سر زمین شام کی تباہی کا ذمہ دار کون؟💥
ایک بار پھر امریکی حلیف نے دمشق پر حملہ کیا ہے۔ الغوطہ پر بشاری حلیفوں کی طرف سے کیمائی حملے کے بعد کیا اس کے پیچھے یورپ اور امریکہ کا شام کے اندر اپنے وجود کو باور کرانا ہے کیوں کہ بار بار بشاری حلیفوں کی طرف سے انہیں سر زمین شام سے نکل جانے کی وعیدیں سنائی جا چکی ہیں؟ یا اس کے پیچھے امریکہ پر سعودی حلیف کی طرف سے دباؤ ھے؟ یا پردے کے پیچھے مسلمانوں کے خلاف ایک عالمی سازش کے تحت یہودیوں نے امریکہ کے ذریعے حملہ کروا کے بشاری حلیفوں کے جرم کو کم کرنا چاہا ہے؟ کیوں کہ آج مردود زمانہ وہ علی خامنہ ای جو سنی مسلمانوں کو قتل کرنے والے رافضی شیعوں کو شام میں ہلاک ہونے پر انہیں شہید کہتا ہے اسے بھی آج موقع مل گیا یہ بیان دینے کا کہ امریکہ اپنے حلیفوں کے ساتھ افغانستان اور عراق کی طرح شام میں تباہی مچانے سے باز رہے۔
ان تینوں اسباب پر الگ الگ تجزیے اور تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ بہر حال سبب اور مقصد کچھ بھی ہو، ہر حال میں سنی مسلمانوں ہی کی تباہی ہو رہی ہے۔ سارے کافر، ملحد اور رافضیوں کے گندے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے لت پت ہیں۔
سوال یہ ہے کہ 2011 سے شروع ہوئی عرب بربادیہ سے لے کر اب تک عربوں میں خصوصاً سر زمین شام میں مسلمانوں کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ جو اسلام کا دعویٰ کرنے والے سرپھرے لوگ عرب حکمرانوں کو ظالم بتا کر عوام کو ان کے خلاف اکسا رہے تھے اور ان کے خلاف لڑ کر مرنے والوں کو شہید کا درجہ دے رہے تھے آخر ان کے علاوہ اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟
پیش ہے شیخ شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ کا ایک گرانقدر تبصرہ:
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق