💥کیا اردگان القدس کے بعد حرمین کا بھی سودا کر رہے ہیں؟!💥
(گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے اردگان کی طرح منافقت میں ڈوبا ہوا کسی کو نہیں دیکھا گیا۔ ایک طرف عرب ممالک کی تباہی میں مین کردار ادا کر رہے ہیں اور دوسری طرف تباہی پر آنسو بہانے کا ہنر بھی اچھا جانتے ہیں۔)
یہ خلاصہ کیا ہے ترکی کے سابق نائب وزیر اعظم عبد اللطیف شنار نے۔ اور مزید اردگان کا اصلی چہرہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اردگان ہی اسرائیل کا سب مضبوط اور گہرا دوست ہے۔ اور القدس کو اسرائیلی راجدھانی بنانے میں اردگان ہی کا پورا پورا ہاتھ ہے۔ شنار نے 2012 میں ہی کہا تھا:
((إن إسرائيل ستعلن القدس عاصمة لها، وأن أردوغان سيساعدها في ذلك بأحداث ما عرف بـ ” الربيع العربي “، ولكنه سيدلي بتصريحات معادية لإسرائيل على الشاشات التلفزيونية وكأنه يعارض الأمر.))
ترجمہ: یقینا اسرائیل القدس کو اپنی راجدھانی کا اعلان کرنے والا ہے۔ اور اردگان عالم عرب میں فساد برپا کر کے ، جسے عرب بہاریہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس معاملے میں اسرائیل کی بھر مدد کریں گے۔ لیکن مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے دکھاوے کے طور پر ٹیلی ویژن پر آکر اسرائیل کے خلاف خوب بیان دیں گے۔
💥شنار نے یہ بھی تاکید سے کہا کہ اس کھیل میں خلیجی اخوانیوں کا زبردست استعمال کیا جا رہا ہے تا کہ اردگان کو اسلامی دنیا کا ہیرو بنا کر پیش کیا جائے۔ اور اردگان اپنا حقیقی چہرہ لوگوں کے سامنے کبھی ظاہر نہیں کریں گے۔ وہ فلسطین کے ایشو میں اپنا منافقانہ کردار ادا کرتے رہیں گے اور فلسطین کی تجارت جاری رہے گی۔ لوگوں کے سامنے یہی ظاہر کریں گے کہ میں اسرائیل کا سخت مخالف ہوں۔ اور اس ایکٹنگ کو الجزیرہ جیسے صہیونی چینلز خوب بڑھا چڑھا کر دکھائیں گے کہ اس وقت مقدسات کی حفاظت کرنے والا صرف ترکی ہے۔ اور اسرائیلی سفیر کو بھگا کر ڈرامہ بھی کیا جاتا رہے گا۔
حالانکہ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی کہ 2016 ہی میں اردگان نے القدس کو اسرائیلی راجدھانی تسلیم کر لی ہے۔ اور اس کا معاہدہ لوگوں کے سامنے موجود ہے۔ اس لنک پر معاہدے کا وہ وثیقہ دیکھا جا سکتا ہے جس میں ترکی اور اسرائیل کی طرف سے دستخط کئے گئے ہیں کہ القدس اسرائیلی راجدھانی ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1425160924295963&id=396925020452897
چنانچہ اس پر اب اردگان ڈرامہ کیوں کر رہے ھیں۔ عقلمندوں کے لئے اس ڈرامے کو سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی۔ پوری رپورٹ اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://www.slaati.com/2018/05/17/p1091008.html
عبد اللطیف شنار کا ویڈیو بھی موجود ہے جس میں عالم عرب کی تباہی اور فلسطینی قضیے کی تجارت میں اردگان کا صہیونی چہرہ اجاگر کیا ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1763319997121524&id=575572929229576
💥اردگان کی دعوت پر 2008 میں اسرائیلی وزیر اعظم یاہود اولمرٹ نے ترکی کا سرکاری دورہ کیا اور ترکی کے پارلیمنٹ میں عام خطاب کیا۔
کیا کسی دوست ملک کے علاوہ کوئی اس طرح پارلیمنٹ میں خطاب کر سکتا ہے؟
2011 میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اندر اسرائیلی ایٹمی طاقت کے بارے میں مذاکرہ ہونا تھا جسے امریکہ کے ساتھ ساتھ ترکی نے بھی انکار کر دیا تھا۔
کیا یہودیوں کے دوست کے علاوہ یہ حرکت کوئی کر سکتا ہے؟
2011 ہی میں ناٹو کے اندر اسرائیل کے شمولیت پر ترکی نے باقاعدہ موافقت دی تھی۔
یہ ساری تفصیلات دیکھیں اس ویب سائٹ پر:
https://www.google.co.in/amp/s/www.sasapost.com/opinion/erdogan-devils-untold-story/amp/
💥عالم اسلامی کی تباہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اردگان مزید پینترا بدلتے ہوئے کہتے ہیں:
(اگر بیت المقدس چلا گیا تو ہم مدینہ کی حفاظت نہیں کر سکیں گے اور اگر مدینہ چلا گیا تو ہم مکہ بھی کھو دیں گے۔)
ایک طرف القدس کا سودا کر کے اسرائیل کو دے دیا اب ادھر حرمین کا بھی سودا جاری ہے۔ جو یقینا رافضیوں سے کر رہا ہوگا۔ کیوں کہ اس وقت رافضی جتنے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ ہم بہت جلد حرمین پر قبضہ کرنے والے ہیں۔ اس سے پورا یقین ہو رہا ہے کہ اس بار حرمین شریفین کو خمینی نوازوں کے ساتھ مل کر خمینی کے بچوں کے حوالے ضرور کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ ویسے نہیں یہ رافضی تحریکی پورا زور یمن میں لگائے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ حرمین شریفین پر قبضہ یمن ہی سے ممکن ہے۔
آج عالم اسلامی، عالم عرب اور بالخصوص مملکت توحید کو بڑے ہی ہوش میں رہنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اردگان کی چال القدس تک صرف باقی نہیں ہے یہ حرمین شریفین تک جاری ہے۔
💥صہیونیوں کا پورا کھیل اردگان کے ذریعے کھیلا جا رہا ہے۔ اس کے لئے پڑھیں درج ذیل رپورٹ:
آج کل اردگان کو سارے تحریکی اور تقلیدی جس طرح فلسطین کا ہمددر بناکر دنیا کے سامنے پروجیکٹ کر رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے فلسطینیوں کا سارا درد انہیں کے اندر ہے ۔ یہودیوں کے سب سے بڑے دشمن یہی ہیں۔ مسجد اقصی کی سب سے زیادہ فکر انہیں کو ہے۔ اہل فلسطین کے سب سے بڑے معاون اور مددگار یہی ہیں۔ لیکن کیا واقعی سب کچھ ایسا ہی ہے یا پردے کے پیچھے ایک بھیانک دوسرا سین بھی ہے جسے مسلم دنیا کے سامنے نہیں پیش کیا جاتا؟
چنانچہ یہ ایک تاریخی تلخ حقیقت ہے کہ مشرق وسطی کے اندر روس ، چین، جاپان اور کمنسٹ رجحان کو ختم کرنے کیلئے بیسویں صدی کے نوے کی دہائی میں امریکہ کوجب لبر ل اسلام پسندوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو ان کی نظرِکرم رجب طیب اردگان پر پڑی جو اس وقت نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی کی طرف سے استنبول کے میئر تھے۔ (تحریکیوں کو معلوم ہونا چاہئیے کہ لبرل اسلام کی اصطلاح امریکی ہے جوسب سے پہلے ان کے لبرل امیر جماعت اردگان کیلئے استعمال کی گئی ہے۔ لہذا انہیں چاہئیے کہ اس حقیقت کو چھپا کر بن سلمان کے خلاف اس اصطلاح کو پھیلا کر غلط پروپیگنڈہ سے بچیں کیونکہ بن سلمان نے متوسط اسلام کی بات کہی ہے جو کہ مطلوب بھی ہے اور لبرل اسلام سے بالکل مختلف اور متضاد ہے )۔کیونکہ موجودہ حالات کے پیش نظر ملحد اور بد دین قسم کے لوگوں پر امریکہ کا اعتماد ختم ہوچکا ۔ چنانچہ ترکی میں امریکی (یہودی ) سفیر مورٹن ابرامووچ (Morton Isaac Abramowitz) نے نوے کی دہائی میں اردگان کی ملاقات امریکہ کے ایک اہم سیاست دان پال وولفووچ (Paul Wolfowitz) سے کرائی جو ورلڈ بینک کے صدر ، انڈونیسیا میں امریکی سفیر اور امریکہ کے وزارت دفاع میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ اور یہ سچ ہے کہ امریکہ جہاں ایک طرف اسرائیل کا مضبوط محافظ ہے وہیں دوسری طرف خطے میں ترکی کا بھی محافظ ہے۔ اسی لئے جب 2010ء کے بعد ترکی اور اسرائیل میں تلخی پیدا ہوئی تو2013ء میں امریکہ سے اوباما نے آکر دونوں میں صلح کرائی تھی۔
-مذکورہ تاریخی حقیقت کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ سیکولر اور ملحد ترکی میں اردگان کی لبرل سیاست در اصل صہیونی اور امریکی رحم وکرم پر پروان چڑھی ہے۔ ورنہ عدنان میندریس اور نجم الدین اربکان کی طرح آنجناب کو بھی ترک ملحد فوج نے ٹھکانے لگا دیا ہوتا۔
امریکہ میں یہودی لابی کی طرف سے آنجناب کو ہمیشہ زبردست حمایت حاصل رہی ہے۔ بلکہ 2004ء میں یہودیوں کی بہت ہی ایک اہم تنظیم امریکی یہودی کانگریس (American Jews Congress) نے ایک نادر تاریخی قدم اٹھاکر جناب اردگان کو بہادری کا تمغہ پیش کیا اور تنظیم کی طرف سے باقاعدہ یہ اعلان کیا گیا کہ امریکہ کیلئے بہترین خدمات انجام دینے ، اسرائیل کے حق میں بھلا ثابت ہونے اور عالمی پیمانے پر یہودی کمیونٹی کے تعلق سے عمدہ موقف رکھنے کی وجہ سے یہ تمغہ نوازا گیا ہے۔
مذکورہ عبارت سے واضح ہوا کہ اردگان کو باقاعدہ امریکہ واسرائیل کی خدمت اور ان کی مصلحتوں کو مشرق وسطی میں پورا کرنے کیلئے بہت پہلے سے تیار کیا جارہا ہے۔ اسرائیل نواز یہودی کیسے امریکی اہلکار سے استنبول میں اردگان سے ملاقات کراتے ہیں پھر آنجناب کو امریکہ کے یہودی بہادری کے تمغے سے نوازتے ہیں جوکہ اپنی نوعیت کا پہلا تمغہ ہے ؛ کیونکہ اس سے پہلے اور بعد میں کسی بھی مسلمان کو یہ تمغہ نہیں دیا گیا۔
--یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ترکی نے قیام اسرائیل کے پہلے ہی سے یہودیوں سے تعلقات پیدا کرکے جہاں ایک طرف یورپی اتحاد اور امریکہ سے قربت حاصل کرنا تھا وہیں دوسری طرف خلافت عثمانیہ کے روایتی آثار سے پیچھا چھڑا کر خود کو دنیا کے سامنے جدید اور سیکولر بناکر پیش کرنا تھا۔ اور یقینا یہودیوں نے ترکی کو اس کے دونوں مقصد میں کامیاب کردیا؛ چنانچہ جہاں ایک طرف یورپی اتحاد اور امریکہ سے قریب اور مسلم دنیا سے دور کر کے آپس میں دشمنی پیدا کرادی وہیں دوسری طرف اسے سیکولر اور ملحد بناکر اسلام سے کوسوں دور کردیا۔
یہ صہیونی ایجنٹ کیا مسلمانوں کا خیر خواہ کبھی ہو سکتا ہے؟
اگر کسی کو یہ بات کڑوی لگ رہی ہو تو اردگان کا صہیونی کارڈ بھی ملاحظہ کر لیں اور خود اردگان کے استاذ نجم الدین اربکان کی زبانی اردگان کا صہیونی ایجنڈے پر کام کرنے والا بیان بھی سن لیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=10215485897038572&id=1172940817
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق