🌐نانا جان محترم رئيس احمد: ايك انجمن ايك بيباك مردِ مومن🌐
✏بقلم : ڈاكٹر اجمل منظور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
◀️ابتدائى نشو ونما اور حصول علم:
آزادى سے چند سال قبل تقريبا 1940ء ميں يوپى ،ضلع سدهارت نگر ، تحصيل اٹوا بازار كے ايك گاؤں مڑلا سنبرسا ميں ايك ذميندار اور علمى گهرانےكے اندرآپ كى ولادت ہوئى۔ آپ كل پانچ بهائى تهے۔آپ كے بڑے بهائى نانا محترم عبارت حسين سركارى پيش كار ره چكے ہيں، جن كا انتقال ابهى كچھ سال پہلے ہواہے. رحمة الله عليه رحمة واسعة۔ دوسرے بهائى ميرے سگے نانا محترم محمد سعى صاحب تھے جو گاؤں ميں كافى سمجھ دار اور ہوشمند مانے جاتے تهے، آپ كا انتقال بہت پہلے تقريبا 1991ء ميں گلے كے اندر كينسر كى وجہ سے ہوگيا ، اللہ آپ کو غریق رحمت کرے، اس وقت ميں جامعہ اتحاد ملت اٹوا بازار ميں درجہ ہفتم ميں پڑهتا تها۔ آپ كے تيسرے بهائى نانا محترم جناب عبد الوہاب صاحب تهے جن كا انتقال دسيوں سال پہلے دہلى كے اندر ہوگيا ہے۔ اللہ آپکو کروٹ کروٹ جنت میں داخل کرے۔ مامو جان شيخ عبد المجيد مدنى حفظہ الله سابق ناظم صوبائى جمعيت اہل حديث دہلى، آپ ہى كے اكلوتے بيٹے ہيں جو فيملى كے ساتھ زمانے سے دہلى ميں رہتے ہيں۔ اور آپ خود پانچوں بهائيوں ميں چوتهے نمبر پر تهے ۔ آپ كے بعد پانچويں نمبر پر نانا محترم محمد صالح صاحب جو سب سے چھوٹے ہيں ابهى بقيد حيات ہيں ، الله آپ كو صحت وعافيت سے ركهے۔
نانا محترم نے اپنى ابتدائى تعليم اٹوا باز ار ميں ايك سركارى اسكول ميں حاصل كى تهى جہاں اردو ، فارسى ، ہندى اور تاريخ وحساب وغيره ميں آپ نے مہارت حاصل كى۔
◀️تعليمى وعلمى شغف:
درس نظامى كے حساب سے گرچہ آپ نے كسى بڑے دينى مدرسے ميں باقاعده تعليم حاصل نہيں كى البتہ اپنے ذاتى مطالعہ اور علماء اور علم دوست لوگوں كے ساتھ ره كر دينى وعلمى معلومات كافى پيدا كر لى تهى۔آپ كے چچا محمد ياسين صاحب كافى لياقت مند اور علمى صلاحيت والى شخصيت تهے ، فارسى زبان ميں خصوصى طور پر آپكو ملكہ حاصل تها، آپ ان سے كافى مستفيد ہوتے تهے۔اٹوا بازار ميں ندوة السنہ جسے لائبريرى كے نام پر شيخ شميم سلفى صاحب نے قائم كيا تها جو اب جامعہ الفاروق كى شكل اختيار كر چكا ہے ، اس لائبريرى سے نانا جان نے كافى استفاده كيا، آپ اكثر اٹوا بازار محض اسى لائبريرى سے كتابيں نكالنے اور مطالعہ كى ہوئى كتابوں كو جمع كرنے جاتے تهے۔ اٹوا بازار کے دونوں جامعات (جامعہ اتحاد ملت اور جامعہ الفاروق الاسلامیہ) سے آپ کو کافی لگاو تھا۔
آپ كوبچوں كى تعليم سے كافى دلچسپى تهى۔ گاؤں كے مدرسہ (معہد التعليم الاسلامى) كے آپ تقریبا پچیس سالوں تك صدر رہے۔ اسی مدرسے کے خوشہ چیں میں خود اور مامو جان بھی ہیں۔ آپ اچھے اور صلاحيت مند مدرسين كى تلاش ميں برابر رہتے۔ مجهے ياد آتا ہے ، ميرے مكتب كے ابتدائى دور تعليم ميں آپ اچانك اسكول كا جائزه لينے آجايا كرتے تهے۔ اساتذه كے ساتھ علمى گفتگو كرتے اور كبهى كبهى طلبہ سے بھی سوالات كرتے تھے۔ تعلیمی معیار اور بچوں کے علمی مستوی کے اعتبار سے یہ مدرسہ ضلعی سطح پر ممتاز مانا جاتا ہے۔ ضلعی سطح پر تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں یہاں کے بچے ہمیشہ ممتاز پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔
◀️اردوزبان وادب:
اردو زبان وادب سے آپ كوبے انتہا شغف تها ، اقبال كى شاعرى كے آپ كافى مداح تهے، شاعرى ميں علامہ اقبال كو غالب پر فوقيت ديتے تهے۔ اردو كے علاوه فارسى اشعاربهى آپ كو كافى ياد تھے۔ آپ فارغ ہوتے تو دل بہلانے كيلئے اكثر علامہ اقبال كے اشعار گنگناتے رہتے۔ ايك مرتبہ آپ علامہ اقبال كا يہ شعر پڑھ رہے تهے:
كبهى اے حقيقت منتظر نظر آ لباسِ مجاز ميں
كہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہيں مرى جبين نياز ميں
ميں نے اسے سن كر كہا كہ نانا جان ! اس شعر كے تعلق سے علامہ اقبال پر اعتراض كيا گيا ہے۔ نيز اس طرح كے ان كے ديگر بھی بہت سارے اشعار پر ميں نے رحمانى صاحب كى زبانى اعتراض سنا ہے۔ ميرى يہ بات سن كر آپ جلال ميں آگئے اور غصے سے كانپنے لگے اور كہا: تمہيں كچھ نہيں پتہ ہے ، رحمانى نے اقبال كے شعر كو سمجها ہى نہيں۔ شاعر كى اپنى زبان ہوتى ہے۔ كيا ابراہيم عليہ السلام نے الله تعالى سے يہ نہيں كہا تها كہ ايك جهلك مجهے دكها دے ؟ ميرے كہنے كا مطلب صرف يہ ہے كہ آپ علامہ اقبال كے اشعار كى بہترين تشريح كرتے اور انكا دفاع بهى كرتے تهے۔
اخبارات اور ماہانہ ادبى مجلات آپ برابر پڑھتے اور باقاعده كئى ادبى مجلوں كے آپ برابر كے خريدار تھے۔ ميں اكثر آپ كے گھر جاتا اور كوئى نہ كوئى ادبى مجلہ لے كر آجاتا ، چنانچہ اگر كبهى كوئى پرچہ ڈهونڈنے پر نہ ملتا تو نانا جان كہتے: اسے اجمل لے گيا ہوگا۔
پہيلياں، محاورے اور كہاوتيں آپ كافى جانتے تهے۔ گاؤں كى مجلسوں ميں اختتام پر آپ كوئى نہ كوئى ايسا محاوره ضرور بول كر اٹھتے جو بڑا ہی معنى خيز ہوتا اور لوگ اسے سن كر اس پر دير تك غوروفكر كرتے رہتے۔ ان ميں سے اكثر حقائق پر مبنى ہوا كرتے اور كبهى كبهار كسى پر طنز بهى ہوا كرتے تهے۔
◀️مہمان نوازى:
آپ بڑے مہمان نواز تهے خصوصا آپ علماء كى كافى قدر كرتے تهے، مسجد ميں اگر كوئى اجنبى شخص آتا تو فورا ً آپ اسے كهانے كيلئے مدعو كرتے۔ ويسے بهى مدرسہ كے معلمين كى دعوت اكثرت ليتے رہتے تهے۔ آپ اكثر كہا كرتے تهے : مہمان اپنے ساتھ روزى لے كر چلتا ہے۔ اور ساتھ ہى مہمان نوازى پر كچھ حديثيں بهى سنا ديتے تهے۔
◀️دينى وملى مزاج:
آپ كے اندر دينى وملى جذبہ بهرا ہوا تها ، آپ ايك ديندار اور اطاعت گزار خانوادے سے تعلق ركهتے تهے، صوم وصلاة كے پابند تھے، نماز باجماعت كا اہتمام كرتے تهے۔جلسہ ، دينى اجتماع اور علمى مجلسوں ميں شركت كرنے كيلئے آپ دور دور تك چلے جاتے تهے۔ جماعت اہل حديث اور اسكى تاريخ پر آپ كو زبردست پكڑ تهى، ندوة السنہ لائبريرى كى كتابوں سے آپ نے تاريخى كتابوں كا خوب مطالعہ كيا تها۔اہل حديث علماء سے ملاقات كرنے كيلئے آپ ہميشہ بے تاب رہتے تهے۔ ابو القاسم سيف بنارسى، عبد السلام بستوى ، علامہ ثناء الله امرتسرى اور علامہ داؤد راز وغيره بڑے بڑے علماء اہل حديث كے آپ كافى مداح تهے۔ ان كى كتابوں اور مجلات كو آپ بڑى عقيدت سے پڑھتے تهے۔
يہى وجہ ہے كہ آپ كے اندر كتاب وسنت پر مبنى سلفى مزاج كوٹ كوٹ كر بهرا ہوا تها۔ قرآن وحديث كے خلاف آپ كوئى كام ديكهنا برداشت نہيں كرتے تهے۔ اور شايد اسى وجہ سے آپ جماعت اسلامى والوں سے چڑھتے تهے اور ايك گونا آپ ان سے بير بهى ركهتے تهے۔ آپ كے رشتہ دار مولانا شفاعت الله صاحب جو كہ جماعت اسلامى كے سرگرم ركن تهے چند سال پہلے ممبئى كے اندر عارضۂ قلب كى وجہ سے آپ كا انتقال ہوچكا ہے۔ ايك مرتبہ تقريبا بيس سال پہلے آپ نے ميرے گاؤں ميں جماعت اسلامى كى طرف سے جلسہ كرانے كيلئے نانا جان سے مشوره كيا ، نانا جان نے بلا سوچے سمجھے يكلخت انكار كرديا اور انہيں كھرا كهرا بهى سنا ديا جس پر وه بڑا ناراض ہوئے ۔ اور اسى ضد ميں بغل كے گاؤں سمرا كے اندر مولانا نے جلسہ كراكے اپنى آرزو پورى كرلى ۔ اس جلسے ميں مولانا نے دورانِ تقرير ذكر كيا كہ مڑلا سنبرسا ميں جہاں ميرى رشتہ دارى ہے ميرے پهوپها نے جلسہ نہيں كرانے ديا ۔
خود ميرا واقعہ ہے كہ ميرے والد نے جماعت اسلامى سے جڑے اپنے ايك ساتهى كے واسطے ميرا داخلہ عربى سوم ميں تلكہنا كے اندر واقع جماعت اسلامى كے ايك مدرسے ميں كراديا۔ جب نانا جان كو خبر ہوئى تو آپ بڑے تشويش ميں مبتلا ہوئے ۔ اور فورا ً ماموجان شيخ عبد المجيد المدنى حفظہ ا لله سے رابطہ كيا جو كہ اس وقت جامعہ اسلاميہ مدينہ ميں پڑھتے تهے ، اور جامعہ اسلاميہ سنابل دہلى ميں داخلہ دلوانے كا وعده كركے ميرے والد سے كہلوا كر وہاں سے داخلہ كينسل كروا ديا۔ ميں اس پر الله رب العالمين كے بعد مامو جان اور نانا جان دونوں كا بہت بہت شكر گزار ہوں كہ ان دونوں كى كوششوں سے ميں آج كتاب وسنت پر مبنى سلفى منہج پر قائم
ہوں۔
◀️اولاد كى فكر مندى:
آپ كو الله رب العالمين نے نرينہ اولاد سے محروم ركها ۔ آپ كےپاس صرف دو بيٹياں ہيں: ايك ہيں محترمہ طاہره خاتون جو چچيرے بهائى ماما جان شيخ عبد المجيد مدنى سے منسوب ہيں۔ اور دوسرى ہيں محترمہ شبنم خاتون جو مامو زاد بهائى محترم عبد الرحيم صاحب سے منسوب ہيں جو اس وقت دبئى ميں ايك كمپنى ميں ملازمت كرتے ہيں۔ نانا جان نے اپنى بيٹيوں كى اولاد كو اپنا اولاد سمجها ، اور انہيں كے ساتھ ہميشہ مل گهل كر رہتے تهے۔ ان كى تعليم كيلئے آپ ہميشہ فكر مند رہتے ۔ چنانچہ خود میرا واقعہ ہے کہ جب ميرا داخلہ جامعہ اسلاميہ مدينہ ميں ہوا تو آپ بہت خوش ہوئے اور مجھ سے كہا كہ اگر الله نے چاہا تو ضرور تم سے مدينہ ميں ملاقات كروں گا۔ اور الحمد لله 2004ء ميں آپ حج كيلئے جب مكہ مكرمہ گئےاور مدينہ تشريف لائے تو ميں اس وقت وہيں پر زير تعليم تها ۔ آپ نے جامعہ جاكر وہيں ہمارے ساتھيوں كے ساتھ ايك شب گزارا اورجامعہ كے گوشے گوشے ميں چل كر وہاں كى زيارت كى۔
خصوصى طور پر ميں آپ سے كافى مستفيد ہوتا تها، زبان وادب اور تاريخ سے دلچسپى كا داعيہ ميرے اندر در اصل آپ ہى نے پيدا كيا۔ ميں اكثر پہيليوں، محاوروں اور مشكل اردو اشعار كا مفہوم آپ سے سمجهتا اور تاريخ كے بارے ميں آپ سے رجوع كرتا۔ آپ مجهے سمجهاتے كہ تاريخ پر شيعہ اور جماعت اسلامى كى لكھى كتابوں كو احتياط سے پڑھنا۔
ميں نے دس پشتوں تك اپنے خاندان كا ايك شجره تيار كيا ہے۔ اس كى تيارى ميں جہاں ميں نے خاندان كے كئى بزرگوں سے مدد لى ہے وہيں پر نانا جان سے بهى كافى استفاده كيا ہے بلكہ اكثر معلومات كى تحقيق آخر ميں آپ ہى سے كرتا تها۔
◀️جراء ت حق اور بيباكى:
آپ كے اندر حق گوئى اور جراءت كوٹ كوٹ كر بهرى ہوئى تهى۔ آپ حق كے خلاف كسى بات كو برداشت نہيں كر پاتے تهے، فورا مجلس ہى ميں ٹوك ديا كرتے تهے ؛ اسى وجہ سے بہت سےلوگ آپ سے بير ركهتے تهے۔ آپ ہر بات كا جواب بيباكى ا ور برجستگى سے مجلس ہى ميں دے ديا كرتے تهے۔ ايك مرتبہ كا ذكر ہے، اٹوا كے اندر موجود ماتا پرساد پانڈے انٹر كالج ميں ميرے مامو جناب غلام حسين صاحب كافى سالوں سے ليكچرر ہيں۔ كالج كا ايك ہندو استاذ اسلام پر كبهى كبهى اعتراض كر كے مامو كو پريشان كرتا تها ، ايك بار اس نے نبى كريم –صلى الله عليہ وسلم- كى تعدد ازواج كے مسئلے كو چھيڑ كر آپ كى شان ميں گستاخى كى ۔ مامو جان طيش ميں آئے اور فورا گهر آكر نانا جان سے سارا ماجرا بتاديا۔ آپ فورا مامو كے ساتھ كالج گئے اور بلا توقف ہندو استاذ سے ملےاور اس سے لگے مناظره كرنے ۔ وه شخص پريشان ہوگيا جب آپ نے اسے سنايا كہ آپ كو كچھ پتہ ہے كہ راجہ دشرتھ، رام اور لچھمن كے پاس كتنى كتنى بيوياں تهيں؟ كياآپ يہ بهى جانتے ہو كہ كرشن كيسے گوپيوں كا كپڑا ليكر درخت پر چڑھ گئے تهے اور ندى سے انہيں كس شرط پر نكلوايا تها؟ يہ سن كر وه شخص خاموش ہوگيا اور مامو سے كبهى اس سلسلے ميں بات نہيں كى۔
◀️علالت اور مرض الموت :
كلبۂ افلاس ميں ، دولت كے كاشانے ميں موت
دشت ودر ميں ، شہر ميں ، گلشن ميں ، ويرانے ميں موت
آپ كئى سالوں سے عارضۂ قلب ميں مبتلا تھے۔ ادهر كچھ مہينوں سے آپ اپنے عزيزوں يعنى بيٹيوں كے گھر دہلى ميں مقيم تهے اور آخرى وقت ميں كافى بيمار رہنے لگےتهے۔ علاج ومعالجہ ميں كوئى كسر نہيں چھوڑى گئى، آخرى چند ہفتوں ميں كئى اہم ہسپتالوں ميں زير علاج رہے۔ برادرم ڈاكٹر عبد الله طيب جو كہ ہمدرد يونيورسٹى سے ايم بى بى ايس ہيں اور ايم ڈى كى تيارى كررہے ہيں، آپ كے بڑے سگے ناتى ہيں جنہوں نے آپ كا كافى خيال كيا ، دوا علاج او رديكھ بهال ميں كوئى كمى نہيں كى۔ كئى ايك اسپتالوں كے بعد ہمدرد ميڈيكل كالج ميں ركها ، پھر وہاں سے رام منوہر لوہيا اسپتال ميں لے گئے۔ماموجان شيخ عبد المجيد مدنى نے علالت كى شدت سن كر سعودى عرب سے دہلى تشريف لے آئے اور دوا علاج اور عيادت ميں جٹ گئے۔ آپ كے دوسرے داماد محترم عبد الرحيم صاحب بهى دبئى سے تشريف لے آئے۔ ليكن موت سے كس كو رستگارى ہے ؟ شاعر كہتا ہے: وأعيى دواء الموت كل طبيب
نانا جان جو اپنى ذات ميں ايك انجمن تهے، جراء ت وشجاعت ايسى كہ شايد ہى كہيں ہار مانى ہو ليكن موت كے سامنے بے بس ہونا پڑا ، آخر قضاء وقدر غالب آگئى اورمحفلوں كو گرمانے والا آج خاموش ہوگيا چنانچہ آپ رام منوہر لوہيا اسپتال ہى ميں بتاريخ 8/ اگست 2018 صبح ساڑھے سات بجے تقریبا 80 بہاریں دیکھ کر الله كو پيارے ہوگئے۔ انا لله وانا واليہ راجعون۔ الله تعالى نانا جان كى خطاؤں كو در گزر فرمائے اور اپنى خاص رحمتوں سے نواز كر جنت الفردوس كے اندر اعلى مقام عنايت فرمائے۔آپ كى قبر كو نور سے بهر دے۔ نيز پسماندگان خصوصا ً نانى محترمہ، مامو جان عبد المجيد مدنى، خالو عبد الرحيم صاحب ، آپ كى دونوں نور چشم اور ديگر اہل خانہ اور
لواحقین كو صبر جميل عطا فرمائے۔
◀️جنازه وتدفين:
بتاريخ 8/ اگست بعد صلاة عصر شاہين باغ كالندى كنج كے اندر جامعہ اسلاميہ سنابل كى مسجد كے باهري صحن ميں آپ كے جنازہ كى نماز مامو جان شيخ عبد المجيد مدنى حفظہ الله نے پڑھائى ۔ آپ كے جنازے ميں امير جماعت شيخ اصغر على امام مہدى سلفى، شيخ صلاح الدين مقبول احمد مدنى، شيخ رضاء الله عبد الكريم، جامعہ اسلاميہ سنابل كے صدر شيخ محمد رحمانى، جامعہ كے جنرل سكريٹرى شيخ عاشق على اثرى، شیخ رفیق احمد سلفی سابق استاذ جامعہ اسلامیہ سنابل، شیخ محمد مستقیم سلفی سابق استاذ جامعہ اسلامیہ سنابل، شیخ جمیل احمد مدنی، شیخ عبد الاحد ریاضی، جناب اسماعیل صاحب میرٹھی صاحبان كے علاوه طلبہ واساتذه اور ديگر عوام كى ايك جم غفير اكٹھا تهى جن كى بهيڑ ميں آپ كو شاہين باغ كى نئى قبر ستان كے اندر سپرد خاك كرديا گيا۔
آسماں تيرى لحد پر شبنم افشانى كرے
سبزه نورستہ اس گھر كى نگہبانى كرے
-----------------------------------------------------------------------------
◀️ہمارے دوست اور پیارے ساتھی پروفیسر انیس الرحمن صاحب کا نانا جان پر ایک وقیع اور معلوماتی تبصرہ:
آہ ناظم صاحب
عربی زبان کا مقولہ ہے کہ " موت العالم موت العالم" عالم کی موت سے دنیا کا سب سے بڑا نقصان ہےَ اس کا اثر صرف ایک گہر ' خاندان اور قبیلہ تک ہی نہیں محدود ہو تا ہے بلکہ اس کی وجہ سے انسانیت کی ترقی متاثر ہو جاتی ہے اور نا جانے کتنے غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں َ کچہ ایسا ہی میرے گاؤں کی ایک معزز و علمی شخصیت کے انتقال کرنے سے ہوا ہے َ وہ اس فانی دنیا کو تو چہوڑ کر چلے گئے مگر بہتوں کو غم میں مبتلا بہی کر گئے َ
انہوں نے ایک لمبے عرصے تک گاؤں کے مدرسہ کی خدمت بحیثیت ناظم و صدر کی' اسکو بنایا' سنوار اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا َ ناظم صاحب کی نظامت سے پہلے مدرسہ کوئی نو سو یا ہزار مربع فٹ کی قدیم و رو بہ زوال عمارت کی شکل میں تھا بلکہ یہ کہا جائے کہ ایک اسکول کی نشانی تہیَ بارش ہوئی تو چہت ٹپکنے لگتی تہی َ بلکہ موسم گرما میں قریب کے باغ میں پڑھتے تھے اور موسم سرما میں کہلے آسمان کے نیچے ُ ہمارے مرحوم ناظم صاحب نے مزید زمین حاصل کرنے میں بڑی کوشش کی اور کامیاب بہی ہوئے اسکی نئی عمارت کی تعمیر کا آغاز ہوا تو اس وقت مالی پریشانیوں کی بنا پر انتہائی مشکل کام تھا مگر مرحوم کی نیک نیتی اور بے لوث لگن کی بنا پر گاؤں کے ہی چندے کی رقم سے عمارت تعمیر ہوگئی اور توسیع ہوتی رہی َ وہ گاؤں کے ایک محنتی کسان تہے تعمیر کے دوران آوروں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں درا بھی عار محسوس نہ کرتے تہے َ شدید گرمی میں پیاس کی شدت میں ' میرا گھر قریب ہونے کی وجہ سے' مجہے پانی کے لئے میرے گہریلو نام خرم سے پکارتے تہےَ
وہ کام کے دھنی تہے ارادے کے پکے اور مدرسہ کی خاطر سب کچھ کرنے کے لئے ھمہ تن جوش میں رہتے تھےَ وہ ایک جفاکش کسان کے ساتھ ساتھ ایک عالم باعمل تھےَ فاضل عالم نہ تھے مگر علم و عمل کے اعتبار سے ان سے کم بھی نا تھے وہ صرف ابتدائی درجات کے تعلیم یافتہ تھے مگر کیا مجال کی انھیں کے بھتیجے ماسٹر غلام احمد " MA تاریخ" تاریخ موضوعات پر ان سے گفتگو کی ہمت کر پاتے ُ اردو ادب وشعر پر کمال دسترس کا یہ عالم تھا کہ ایک بار وہ ھمارے ساتھ جواھر لال نہرو یونیورسٹی گھومنے گئے تو راستے بھر دونوں صرف علامہ اقبال کے اشعار سنتے اور سناتے گیے اور وھاں جو ھم ابل اردو داں کے ساتھ گفتگو بو ئ تو لوگ کئی دنوں تک مجھ سے انکے بارے میں پوچھتے رہےَ اور انکی اقبال و حالی سناشی کا اعتراف کرتے رہے اور کھتے تھے کہ انیس تیرے چاچا تو کمال کے تھے َ مجھے فخر ہے کہ میں نے ان سے اقبال کے اشعار سمجھنے میں استفادہ کیا ہے اور انکے چاچا و سسر سے ابتدائی فارسی سیکھی ہے میں ان کا بڑا دلعزیز تھا عبد الرحیم اور مجھ کو بڑھنے کی بڑی ترغیب دیا کرتے تھےُ میں انکے پوتے جو آجکل خلیل آباد ضلع آنتظامیہ میں ملازم بیں میرے بچپن کے مشفق استاد رہے ہیں اور آج بھی وہ میرے مرشد اور آئیڈیئل ہیں َ
اللہ بخشے مرنے والے میں بڑی خوبیاں تھیں َ
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق