💥مراکش نے توڑے ایران سے تعلقات: عالم اسلامی کے لیے درس عبرت 💥
مراکش نے آج یکم مئی کو ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور ایرانی سفیر کو جلد سے جلد ملک چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔
مراکش نے الزام لگایا ہے کہ جنوب مراکش میں واقع صحرا میں موجود (polisario front) تنظیم - جو کہ اس علاقے کو مراکش سے آزادی کا مطالبہ کر رہی ہے- ایران اس کا تعاون کر رہا ہے جو کہ ملک کے امن وسلامتی کے خلاف ہے۔ تفصیل کے لیے درج ذیل لنک کو دیکھیں:
https://www.albawabhnews.com/3080653
https://alqabas.com/530694/
ایران کی شرارتوں کی وجہ سے کئی بار دونوں ملکوں میں دراڑ پیدا ہو چکے ہیں۔ پہلی بار 2009 میں دوسری بار 2016 میں اور یہ آخری بار تھا کہ مجبورا تعلقات توڑنے پڑے۔ سنیں پوری رپورٹ:
https://www.facebook.com/alghadtv/videos/840516059469923/
در اصل ایران اپنی خباثت اور سنی مسلم دشمنی کو سارے عالم اسلامی میں ایک منظم پلاننگ کے ساتھ پھیلا رہا ہے۔ ولایت فقیہ نظام اور خطہ خمیسنیہ جیسے سازشی تدمیری پلان کے ذریعے پورے عالم اسلام میں تباہی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس میں سفارت خانے سے ملحق کلچرل ڈپارٹمنٹ کے ذریعے رفض وتشیع کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ عوام کو بغاوت پر ابھارنے اور حزب اللہ کے طرز پر عسکری تنظیم بنانے جیسے خطرناک پلان شامل ہیں۔ عراق، شام، لبنان، یمن، افغانستان اس کی واضح مثال ہیں۔ پاکستان، بحرین، نائجیریا، الجزائر وغیرہ میں یہی ساری سازشیں جاری ہیں۔
اس کے انہیں سازشوں کی وجہ سے مراکش کے علاوہ کئی اسلامی ملکوں نے سفارتی تعلقات ختم کر لئے ہیں ان میں سر فہرست: سعودی عرب، بحرین، مصر، مالدیپ اور سوڈان ہیں۔ ویسے مصر میں جب اخوانیوں کی حکومت آئی تھی تو دوبارہ ایران سے تعلقات بنا لیا تھا۔
اس وقت الجزائر میں ایران کے خلاف زبردست عوامی مخالفت پائی جا رہی ہے۔ اور وہاں موجود ایرانی سفیر امیر موسوی کے خلاف لوگوں نے ایک محاذ کھول رکھا ہے کیونکہ وہ سفارتی امور سے زیادہ رفض وتشیع پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ ممکن ہے اگلی باری الجزائر ہی ہو۔ کیونکہ حکومت نے رفض وتشیع پھیلانے کے خلاف کافی سختی برت رہی ہے۔ اور رافضیوں کے خلاف سرکاری ہدایات بھی جاری ہو رہے ہیں۔ انہیں ہدایات پر ایرانی رافضی خبیث یاسر الحبیب طنز کر رہا ہے نیز عرب اور افریقی ممالک میں رفض وتشیع کے پھیلنے پر ان ممالک کے سخت ہونے پر کیا بک رہا ہے غور سے سنیں:
دو بڑی خبیث باتیں کہی ہے اس خبیث نے جسے ہر سنی مسلمان کو سننے کی ضرورت ہے تاکہ تحریکیوں کی دوستی کا اصل مقصد سمجھ میں آسکے::
1- نعوذ باللہ ابو بکر وعمر وعائشہ کا ہوس انہیں ستائے ہوئے ہے۔
2- رفض وتشیع کو روکنے کے انکے دینی شعبے عاجز ہیں اس لیے یہ سنی ممالک فورس کا استعمال کرتے ہیں۔ گویا اس خبیث کے نزدیک تشیع ہی اصل دین ہے۔ اس لنک کو دیکھیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=219027318859311&id=218591638902879
اور مزید سنیں ایک دوسرے خبیث رافضی کی بات ہوش اڑ جائینگے جو کہہ رہا ہے : (لن يتوقف هذا النصر إلى بغداد وإلى دمشق بل سنستمر إلى عقر دارهم وسنحرر أرض الجزيرة العربية والحجاز.......) ترجمہ: ہماری یہ فتح بغداد اور دمشق تک نہیں رکے گی ہم ان کے اندر تک جائیں گے اور جزیرہ عرب اور حجاز کو آزاد کریں گے۔
ویڈیو دیکھیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1368662446580372&id=100003098884948
عالم اسلام کے خلاف ان رافضیوں کے ان سازشوں اور توسیعی پلانوں کے اتنا واضح ہونے کے بعد بھی مسلم حکمران اگر ہوش میں نہ آئے تو اور ان کے خلاف کوئی ٹھوس پلان نہ بنایا تو علامہ اقبال کے بقول:
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
اللهم انا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم اللهم رد كيدهم الى نحورهم واجعل تدميرهم في تدبيرهم.
____________________________________________
دونوں ملکوں کے مابین تنازعہ کی وجہ پر ایک تفصیلی رپورٹ:
مراکش اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا آغاز اُس وقت ہوا جب رباط نے معزول شاہ ایران کا استقبال کیا اور پھر اس کے بعد عراق ایران جنگ میں بغداد حکومت کا ساتھ دیا۔ عدم اعتبار اور تاریخی عداوت کے سبب سفارتی تعلقات بحال ہو کر پھر سے منقطع ہوتے رہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان دوسری مرتبہ تعلقات اُس وقت منقطع ہوئے جب 2009ء میں ایرانی سفارت خانے کا ایک خفیہ منصوبے میں ملوث ہونا سامنے آیا۔ اس منصوبے کا مقصد مملکت مراکش میں شیعہ مسلک پھیلانا تھا۔
چناںچہ مراکش اور لبنان میں ایران نواز ملیشیا "حزب اللہ" کے درمیان تنازع نے بھی آج جنم نہیں لیا۔ یہ اپنے پس منظر میں اقتصادی، سیاسی اور تجارتی زاویے رکھتا ہے۔
براعظم افریقہ میں مراکش کی معیشت کی توسیع سے حزب اللہ ملیشیا خوف زدہ ہو گئی اور کیوں کہ اس شیعہ ملیشیا کو پالنے والوں نے مغربی افریقہ میں ضخیم تجارتی اور مالیاتی سلطنتیں قائم کر لی تھیں۔ مراکش کی جانب سے اس بھرپور تجارتی اور اقتصادی موجودگی نے حزب اللہ کو سپورٹ کرنے والے شیعہ تاجروں اور بیوپاریوں کو چیلنج کر دیا اور ان کو بھاری مالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔
علاوہ ازیں مراکش نے براعظم میں ایران کے پھیلاؤ اور شیعہ مسلک پھیلانے کے ذریعے سنی مذہبی شناخت کی تبدیلی کی کوشش کا راستہ روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر دیں۔
اسی سلسلے میں مراکش کے فرماں روا اسلام کے معتدل مالکی سنی مسلک کے دفاع کے لیے علماء کے خصوصی ادارے Mohammed VI Foundation of African Oulema کا قیام عمل میں لائے۔
اس ضخیم ادارے کے مقاصد میں شیعیت اور ایرانی اور لبنانی اداروں کی جانب سے سراہی جانے ولی مسلکی تبدیلی کی مزاحمت شامل ہے۔ یہ ادارے مال کی بنیاد پر غریب افریقی مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے سنی مسلک اور عقیدے کو تبدیل کر لیں۔
مراکش نے افریقی آئمہ کی تربیت کے واسطے ایک انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا اور سیکڑوں دینی مدارس اور مساجد بنائیں۔ اس حوالے سے مراکش افریقہ علماء کے ساتھ خصوصی روابط رکھتا ہے اور ہر سال ان شخصیات کی ایک بڑی تعداد کا استقبال کرتا ہے۔ یہاں ان کی بھرپور مہمان نوازی کی جاتی ہے۔ ان کو مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا ہے اور بہترین ہسپتالوں میں انہیں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
مراکش اور افریقیوں کے بیچ اس مضبوط روحانی تعلق نے حزب اللہ اور ایران کو چراغ پا کر رکھا ہے جو براعظم افریقہ میں اسلام کے سنی مسلک کے مضبوط نظام کو سبوتاژ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ مراکش میں فاس شہر روحانی اور علمی دارالحکومت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال لاکھوں افریقی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے مقابل افریقی ممالک کے شہریوں کی بہت تھوڑی تعداد لبنانی اور ایرانی اداروں کی دعوت کو قبول کر کے ایران کے شہر قُم جاتے ہیں۔
مراکش اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ بحران کی چنگاری اُس وقت بھڑکی جب مراکش نے لبنانی تاجر قاسم تاج الدین کو رواں برس مارچ میں الدار البیضاء کے ہوائی اڈے سے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کر دیا۔ مذکورہ تاجر حزب اللہ کی قیادت کا مقرّب ہے۔ جمہوریہ گِنی سے بیروت آتے ہوئے تاجر کو انٹرپول کی جانب سے جاری وارنٹ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔
یاد رہے کہ تاج الدین کا نام حزب اللہ کی فنڈنگ کے الزام کے سبب مئی 2009 سے امریکی وزارت خزانہ کی بلیک لسٹ میں درج ہے۔
ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کے ارکان اور عسکری کمانڈرز نے ایک برس سے الجزائر کے دورے شروع کر دیے۔ ان دوروں کا مقصد الجزائر کے جنوب میں تندوف کے کیمپوں میں صحرائی جنگجوؤں کو تربیت دینا ہے۔ اس دوران جنوبی لبنان سے ہتھیاروں، گولہ بارود اور دواؤں کی کھیپوں کو تندوف کیمپ منتقل کیا گیا۔ تاہم بولیساریو فرنٹ اور ایران کے زیر انتظام ملیشیا کے درمیان تعاون نے حتمی طور پر مراکش اور ایران کے درمیان تعلقات منقطع کر دیے۔
پولیساریو نے دوبارہ سے لڑائی کی دھمکی دی اور مراکش کی سکیورٹی باڑ سے چند میٹروں کے فاصلے پر چیک پوائنٹس قائم کر لیے۔ کشیدگی کی اپنی انتہا پر اس وقت جا پہنچی جب صحرائی مسلح عناصر نے موریتانیا اور مغربی افریقہ کے ممالک کا رخ کرنے والی مراکشی گاڑیوں اور ٹرکوں کی تلاشی شروع کر دی۔ مراکش نے ان "اشتعال انگیزیوں" کو اپنی قومی سلامتی اور وحدت کے لیے خطرہ قرار دیا۔
معاملے کا جائزہ لینے والے مراکشی ذرائع کے مطابق الجزائر میں ایرانی سفارت خانے کا ثقافتی اتاشی امیر موسوی حزب اللہ اور علاحدگی پسند بولیساریو فرنٹ کے بیچ رابطے کا ذریعہ تھا۔ بولیساریو فرنٹ الجزائر کے مغربی صحراء کے صوبے کی خود مختاری کا مطالبہ کرتا ہے۔
مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ موسوی دراصل ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک سینئر رکن اور ایرانی انٹیلی جنس کا ایک بڑا افسر ہے۔ 90ء کی دہائی کے آغاز سے ہی مشرق وسطی میں تمام سنی اور شیعہ شدت پسند جماعتوں اور ملیشیاؤں کے ساتھ اس کے تعلقات رہے ہیں۔ ماضی میں اس کا رابطہ القاعدہ اور افغان طالبان تحریک کی قیادت کے ساتھ بھی رہا ہے۔
ایرانی مداخلت کو شدت کے ساتھ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے "مراکشی مرکز برائے تزویراتی مطالعات" کے سربراہ محمد بنحمو نے حزب اللہ کو ایران کے ہاتھوں استعمال ہونے والا "جرثومہ" قرار دیا۔ بنحمو کے مطابق حزب اللہ لبنان اور شام میں اپنے لڑائی کے تجربات کو مراکش اور الجزائر کے درمیان سرحد پر منتقل کرنا چاہتی ہے۔ حزب اللہ نے بولیساریو فرنٹ کو ہتھیاروں کی کھیپ کی کھیپ فراہم کی جن میں "سام" میزائل شامل ہیں۔
https://urdu.alarabiya.net/ur/international/2018/05/02/مراکش-اور-حزب-اللہ-کے-درمیان-بحران-کی-بنیاد.html
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق