ہم سب کے لیے اسوہ ہے، اس باب میں جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ آپ کی سیرت طیبہ عفو و درگزر سے عبارت ہے اس کے لیے صرف ثمامہ بن اثال کا واقعہ جنہیں مسجد نبوی کے اندر باندھ دیا گیا تھا اور اسی طرح اس دیہاتی کا واقعہ پیش کر دینا کافی ہے جس نے مسجد نبوی کے اندر پیشاب کر دیا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے ساتھ جس حسن سلوک اور درگزر کا مظاہرہ فرمایا اور پھر اس کا جو نتیجہ سامنے آیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ شخصیت سازی میں اس صفت کا بڑا عظیم کردار ہے۔ 

انکے علاوہ بھی بہت سارے عوامل اور عناصر کی ضرورت ہے جنکی روشنی میں شخصیت کو سنوار کر اسے موثر بنایا جا سکتا ہے، جیسے کہ:

تنازعات کے حل کی صلاحیت۔ 

فیصلہ سازی کی قوت۔ سفارت کاری، ہرقسم کے لوگوں کو مینیج کرنے کا طریقہ، اسٹریٹجک سوچ۔ منصوبہ بندی اور ہدف تک پہونچنے کی چاہت۔

محنت کے جذبے سے سرشارہونا،لگن اور جستجو کی عادت کا ہونا۔ 

اخلاقیات کی مضبوطی۔

ایمان داری اور دیانت داری۔

خوش اخلاقی۔ سلیقہ مندی۔شعوری پختگی۔

دوسروں پر اعتبار کرنے کی ہمت۔ خود اعتمادی اور متنوع تخلیقی صلاحیتوں کا جامع۔ 

اشتراک عمل۔باہمی تعاون۔ باہمی اعتماد۔

لچک اور نرم رویے کا حامل۔ دوسرے کو غور سے سننے کی عادت ۔ مشاورت۔ باہمی احترام کو فروغ دینا۔ معلومات کا تبادلہ اورشیئرنگ۔  موٹیویشن وغیرہ۔

اسی طرح حصول علم کے دوران بھی ہمیں چند مہارتوں کی ضرورت ہے تاکہ ارتقائی عمل کے مراحل بآسانی طے ہو سکیں، جیسے کہ:

لیکچر توجہ سے سن کر نوٹس لینے کی مہارت۔ اپنے اسائمنٹس کو ذمہ داری سے پورا کرکے ٹیچر کو پیش کرنے کی صلاحیت۔

جوابدہی کا احساس۔

معلومات کا تجزیہ کرنا۔

گفتگو کرنے کی صلاحیت۔

اہم سوچ کوآگے بڑھانے کی صلاحیت۔ ٹیکنالوجی سے تعلیمی استفادہ کرنے کی صلاحیت ۔

ہدایات پر عمل کرنے کی صلاحیت۔اچھےتخیل کی صلاحیت۔

کاموں میں پہل کرنے کی صلاحیت ۔ 

اپنے تعلیمی امور کی تنظیم کی صلاحیت۔ وقت پر کام مکمل کرنے کی صلاحیت۔ تقریرو تحریر کو معیاری بنانے کی صلاحیت اور سب سے اہم ٹائم مینجمنٹ کی صلاحیت۔


4- شخصی ارتقاء کی افادیت :

دین اسلام کے اندر شخصیت سازی اور شخصی ارتقاء کے لیے ضروری ہے کہ اس کا فائدہ دین سیکھنے میں ظاہر ہو، اسی طرح دین پر عمل کرنے میں بھی ظاہر ہو اور ساتھ ہی اسے دوسروں تک پہنچانے اور تلقین کرنے میں بھی ظاہر ہو جیسا کہ سورہ العصر سے ظاہر ہوتا ہے:(وَالْعَصْرِ[1] إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ[2] إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ) ترجمہ : زمانے کی قسم! [1] کہ بے شک ہر انسان یقینا گھاٹے میں ہے۔ [2] سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔ [العصر: 3]۔ 

القاء اور دعوت پیش کرنے اور خطاب کرنے کے اسلوب اور طریقے ومنہج میں بھی اسکی افادیت ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :(ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ) ترجمہ : اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے۔ (النحل:125)۔ 

اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کو بھی نرمی کا حکم ہوا تھا۔ دونوں بھائیوں کو یہ کہہ کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا :(فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى) ترجمہ : اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے۔ (طہ:44)۔

مدعو کو مخاطب ہونے اور اسے خطاب کرنے کا اسلوب بہت اہم ہوتا ہے؛ چنانچہ

اصل مقصد مخاطب اور سامعین کے دلوں تک پہونچ کر انکے قلوب واذہان پر قابض ہونا تاکہ وہ ہماری بات کو بغور سن کر اس کا قائل ہو جائے، اسکے لئے جہاں موضوع کو بہتر اسلوب میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ آواز میں زیر وبم لانے کی ضرورت ہے وہیں پر تمام سامعین کو اپنی طرف متوجہ رکھنے کیلئے سب کی طرف دیکھنے اور ہاتھوں سے مناسب اشارہ کرنے کی بھی ضرورت ہے، اسی طرح جہاں ایک طرف دلائل براہین کے ساتھ اصل ایشو پر فوکس کرنے کے ساتھ اپنی باتوں کو اختصار سے پیش کرنے کی ضرورت ہے وہیں پر تلفظ کی بہترین ادائیگی اور لف ونشر اور حشو زائد سے بچنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ سامعین کا ذہن موضوع ہی پر مرکوز رہے دوسری وادیوں میں منتشر نہ ہونے پائے۔ 

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں دین کا سچا داعی بنائے اور دعوت دین کو بہتر اسلوب میں حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین۔

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...