الجمعة، 15 نوفمبر 2019

یمن کے اندر حوثیوں کے زیر قبضہ تعز شہر میں بچوں اور عورتوں پر ظلم

یمن کے اندر حوثیوں کے زیر قبضہ تعز شہر میں بچوں اور عورتوں پر ظلم

Houthi atrocities against children in #Yemen!!!!
#Republican_Yemen

اسی لئے سعودی اتحاد ان ظالموں سے لڑ رہا ہے جس کے خلاف شب وروز  اخوانی رافضی میڈیا پروپیگنڈہ کر رہی ہے،، تاکہ حوثیوں کا ظلم پورے یمن تک پھیل جائے،، 
معلوم رہے صرف 15% علاقے ابھی ظالم باغی حوثیوں کے قبضے میں رہ گئے ہیں۔۔

قطر اب اخوانیوں کے بعد روافض کا گڑھ بن گیا

قطر اب اخوانیوں کے بعد روافض کا گڑھ بن گیا

یہ حقیقت ہے کہ اخوانی جہاں جہاں گئے اپنے ساتھ روافض کو گھسایا، چاہے وہ تیونس ہو یا مراکش، جزائر ہو یا مصر،، اس وقت ترکی اور قطر میں روافض اپنا بازو پر پھیلا رہے ہیں،، ایک رپورٹ کے مطابق محظ ایک مہینے میں دو ہزار ایرانیوں نے ترکی میں جگہ خریدی ہے،،، اور وہاں کئی ایک حسینیات بنا دئیے ہیں۔۔ 
اسی طرح قطر میں دوحہ کے اندر مشرق وسطی کا سب سے بڑا حسینیہ بنایا گیا ہے قطری پیسے سے۔۔ 
ایک ایرانی ویب سائٹ تابناک کی مانیں تو اس وقت قطر میں چھوٹے بڑے کل بیس حسینیات بن چکے ہیں،،،،، 
ان حسینیات میں صحابہ کرام پر تبرا کیا جاتا ہے، خصوصی دینی پروگرام کئے جاتے ہیں،، عزا داری اور دیگر رافضی مجلسیں لگتی ہیں۔۔ 

جس طرح قطر کو جزیرہ عرب میں گرجا گھر بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے، دیکھیں اس پوسٹ کو:
 https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1636589919787622&id=100003098884948

نوٹ: یہ سب قرضاوی کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔

اخوانی صہیونی ایجنڈا الٹا ہوگیا

اخوانی صہیونی ایجنڈا الٹا ہوگیا

صہیونی اخوانی مشترکہ ایجنڈا تھا کہ عرب حکومتوں کو تبدیل کرکے نئی بنیاد رکھی جائے،، اور اس کے لئے انہوں نے سعودی عرب بالخصوص بن سلمان کو ٹارگٹ بنایا،، لیکن ان کا مکر خود انہیں پر الٹا آرہا ہے،،، ہر جگہ عوام بن سلمان کا نام لے رہی ہے،، اور پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں بن سلمان جیسا شخص چائیے جو کرپشن پر روک لگائے۔ ھھھ 
اسی کو قرآن میں کہا گیا ہے: وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ یعنی بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے۔۔

اخوانی جماعت اور ملوکیت: ایک معمہ

🌋اخوانی جماعت اور ملوکیت: ایک معمہ 

🔮ملوکیت یا بادشاہت کا حکم اسلام میں کیا ہے، اس پر شروع سے کسی نے بحث نہیں کیا، کیونکہ خلافت ہو یا بادشاہت دونوں اگر قانون الہی کے مطابق ہیں تو صحیح ورنہ دونوں قابل مذمت۔۔ قرآن میں بارہا بادشاہت کی تعریف کی گئی ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں مختلف بادشاہوں کے پاس خطوط لکھے لیکن کسی سے بادشاہت چھوڑنے کی شرط نہیں لگائی بلکہ الٹا اسلام لانے کی صورت میں اسی حال پر باقی رہنے کی بات کی۔۔ 

🔮مزید نجاشی بادشاہ کے بارے میں فرمایا کہ حبشہ میں ایک انصاف پسند بادشاہ رہتا ہے وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا اسی کے پاس چلے جاؤ۔۔ 
بادشاہت کو نعمت بتاتے ہوئے ارشاد ہوا: تؤتي الملک من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء ۔۔ 
اسی طرح بنو اسرائیل پر احسان جتاتے ہوئے مدح کے پیرائے میں فرمایا : وآتیناھم ملکا عظیما
اس پر بہت پہلے ایک طویل مضمون لکھا تھا جسے اس پوسٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1859999387446673&id=100003098884948

🔮اخوانیوں اور تحریکیوں نے ملوکیت کی مذمت میں بحث اس وقت شروع کی جب عثمانی بادشاہت کا خاتمہ ہوا، اور انہوں نے عالم اسلام کی ابتر صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دین کے نام پر تنظیمیں بنائیں اور رافضی خمینی کے ذریعے بغاوت پر مبنی حکومت کو دار الاسلام قرار دیا اور پوری دنیا میں یہ باور کرایا کہ ایران ہی اس وقت دار الاسلام ہے باقی دار الکفر اور سارے حاکم ملوکیت کے پرستار طاغوت ہیں،، 

🔮یہ ان کی طرف سے دوہرا معیار تھا کیونکہ سید مودودی نے سعودی ملوکیت کی کبھی برائی نہیں کی، وہاں برابر دورے کرتے رہے اور چندہ اٹھاتے رہے، بلکہ سعودی ملوکیت کی طرف سے فیصل ایوارڈ بھی لیا اور ساتھ میں دو لاکھ ریال بھی لائے،، جبکہ دوسری طرف خمینی بغاوت کو دار الاسلام قرار دینے کیلئے معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو کاٹ کھانے والی ظالم ملوکیت میں بدل دیا۔۔ اور ملوکیت کی مذمت میں پوری ایک کتاب تصنیف کردی جسے فورا رافضی ملک ایران نے داخل نصاب کرلیا۔۔

🔮یہی حال حسن بنا کا بھی تھا،، جماعت بناتے ہی ملوکیت کے دلدادہ تھے، یہ بھی سعودی شاہ عبد العزیز کے پاس دو زانو بیٹھ کر سلام کرتے تھے،، 
اور اپنے ملک مصر میں شاہ فواد کے پیچھے پیچھے لگے رہتے تھے۔۔ بلکہ جب شاہ فواد کا انتقال ہوگیا تو اس پر اخوانیوں نے خوب مرثیہ لکھا،، اسے اسلام کا پاسدار اور دین کے جھنڈے کو بلند کرنے والا کہا جبکہ وہ انگریزوں کے اشارے پر چلتا تھا۔۔ 
اخوانیوں کے اس قدر تعریف، مدح سرائی اور مرثیہ سے متاثر ہوکر ولی عہد فاروق نے انہیں اپنے قریب کرلیا، ، پھر تو حسن بنا نے اس کی بھی خوب تعریف کی اور اسے مربی، استاذ، آئیڈیل اور پکا دیندار اسلامی اوامر کا نافذ کرنے والا قرار دیا جبکہ آج موجودہ مصری دستور جس کی اخوانی مخالفت کرتے ہیں وہ حسن بنا ہی کے دور ملوکیت کا بنا ہوا ہے جس کی حسن بنا تعریف کیا کرتے تھے۔۔ 

🔮1937 کے اندر حسن بنا نے اخوانی مجلے میں ملک فاروق کی تعریف میں لکھا: شاہ فاروق مصحف شریف کے حامی ہیں، 30/ کروڑ مسلمان پوری دنیا سے آپ پر فدا ہیں، اللہ تعالی آپ کو قرآن کی حفاظت کیلئے چن رکھا ہے، جلالة الملك آپ اللہ کی برکت سے آگے بڑھتے رہیں۔۔ 

🔮ملک فاروق کی تاج پوشی کے وقت اخوانیوں کی طرف سے مطالبہ ہوا کہ اسے ایک دینی پروگرام میں عمل میں لایا جائے اور تاج پوشی جامع ازہر کے شیخ کریں گے۔۔ لیکن وفد پارٹی کے نحاس پاشا نے اسکی مخالفت کی، پھر لوگ دو حصوں میں بٹ گئے، زیادہ تر لوگ نحاس پاشا کے ساتھ ہوگئے اور نعرہ لگایا: الشعب مع النحاس، یعنی مصری عوام نحاس کے ساتھ ہے۔ یہ دیکھ کر حسن بنا بھی اخوانیوں کو لیکر سڑک پر نکل گئے اور ملک فاروق کے حق میں نعرہ لگانے لگے : اللہ مع الملک، یعنی اللہ بادشاہ کے ساتھ ہے، پھر کیا تھا سارے اخوانی مظاہرین ملک فاروق کو امیر المومنین کہنے لگے۔  
تفصیل دیکھیں اس کتاب میں: الاخوان المسلمون: قراءة في الملفات السرية

🔮یہ ہے اخوانیوں کا دوہرا معیار،، پھر جنرل نجیب نے ملک فاروق کا تختہ پلٹا تو اخوانی فوجی حکومت کے ساتھ ہوگئے،، حالانکہ اس وقت سارے اخوانی تحریکی فوجی حکومت کے خلاف نعرہ لگاتے ہیں،، اور ملوکیت کے ساتھ اسے بھی برا سمجھتے ہیں۔ 
سید مودودی نے جنرل یحیی کے خلاف اس قدر پرچار کیا کہ ایک رافضی عورت فاطمہ جناح کو ملک کی سربراہی کیلئے راضی ہوگئے،، بلکہ اس کیلئے پرچار کرنے لگے۔۔ اور اسی کو ووٹ بھی دیا گرچہ عوام کی اکثریت نے اسے رد کردیا۔ 

🔮آج کے اخوانی اپنے مرشد کے منہج سے ہٹ کر اگر ایک طرف ملوکیت کو ناپسند کرتے ہیں تو دوسری طرف خود مملکت قطر اور مملکت کویت میں رہنا پسند کر رہے ہیں،، بلکہ انہوں  نے اپنا سیاسی ہیڈکوارٹر مملکت برطانیہ میں بنا رکھا ہے، جبکہ دینی تنظیم ایک یورپی کافر ملک میں بنا رکھا ہے جسے قطر سے چلایا جا رہا ہے،، 

🔮حقیقت یہ ہے کہ یہ مصلحت کے بندے ہیں،، انکے نزدیک دولت اور سیادت سب کچھ ہے،، یہ ہر اس حکومت کی برائی کریں گے جہاں انکی دال نہیں گلے گی، اور ہر وہ حکومت ان کی نظر میں خدا رسیدہ ہے جو انہیں اپنے پلکوں پر سجائے رہے۔۔

کیا سعودی وزارت حج نے محرم کی قید ہٹادی ہے؟

🕋کیا سعودی وزارت حج نے محرم کی قید ہٹادی ہے؟ 

🔮دراصل سعودی عرب نے سیاحتی ویزا جو جاری کیا ہے اس میں محرم کی شرط نہیں ہے، اسی کو بنیاد بنا کر یہ خبر پھیلائی گئی کہ عمرہ حج کیلئے محرم کی شرط کو ختم کردیا گیا ہے،،، پہلے اس خبر کو انگریزی اخباروں میں پھیلایا گیا: 
https://tribune.com.pk/story/2084349/9/?amp=1

🔮پھر اسے جزیرہ جیسے اخوانی صہیونی چینلوں نے پھیلایا،، پھر برصغیر کے رافضی چینلوں نے نمک مرچا لگا کر اسے خوب پھیلایا بطور نمونہ اس دشمن مملکہ رافضی یو ٹیوبر کو دیکھیں جس کا کام ہی ہے شب وروز سعودی کے خلاف ویڈیو بنا بنا کر ڈالنا ہے۔۔ 
https://youtu.be/pxMlgpQJl0E

🔮اس پروپیگنڈے کے عام ہونے کے بعد سعودی وزارت حج کی طرف سے اس خبر کی نفی کی گئی جسے سعودی وزارت حج کے ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے: 
http://saudigazette.com.sa/article/580392

https://twitter.com/saudi_gazette/status/1186265880931364865?s=12

🔮دوسری بات یہ ہے کہ بفرض محال اس پروپیگنڈے کو سچ مان لیا جائے کہ اگر سعودی عرب نے حج عمرہ کرنے کیلئے محرم کی شرط ہٹا دی ہے تو آپ کو کون منع کر رہا ہے کہ بغیر محرم کے جائیں؟ 

🔮تیسری بات یہ ہیکہ برصغیر سے فقہ حنفی پر عمل کرتے ہوئے کتنی عورتیں بغیر محرم کے گروپ کی شکل میں حج عمرہ کرنے جاتی ہیں،، اور ان پر کوئی نکیر نہیں کرتا اور نہ ہی بخاری ومسلم کی حدیث سناتا ہے۔۔ 

🔮اگر سعودی نے یہ شرط ہٹا دی ہے تو کون سا جرم کیا؟ محرم کے ساتھ جانے پر منع تو کر نہین سکتا،، حنفیوں کی طرح صرف اس شرط میں حیلہ اختیار کرسکتا ہے،، جو کہ ابھی ایسا نہیں کیا گیا ہے،، یہ خبر صرف مملکہ کو بدنام کرنے کیلئے ہے۔۔ 

✔صحیح بات یہ ہیکہ بہت سے لبرل اخوانیوں  اور تقلیدیوں کی طرف سے محرم کی قید کو ہٹانے کی مانگ بہت پہلے سے کی جا رہی ہے مگر اسے اب تک ہٹایا نہیں گیا ہے۔۔


لبنان کی تباہی کا حقیقی ذمیدار کون؟

🌋لبنان کی تباہی کا حقیقی ذمیدار کون؟ 

🔮آج پانچ دنوں سے لبنانی حکومت کے خلاف لوگ مظاہرے کر رہے ہیں،، لبنان مختلف قوموں کا ملک ہے، جہاں سب سے زیادہ سنی مسلمان بستے ہیں، لبنان کی ترقی اور اسکے تعاون میں سعودی عرب کا سب سے بڑا ہاتھ ہے،، وہاں سنی مسلمانوں کے بعد شیعہ، دروزی، عیسائی مارونی بھی رہتے ہیں۔۔ 

🔮لیکن ایران میں آئی خمینی بغاوت کے بعد شیعوں کے ذریعے جب سے حزب اللاتی گروہ کو یہاں پنپنے کا موقع ملا ہے،، اس نے دھیرے دھیرے اس ملک کو کھوکھلا کردیا،، یہ ملک پندرہ سالوں تک خانہ جنگی کا شکار رہ چکا ہے،، آج یہ ملک انتہائی تباہ کن حالت سے دوچار ہے،، تمام لبنانی سڑک پر آکر حزب اللاتی فسادیوں کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور انہیں حکومت سے دور کرنے کی بات کر رہے ہیں،، 

🔮الجزیرہ کے ٹی وی اینکر فیصل قاسم نے جب معروف لبنانی سیاسی تجزیہ کار طارق شندب سے یہ سوال کیا کہ لبنان کو اس تباہی کے دہانے پر لانے کا ذمیدار کون ہے،؟ تو اس نے بلا تذبذب فورا حزب اللات کا نام لیا، ، فیصل قاسم سن کر دم بخود ہو گیا،،، ھھھھ

🔮حزب اللات اپنے حواریوں اور غنڈوں کو پورے ایک ملیشیائی جنگجو کی شکل میں بنا رکھا ہے،، انہیں علاقے کے اندر عراق شام یمن وغیرہ میں اہل سنت مسلمانوں کے خلاف لڑنے کیلئے بھیجتا ہے،، ملکی دولت کا غلط استعمال کر رہا ہے،، بلکہ لبنان کے اندر ڈرگ، نشہ آور چیزوں اور غیر قانونی اسلحوں کی اسمگلنگ کرتا ہے،،، اسی لئے اس پر ملک کے اندر ملک بنانے کا الزام ہے،، 

🔮وہ اپنی آفس کے اندر جو نقشہ لگائے ہوئے ہے اس میں عراق اور شام کی طرح لبنان کو بھی ایران کا ایک صوبہ دکھایا گیا ہے،، 

🔮مظاہرین کے اندر حزب اللاتی اور شیعی امل تنظیم کے گنڈے موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر گولی سے مارنے اور ان کے اندر دہشت پھیلانے آئے تھے جن کی نشاندہی ہونے پر لبنانی فوج نے انہیں گرفتار کر لیا،، یہ خوش آنند بات ہے کہ لبنانی فوج نے مظاہرین کا ساتھ دیا ہے، اور حزب اللات کو غنڈہ گردی پھیلانے کا موقع نہیں دیا جیسا کہ حسن نصر اللات نے ٹی وی پر آکر دھمکی دی تھی۔۔۔ 

✔نوٹ: آج ضرورت اس بات کی ہے کہ رافضیوں اور انکے دم چھلے اخوانیوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جنکا واحد مقصد عالم اسلامی کو تباہ اور کمزور کرنا ہے، تاکہ دشمنان صحابہ خمینی کو اولاد کو پورے عالم اسلام پر مسلط کیا جاسکے۔

جدید مشرق وسطی کی تعمیر، ترکی اور اسرائیل کا گھناونا کردار

جدید مشرق وسطی کی تعمیر، ترکی اور اسرائیل کا گھناونا کردار

مشرق وسطی کا مطلب مسلم عرب ممالک، ، انہیں نئے سرے سے تعمیر کرنے کا مطلب پہلے انہیں تباہ کرکے ختم کیا جائے پھر نئے سرے سے اپنی مصلحتوں کی روشنی میں انکی بنیاد رکھی جائے،، یہ ہے یہودیوں اور انکے دم چھلے لنگور اردگھان کے ارادے اور عزائم۔۔ جنہیں ان باپاک ارادوں کے مالکوں نے 2001 اور 2003 میں افغانستان اور عراق کی تباہی کے بعد 2005 میں ایک ساتھ ملکر اسرائیل میں اتفاق کیا تھا،،، 

پھر 2010 سے عرب اسپرنگ نام سے جو تباہی اخوانیوں کے ذریعے پھیلائی گئی مشرق وسطی میں اسی اسرائیلی اور ترکی معاہدے کا نتیجہ تھا،، اور ان فساد زدہ ممالک میں آج بھی ترکی سر کی بازی لگائے ہوئے ہے اپنے ٹارگٹ کو پورا کرنے کیلئے،، تاکہ یہودیوں نے جو بہادری کی قمیص پہنائی تھی اسے پورا کر دکھائیں۔۔۔  

یہ ہے اردگان کا اپنی بیوی امینہ کے ساتھ مسلم ممالک کے تئیں تخریبی کارنامہ جسے ایک بہت بڑی بھیڑ مسیحا کے روپ میں دیکھتی ہے۔۔

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...