السبت، 20 أكتوبر 2018

💥حالیہ دو اہم خبروں کا چرچا آخر کیوں نہیں ؟

💥حالیہ دو اہم خبروں کا چرچا آخر کیوں نہیں؟💥 
اسی ہفتے کے اندر عالم اسلامی کی دو خبریں ایسی ہیں جن کی تفصیلات اور جزئیات کے بارے میں کسی طرح کا کوئی پروپیگنڈہ نہیں ہو رہا ہے۔ نہ ہی ان خبروں کے تعلق سے کوئی مضمون لکھا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی فیچر۔ ایسا لگتا ہے کہ سارے رافضی اور تحریکی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ 
1/پہلی خبر "امیر التحریکیین" کی خلافت ترکی کی ہے جہاں 14/ اپریل کو "خلیفہ" کی طرف سے یہ فرمان عالی صادر ہوا ہے کہ ترکی کے اندر اب دیگر جانوروں کے گوشت کے ساتھ خنزیر کا گوشت بھی در آمد کیا جائے گا۔ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ قرارداد 2016 میں پاس ہو چکا تھا۔ چنانچہ اسی قرارداد کے بموجب مالڈووا سے 500 ٹن خنزیر کا گوشت در آمد کیا جائے گا۔ ترکی روزنامہ (زمان) کی یہ عبارت دیکھیں: (وكان قد تقرر استيراد تركيا 500 طن من لحم الخنزير من جمهورية مولدوفا بموجب القرار الذي نُشر في الصحيفة الرسمية بتاريخ 17 ديسمبر/ كانون الأول عام 2016.) ویب سائٹ دیکھیں:
http://www.zamanarabic.com/2018/04/14/تركيا-تبدأ-استيراد-لحم-الخنزير-والخيو/
مزید تسلی کے لیے یہ ویب سائٹ بھی دیکھیں:
https://www.arabyoum.com/world/4368261/تركيا-تستورد-لحوم-خنازير-وخيول-وتعفيها-من-الجمارك
یہ بھی واضح رہے کہ کچھ ہفتہ پہلے "خلیفہ وقت" نے ترکی میں ہم جنس پرستوں کے احتجاج کرنے پر ان کے حقوق کو جائز ٹھہراتے ہوئے ان کے حق میں قانون صادر فرمایا تھا جس کی رو سے اب اسلامی حکومت ترکی میں ہم جنسوں کی شادی کو قانونی درجہ مل گیا ہے۔ ترکی اخبار کے 2015 کی ایک خبر کی ہیڈنگ دیکھیں:
Turkish Court says gay sex is ‘natural’ in ruling against pornography vendor. Judge Mahmut Erdemli stated that an individual’s sexual orientation should be respected, and cited examples of same-sex marriages in Europe and in the Americas.
ترجمہ: ترکی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا کہ ہم جنس پرستی (نعوذ باللہ) فطری عمل ہے۔ پورنو گرافی پر مشتمل اشیاء کے بیچنے کا معاملہ اس سے جدا ہے۔ قاضی محمود ایردیملی نے کہا کہ ہم جنس پرستی یہ ذاتی حق ہے اس کا احترام ہر ایک پر واجب ہے۔ قاضی نے same-sex marriages  کے لئے یورپ اور امریکہ کی مثال بھی دی ہے۔ 
https://www.lgbtqnation.com/2013/02/turkish-court-says-gay-sex-is-natural-in-ruling-against-pornography-vendor/
قانون العقوبات: 
لا يُعتبر النشاط الجنسي المثلي بين بالغيّن بالتراضي جريمة في تركيا. السن القانوني للممارسة الجنسية لكلا المغايرين والمثليين هو 18. 
ترجمہ: ترکی کے اندر رضامندی سے دو بالغ فرد کی ہم جنس پرستی کوئی جرم نہیں ہے۔ اس کے لئے جائز عمر کم سے کم اٹھارہ سال ہے۔ 
ویکیپیڈیا میں اس کی تفصیل دیکھ سکتے ہیں:
https://ar.m.wikipedia.org/wiki/حقوق_المثليين_في_تركيا
2/ دوسری خبر امریکہ کے ایجنٹ ظالم حکومت آل سعود کی ہے جہاں 15/اپریل کو سالانہ عرب چوٹی کانفرنس کا انعقاد ہوا جسے آل سعود نے دنیا کو دکھانے کے لئے القدس کانفرنس کا نام دے دیا۔ اور ساتھ ہی فلسطین کی مدد کے لئے بہت بڑی رقم کا اعلان بھی کردیا۔ چنانچہ 150 ملین مسجد اقصی اور آس پاس کے مقدسات کے لئے اور 50 ملین فلسطینی مہاجرین کے لئے، عراق کی آبادکاری کے لئے 3 ارب امریکی ڈالر، غزہ کی آبادکاری کے لئے 50 ملین امریکی ڈالر، الجزائر میں 300 سو سے زائد ہوائی حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے خاندان والوں کو حج ویزا دینے کا اعلان کیا۔ اور ساتھ ہی ملک سلمان نے بڑے پرزور انداز میں یہ بھی کہہ دیا کہ فلسطین ہمارے لئے سب سے اہم مسئلہ ہے اور القدس ہمیشہ فلسطین کی راجدھانی رہے گا۔ اور اس امداد پر فلسطینی صدر نے آل سعود کا بہت بہت شکریہ بھی ادا کیا۔ 
تمام علاقائی اور عالمی اخبارات نے آل سعود کی چاپلوسی میں اس کانفرنس کی ستائش کی سوائے الجزیرہ اور بی بی سی کے۔ الجزیرہ نے تو اپنی بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا کہ حوثیوں کی میزائل سے بچنے کے لئے آل سعود نے ریاض چھوڑ کر (الظہران) میں کانفرنس کرائی۔ نیز اس کانفرنس کا القدس کے نام کرنا صرف ایک ڈھونگ ہے۔ اس کا صحیح نام طہران کانفرنس ہونا چاہئے کیونکہ ایران ہی کو سامنے رکھ کر اس کانفرنس میں ساری پالیسیاں اپنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مزید آل سعود کی کارستانیوں کو جاننے کے لئے ہیڈنگ کے ساتھ دیکھیں اس کی ویب سائٹ کو:
http://www.aljazeera.net/news/reportsandinterviews/2018/4/16/قمة-الظهران-للقدس-أم-طهران
💥نوٹ:
کل کی اس خبر کو پورا پڑھیں جس میں اس بات کی صراحت ہے کہ ترکی  بوسنیا اور ہرزیگوینا سے گھوڑوں کے ساتھ خنزیر کا گوشت بھی درآمد کرے گا جو کسٹم ڈیوٹی سے فری ہو گا: 
Erdogan issues decision to import pork.
Turkey announced that it will soon begin importing pigs and horses’ meat from Bosnia and Herzegovina under an official decree published in an official newspaper and approved by the Turkish President Recep Teyyip Erdogan.
15 Apr 2018, Sun,
According to the Turkish newspapers, Turkey has opened a duty-free tariff share to imports of meat and agricultural products from Bosnia and Herzegovina, including imports of starch sugar, pork and horse meat.
The decree stipulates that no customs duty would be levied on fresh, chilled or frozen animal meat up to 8,000 tons, and lamb and goat meat up to 2,000 tons.
The Turkish President Recep Teyyip Erdogan always tries to politicize religion to put it in the service of his agendas to facilitate filtering his opponents basing on ready-made fatwas.
Erdogan seeks various papers to establish himself in the power, including the call for the politicization of religion and the use of mosques in the war against opponents which threatens to turn Turkey into a state of religious conflicts. 
Erdogan always tries to show himself as a patron of the Muslims crying for them, but his anti-religious decisions always expose him.
Eating pork is considered forbidden in the Islamic religion. There are verses in the Holy Quran that show that pork is forbidden such as, “You are forbidden to consume the dead, blood and the flesh of swine.” (Al Ma'ida / 3)
http://www.hawarnews.com/en/mobile/?page=haber&ID=736

فیس بک پر دیکھیں:

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...