💥کیا قیام دین کیلئے حکومت ایک ضرورت ہے؟!
◀️یہ مودودی، قطبی تحریکی پراگندہ اذہان کا معجون مرکب ایک منحرف نظریہ ہے۔ دین اسلام کے اندر تبلیغ دین یا قیام دین کیلئے حکومت کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں حکومت دین کی مضبوطی کیلئے ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے نہ کہ ضرورت۔ اگر ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پہلے حکومت قائم کرتے پھر دین کی تبلیغ کرتے۔
⚠️انبیاء کرام میں سے کتنوں نے حکومت قائم کی تھی؟ مکہ کے اندر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی حکومت تھی؟ کیا دین اسلام مکہ میں نہیں تھا؟ حالانکہ احکام کو چھوڑ کر ایمان و عمل اور تزکیہ وطہارت اور اخلاق وآداب کی تقریبا سبھی آئتیں مکہ ہی میں نازل ہوئیں ہیں۔
پھر یہ کہنا کہ حکومت ایک ضرورت ہے اسکے بغیر دین کا کوئی تصور نہیں یہ نظریہ کہاں تک صحیح ہے؟! سید قطب، مودودی اور دیگر تحریکیوں نے یہ نظریہ کہاں سے گڑھ رکھا ہے؟! کیا یہ ایرانی خمینی انقلاب جیسی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جس کی تمنا اور خواہش کرتے کرتے ابو الاعلی مودودی دنیا سے رخصت ہو گئے؟!
یہ ایک کتابچہ ہے، اس کا نام :- '' حکومت برائی یا بھلائی کا سرچشمہ ''(سید مودودی، مکتبہ منشورات صفحہ/ 10)
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق