السبت، 20 أكتوبر 2018

کیا ریپ کے حالیہ واقعات فلموں کا شاخسانہ ہیں؟💥

💥کیا ریپ کے حالیہ واقعات فلموں کا شاخسانہ ہیں؟💥
انسانی معاشرے پر فلموں کے برے اثرات بہت گہرے ہو چکے ہیں اس پر جتنا زیادہ لکھا جائے کم ہے۔ خاص طور سے مسلم سماج کو اس کے برے خطرات سے آگاہ کرتے رہنا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔ لیکن حالیہ ریپ کے سارے واقعات کا تعلق فلموں سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا رہا ہے بلکہ یہ کمیونل گندی سیاست کا شاخسانہ ہے جس کے ذریعے مسلمانوں اور دلت سماج کے اندر جہاں ایک طرف خوف پیدا کرنا ہے تو دوسری طرف ان کے ذریعے فسادات پیدا کر کے ایک طرف مسلمانوں کے خلاف ہندؤں کو متحد کرنا اور دوسری طرف خود دلت طبقہ کو سبق سکھا کر اونچے طبقے کے لوگوں کا دست نگر بنا کر رکھنا ہے۔ اسی لئے دیکھا جا رہا ہے کہ حالیہ واقعات میں ملوث تمام افراد کا تعلق منو وادیوں سے ہے۔ لیکن دلتوں میں بیداری آنے اور اونچے طبقے کے لوگوں میں بھی سیکولر ذہن کے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں اپنے گندے اہداف کو پورا کرنے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل پا رہی ہے۔ 
چنانچہ آج ضرورت ہے صرف منو وادیوں کے خلاف سماج کے اندر بیداری پیدا کرنے کی۔ اور اس فیلڈ میں دلت طبقہ کے لوگ کافی محنت کر رہے ہیں۔ انہیں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور چونکہ فلمی اداکار بھی ساتھ دے رہے ہیں اس لئے فی الحال أهون البليتين کے تحت ان کے خلاف کچھ لکھنا مناسب نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
یہ ایک رائے ہے جو تنقید سے بالاتر بالکل نہیں ہے۔

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...