السبت، 20 أكتوبر 2018

سعودی منہج تعلیم میں اخوانیت کا میٹھا زہر اور اسکا صفایا

🕸سعودی منہج تعلیم میں اخوانیت کا میٹھا زہر اور اسکا صفایا🕸
✏بقلم: ڈاکٹر اجمل منظور 
💥مملکت سعودی عرب کے اندر اخوانیت کی تاریخ کوئی بہت قدیم نہیں ہے۔ پچھلی صدی کی ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جب مصر، شام اور عراق کے اندر انکے خروج وبغاوت اور فتنہ پردازیوں کی وجہ سے ان پر سختیاں کی گئیں تو ملک سعود بن عبد العزیز اور ملک فیصل بن عبد العزیز کے دور حکومت میں انہیں ہمدردی کی خاطر مملکہ میں سیاسی پناہ دی گئی۔ لیکن یہ احسان فراموش مملکت سعودی عرب کے اندر بھی خاموشی سے نہ بیٹھ سکے بلکہ اپنے خارجی وبغاوتی افکار ونظریات کو تعلیم وتربیت اور دعوت وتبلیغ کے میدانوں سے سعودی عوام اور وہاں کے نونہالان امت کے درمیان پھیلاتے رہے اور سرکاری محکموں میں جہاں بھی جس بھی طرح -خصوصا اکیڈمک شعبوں میں- جیسے بھی موقع ملا پاؤں جماتے رہے یہاں تک کہ سابق فرمانروا شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کے دور حکومت میں اخوانیوں کی طوطی بولنے لگا اور انکی تعلیم وتربیت کے زیر اثر مملکت سعودی عرب کے اندر نوجوانوں کی ایک ایسی نسل تیار ہونے لگی جو خود اپنے ہی ملک کے خلاف باغی تیور، تکفیری فکر اور غلو وتشدد کی راہ پر چل نکلی اور مملکہ کے اندر بم دھماکے عام ہوگئے ۔
⚠️وہ تو بھلا ہو امیر نایف بن عبد العزیز کا جو انہیں اچھی طرح پہچانتے تھے اور انکی سوچ وفکر سے بخوبی آگاہ تھے وزیر داخلہ کی حیثیت سے مملکت سعودی عرب کے اندر امن وسلامتی بحال کرنے میں اور اخوانی قطبی تکفیری وتفجیری فکر کو ختم کرنے میں آپ کا نمایاں کردار رہا ہے۔ مزید رہی سہی کسر حالیہ سربراہ شاہ سلمان بن عبد العزیز نے آگر پوری کردی ۔ چنانچہ ۲۰۱۵ء میں زمام حکومت سنبھالتے ہی اخوانی شخصیات اور انکے افکار ضالہ پر سختی سے گرفت کی ، لہذا اعلی سرکاری عہدوں سے انہیں ہٹانا شروع کردیا ، کچھ کو نظر بند اور کچھ کو جیل میں ڈال دیا نیز تعلیمی محکموں سے ان کی گمراہ کن کتابوں کو ہٹوا دیا اور بہتوں کی کتابوں پر پابندی عائد کردی گئی۔
ایسی صورت حال میں اخوانی تحریکیوں کا بلبلانا اور مملکت سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا طے تھا ؛ چنانچہ انہوں نے عالمی پیمانے پر اپنی سبکی مٹانے، اپنے افکار ضالہ پر پردہ ڈالنے اور مملکہ کو بدنام کرنے کرنے کی خاطر ۲۰۱۵ء سے ایسے الزامات لگائے اور پروپیگنڈے کئے کہ الامان والحفیظ! شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے بیانات کو غلط معانی پہنا کر میڈیا میں خوب پھیلایا۔ ◀️چنانچہ جب محمد بن سلمان نے متوسط اور معتدل اسلام کی بات کی تو اسے ان دشمنان مملکہ نے ماڈرن اسلام کا معنی دیکر مملکہ کو یورپین ماڈل شہروں میں تبدیل کرنے کا الزام لگا دیا حالانکہ اس سے مراد اخوانیوں کی وجہ سے مملکت کے اندر خمینی رافضی بغاوت اور انقلاب ۱۹۷۹ کے بعد جو غلو، تشدد اور بغاوت کا ماحول بنتا چلا آیا تھا انہیں کو ختم کر کے سعودی معاشرے کو معتدل بنانے کی بات کہی تھی جیسا کہ بعد میں بن سلمان نے خود اسکی وضاحت کردی۔ اسی طرح جب ایک انٹر ویو کے دوران محمد بن سلمان سے وہابیت کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ وہابیت سے آپ کیا مراد لینا چاہتے ہیں یہ تو مجھے نہیں معلوم البتہ اسی اور نوے کی دہائی میں روسی کمیونزم کے خلاف امریکہ اور بعض یورپین ممالک کے تعاون سے مملکت نے جن اخوانی متشدد افکار کا ساتھ دیا تھا او رجن متشدد افکار کے حاملین کو روس کے خلاف افغانستان بھیجا تھا ان سے مملکت سعودی عرب کو بھی کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ اب ایسے افکار کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ لیکن اخوانیوں نے میڈیا کے اندر اسے غلط رنگ دے کر پھیلانا شروع کردیا کہ کیا محمد بن سلمان سعودی عرب سے وہابیت کو ختم کرنے میں کامیاب ہوپائیں گے؟ پھر اس ہیڈنگ کے بعد وہابیت کی لمبی چوڑی غلط توجیہات کی گئیں اور اسکا ڈانڈا ابن تیمیہ ، ابن قیم اور محمد بن عبد الوہاب کے افکار سے جوڑا گیااور مسلمانوں کے درمیان غلط فہمیاں پھیلائی گئیں تاکہ اخوانیوں کے متشدد اور خونخوار افکار سے لوگ واقف نہ ہوسکیں۔
👈سب سے بڑی اور آخری بات یہ کہ گزشتہ سال ماہ دسمبر میں ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر تعلیم احمد بن محمد العیسی کی طرف سے یہ بیان آیا کہ تمام اکیڈمک شعبوں سے اخوانی فکر کے حاملین کو چن چن کر نکال دیا جائے گا اور نصاب تعلیم کے اندر موجود ان کے تمام افکار کی صفائی کر دی جائے گی۔ ڈاکٹر احمد العیسی نے کہا: (إن بعض رموز جماعۃ الإخوان الذی ہربوا من مصر فی الستینات والسبعینات المیلادیۃ من القرن الماضی، انخرطوا فی التدریس فی التعلیم العام والجامعی السعودیین فتأثر بہم بعض المسؤولین والمشرفین والمعلمین الذین أسہموا فی صیاغۃ المناہج الشرعیۃ ونظموا النشاطات الطلابیۃ وفق منہج الجماعۃ المنحرف۔ وأن الغیورین علی الدین والوطن لم ینتبہوا إلی خطر الجماعۃ إلا فی وقت متأخر؛ حیث بدأت الجہود ولا تزال لتخلیص النظام التعلیمی من شوائب منہج الجماعۃ)۔
ترجمہ: پچھلی صدی کی ساٹھ اور ستر کی دہائی میں اخوانی جماعت کے بعض اشخاص جو مصر سے بھاگ کر سعودی عرب آئے تھے وہ سعودیہ کے اندر اکیڈمک محکموں سے جڑ گئے جن سے تعلیمی شعبوں کے کچھ ذمیدار ، نگراں اور اساتذہ متاثر ہوگئے جن کے تعاون سے وہاں شرعی نصاب تیار ہورہا تھا اوروہی لوگ اخوانی جماعت کی منحرف منہج کے مطابق طلبہ کی تمام سرگرمیوں کو مرتب کرتے تھے۔ اور دین و وطن کے غیور اشخاص اخوانیت کے اس خطرے کو سمجھنے میں وقت لگا دیا دیر ہی سہی پھر بھی اس میدان میں کوششیں ہورہی ہیں اور اخوانی منہج کے تمام اثرات کو تعلیمی نظام سے ختم کرنے کی مہم جاری ہے۔
مزید اخوانی متشدد فکر سے نپٹنے کیلئے احتیاطی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: (لابد من محاربۃ الفکر المتطرف من خلال إعادۃ صیاغۃ المناہج الدراسیۃ وتطویر الکتب المدرسیۃ، وضمان خلوہا من منہج جماعۃ الإخوان المحظورۃ، ومنع الکتب المحسوبۃ علی جماعۃ الإخوان المسلمین من جمیع المدارس والجامعات، کذلک إبعاد کل من یتعاطف مع الجماعۃ أو فکرہا أو رموزہا من أی منصب إشرافی أو من التدریس، والتوعیۃ بخطر فکر الجماعۃ من خلال الأنشطۃ الفکریۃ فی الجامعات والمدارس) ترجمہ: اس اخوانی متشدد فکر کو ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کی جائے، تدریسی کتابوں پر از سر نو غور کیا جائے اور کالعدم اخوانی جماعت کے منہج وفکر سے انہیں خالی کردیا جائے، اخوانی کتابوں کو تمام مدارس اور یونیورسٹیوں سے نکال دیا جائے، تعلیمی محکموں سے ہر اس شخص کو نکال باہر کردیا جائے جس کے اندر اخوانی فکر موجود ہو یا اخوانی شخصیتوں سے متاثر ہو اور تمام مدارس ویونیورسٹیوں کے اندر علمی وفکری سرگرمیوں کے ذریعے اخوانی فکر کے خطرات سے طلبہ واساتذہ کو آگاہ کیا جائے۔ 
دیکھیں اس ویب سائٹ کو:www.almnatiq.net/554729/?mobile=1
وزیر تعلیم نے مزید کہا: (فی سبتمبر الماضی أعلنت جامعۃ الإمام محمد بن سعود الإسلامیۃ أنہا ستفصل الموظفین المشتبہین بعلاقتہم بجماعۃ الإخوان المسلمین۔ وقال محمد بن سلمان لمحطۃ سی بی ایس الأمریکیۃ بالقضاء علی غزو جماعۃ الإخوان المسلمین للمدارس فی السعودیۃ)۔ ترجمہ: گزشتہ سال ماہ ستمبر میں جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے یہاں سے ان تمام اساتذہ کو نکال دے گا جن کے بارے میں اخوانی جماعت کے ساتھ تعلقات ہونے کا شبہ ہوگا۔ اور محمد بن سلمان نے امریکی ٹیلی ویزن سی بی ایس پر یہ بیان دیا کہ سعودی عرب کے اندر مدارس میں موجود اخوانی فکری یلغار کو ختم کردیا جائے گا۔ تفصیل الحرۃ ویب سائٹ پر دیکھیں:
www.alhurra.com/amp/426024.html
مزید تفصیلات اس ویب سائٹ پر دیکھیں:
https://www.google.co.in/amp/s/arabic.rt.com/middle_east/933619-السعودية-مناهج-تعليمية-جديدة-خالية-من-فكر-الإخوان-المسلمين/amp/
💥مذکورہ بیانات اور حکومتی اقدامات کے آنے کے بعد قطبی اخوانیوں نے میڈیا میں یہ جھوٹ اور پروپیگنڈہ پھیلانا شروع کردیا کہ امریکہ کے اشارے پر سعودی عرب اب نصاب تعلیم میں تبدیلی کر رہا ہے؛ لہذا اب نصاب تعلیم سے متشدد افکار (تحریکی اس سے وہابی آئیڈیالوجی مراد لیتے ہیں) کو ختم کر دیا جائے گا جس کا امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے گزشتہ کئی سالوں سے مطالبہ کیا جا رہا تھا چنانچہ اب اس پر سعودی حکومت نے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کی نگرانی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس پر کام کر رہی ہے۔ ایک اخوانی ویب سائٹ (الشرق) ۱۷/ دسمبر ۲۰۱۷ء کی تاریخ میں ایک ہیڈنگ قائم کرکے لکھتا ہے: (السعودیۃ تبدأ فی تغییر المناہج المتطرفۃ)
التحولات الکبیرۃ التی لم یسبق لہا مثیل فی تاریخ السعودیۃ الحدیث، دخلت الآن مناہج التعلیم حیث شرعت وزارۃ التعلیم العالی السعودیۃ بتوجیہ وتعاون من وزارۃ الخارجیۃ الأمریکیۃ فی سحب مناہج دراسیۃ من المدارس والمساجد وإدراج أخری تتماشی مع الخطط الإصلاحیۃ التی تنتہجہا القیادۃ السعودیۃ۔ ترجمہ: سعودی عرب نے متشدد تعلیمی نصاب میں تبدیلی کرنا شروع کردیا ہے: وہ بڑی تبدیلیاں جو سعودی عرب کی موجودہ تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئیں اب وہاں کے تعلیمی نصاب میں دیکھنے کو مل رہی ہیں چنانچہ امریکی وزارت خارجہ کی نگرانی اور اسکے تعاون سے سعودی وزارت تعلیم نے مدارس اور مساجد کے تعلیمی نصاب کو اس پیمانے پر بدلنا شروع کردیا ہے کہ وہ نئی سعودی قیادت کے اصلاحی منصوبوں اور پلانوں کے مطابق ہوجائے ۔ 
حالانکہ اس کا لب لباب صرف اتنا ہے کہ امریکہ میں وزارت خارجہ کے ساتھ بن سلمان کی ایک میٹنگ میں رواں سال کے فروری مہینے کے اندر جب یہ بات آئی کہ نصاب تعلیم سے اخوانی متشدد افکار کو ختم کرنے کا پلان بنایا جا ہا ہے تو امریکی وزارت خارجہ نے اسکی پوری تائید کی اور اپنے ممکنہ تعاون کا یقین بھی دلایا۔ چونکہ بقول ولی عہد اب مملکہ کے اندر تحریکی اخوانیوں کے تمام اثرات کو مٹا کے چھوڑا جائے گا اور اب مستقبل میں اخوانیت کا ذرا سا شائبہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس لئے اس وقت اخوانی بوکھلائے ہوئے ہیں اور کسی بھی خبر اور بیان کو اچک کر اسے توڑ مروڑ کر میڈیا میں پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ورنہ سعودی عرب کے اندر تعلیمی منہج میں کتاب وسنت پر مبنی سلفی منہج ہی کی بالا دستی قائم ہے وہاں کسی مسلک، تقلیدی مذہب یا کسی منحرف فکر کا دور دور تک کوئی اثر نہیں ہے ۔ تعلیمی نصاب ہی نہیں بلکہ وہاں کے سرکاری دستور میں بھی کتاب وسنت ہی کو بالا دستی حاصل ہے اور یہ مملکت توحید سعودی عرب کا سب سے بڑا امتیازی طرہ ہے۔ 
اللہ تعالی بلاد حرمین کو دشمنان مملکہ کے تمام شروفتن سے محفوظ رکھے اور وہاں کتاب وسنت نیز منہج سلف کا بول بالا ہو۔ آمین

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...