اخوانی اور حکومت کی بھوک
ٹیونس میں پہلے صدارتی راونڈ میں جب اخوانیوں کو انکی رزالت کی وجہ سے بری طرح شکست ہوئی اور یہ یقین کر لیا کہ اب عوام کو ہم دھوکہ نہیں دے سکتے تو انہوں نے رافضی تقیہ اختیار کرتے ہوئے دوسرے راونڈ میں اپنے امیدوار کو بیٹھا دیا اور دوسرے سیکولر امیدوار جسکی شبیہ عوام میں بہتر ہے کا سپورٹ کیا،،، اور وہ شخص جیت بھی گیا۔۔
میڈیا میں دیکھیں سارے اخوانی تحریکی جشن منا رہے ہیں جیسے انہیں یہودی پارلیمانی نظام کے ذریعے کوئی خلافت مل گئی ہو،،
حالانکہ اس شخص کا تعلق اخوانی گروہ سے کبھی نہیں رہا ہے، اور نہ ہی وہ ان کے ایجنڈے پر کام کرے گا،،
ایک شخص نے ٹیوٹر پر مبارکبادی دیتے ہوئے نصیحت کی ہے کہ ملک کو آگے لے جانے کیلئے دو قسم کے گمراہ فرقوں سے آگاہ رہنا ہوگا:
ایک اخوانی گروہ اور دوسرا لبرل ملحد گروہ۔۔۔۔ اللہ آپ کا ساتھ دے۔۔۔
نوٹ: یہ پوسٹ صرف حقیقت حال کی وضاحت کیلئے ہے اور بس۔۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق