💥یمن میں عرب اتحاد کی کامیابی: ایرانی اتحاد کی سیاسی موت💥
مملکت مخالف سرگرمیوں اور درپردہ رافضی حوثیوں کا ساتھ دینے کی وجہ سے جب سے تنظیمی اعتبار سے 2016 میں اخوانیوں کا پتہ مملکہ سے صاف کیا گیا اور ملکی اعتبار سے 2017 میں قطر سے تعلقات ختم کیا گیا اسی وقت سے سارے تحریکی کھل کر ایرانی ایجنٹ حوثیوں کا ساتھ دینے لگے۔ اور جہاں ایک طرف یہ سارے منافقین امت رافضیوں کے ساتھ مل کر حوثیوں کو مظلوم بنا کر مجاہدین کے روپ میں دکھا رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف عرب اتحاد کو ظالم کی شکل میں مشہور کر رہے ہیں۔ حوثیوں کی ساری ظلم کی داستان عرب اتحاد کے نام منڈھ کر خوب خوب پروپیگنڈہ کرتے ھیں۔ حالانکہ اقوام متحدہ سے لے کر سارے ممالک حوثیوں کو ظالم باغی مانتے ہیں اور عرب اتحاد کو یمنی حکومت کا مددگار۔ اور ساتھ ہی یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عرب اتحاد نے جتنے بھی علاقے ظالم حوثیوں سے پاک کیا ہے وہاں مکمل امن وسلامتی قائم ہے۔ اور ساتھ ہی تعمیر وترقی کا کام جاری ہے۔ یمن میں سعودی اتحاد کیسے اہل یمن کا تعاون کر رہا ہے پوری تفصیل اس رپورٹ میں دیکھ سکتے ہیں:
http://themwl.org/mwn/en/node/115
💥سعودی اتحاد کا ھدف دشمن رافضیوں سے یمن کو پاک کرنا اور ملک کو یمنیوں کے حوالے کرنا:
https://www.facebook.com/saotalar/videos/172238970120763/
جب کہ حوثی زیر تسلط علاقے آج تک ان ظالموں کی ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ یہ ظالم اسکولی بچوں کو فوج میں زبردستی بھرتی کرتے ہیں اور نصاب تعلیم کو بدل کر اسے رافضی اور شیعی بنا رہے ہیں۔ انہیں تعمیر وترقی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ جبکہ دوسری طرف عرب اتحاد نے جن سارے نوے فیصد علاقوں کو حوثی باغیوں کے پنجہ استبداد سے باہر نکالا ہے وہاں ہر طرح کی خوشحالی ہے۔ تعمیر وترقی کا کام جاری ہے۔ انسانی امداد اور سرکاری تمام محکمے اپنے روٹین سے کام کر رہے ہیں۔ لڑائی صرف انہیں دس فیصد علاقوں میں ہو رہی ہے جہاں حوثی باغیوں کا اب بھی قبضہ ہے۔
اس رواں مہینے میں حوثیوں کو کافی نقصان پہونچ رہا ہے۔ ایک ایک کر کے بڑے بڑے ان کے رہنما ڈھیر ہو رہے ہیں۔ ان کا سردار عبد الملک حوثی چوہوں کی طرح بھاگا بھاگا پھر رہا ہے جس کی عرب اتحاد کو شدت سے تلاش ہے۔
💥حوثیوں کے معاون و مددگار چاہے وہ رافضی ایران ہو یا قطر ۔ اب تو تحریکی ترکی بھی کھل کر سامنے آگیا ہے۔ عرب اتحاد کے خلاف یہ تینوں ملک اس وقت بری طرح حوثیوں کی مدد کرنے کے لئے پریشان ہیں۔ کیوں کہ وہ اس وقت اپنے آخری ایام گن رہے ہیں۔ عرب اتحاد کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ اب ایام الاستنزاف ختم ہوگئے ایام الحسم آگئے ہیں۔ یعنی پانی پلا پلا کر مارنے کا وقت ختم ہو گیا اب ایک ہی وار میں کام تمام کرنے کا وقت ہے۔
