السبت، 20 أكتوبر 2018

عرب اتحاد کا حملہ حوثیوں پر یا اسکولی بس پر؟

🌛عرب اتحاد کا حملہ حوثیوں پر یا اسکولی بس پر؟🌜
💥اس وقت رافضی تحریکی سرپھرے بی بی سی، الجزیرہ، العالم، المنار، المیادین، ابلاغ اور دیگر سینکڑوں ٹی وی چینل اور اخبارات کے ذریعے یہ خبر پھیلا رہے ہیں کہ عرب اتحاد نے صعدہ یمن میں ایک اسکولی بس پر حملہ کیا ہے جس میں درجنوں بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ 
ایک تحریکی اس خبر پر تعلیق چڑھاتے ہوئے کہتا ہے: 
((مسلک آل سعود نے ان مہینوں کی عظمت کو پامال کیا ہے جس میں اللہ تعالی نے جنگ کو حرام کیا ہے))
◀️جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عرب اتحاد نے یہ حملہ در اصل حوثی فوجیوں  کے بس پر کی ہے ان کے ان حملوں کے جواب میں جو انہوں نے سعودی بارڈر پر جازان کے علاقے میں کیا تھا جس میں تین لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ 
لیکن اس خبر کو رافضیوں اور تحریکیوں نے گنجلک کرکے پھیلا رکھا ہے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے سعودی اتحاد کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں لگ گئے۔ اور اسے جوابی کارروائی نہ قرار دے کر حملے میں اسکولی بچوں کا نام پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اسے غیر انسانی اور ظالمانہ بتایا جائے۔ اور یہ بالکل جھوٹ اور خمینی پروپیگنڈہ ہے۔ کیونکہ یمن میں ابھی گرمی کی چھٹی چل رہی ہے۔ سارے اسکول بند ہیں۔ لہذا حملے میں اسکولی بچوں کے ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
لیکن حوثیوں سے رافضی محبت میں یہ سارے پروپیگنڈے ان تحریکیوں کیلئے باعث اجر و ثواب ہے۔ اور ساتھ مودودی خمینی دوستی کا صدقہ بھی ادا ہو رہا ہے۔ کیونکہ ایران و شام کے ظالم رافضی درعا میں خونخوار بمباری کر کے بچوں عورتوں کو قتل کر رہے ہیں لیکن وہ ان کی نظر میں نہیں دکھ رہا ہے۔ کیونکہ وہاں حملہ کرنے والے انکے رافضی بھائی ہیں اور مرنے رافضی تحریکی نہیں بلکہ اہل سنت مسلمان ہیں۔
💥اس وقت رافضیوں سے زیادہ اس حملے کے تعلق سے سرپھرے تحریکی پروپیگنڈہ کرتے نظر آ رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حوثی اپنی مسلسل ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اس وقت پروپیگنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی تحالف کو بدنام کرنے کیلئے انسانی ڈھال کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ 
یقینا یہ حملہ جوابی کاروائی تھی حوثیوں کے ہی بس پر جس میں وہ کچھ بچوں کو انسانی ڈھال بنا کر بٹھا رکھے تھے۔ نہ کہ وہ کوئی اسکولی بس تھی۔ 
پوری تفصیل اس رپورٹ میں دیکھیں:
https://www.skynewsarabia.com/amp/middle-east/1172444-ميليشيا-الحوثي-تفبرك-تصريحات-للمتحدث-باسم-التحالف-العربي
👈سوال یہ ہے جب ایران میں احواز اور بلوچستان کے اندر سنیوں کو قتل اور پھانسی دیتے ہیں، عراق میں ایرانی ملیشیا سنیوں کو یا حسین کا نعرہ لگا کر جلاتے اور مارتے ہیں، شام میں بشاری فوجیوں کے ساتھ ملکر حزب اللاتی اور رافضی ملیشیا سنی علاقوں پر حملہ کرکے ایک طرف سے قتل عام کرتے ہیں ۔ حال ہی میں درعا کا واقعہ اسکی تازہ مثال ہے۔ اور یمن میں مقبوضہ علاقوں میں  باغی ظالم حوثی جب سنیوں کو مارتے اور ستاتے ہیں تو یہ سرپھرے تحریکی آخر اتنا ہنگامہ اور واویلا کیوں نہیں مچاتے جتنا سعودی عرب کے خلاف شور مچاتے اور پروپیگنڈہ کرتے ہیں؟! اور ظالم حوثیوں کی جھوٹی خبروں کو نص شرعی مان کر فورا سعودی عرب کو ظالم بتا کر اس پر لعن طعن شروع کر دیتے ہیں؟!  حالانکہ ان کے حملوں میں سنی نہیں بلکہ باغی رافضی حوثی نشانہ بنتے ہیں۔ آخر سنیوں سے نہیں باغی حوثیوں سے انہیں اتنی محبت کیوں؟!
آخر یہ خمینی رافضی نوازی کب تک؟! 
در اصل ان تحریکیوں کو مسلک و ملت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ان کے یہاں ہر وہ ملک اور تنظیم ان کا ہیرو ہے جو سعودی کے خلاف ہے چاہے وہ سنی قطر ہو، رافضی ایران ہو اور اسکے اذناب واذیال حوثی حزبی و حماسی ہوں، علمانی کمنسٹ ترکی ہو یا چاہے صلیبی کافر کینڈا ہو۔ واقعات اور تجربات چیخ چیخ کر اس کی گواہی دے رہے ہیں۔
----------------------------------------------------------------------------
🕸صحرا میں پڑا اسکولی بیگ کس کا اور کب کا ہے؟!🕸
💥دشمنان مملکہ تحریکیوں نے خمینی دوستی اور رافضی محبت میں صعدہ میں ہونے والے حوثیوں کے بس پر حملے کو اسکولی بس ثابت کرنے کیلئے کچھ ثبوت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ایک ایمیج پیش کر رہے ہیں جس میں زمین پر کچھ اسکولی بیگ پڑے ہیں اور سفید جبہ پہنے ایک لڑکا کھڑا ہے۔ تحریکی کہہ رہے ہیں اب اس سے بڑا ثبوت کیا چاہئیے۔ 
🔊چند سوالات: 
1۔ سرپھرے تحریکیوں سے سوال یہ کیا گیا کہ یمن سمیت عرب ملکوں میں اس وقت گرمی کی چھٹی چل رہی ہے پھر یہ اسکولی بس کہاں سے آگئی تو ایک پکے جانثار رافضی نواز نے اس کی تاویل یہ کر ڈالی کہ در اصل وہ بچے سمر ویکیشن ٹور پر تھے۔
پھر سوال یہ ہے کہ اس ٹور میں اسکولی بیگ کا کیا مقصد؟ 
2۔ حادثہ ضحیان شہر میں ہوا ہے اور یہ تصویر کسی صحرا کی ہے۔
3۔ جن زخمی بچوں کا علاج ہوتا دکھایا گیا ہے ان میں کوئی بھی سفید جبہ نہیں پہنا ہوا ہے۔ 
4۔ جس حملے والی اسکولی بس کو دکھایا گیا ہے وہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ پھر اس سے کیا اس طرح بالکل صاف ستھرے بیگ نکلنے کی امید کی جاسکتی ہے؟ 
🌶حقیقت یہ ہے کہ مسلسل شکست کھانے اور مارے جانے کی وجہ سے باغی حوثیوں کے پاس فوجیوں کی کافی کمی ہوگئی ہے۔ اس کی بھرپائی کیلئے وہ اب بچوں کو فوج میں بھرتی کرنے لگے ہیں۔ لہذا اب انکے ساتھ بچہ فوجی بھی ہوتے ہیں۔ اور انہیں یہ انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ 
اس بس میں بھی یہی ہوا ہے۔ ان کے ساتھ وہی بچے رہے ہوں گے جنہیں یہ اسکولی بچہ کہہ کر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور ان سے زیادہ تحریکی اس خبر کو پھیلا کر اپنی دوستی اور نمک کا حق ادا کر رہے ہیں۔ 
بالکل ان بچوں کا لباس ویسا ہی دکھتا ہے جیسا انہیں فوج میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کی تفصیل یہاں دیکھ سکتے ہیں:
‏‎#الحوثي_يجند_أطفال_اليمن في معاركة الخاسرة غير مكترث بهم أو بأسرهم لتحقيق أطماع نظام الخميني، وسحق آمال وأحلام اليمنين. https://t.co/gA5Aq2XnrR‎‎‎‎
مزید تفصیلات اس ٹیوٹر اکاونٹ میں دیکھیں 
https://twitter.com/mohdsalj/status/1028332362680201216?s=19
👈اللہ دشمنان صحابہ اور قاتلین اہل سنت کے مکر و فریب اور انکی انکی حمالی کرنے والے سرپھرے دماغوں سے ہمیں محفوظ رکھ۔ آمین ۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...