سورہ فتح اور صحابہ کا مقام!
اس سورت کے اندر اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی چار جگہوں پر تعریف کی ہے:
1- ان میں پہلی جگہ اللہ تعالی کا یہ قول ہے:(هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ) ترجمہ : وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں۔ (الفتح :4)۔
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے۔
صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ” مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے “ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔
2- انہی میں سے ایک اللہ تعالی کا یہ قول بھی ہے:(لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا) ترجمہ : یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی [الفتح : 18]۔
اللہ تعالی ان سے راضی ہوا اور وہ بھی اللہ تعالی سے راضی ہوئے، روافض قرآن کریم کے اس واضح نص کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے معنی میں تحریر کرتے ہیں -اللہ تعالی انہیں برباد کرے- یہ زنادقہ مجرمین سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس آیت کے بعد مرتد ہو گئے تھے -اللہ ان کا پورا کرے- حالانکہ یہ اللہ کی طرف سے ابدی رضامندی کی سرٹیفیکیٹ ہے ان صحابہ کرام کے لیے، اللہ تعالی ان کے ایمان اور ایمان پر ثابت قدمی ہی کی وجہ سے راضی ہوا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا کے مل گئے ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہوا، بعض جاہل دیہاتی جو شہر سے دور رہتے تھے وہ مرتد ہوئے تھے جن سے خود صحابہ کرام نے قتال کیا، ان میں سے کچھ مارے گئے اور باقی اسلام کی طرف واپس آگئے، پھر یہی صحابہ کرام آگے بڑھ کر دنیا کو فتح کیا یہاں تک کہ ان روافض کے ملک بلاد فارس کو بھی فتح کیا، بلاد روم، مصر اور افریقہ کے دیگر مغربی علاقوں کو فتح کیا -رضوان اللہ علیہم اجمعین- یہاں تک کہ وہ بحر اٹلانٹک تک پہنچ گئے، اور یہ بے ہودے کہتے ہیں کہ وہ مرتد ہو گئے تھے، کیا دین اسلام سے مرتد ہو کر کوئی دین اسلام کے لیے یہ عظیم خدمات اور یہ کارنامے انجام دے گا اور فتوحات پر فتوحات حاصل کرے گا اسلامی قلمرو کو وسیع کرتا جائے گا؟!
یہ وہ صحابہ کرام ہیں جن کے ہاتھوں پر بہت ساری قوموں نے اسلام قبول کیا، اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد زریں میں صحابہ کرام کے ہاتھوں پر جتنے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اتنا کبھی بھی لوگ اسلام میں داخل نہیں ہوئے ہیں، اور یہ زنادقہ مجرمین اس کے بدلے میں ان صحابہ کرام کو گالی دیتے ہیں، ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں اور ان کی تکفیر کرتے ہیں۔ دراصل یہ اس طعن و تشنیع کے ذریعے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹارگٹ کر رہے ہوتے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر طعن و تشنیع کر رہے ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ ڈائریکٹ ایسا کر نہیں سکتے؛ کیونکہ ایسا کر کے یہ اپنے آپ کو ایکسپوز کر لیں گے اور اس سے سارے لوگوں کی تکفیر ہو جائے گی، اسی لیے انہوں نے یہ خبیث طریقہ اپنایا ہوا ہے۔
3- اسی طرح اللہ تعالی نے فرمایا: (هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا) ترجمہ : وہی ہے جس نےاپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے، اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے واﻻ [الفتح : 28]۔
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی نے اس دین کو اصحاب محمد ہی کے ہاتھوں پر غالب کیا ہے، انہی کے جہاد، انہی کی تلواروں اور انہی کے علم و حکمت اور انہی کی دعوت کے ذریعے اسلام کو سر بلند کیا اور تمام ادیان پر اسے غالب کیا، اور ان شاء اللہ ایسے ہی سچے مومنوں کے ہاتھوں اللہ تعالی دوبارہ بھی اسے غالب کرے گا، اس لیے صدق دل سے اللہ کے کلمے کی سربلندی اور اس کے دین کے غالب کرنے اور تمام ادیان پر اسے سر بلند کرنے کے لیے اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔
4- اس سورت کے آخر میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی زبردست تعریف کی ہے، ان کی مدح و ستائش کی ہے اور ان سے بغض اور دشمنی رکھنے والوں کو کافر کہا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:(مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا) ترجمہ : محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ﺛواب کا وعده کیا ہے [الفتح : 29]۔
ان آیت میں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا بیان ہوئی کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں پھر آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفت و ثنا بیان ہو رہی ہے کہ وہ مخالفین پر سختی کرنے والے اور مسلمانوں پر نرمی کرنے والے ہیں۔
پھر ان کا اور وصف بیان فرمایا کہ نیکیاں بکثرت کرتے ہیں خصوصاً نماز جو تمام نیکیوں سے افضل و اعلیٰ ہے، پھر ان کی نیکیوں میں چار چاند لگانے والی چیز کا بیان یعنی ان کے خلوص اور رضائے اللہ طلبی کا کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ یہ اپنے اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں جو جنت ہے اور اللہ کے فضل سے انہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی بھی انہیں عطا فرمائے گا جو بہت بڑی چیز ہے۔
جیسے کہ فرمایا :(وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ) [9-التوبة:72] ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی ذرا سی رضا بھی سب سے بڑی چیز ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چہروں پر سجدوں کے اثر سے علامت ہونے سے مراد اچھے اخلاق ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:370/11] مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں خشوع اور تواضع ہے۔
الغرض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نیتیں خالص تھیں اعمال اچھے تھے پس جس کی نگاہ ان کے پاک چہروں پر پڑتی تھی اسے ان کی پاکبازی جچ جاتی تھی اور وہ ان کے چال چلن اور ان کے اخلاق اور ان کے طریقہ کار پر خوش ہوتا تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے شام کا ملک فتح کیا جب وہاں کے نصرانی ان کے چہرے دیکھتے تو بےساختہ پکار اٹھتے، اللہ کی قسم یہ عیسیٰ کے حواریوں سے بہت ہی بہتر و افضل ہیں۔ فی الواقع ان کا یہ قول سچا ہے، اگلی کتابوں میں اس امت کی فضیلت و عظمت موجود ہے اور اس امت کی صف اول ان کے بہتر بزرگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور خود ان کا ذکر بھی اگلی اللہ کی کتابوں میں اور پہلے کے واقعات میں موجود ہے۔ پس فرمایا یہی مثال ان کی توراۃ میں ہے۔
پھر فرماتا ہے اور ان کی مثال انجیل کی مانند کھیتی کے بیان کی گئی ہے جو اپنا سبزہ نکالتی ہے پھر اسے مضبوط اور قوی کرتی ہے پھر وہ طاقتور اور موٹا ہو جاتا ہے اور اپنی بال پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اب کھیتی والے کی خوشی کا کیا پوچھنا ہے؟
اسی طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ انہوں نے آپ کی تائید و نصرت کی پس وہ آپ کے ساتھ وہی تعلق رکھتے ہیں جو پٹھے اور سبزے کو کھیتی سے تھا یہ اس لیے کہ کفار شرمسار ہوں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضیوں کے کفر پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے چڑتے اور ان سے بغض رکھنے والا کافر ہے۔
فضیلت اور سبقت کمال اور بزرگی جو ان صحابہ کرام کو حاصل ہے امت میں سے کسی کو حاصل نہیں، اللہ ان سے خوش، اللہ ان سے راضی، یہ جنتی ہو چکے اور بدلے پالئے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو دین اسلام پر ثابت قدم رکھے اور ہم کو ان لوگوں میں شامل کر دے جو دین حق کی پابندی کرتے ہیں اور سنت رسول پر قائم ہیں اور کتاب اللہ اور سنت رسول کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام کرتے ہیں وہ اصحاب جنہوں نے اس قرآن کو یاد کیا اسے سمجھا اور اسے دوسروں تک پہنچایا، اسی طرح سنت رسول کو یاد کیا اور اسے دوسروں تک پہنچایا، اور اسی لیے اللہ تعالی ان سے راضی ہوا، سو ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم ان سے محبت کریں، ان کی مدح و ستائش کریں اور ان کے حق میں دعا کرتے رہیں۔
و صلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحاب وسلم۔
📖نفحات الھدی والایمان من مجالس القرآن، ص 390
🖋️شیخ ربیع بن ہادی مدخلی حفظہ اللہ