💥کیا تحریکیوں کا سب سے بڑا دشمن السیسی جاہل ہے؟💥
انتیسویں عرب چوٹی کانفرنس کا انعقاد 15/اپریل کو سعودی عرب کے شہر الظہران کے اندر عمل میں آیا۔ تحریکیوں اور رافضیوں کو جب اس کے اندر کسی پروپیگنڈے کی صورت نظر نہ آئی تو مصری صدر عبد الفتاح السیسی کے خطاب کے اندر اس کلمے کو بطور مذاق پھیلانا شروع کر دیا جس میں مصری صدر نے حوثیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ سمیت سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر داغے گئے (Ballistic Missiles) کے لئے عربی میں (الصواریخ البلاستیکیة) استعمال کیا۔ اور اس کے تعلق سے ایسا بڑھا چڑھا کر مشہور کر دیا جس سے لگے کہ السیسی کوئی ان پڑھ جاہل ہو بس طاقت کے زور پر حکومت پر قابض ہو گیا ہو۔ پہلے الجزیرہ نے اسے بطور مذاق اور استہزاء کے نقل کیا پھر کیا تھا تمام تحریکیوں نے اسے وحی الٰہی سمجھ کر اخبارات اور سوشل میڈیا میں پھیلانے کی ذمیداری لے لی۔
حالانکہ اس تعلق سے نہ تو السیسی سے کسی نے وضاحت طلب کی اور نہ ہی اسکی طرف سے کوئی بیان جاری ہوا ہے۔ جس سے یہی قیاس کیا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے السیسی نے حقیقت میں حوثیوں کے میزائل کو پلاسٹک کہا ہو۔ کیوں کہ حوثیوں نے سعودی عرب پر تقریباً 150 سے زائد میزائل داغے ہیں جنہیں مکمل طور پر سعودی فوج نے انٹی میزائل سسٹم کے ذریعے فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ اور بعض سعودیوں نے انہیں کھلونے اور پلاسٹک کے میزائل سے تعبیر بھی کیا ہے۔
دوسری بات یہ کہ یہ کوئی عربی لفظ ہی نہیں جس کے غلط پڑھنے پر مذاق اڑایا جائے۔ بلکہ یہ انگریزی سے تعریب ہے جس میں ایک لفظ کو دو تین صورتوں میں پڑھا جاتا ہے۔
تیسری بات یہ کہ السیسی کوئی جاہل شخص ہے نہیں۔ اسے جنگی مہارت حاصل ہے۔ فوجی اکیڈمی میں تعلیم حاصل کی ہے۔ امریکہ میں واقع كلية الحرب العليا کے اندر ایک سال فوجی تجربہ حاصل کیا ہے۔۔ اور مصری فوج کا سربراہ اعلی بھی رہ چکا ہے۔ مصر کی خفیہ ایجنسی کا بھی سربراہ رہ چکا ہے۔
پھر کیا اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ اتنے معروف چیز کے اندر اتنی فحش غلطی کرے گا۔ میں سمجھتا ہوں ایسا بالکل نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ لفظ دونوں طرح مستعمل ہے۔ یعنی بالستيكية اور بلاستيكية. مختلف حربی انسائیکلوپیڈیا اور کتابوں میں دونوں طرح سے مستعمل بھی ہے۔ کتاب "تطور الصناعات العسكرية: الأردن نموذجا" تأليف محمد موفق الضمور کے صفحہ: 42 پر البلاستيكية ہی لکھا ہے۔ اسی طرح یمن کے ایک فوجی سربراہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بالکل یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ دیکھیں اس ویڈیو کو:
https://youtu.be/UyNR9G7V0bY
مزید معلومات کے لئے اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.elwatannews.com/news/details/3275995
(مختلف عربی اخبارات کا خلاصہ)
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق