السبت، 20 أكتوبر 2018

ملالہ اور تمیمی: کیا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟!

🌛ملالہ اور تمیمی: کیا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟!🌜
[[گزشتہ مہینے جولائی کی 29 تاریخ کو "عہد تمیمی" نامی لڑکی کو آٹھ مہینے اسرائیلی جیل میں رکھ کر رہا کیا گیا جس کا پورے عالمی میڈیا میں شور مچا ہوا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی چینل اور بی بی سی لندن وغیرہ رافضی، تحریکی اور لبرل چینلوں سے اسے خوب پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ اردگان نے اسے خصوصی طور پر مبارکبادی دی ہے۔ اور اسے بہادری کا لقب دیا ہے۔ سارے تحریکی اسے فلسطینی بہادر لڑکی اور بنت فلسطین کا خطاب دے رہے ہیں۔ 
لہذا آئیے دیکھتے ہیں اس کے پیچھےکیا مقاصد پنہاں ہیں اور اس لڑکی کا بیک گراؤنڈ کیا ہے نیز اسے اسرائیل کے مقابلے فلسطینی ماڈل کے طور پر کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔ آخر حزب اللہی جنگجو جو سنی ممالک میں جا جا کر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور حماس و دیگر ساٹھ ہزار فلسطینی فوجی کیا کر رہے ہیں۔ غلیل، پتھر کے ساتھ نا بالغ اور بالغ لڑکیوں کو سامنے کیوں لایا جاتا ہے؟! "نحن قادمون يا قدس" کہنے والے تحریکی رافضی حماسی کہاں چھپے ہوئے ہیں؟!]] 
💥دراصل "رام اللہ" میں ایسے بہت سارے فلسطینی رہتے ہیں جو لبرل مارکسسٹ خیال کے ہیں اور کئی ایک کے پاس اسرائیلی نیشنیلٹی بھی ہوتی ہے۔ حکومتی پیمانے پر یہ اسرائیل اور شام دونوں کے طرف دار ہوتے ہیں۔ البتہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی جارحیت  کے سخت خلاف ہیں۔ انہیں میں سے یہ تمیمی خاندان بھی ہے۔ ان کا کاروبار اور رہن سہن سب کچھ اسرائیل اور یورپ جیسا ہوتا ہے۔ 
عہد تمیمی کا باپ باسم تمیمی بھی انہیں لبرل فلسطینیوں میں سے ہے جو مجرم بشار اسد، رافضی ایران اور سنیوں کا قاتل حزب الشیطان کا زبردست حامی اور مداح ہے ۔ Bassem Tamimi کے فیس پر جا کے دیکھا جا سکتا ہے۔ مزید تفصیل یہاں پر: 
https://twitter.com/hudefah986/status/943996349309247490?s=19
ایک جگہ فیس بک پر باسم نے باقاعدہ مجرم بشار کی مدد کا اعلان کیا ہے اور اسکے مخالفین کو جہادی، دہشت گرد اور کرائے کا ٹٹو کہا ہے اور انکے خلاف اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ 
⚠️انہیں میں سے یہ شخص بھی ہے جس نے اپنے بیٹے کا نام بشار اسد سے حد درجہ محبت کی وجہ سے اسکا نام بھی بشار اسد رکھا ہے۔ اور اس بے شرم نے یہاں تک کہا ہے کہ یہ میرے لئے بڑے شرف کی بات ہے: 
https://www.annahar.com/article/651565-أطلق-على-طفله-اسم-هذا-الرئيس-شرف-لي-ولإبني
⚠️عہد تمیمی دراصل ایک یہودی آئیکن ہے جسے ایک لبرل دین بیزار مسلم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بالکل ملالہ یوسف زئی کی طرح 2012 سے "عہد تمیمی" (اس وقت 12 سال کی تھی) کی بھی فلم بنائی جا رہی ہے۔ جس سے عالم اسلام کو یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ دین ومذہب، مردانگی اور شرعی حجاب ونسوانی شرم وحیا کے ذریعے قبلہ اولی کی حفاظت اب نہیں کی جائے گی۔ 
⚠️2012 میں جب کہ عہد تمیمی 12 سال کی تھی اسی وقت سے اس کی ساری ویڈیوز اور فوٹوز دیکھ لیں۔ ایسا لگے گا جیسے اسے بڑی دقت سے فلمایا جا رہا ہو۔ فوٹو گرافر کمال ہوشیاری سے تصویریں بنا رہے ہیں، ویڈیو پروگرامر بڑے ہی احتیاط اور آرام سے ویڈیو بنا رہے ہیں۔ عہد تمیمی "ولن" کی طرح آگے بڑھ بڑھ کر اسرائیلی فوجیوں کو کبھی دانت کاٹتی ہے، کبھی گھونسا مارتی ہے اور کبھی گالی دیتی ہے۔ اور صیہونی یہودی فوج ایک چپ ہزار چپ پوری خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتی رہتی ہے۔ 
حالانکہ یہی وہ ظالم فوج ہے کہ جو محض شبہے کی بنیاد پر، معمولی جھڑپ اور کبھی بلا وجہ بچوں، بزرگوں اور عورتوں تک کو گولی مار دیتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ دوسرے مشتعل فلسطینی بچوں پر گولی چلانے والی اسرائیلی فوج "عہد" سے گالی اور مار کھاتے جا رہی ہے:
https://twitter.com/evoespueblo/status/1024073257195122688?s=19
⚠️الجزیرہ ویب سائٹ کی ایک رپورٹ دیکھیں جس سے اندازہ ہوگا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی بچوں کے ساتھ کیسا نا روا غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے:
((أسر أكثر من أربعمئة طفل معتقل تعيش المرارة والعذاب، تنتظر الإفراج عن أبنائها من سجون الاحتلال، ويقول والد الطفل الأسير أحمد شراكة (15 عاما) المتهم برجم جنود الاحتلال بالحجارة قرب مستوطنة بيت إيل شمالي رام الله "الواحد منا لا يعرف النوم ولا ما يصنع في غياب ابنه، ولا يعرف حاله وصحته في السجن، ولدي صغير ورموه في السجن، والله أعلم بماذا سيتهمونه".
وترى مؤسسات حقوقية أن الإفراج عن الطفلة الأسيرة ديما الواوي -التي مثلت أمام محكمة عسكرية إسرائيلية وحكم عليها بالسجن أربعة أشهر ونصف مع وقف التنفيذ- يظهر تخبط الاحتلال  في قوانينه اتجاه الأطفال الفلسطينيين وما يتعرضون له من ويلات التعذيب الجسدي، مؤكدة أن اعتقال الاحتلال للأطفال قضية إنسانية تستدعي مزيدا من الجهد لإنهاء معاناتهم بين جدران السجون الإسرائيلية.))
https://www.google.co.in/amp/www.aljazeera.net/amp/news/reportsandinterviews/2016/4/25/الأسيرة-ديما-الواوي-نظرات-تدين-الاحتلال
🔊ملالہ اور عہد دونوں کی فلم کے اندر میں نے دو فرق کا ملاحظہ واضح طور پر کیا ہے:
اول: پوری فلم میں ملالہ کے ساتھ اس کا باپ یوسف زئی ہر جگہ اور ہر سین میں دکھائی دیتا ہے جبکہ عہد کے ساتھ ہر جگہ اور ہر سین میں اسکی ماں ناریمان دکھائی دیتی ہے۔ اور جیسے کہیں کہیں ملالہ کی ماں تور پکئی دکھ جاتی ہے بالکل اسی طرح کہیں کہیں عہد کا باپ باسم تمیمی بھی دکھ جاتا ہے۔ 
دوم: ملالہ کو روایت پسند اور ایک با حجاب لڑکی کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جبکہ عہد کو حیا  باختہ دین بیزار ایک مغرب پرست لڑکی کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ 
باقی دونوں کو پورے عالم میں خوب مشہور کیا گیا۔ دونوں کی فلمی بہادری پر عالمی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اور دونوں نے پوری دنیا خصوصا یورپی ممالک کا سیر کیا۔ 
سوال: فلسطین جو کہ مکمل عالمی تعاون پر چل رہا ہے اور عہد کے تمیمی خاندان کا کوئی فرد حکومتی اہلکار بھی نہ ہے پھر مختلف اور رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس پورے خاندان کے ساتھ باسم تمیمی آخر کیسے یورپین ممالک کی سیر کرتا نظر آتا ہے؟! 
⚠️کیا عہد تمیمی ایک لبرل دین بیزار مغرب پرست لڑکی ہے؟
اسکے خاندانی بیک گراونڈ، رہن سہن اور پہناوے کو دیکھ کر ہر کوئی یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ ایک لبرل دین بیزار مغرب پرست لڑکی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اسرائیلی فوج کے سامنے کبھی وہ اپنی صرف درمیانی انگلی سامنے اشارہ کرتی ہے اور کبھی درمیانی انگلی کے ساتھ شہادت کی بھی اٹھاتی ہے اور دونوں کا مطلب آزادی بلکہ ہر چیز سے آزاد ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ حالانکہ اسرائیلی فوجیوں کے سامنے آنے پر فلسطینی اپنی شہادت کی انگلی اوپر اٹھاتے ہیں جس سے اشارہ کلمہ طیبہ کی طرف ہوتا ہے اور یہ کہ ہم دین اسلام کی خاطر آزادی چاہتے ہیں۔ اور اللہ کی خاطر شہادت کا طالب ہوں۔ 
👈جیل کے اندر عہد تمیمی کے ساتھ غیر معمولی مہمان جیسا برتاؤ کیوں؟ 
یہودی جو کہ مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں۔اسرائیل کا ہر فوجی کٹر بنیاد پرست ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا جانی دشمن ہوتا ہے۔ اپنی طرف پتھر پھینکنے، غلیل اٹھانے، معمولی بحث و تکرار اور ادنی شبہے پر فلسطینیوں کو گولی مار دیتا ہے یا گرفتار کر لیتا ہے۔ اور جنہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈالا جاتا ہے انکی حالت بالکل نا گفتہ بہ ہوتی ہے۔ جیل میں انہیں مارا ستایا اور طعنہ دیا جاتا ہے۔ بغیر مقدمہ کے سالوں سال جیل میں سڑتے رہتے ہیں۔ 
لیکن جب عہد تمیمی گرفتار ہوتی ہے تو اس کا معاملہ سب سے الگ رہتا ہے:
1- اسے وہاں شاہانہ انداز میں رکھا جاتا ہے۔ اسکی صحت اور اسکے کھانے پینے کا ہر طرح خیال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آٹھ مہینے تک اسرائیلی جیل میں رہ کر بھی تندرست و توانا اور پہلے کے مقابلے زیادہ وزنی ہوکر واپس آتی ہے۔ جیل جانے سے پہلے اور رہائی کے وقت کی تصویریں اور ویڈیوز دیکھ کر اس کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ 
اس کے بر خلاف ایک تازہ مثال دیما الواوی نامی لڑکی کی ہے جسے 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا اور جیل سے نکلنے کے بعد اسے پہچانا نہیں جا رہا تھا۔ وہ کافی کمزور ہو چکی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اپنا ہوش و حواس کھو بیٹھی ہو۔ 
2- جیل میں اس کے لئے سمارٹ فون اور انٹر نٹ کی پوری سہولت رہتی ہے۔ حالانکہ عام فلسطینی قیدیوں کے بارے میں اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا پتہ لگانے کیلئے آپ اس کے ٹیوٹر اکاونٹ خصوصا فیس بک پیج پر جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ جیل سے روزانہ وہ مختلف پیغامات بھیجتی رہتی ہے۔ 
3- عہد تمیمی کی گرفتاری کا ناٹک اٹھارہ سال کی عمر میں اس وقت کیا جاتا ہے جب وہ بارہویں کلاس میں ہوتی ہے۔ اور جیل میں رہ کر پڑھائی کرتی ہے اور باقاعدہ تیاری کے ساتھ امتحان دیکر بارہویں کلاس پاس کرتی ہے۔ 
عہد تمیمی نے قانون کی پڑھائی کا عزم کیا ہے ممکن ہے اگلی گرفتاری میں اسے بھی پوری کر لے۔ 
4- رہائی کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے اور فل فوجی گاڑی اور سیکورٹی میں اسے جیل سے نکال کر اس کے علاقے "رام اللہ" لایا جاتا ہے اور باقاعدہ جشن منایا جاتا ہے۔ اسے ہائی لائٹ کیا جاتا ہے اور وہ شاہانہ طور پر گاڑی سے اترتی ہے اور سب اس کا پر جوش استقبال کرتے ہیں اور یہ سب کچھ منظم انداز میں  کیمرے کے سامنے ہوتا ہے۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...