🎪آر ایس ایس کی افطار پارٹی اور ترکی، ایرانی اور اسرائیلی نمائندوں کی شرکت🎪
💥 مؤرخہ 4/جون کل بروز سوموار ہندوستان کے انڈسٹریل سٹی ممبئی میں زعفرانی افطار پارٹی کے اندر "امیر المومنین" کی مندوبہ اپنے ہم منصب اسرائیلی، امریکی، ایرانی اور دیگر اشراف کے ساتھ خورد ونوش کرتے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف دکھ رہی ہیں۔ پوری خبر نیوز پیپر کے اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
http://akhbarurdu.com/epapers/mumbaiurdunews/index-epaper.html
اردگان کو عالم اسلام کا ہیرو کہنے والے بھی ذرا اس خبر پر نظر ڈال لیتے کہ جس میں ترک مندوبہ مس گومزی پر سہ رخی محبت کی بارش ہو رہی ہے: یعنی رافضی ایران، صہیونی اسرائیل اور صلیبی امریکہ۔ اس میل ومحبت اور شیر و شکر کو دیکھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ترکی کبھی ان تینوں سے تعلقات ختم کر سکتا ہے؟ اور اگر تعلقات توڑنے کی دھمکی دے تو اسے ناٹک اور منافقت کے علاوہ کیا کہا جائے گا؟!
💥تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ آر ایس ایس کی اس افطار پارٹی میں ترکی اور ایران کے علاوہ کسی تیسرے مسلم ملک کے نمائندے کا تذکرہ نہیں ہے۔ آخر آر ایس ایس (برہمنیت) کے اس پروگرام میں اسرائیل (صہیونیت) اور امریکہ (صلیبیت) کے ساتھ ایران (رافضیت) اور ترکی (تحریکیت) ہی نے کیوں شرکت کی؟! باوجودیکہ مسلمانوں کی طرف سے اس کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی۔ دیکھیں اس پوسٹ کو:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1796907233708039&id=217147005017411
اس خبر میں سبق سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن ان لوگوں کیلئے جنہیں اللہ رب العزت نے عقل و دانش سے نوازا ہے۔ انما یتذکر اولوا الالباب۔
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق