💥اردگان کا انکار- بھکتوں کا اصرار💥
💥ایک وضاحت 💥
میں نے جب لکھا کہ اردگان منافق ہے تو بہت سارے بھکت بگڑ گئے۔ بولے: ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفارتی تعلق ختم کر گیا اور سفیر کو ملک بدر کر دیا۔ میں نے کہا: بھکتو! اس سے کیا پتہ چلتا ہے یہی نا کہ ادرگان کے اسرائیل سے اچھے تعلقات ہیں بہت سارے فیلڈز میں یہاں تک کہ سفارتی تعلقات بھی ہیں جسے ختم کرنے کی ضرورت پڑی۔ آخر دوسرے ممالک کے جب اسرائیل سے کوئی تعلق ہی نہیں تو کہاں سے تعلق توڑے؟!
بھکتو! یہ بھی سن لو کہ آخر اردگان آج کس منہ سے تعلق توڑ رہا ہے حالانکہ اس نے تو ٹرمپ سے پہلے ہی 2016 میں القدس کو اسرائیلی راجدھانی تسلیم کر لی ہے۔
اور اسی پر بس نہیں بلکہ بیت المقدس میں امریکہ سے بہت پہلے ہی ترکی کا کونسلیٹ بھی موجود ہے۔
اب آخر ایسی صورت حال میں اردگان کو منافق نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟!
اور یہ بھی سنتے جاؤ کہ اسرائیلی سفیر کو ملک سے نکالتے وقت اردگان نے اس سے کہا تھا کہ کچھ دنوں کے لئے جا رہے ہو (فکر مت کرو ۔ میرے اندھ بھکت خوش ہو جائیں گے پھر بلا لوں گا).
پڑھ لیں اس عبارت کو:
Israeli Ambassador to Ankara Eitan Naeh wasn't directly declared a “persona non grata,” but he was asked to leave Turkey “for a while.”
Read more: http://www.al-monitor.com/pulse/originals/2018/05/turkey-israel-diatribe-biting-business-at-the-same-time.html#ixzz5G1j0zPUJ
یہ ویڈیو بھی دیکھ لیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ ترکی اور قطر نے اسرائیل سے کیسا مضبوط رشتہ بنایا ہوا ہے:
https://mobile.twitter.com/Infographic_ksa/status/942378912541298689
دوسری طرف جب یہ بندہ خود کہتا ہے کہ میں کوئی خلیفہ اور امیر نہیں اور اس وقت وہ شریعت نافذ کر بھی نہیں سکتے جو (نعوذ باللہ) چودہ سو سال پرانا ہے۔ تفصیل یہاں دیکھیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1587172528062695&id=100003098884948
لیکن یہ بھکت پھر بھی زبردستی لگے ہوئے ہیں کہ نہیں تم ہی مسلمانوں کے ہیرو ہو۔ امیر المومنین ہو۔ مستقبل کے خلیفہ ہو۔ حالانکہ آنجناب خود کہہ رہے ہیں کہ ہمیں سیکولر اسٹیٹ چاہیے نہ کہ خلافت:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1720362298002302&id=340267439345135
اردگان بالکل اسی طرح خلیفہ بننے سے انکار کر رہا ہے جس طرح اس کے آئیڈیل اور رہنما مصطفی کمال نے خلیفہ بننے سے انکار کیا تھا۔ اس وقت بھی ترکی سے لے کر ہندوستان تک لوگ اسے خلیفہ بنانا چاہ رہے تھے لیکن جب اس بے چارے یہودی نژاد کا مشن ہی کچھ اور تھا تو پھر خلیفہ کیسے بن سکتا تھا؟ تفصیل کے لیے دیکھیں اس ویب سائٹ کو:
https://www.google.co.in/amp/s/raseef22.com/culture/2018/05/09/لماذا-رفض-أتاتورك-أن-يكون-خليفة-للمسلم/amp/
آج بھی وہی صورت حال ہے۔ کیوں کہ مصطفی کمال بھی اس وقت لوگوں کی نظر میں سب سے بڑا مجاہد تھا اور اسی بنیاد پر اس نے غازی کا لقب بھی حاصل کیا تھا۔
ہم یہی کہیں گے کہ مسلمان ہوش میں آ جائیں اور جھوٹوں اور سچوں میں تمییز پیدا کریں۔
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق