💥حماس اور اردگان منافقت کی پہچان💥
صوفی سیاسی اسلام کے پرچارک ترکی صدر اردگان کا بر صغیر کے تحریکیوں نے اردو میں فیس بک اکاؤنٹ بنا رکھا ہے جہاں اس کے منافقانہ اعمال کو دکھاکر ہزاروں لوگوں سے مفت میں میٹھے میٹھے تبصرے، دعائیں اور مخالفین کے خلاف بد دعائیں بٹوری جاتی ہیں۔
ابھی پچھلے دنوں میں٢٧ رجب کو اسراء ومعراج کی مشرکانہ عید منائی گئی جس میں اردگان کو شرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اسے معلوم ہے کہ عالم اسلام میں سب سے زیادہ انہیں صوفی مشرکوں کی تعداد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ترکی میں سارے بند پڑے مزاروں، خانقاہوں اور درگاہوں کو کھول دیا ہے۔
دھوکے میں مبتلا مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے اس کا یہ ایک چہرہ ہے۔ دوسرا چہرہ شیعہ روافض کی چاپلوسی والا ہے جو جگ ظاہر ہے۔ تیسرا چہرہ توحید پرست عرب سنیوں اور سلفیوں سے دشمنی والا ہے جو اظہر من الشمس ہے۔ چوتھا چہرہ لبرل ازم اور اباحیت کا ہے چنانچہ جتنے قحبہ خانے ترکی میں ہوں گے شاید کسی ملک میں ہوں۔ اب تو اردگان نے ہم جنس پرستوں کو بھی قانونی درجہ دے دیا ہے۔ اور یہ سب یورپین اقوام کا اقتصادی دھول چاٹنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔
امیر المنافقین کا پانچواں چہرہ یہود ونصاری کے ساتھ دوستی والا ہے جسے سامنے کبھی نہیں لایا جاتا اور نہ ہی یہ شخص اس کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ اسرائیل کے ساتھ جتنی گہری دوستی ترکی کی ہوگی شاید کسی دوسرے کے ساتھ ہو۔ ترکی کے اندر انجرلیک ایئر بیس کے اندر یہودی فوجیوں کو رہنے، ٹرینینگ کرنے، ترکی فوج کے ساتھ مل کر مشق کرنے اور پڑوسی مسلم ملکوں کے خلاف وہاں سے جاسوسی کرنے کی کھلی چھوٹ ہے۔
اور امریکہ نے تو پورے ترکی میں 9 جگہ فوجی اڈہ بنا رکھا ہے جہاں اس کے کل 23 ہزار فوجی رہتے ہیں۔ یہ اس بڑے فوجی اڈے انجرلیک کے علاوہ ہیں جہاں امریکی فوجی کے ساتھ اس کا بہت بڑے اسلحوں کا خزانہ بھی ہے۔ اور قطر میں العدید نامی امریکی فوجی اڈہ تو مشہور ہی ہے جہاں 30 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔
سعودی عرب کے اندر جب تک امریکی فوج موجود تھی سارے منافقین امت آسمان سر پر اٹھائے ہوئے تھے لیکن یہی اسرائیل اور امریکہ کے فوجی ترکی اور قطر میں دندناتے پھر رہے ہیں پر ان منافقوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی آواز اٹھانے والا ہے۔ سارے منافقوں کی زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
نوٹ: کیا ایسی منافقت سے حکومت الہیہ قائم کی جا سکتی ہے نیز سارے مشرکین اور منافقین امت اس کی تائید کر کے اسلام کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں؟!!!
آئیے حماس کی طرف:
حماس کی منافقت
یہ اخوانی شیعیت گزیدہ حماس منافق تنظیم ہے جس نے شامی مظلوم مسلمانوں کی آہ وبکا پر کبھی افسوس کا اظہار نہیں کیا، حزب اللاتی اور رافضی ملیشیاؤں کے قتل وخونریزی پر کبھی زبان نہیں کھولی، بشاری دجالی فوج کی بمباری پر کبھی اعتراض نہیں کیا، ملحد روس کے ذریعے سنی مسلمانوں کی نسل کشی پر کبھی اپنا کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ آج امریکہ کے حملہ کرنے پر بڑی سختی سے مذمتی بیان جاری کر رہا ہے۔ جب کہ یہ حملہ ایک ملی بھگت کے تحت نہ تو عوام پر کیا گیا، نہ ہی ایرانی، لبنانی حزب اللاتی اور روسی فوج پر کیا گیا بلکہ امریکی اتحادی افواج نے کل شامی دارالحکومت دمشق کے مندرجہ ذیل اھداف کو نشانہ بنایا:
• ری پںلیکن گارڈ بریگیڈ 105 ۔ دمشق
• ائیر ڈیفنس بیس ۔ دمشق
• مزی ملٹری ائیر پورٹ ۔ دمشق
• الدمیر ملٹری ائیر پورٹ ۔ دمشق
• سینٹیفک ریسرچ سنٹر ۔ دمشق
• میجر جنرل 41 سپیشل فورس ۔ دمشق
• دمشق کے اطراف میں القلمون نے نزدیک واقع ملٹری پوانٹس ۔
نوٹ: یہی حماسی اخوانیوں کی منافقت اور دوغلا پنی ہے جو خمینیت اور رافضیت کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ اور یہی متشیع حماس تنظیم ہے جس کے بارے میں بر صغیر کے تحریکیوں نے پروپیگنڈہ کر رکھا ہے کہ اس سے محبت کرنا ایمان کی علامت ہے۔
اللہ بچائے ان کی منافقت اور سازشوں سے۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق