🕋نماز کے اوقات میں سعودی کے اندر دوکان بندی اور اس پر پروپیگنڈہ
🌋در اصل پچھلے ہفتہ ایک شاہی فرمان جاری ہوا جس کی رو سے ہوٹل اور تجارتی کمپلیکس کو 24/ گھنٹے کھلنے کی اجازت دی گئی ہے۔۔ جبکہ اس سے پہلے رات 12/ بجے کے بعد سے لیکر صبح چھ بجے تک بند رہتے تھے۔۔
🌋اس فرمان کے آنے کے بعد دشمنان مملکہ نے عالمی میڈیا میں یہ شور پھیلانا شروع کر دیا کہ اب سعودی کے اندر نماز کے اوقات بھی دکانیں کھلی رہیں گی جبکہ یہی ایک واحد اسلامی ملک تھا جہاں نماز کے وقت دکانیں بند کر دی جاتی ہیں۔۔ لیکن حالیہ حکمران اب اسے ختم کر رہے ہیں۔
🌋یہ پروپیگنڈا انگلش عربی فارسی اور دیگر عالمی زبانوں سے گزرتا ہوا اردو کالی میڈیا میں بھی پہونچ گیا۔۔ اور بلا تحقیق تحریکیوں نے بھی اسے پھیلانا شروع کر دیا۔۔
🌋اس لئے ضروری سمجھا کہ اس پروپیگنڈے کی حقیقت سے پردہ ہٹایا جائے اور دشمنان مملکہ کو مزید ذلت و رسوائی کا سامنا ہو۔۔
🌋چنانچہ یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ اس فرمان کا اوقات نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسی لئے جب میڈیا یہ پروپیگنڈہ گردش کرنے لگا تو وزیر برائے امور دین کی طرف سے باقاعدہ یہ وضاحت آئی کہ اس فرمان کا تعلق نماز کے اوقات سے بالکل نہیں ہے، دکانیں اسی طرح نماز کے وقت بند ہو جایا کریں گی جیسے پہلے بند ہوتی تھیں۔۔ اس کا تعلق صرف رات کے اس وقت سے ہے جس وقت قانونا بند کرنا ضرروی تھا اب وہ پابندی ختم ہوچکی ہے، اب 24/ گھنٹہ دکانیں کھولی جاسکتی ہیں۔۔
✔✔👾👾دشمنان مملکہ اپنی ذلت و رسوائی کے ساتھ کچھ دیر کیلئے ضرور پردے میں چلے جائیں گے اور اپنے رافضی اخوانی اور صہیونی بھائیوں کی طرف سے مزید کسی پروپیگنڈے کے منتظر رہیں گے۔۔ھھھ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2273296629450278&id=100003098884948
🕋سعودی میں اوقات نماز میں دکانوں کی بندی اور اخوانی موقف
🛑نماز کے اوقات دکانوں کی بندی پر ہمیشہ سے اخوانی اور الحادی فکر کے حاملین نے پمیشہ اعتراض کیا ہے، بلکہ کئی ایک نے نماز کے اوقات میں دکانوں کے بند ہونے سے روزآنہ حکومت لو کتنا گھاٹا ہوتا ہے یہ تفصیل بھی انہیں بد دینوں اور الحاد پسندوں نے حکومت کے سامنے پیش کیا ہے تاکہ اس استثنائی حالت کو ختم کیا جائے۔۔ آپ گوگل پر جاکر سرچ کر سکتے ہیں۔۔
🛑لیکن ملک عبد العزیز کے دور ہی سے چلے آ رہے اس حکم پر آج تک کبھی بھی نظر ثانی نہیں کیا گیا۔
🎴ایک الحاد پسند اخوانی اردگانی نصیر عمری کا بھی موقف دیکھ لیں جو اردن کا ہے، پہلے سعودی عرب میں رہتا تھا لیکن اب امریکہ بھاگ چکا ہے:
اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر لکھتا ہے:
جب میں سعودی میں تھا، تو ایک بار ایک بینک میں چیک بھنانے گیا، جو بمشکل دو منٹ کا کام تھا، لیکن میرے جاتے ہی نماز کا وقت ہوگیا اور جیسے لگا ساری دنیا رک سی گئی ہو، سارے کام کرنے والے وضو، نماز اور دعا کیلئے نکل گئے، میں وہیں پڑا رہا یہاں تک کہ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد نکلا اپنا قیمتی وقت برباد کرکے، اسی وقت میں نے قسم کھا لی کہ اب میں سعودی میں نہیں رہوں گا، پھر میں وہاں سے چلا آیا اور اب تک واپس نہیں گیا۔
https://twitter.com/dr_naseer/status/1151454902792704006?s=19
✔ایک صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ڈیڑھ گھنٹے تو حائضہ عورت کی بیٹھا رہا تاکہ پاک لوگ نماز پڑھ کر واپس آئیں تو تو اپنا چیک بھنائے۔۔ ھھھ
✔ایک دوسرے صارف نے تبصرہ کیا کہ نماز کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ شیطان اور شر سے نمازیوں کو محفوظ رکھتی ہے۔۔ ھھھ
🤦♂️اس بد بخت نے اپنے ایک ٹویٹ میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ میں آزاد ہوں، اور میرے نزدیک کوئی بھی تنقید سے بالا تر نہیں ہے، حتی کہ صحابی بھی ۔۔
📛نوٹ: دشمنان مملکہ کا یہی حال ہے کہ انہیں مملکہ کی کوئی نہ اچھی چیز اچھی لگتی ہے اور نہ کوئی بری چیز بری لگتی ہے، بلکہ اسکے منہج اور عقیدے سے انہیں دشمنی ہے۔۔۔ یہ بس کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ جس کے سہارے اسے بدنام کریں، اور اکثر انکے پروپیگنڈے میں مملکہ کی تعریف ہی ہوتی ہے جیسے اس الحاد پسند اخوانی نے لا شعوری میں سعودی سماج کا بہترین انداز میں عکاسی کر دی ہے۔۔ جو ایک سمجھ دار کیلئے کافی ہے۔۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2273836619396279&id=100003098884948
🕋سعودی میں اوقات نماز میں دکانوں کی بندی اور اخوانی موقف
🛑نماز کے اوقات دکانوں کی بندی پر ہمیشہ سے اخوانی اور الحادی فکر کے حاملین نے پمیشہ اعتراض کیا ہے، بلکہ کئی ایک نے نماز کے اوقات میں دکانوں کے بند ہونے سے روزآنہ حکومت لو کتنا گھاٹا ہوتا ہے یہ تفصیل بھی انہیں بد دینوں اور الحاد پسندوں نے حکومت کے سامنے پیش کیا ہے تاکہ اس استثنائی حالت کو ختم کیا جائے۔۔ آپ گوگل پر جاکر سرچ کر سکتے ہیں۔۔
🛑لیکن ملک عبد العزیز کے دور ہی سے چلے آ رہے اس حکم پر آج تک کبھی بھی نظر ثانی نہیں کیا گیا۔
🎴ایک الحاد پسند اخوانی اردگانی نصیر عمری کا بھی موقف دیکھ لیں جو اردن کا ہے، پہلے سعودی عرب میں رہتا تھا لیکن اب امریکہ بھاگ چکا ہے:
اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر لکھتا ہے:
جب میں سعودی میں تھا، تو ایک بار ایک بینک میں چیک بھنانے گیا، جو بمشکل دو منٹ کا کام تھا، لیکن میرے جاتے ہی نماز کا وقت ہوگیا اور جیسے لگا ساری دنیا رک سی گئی ہو، سارے کام کرنے والے وضو، نماز اور دعا کیلئے نکل گئے، میں وہیں پڑا رہا یہاں تک کہ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد نکلا اپنا قیمتی وقت برباد کرکے، اسی وقت میں نے قسم کھا لی کہ اب میں سعودی میں نہیں رہوں گا، پھر میں وہاں سے چلا آیا اور اب تک واپس نہیں گیا۔
https://twitter.com/dr_naseer/status/1151454902792704006?s=19
✔ایک صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ڈیڑھ گھنٹے تو حائضہ عورت کی بیٹھا رہا تاکہ پاک لوگ نماز پڑھ کر واپس آئیں تو تو اپنا چیک بھنائے۔۔ ھھھ
✔ایک دوسرے صارف نے تبصرہ کیا کہ نماز کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ شیطان اور شر سے نمازیوں کو محفوظ رکھتی ہے۔۔ ھھھ
🤦♂️اس بد بخت نے اپنے ایک ٹویٹ میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ میں آزاد ہوں، اور میرے نزدیک کوئی بھی تنقید سے بالا تر نہیں ہے، حتی کہ صحابی بھی ۔۔
📛نوٹ: دشمنان مملکہ کا یہی حال ہے کہ انہیں مملکہ کی کوئی نہ اچھی چیز اچھی لگتی ہے اور نہ کوئی بری چیز بری لگتی ہے، بلکہ اسکے منہج اور عقیدے سے انہیں دشمنی ہے۔۔۔ یہ بس کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ جس کے سہارے اسے بدنام کریں، اور اکثر انکے پروپیگنڈے میں مملکہ کی تعریف ہی ہوتی ہے جیسے اس الحاد پسند اخوانی نے لا شعوری میں سعودی سماج کا بہترین انداز میں عکاسی کر دی ہے۔۔ جو ایک سمجھ دار کیلئے کافی ہے۔۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2273836619396279&id=100003098884948
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق