السبت، 29 مارس 2025

امارات اور اخوانی بیچارے!

 امارات اور بیچارے اخوانی! 


ترکی میں جب یہ دیکھا گیا کہ استنبول پر اردگان مخالف امام اوگلو تین انتخابات سے برابر جیت رہا ہے اور پورے ملک میں اپنی مقبولیت بڑھا رہا ہے تو اس کے خلاف سازش کرتے ہوئے اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کر کے اس کو جیل میں ڈلوا دیا گیا حتی کہ اس پر دہشت گردی تک کا الزام لگایا گیا تو استنبول پر شہر کے اندر اور اس کے علاوہ پچاسوں شہروں میں اردگانی حکومت کے خلاف پورا سیلاب امڈ پڑا اور پبلک جگہ جگہ دھرنا دینے لگی مگر وہاں کے ڈکٹیٹر حاکم اردگان نے فوج کے ذریعے اس احتجاج کو بے رحمی سے کچل دیا اور ہزاروں لوگوں کو جیل میں ڈلوا دیا...

اسی طرح غزہ کے اندر بھی ایرانی ایجنٹ اخوانی ھماسیوں کے خلاف پورا شہر امڈ بڑا کیونکہ ان کی وجہ سے پورا شہر تباہ و برباد ہو رہا تھا اور یہ تو سرنگوں میں گھسے رہتے ہیں یا پھر ترکی اور قطر میں بیٹھے رہتے ہیں اور سوشل میڈیا سے بھڑکاؤ بیان دے کر دشمنوں سے حملہ کرواتے ہیں اور اپنے آقاؤں کو خوش کرتے ہیں، عوام مار کھاتی ہے بے گھر ہوتی ہے لاکھوں لوگ مارے گئے اور بے گھر ہوئے پورا شہر تباہ ہو گیا پورا اسٹرکچر برباد ہو گیا نہ کوئی سکول ہے نہ کوئی شفا خانہ نہ کوئی گھر پبلک کھلے آسمان میں رہنے پر مجبور ہے..

اس وقت اخوانی اسی وجہ سے ہر جگہ دھتکارے جا رہے ہیں یہ صرف سوشل میڈیا میں دکھائی دیتے ہیں زمینی طور پر انہیں کہیں بھی جگہ نہیں ملتی ہے ترکی اور قطر کے سوا...


ان ساری باتوں کو چھپانے کے لیے اور ان پر پردہ ڈالنے کے لیے ان دلال اخوانیوں نے امارات کے خلاف محاذ کھول دیا ہے وہ ساری جھوٹی کہانیاں اور پروپیگنڈے جو 10 سال سے چل رہے تھے انہی کو دوبارہ یہ پھیلا رہے ہیں کہ امارات کا احتجاجوں کے پیچھے ہاتھ ہے امارات ایسا کر رہا ہے ویسا کر رہا ہے...

دراصل امارات اخوانیوں کے خلاف بہت سخت ہے امارات میں سب سے بڑا گناہ اخوانی جماعت میں شامل ہونا ہے چونکہ انہیں وہاں پر کسی طرح کی کوئی آزادی نہیں ہے یہ لوگ وہاں بول بھی نہیں سکتے کہ یہ اخوانی ہیں، یہ وہاں صوفی بول کر یا سلفی بول کر رہتے ہیں، اسی لیے یہ سب سے زیادہ پروپیگنڈا اور سب سے زیادہ جھوٹ الزام امارات کے خلاف بکتے ہیں اور اسے بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے...


https://www.facebook.com/share/p/15 cEySYvcL/

ھماسی چوہوں کی عمالت

 یہ حماسی چوہا جو دکھنے میں بھی ایرانی لگتا ہے الجزیرہ اس کا بیان نقل کر رہا ہے  یہ خوف کے مارے کپکپا رہا ہے اور کہہ رہا ہے دنیا والوں سے مخاطب کر کے کہ اسرائیلی بندھک جو ہمارے پاس ہیں انہیں اس وقت خطرہ ہے غزہ والوں سے جو ہمارے خلاف احتجاج کر رہے ہیں...

اسکو یہودی بندھکوں کی بڑی فکر ہے لیکن لاکھوں مسلمان فلسطینی قتل اور تباہ ہو گئے اس کی کوئی فکر نہیں ہے... اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس ایرانی ایجنٹ کی نگاہ میں یہودیوں اور ایرانیوں کی جو قدر و قیمت ہے وہ کسی مسلمان کی نہیں ہے اور یہی حقیقت ہے...
ہماسی ترجمان موسی ابو مرزوق نے صاف صاف کہا تھا کہ ہمیں صرف اپنے بندوں سے مطلب ہے فلسطینیوں کی ہمیں کوئی فکر نہیں ہے ان کی حفاظت کی ذمہ داری اقوام متحدہ اور اسرائیل کی ہے نعوذ باللہ من ھذا الخذلان...
اور مقتول اسماعیل ھنیہ نے کہا تھا کہ ہم یہاں پر اسرائیل کو مشغول رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ منظم پلان بنا کر ہمارے ایران پہ حملہ نہ کرے. استغفر اللہ!
یعنی غزہ کے اندر فلسطینیوں کو کٹوا رہا ہے اپنے آقاؤں کو تحفظ دینے کی خاطر!!!؟

https://www.facebook.com/share/p/18ehMcbZdy/?mibextid=wwXIfr

حرمین شریفین اور آل سعود

 آل سعود کے کارنامے

ایسے عظیم کارناموں پر بھی اہل بدعت اور دشمنانِ توحید کو اعتراض ہے...

🚨 *"مسجد الحرام: دنیا کی سب سے بڑی اور مصروف عبادت گاہ کے حیرت انگیز حقائق!"*

🕋 رقبہ: 3,56,000 مربع میٹر
🕋 گنجائش: 20 لاکھ نمازیوں کی
🕋 سالانہ زائرین: 2 کروڑ سے زائد
🕋 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے، کبھی بند نہیں ہوتی
🕋 صفائی کے انتظامات:

1800 صفائی کرنے والے عملہ

40 برقی صفائی گاڑیاں

60 صحن کی صفائی کی مشینیں

2000 کچرا دان
🕋 مسجد میں 40,000 قالین موجود
🕋 قالینوں کا ایک بڑا گودام، 15,000 قالینوں کی گنجائش کے ساتھ
🕋 13,000 واش رومز، دن میں 4 بار مکمل صفائی
🕋 25,000 زم زم کی بوتلیں دستیاب
🕋 یومیہ 100 زمزم کے نمونوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے
🕋 زمزم کے پانی کے فاضل ذخائر محفوظ کیے جاتے ہیں
🕋 الحرمین قرآنی تلاوت مرکز
🕋 2000 سے زائد محفوظ لاکرز
🕋 مسجد میں سینکڑوں کولنگ یونٹس
🕋 مسجد کی ٹائلیں روشنی منعکس کرتی ہیں اور گرمی کم کرتی ہیں
🕋 مقصد ایپلیکیشن: مسجد میں کسی بھی جگہ تک رہنمائی فراہم کرتی ہے

🕋 آواز کا نظام:

غلطی کی شرح 0%

6000 اسپیکرز

4 جدید آڈیو سسٹمز

50 آڈیو سٹاف ممبران
🕋 قرآن کریم کا ترجمہ 65 مختلف زبانوں میں دستیاب
🕋 جمعہ کے خطبے کا ترجمہ 5 مختلف زبانوں میں

🕋 خصوصی افراد کے لیے سہولیات:

10,000 عام ویل چیئرز مفت فراہم کی جاتی ہیں

400 الیکٹرانک وہیل چیئرز

ڈبل اور ٹرپل وہیل چیئرز دستیاب

🕋 افطار انتظامات:

4,000,000 افراد کا افطار

5,000,000 کھجوریں مسجد کے اندر تقسیم کی جاتی ہیں

5,000,000 کھجوریں مسجد کے باہر تقسیم کی جاتی ہیں

افطار کے بعد صرف 2 منٹ میں صفائی مکمل کی جاتی ہے

یہ سب خدمات زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے مسجد الحرام میں دستیاب
ہیں۔ سبحان اللہ!

اخونجیوں کی پیرلل مسلح فوج تاریخ کے آئینے میں!

 اخوانجیوں کی پیرالل مسلح فوج تاریخ کے آئینے میں!!!!


سوڈان کو دو سال سے جس طرح اخونجی فسادی گروپ پیرا ملٹری نے یرغمال بنا رکھا تھا اور جگہ جگہ قتل خوریزی مچا رہے تھے اس پر قابو پاکر وہاں کی فوج نے تمام جگہوں پر بطور خاص خرطوم پر پورا کنٹرول حاصل کر لیا ہے...

قطر سے خنزیرہ چینل آج بھی اس فسادی اور قاتل ملیشیا کے حق میں خبر نشر کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یہ عسکری اسٹریٹیجک حکمت عملی ہے اس نے اپنی جگہ گرچہ چھوڑ دی ہے مزید قوت کے ساتھ واپس آئے گی وغیرہ وغیرہ... ایسے فسادی چینلوں سے فتنوں کے وقت دور رہنا بہت ضروری ہے...

کہتے ہیں کہ جنوبی سوڈان میں کوئی ایک جگہ باقی ہے...
اس میں پورے طور پر مصر اور وہاں کے فوجی جنرل عبد الفتاح سیسی نے اور اسی طریقے سے سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے بڑا کردار ادا کیا ہے..

ہر طرح سے سوڈانی حکومت کی مدد کی اور وہاں کے فتنہ و فساد قتل و خوریزی کو ختم کرنے میں پورا پورا ساتھ دیا...

چنانچہ یہ دیکھنے میں آیا کہ سوڈان کی عوام مصر اور وہاں کے فوجی جنرل عبدالفتاح سیسی اور اسی طریقے سے سعودی عرب اور وہاں کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سڑکوں پر آئے...

اور سوڈان کے فوجی جنرل نے پریس کانفرنس کر کے باقاعدہ ان دونوں ملکوں کا بطور خاص سعودی عرب کا اور وہاں کے حکمرانوں کا شکریہ ادا کیا ہے...

نوٹ:
ایک ملک میں ایک ہی فوج ہوتی ہے... دو فوج اگر بنائی جائے گی تو ایک طرح سے خانہ جنگی ہونا طے ہے.... یہ رافضیوں اور اخوانیوں کی سوچ ہے کہ جہاں بھی کنٹرول ہو تو ملکی فوج کے علاوہ الگ سے ایک پیراملٹری فوج بنائی جائے...
دراصل ان کی سوچ یہ ہے کہ ایک بار جب اقتدار پر قبضہ کر لو تو اسے نہ چھوڑو... ملکی فوج کا کوئی سہارا نہیں ہے تو یہ پیراملٹری ہمارا ساتھ دے گی...
چنانچہ سوڈان کے اندر عمر بشیر کے زمانے میں یہ پیراملٹری 2008 کے اندر بنائی گئی تھی جبکہ اس سے پہلے ہی زندیق اخمنجی حسن ترابی نے جب سوڈان پر ظالمانہ قبضہ کیا تھا اسی وقت اسکے لئے تیاری شروع ہو گئی تھی....
یاد رہے کہ جس وقت صدام نے کویت پر قبضہ کیا تھا اور سعودی عرب کو دھمکی دے رہا تھا اس وقت اس خبیث ترابی نے صدام حسین کی انٹیلیجنس اور فوج کے اعتبار سے مدد کی تھی اور عراق جا کر اسے مبارکبادی دی تھی اسی طرح دیگر اخوانیوں نے بھی اس سنگین موقع پر خلیجی ملکوں کے خلاف صدام حسین کا ساتھ دیا تھا...
آپ ان کی دوغلا پنی دیکھیں کہ اس سے پہلے جب صدام خمینی سے لڑ رہا تھا تو ان دوغلوں نے صدام کے خلاف خمینی کا ساتھ دیا تھا...
آپ یہاں اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کی نگاہ میں اصل جن کے خلاف انہیں برپا کیا گیا ہے وہ اصل عرب سنی ممالک ہیں ان کے خلاف کوئی بھی کھڑا ہوگا اس کا یہ ساتھ دیں گے... ایران کا ساتھ تو اس لیے دے رہے تھے کیونکہ اس کا اصل ٹارگٹ حرمین اور خلیجی ممالک تھے صدام راہ کا روڑا تھا...
صدام کا اس لیے ساتھ دے رہے تھے کیونکہ اس کا ٹارگٹ بھی یہی خلیجی ممالک تھے...
اسی طریقے سے عمومی پیمانے پر خلیجی ممالک کے خلاف کوئی ملک بھی اٹھ کھڑا ہو یا کوئی بیان دے یا کوئی مسئلہ ہو تو فورا یہ خلیجی ممالک کے خلاف بطور خاص امارات اور سعودی کے خلاف اس کا ساتھ دیں گے...
اسی لیے عربوں میں مشہور ہے کہ اگر کوئی بھی خلیجی ملک اسرائیل سے لڑائی کرے تو یہ سارے اخونجی اسرائیل کا ساتھ دیں گے... وہاں کے لوگوں کو باقاعدہ یہ یقین ہے۔

اور اس سوڈانی ملیشیا پیرا ملٹری کو امریکہ اور دیگر فسادی ملکوں بالخصوص اسرائیل کی طرف سے فوجی امداد ملتی تھی... یہ سرحدوں پر نہیں بلکہ ملک کے اندر شہروں میں لڑائی کرنے میں ماہر ہوتے ہیں..
آپ دیکھیں گے اسی طریقے سے عراق کے اندر ملکی فوج کے علاوہ وہاں پر جب رافضیوں اور اخوانیوں کا قبضہ ہوا تو ایک پیراملٹری فوج بنائی گئی جس کو حشد شعبی بولتے ہیں کہ اگر ملک کی فوج ساتھ نہ دے تو اسے سہارا بنایا جائے...

اسی طریقے سے انہوں نے لبنان میں وہاں کے ملکی فوج کے علاوہ ایک پیرا ملٹری فوج کے طور پر حزب اللہ کے نام پہ بنایا ہے جو دھیرے دھیرے ملکی فوج کا ٹکر لینے لگی ہے جس کی وجہ سے وہاں ہمیشہ خانہ جنگی فتنہ و فساد پھیلا رہتا ہے....

اور اسی طرح سے انہوں نے یمن میں ھوسیوں کو وہاں کے ملکی فوج کے مقابلے میں تیار کیا اور اس میں ایرانی رافزیوں اور اخوانیوں کا پورا پورا ہاتھ رہا ہے...

مصر میں بھی ان کی یہی سازش تھی جس وقت اکھوانیوں کا وہاں پر قبضہ ہوا تھا محمد مرسی کے زمانے میں ایرانی جنرل سلیمانی کو مصر میں بلا کر اسی طرح کی ایک رضاکارانہ فوج بنانے اور انہیں تربیت دینے پر باتیں ہوئی تھیں لیکن مصر کی فوج نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا...
بہرحال ان فسادیوں کی یہی پوری کوشش رہتی ہے کہ جہاں بھی یہ قبضہ کرتے ہیں اقتدار پر یا کسی طرح سے انہیں کسی بھی ملک میں طاقت حاصل ہوتی ہے تو یہ ملکی فوج کے مقابلے میں مسلح گروپ تیار کرتے ہیں یا مسلح نوجوانوں کو کم سے کم تربیت دینے اور انہیں تیار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں... 
حسن بنا سید قطب کے زمانے میں ان فسادی خوانیوں نے مصر کے اندر نوجوانوں کی ایک بڑی فوج تیار کر رکھی تھی لیکن وہ انڈر گراؤنڈ رہتے تھے فلسطین میں جہاد کے نام پر عوام کو بیوقوف بنایا اور اس طرح سے انہوں نے بہت سارے نوجوانوں کو برین واش کر کے پہاڑوں میں لے جا کر تربیت دیتے تھے تاکہ وہ ملک میں بم دھماکے کریں فساد مچائیں اور حکمرانوں کا اغوا کریں انہیں قتل کریں اور بہت سارے مواقع پر انہوں نے ایسا کیا بھی اور پکڑے بھی گئے ان کی سازشیں طشت از بام بھی ہوئیں... اس میں جیپ کیس بہت معروف ہے جس میں ان کے تمام خبیث عزائم کا پردہ فاش ہوا جس کے اندر پورے دستاویزات ان کے نام ساری چیزیں مل گئیں....

🖋️ د/ اجمل منظور المدنی

https://www.facebook.com/share/p/186KycHZAi/

سورہ فتح اور صحابہ کرام کا مقام!

 سورہ فتح اور صحابہ کا مقام! 


اس سورت کے اندر اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی چار جگہوں پر تعریف کی ہے:

1- ان میں پہلی جگہ اللہ تعالی کا یہ قول ہے:(هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ) ترجمہ : وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں۔ (الفتح :4)۔

«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے۔ 

صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ” مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے “ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔


2- انہی میں سے ایک اللہ تعالی کا یہ قول بھی ہے:(لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا) ترجمہ : یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی [الفتح : 18]۔

اللہ تعالی ان سے راضی ہوا اور وہ بھی اللہ تعالی سے راضی ہوئے، روافض قرآن کریم کے اس واضح نص کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے معنی میں تحریر کرتے ہیں -اللہ تعالی انہیں برباد کرے- یہ زنادقہ مجرمین سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس آیت کے بعد مرتد ہو گئے تھے -اللہ ان کا پورا کرے- حالانکہ یہ اللہ کی طرف سے ابدی رضامندی کی سرٹیفیکیٹ ہے ان صحابہ کرام کے لیے، اللہ تعالی ان کے ایمان اور ایمان پر ثابت قدمی ہی کی وجہ سے راضی ہوا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا کے مل گئے ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہوا، بعض جاہل دیہاتی جو شہر سے دور رہتے تھے وہ مرتد ہوئے تھے جن سے خود صحابہ کرام نے قتال کیا، ان میں سے کچھ مارے گئے اور باقی اسلام کی طرف واپس آگئے، پھر یہی صحابہ کرام آگے بڑھ کر دنیا کو فتح کیا یہاں تک کہ ان روافض کے ملک بلاد فارس کو بھی فتح کیا، بلاد روم، مصر اور افریقہ کے دیگر مغربی علاقوں کو فتح کیا -رضوان اللہ علیہم اجمعین- یہاں تک کہ وہ بحر اٹلانٹک تک پہنچ گئے، اور یہ بے ہودے کہتے ہیں کہ وہ مرتد ہو گئے تھے، کیا دین اسلام سے مرتد ہو کر کوئی دین اسلام کے لیے یہ عظیم خدمات اور یہ کارنامے انجام دے گا اور فتوحات پر فتوحات حاصل کرے گا اسلامی قلمرو کو وسیع کرتا جائے گا؟! 

یہ وہ صحابہ کرام ہیں جن کے ہاتھوں پر بہت ساری قوموں نے اسلام قبول کیا، اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد زریں میں صحابہ کرام کے ہاتھوں پر جتنے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اتنا کبھی بھی لوگ اسلام میں داخل نہیں ہوئے ہیں، اور یہ زنادقہ مجرمین اس کے بدلے میں ان صحابہ کرام کو گالی دیتے ہیں، ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں اور ان کی تکفیر کرتے ہیں۔ دراصل یہ اس طعن و تشنیع کے ذریعے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹارگٹ کر رہے ہوتے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر طعن و تشنیع کر رہے ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ ڈائریکٹ ایسا کر نہیں سکتے؛ کیونکہ ایسا کر کے یہ اپنے آپ کو ایکسپوز کر لیں گے اور اس سے سارے لوگوں کی تکفیر ہو جائے گی، اسی لیے انہوں نے یہ خبیث طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ 


3- اسی طرح اللہ تعالی نے فرمایا: (هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا) ترجمہ : وہی ہے جس نےاپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے، اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے واﻻ [الفتح : 28]۔

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی نے اس دین کو اصحاب محمد ہی کے ہاتھوں پر غالب کیا ہے، انہی کے جہاد، انہی کی تلواروں اور انہی کے علم و حکمت اور انہی کی دعوت کے ذریعے اسلام کو سر بلند کیا اور تمام ادیان پر اسے غالب کیا، اور ان شاء اللہ ایسے ہی سچے مومنوں کے ہاتھوں اللہ تعالی دوبارہ بھی اسے غالب کرے گا، اس لیے صدق دل سے اللہ کے کلمے کی سربلندی اور اس کے دین کے غالب کرنے اور تمام ادیان پر اسے سر بلند کرنے کے لیے اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔ 


4- اس سورت کے آخر میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی زبردست تعریف کی ہے، ان کی مدح و ستائش کی ہے اور ان سے بغض اور دشمنی رکھنے والوں کو کافر کہا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:(مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا) ترجمہ : محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ﺛواب کا وعده کیا ہے [الفتح : 29]۔

ان آیت میں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا بیان ہوئی کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں پھر آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفت و ثنا بیان ہو رہی ہے کہ وہ مخالفین پر سختی کرنے والے اور مسلمانوں پر نرمی کرنے والے ہیں۔ 

پھر ان کا اور وصف بیان فرمایا کہ نیکیاں بکثرت کرتے ہیں خصوصاً نماز جو تمام نیکیوں سے افضل و اعلیٰ ہے، پھر ان کی نیکیوں میں چار چاند لگانے والی چیز کا بیان یعنی ان کے خلوص اور رضائے اللہ طلبی کا کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ یہ اپنے اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں جو جنت ہے اور اللہ کے فضل سے انہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی بھی انہیں عطا فرمائے گا جو بہت بڑی چیز ہے۔

جیسے کہ فرمایا :(وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ) [9-التوبة:72] ‏‏‏ترجمہ:  اللہ تعالیٰ کی ذرا سی رضا بھی سب سے بڑی چیز ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چہروں پر سجدوں کے اثر سے علامت ہونے سے مراد اچھے اخلاق ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:370/11] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں خشوع اور تواضع ہے۔

الغرض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نیتیں خالص تھیں اعمال اچھے تھے پس جس کی نگاہ ان کے پاک چہروں پر پڑتی تھی اسے ان کی پاکبازی جچ جاتی تھی اور وہ ان کے چال چلن اور ان کے اخلاق اور ان کے طریقہ کار پر خوش ہوتا تھا۔

امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے شام کا ملک فتح کیا جب وہاں کے نصرانی ان کے چہرے دیکھتے تو بےساختہ پکار اٹھتے، اللہ کی قسم یہ عیسیٰ کے حواریوں سے بہت ہی بہتر و افضل ہیں۔ فی الواقع ان کا یہ قول سچا ہے، اگلی کتابوں میں اس امت کی فضیلت و عظمت موجود ہے اور اس امت کی صف اول ان کے بہتر بزرگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور خود ان کا ذکر بھی اگلی اللہ کی کتابوں میں اور پہلے کے واقعات میں موجود ہے۔ پس فرمایا یہی مثال ان کی توراۃ میں ہے۔

پھر فرماتا ہے اور ان کی مثال انجیل کی مانند کھیتی کے بیان کی گئی ہے جو اپنا سبزہ نکالتی ہے پھر اسے مضبوط اور قوی کرتی ہے پھر وہ طاقتور اور موٹا ہو جاتا ہے اور اپنی بال پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اب کھیتی والے کی خوشی کا کیا پوچھنا ہے؟

اسی طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ انہوں نے آپ کی تائید و نصرت کی پس وہ آپ کے ساتھ وہی تعلق رکھتے ہیں جو پٹھے اور سبزے کو کھیتی سے تھا یہ اس لیے کہ کفار شرمسار ہوں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضیوں کے کفر پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے چڑتے اور ان سے بغض رکھنے والا کافر ہے۔

فضیلت اور سبقت کمال اور بزرگی جو ان صحابہ کرام کو حاصل ہے امت میں سے کسی کو حاصل نہیں، اللہ ان سے خوش، اللہ ان سے راضی، یہ جنتی ہو چکے اور بدلے پالئے۔


دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو دین اسلام پر ثابت قدم رکھے اور ہم کو ان لوگوں میں شامل کر دے جو دین حق کی پابندی کرتے ہیں اور سنت رسول پر قائم ہیں اور کتاب اللہ اور سنت رسول کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام کرتے ہیں وہ اصحاب جنہوں نے اس قرآن کو یاد کیا اسے سمجھا اور اسے دوسروں تک پہنچایا، اسی طرح سنت رسول کو یاد کیا اور اسے دوسروں تک پہنچایا، اور اسی لیے اللہ تعالی ان سے راضی ہوا، سو ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم ان سے محبت کریں، ان کی مدح و ستائش کریں اور ان کے حق میں دعا کرتے رہیں۔ 

و صلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحاب وسلم۔


📖نفحات الھدی والایمان من مجالس القرآن، ص 390

🖋️شیخ ربیع بن ہادی مدخلی حفظہ اللہ

امارات اور اخوانی بیچارے!

 امارات اور بیچارے اخوانی!  ترکی میں جب یہ دیکھا گیا کہ استنبول پر اردگان مخالف امام اوگلو تین انتخابات سے برابر جیت رہا ہے اور پورے ملک میں...