ابھی انہیں ایام الحسم کے دوران چند دنوں پہلے رفض وتحریکیت کی تکڑی (ایران-قطر-ترکی) نے مل کر حوثیوں کو انسانی امداد کے نام پر بھاری مقدار میں اسلحوں کی سپلائی کرنے کی شیطانی حرکت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جیسے ہی عرب اتحاد کی طرف سے شک کی بنیاد پر جانچ پڑتال کی بات کہی گئی اس میں فورا دھماکہ کر دیا گیا۔ اور بتایا گیا کہ اس جہاز میں اہل یمن کے لئے گیہوں اور غذائی اشیا تھے۔ اس خبر کو فورا الجزیرہ ٹی وی چینل نے مشہور کیا لیکن چونکہ دھماکے سے بہت سارے اسلحے بچ گئے تھے جنہیں نکال کر نمایش کیاگیا۔ اس پر اس تکڑی کی بڑی فضیحت ہوئی۔ لیکن:
من يهن يسهل الهوان عليه
وما لجرح بميت إيلام
تفصیل اس لنک پر موجود ہے:
https://m.youm7.com/story/2018/5/12/مصادر-يمنية-السفينة-التركية-المنفجرة-باليمن-كانت-محملة-بأسلحة-وذخائر/3790134
ویسے ترکی کی تاریخ رہی ہے اسلحوں کے اسمگلنگ کی، کچھ حالیہ ایام کے کرتوت اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں:
https://www.facebook.com/groups/922706214438851/permalink/1781324158577048/
اس ابلیسی کھیل کا خلاصہ کیا گیا کہ اس میں اسلحہ ایرانی تھا، پیسہ قطری تھا اور پہ پہونچانے کا ٹھیکہ ترکی کا تھا۔ اس میں سارا خسارہ قطر کا ہوا۔ اللہ ہدایت دے قطری حکام کو۔
ساتھ ہی یہ تکڑی عرب اتحاد کے خلاف ریشہ دوانیوں اور دسیسہ کاریوں کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں سے پروپیگنڈہ بھی کرتی ہے چنانچہ حال ہی ان لوگوں نے افواہ اڑایا کہ سوڈان عرب اتحاد سے نکل گیا ھے اور جلد ہی اپنی فوج یمن سے بلا لے گا۔ لیکن فورا سعودی عرب میں موجود سوڈانی سفیر اسامہ حسن سلمان نے اس پروپیگنڈے کی تردید کی اور اسے دشمن کی طرف سے اڑائی گئی افواہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا:
((إن العلاقات السعودية السودانية تمر بأفضل حالاتها، بفضل إرادة خادم الحرمين الشريفين وسمو ولي العهد الأمير محمد بن سلمان -حفظهما الله- وشقيقهما المشير عمر البشير، وهو ما جعل العلاقات السعودية السودانية متميزة اقتصادياً وسياسياً وفِي كل المجالات، مضيفاً أن "الأيام القادمة ستدحض عملياً كل الشائعات حول العلاقات السعودية السودانية المتميزة، والتي ستشهد تطوراً كبيراً".))
مفہوم: اس وقت سعودی عرب اور سوڈان کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہیں اور آئندہ مزید اچھے ہوں گے۔ ہمارے تعلقات کے تعلق سے دشمن افواہ اڑا رہے ہیں۔
مزید کہا: ((زالت قواتنا السودانية تعمل بصورة ممتازة، وتحرر المناطق تلو الأخرى، وتقدّم القوات السودانية الشهيد تلو الشهيد؛ دفاعاً عن الحرمين الشريفين، وندعو الله أن يتقبلهم، كما تتقدم قواتنا السودانية في أكثر من محور في اليمن، محررةً المناطق اليمنية بصورة ممتازة".))
مفہوم: ہماری سوڈانی فوج یمن میں اچھا کردار ادا کر رہی ہے۔ اور حرمین شریفین کی حفاظت کیلیے حوثی باغیوں سے ایک ایک کر کے سارے علاقے خالی کروا رہی ہے۔ تفصیل اس لنک پر دیکھیں:
https://mobile.sabq.org/PmYbRt?t=1526128416
💥اس کے ساتھ ساتھ یمن عوام اور عرب اتحاد کے مورال کو توڑنے کے لئے اس تکڑی نے یہ ناٹک بھی کیا ہے کہ جنوبی یمن میں سقطری نامی جزیرے میں عوام نے امارات کے خلاف بغاوت کر دی ہے اور سڑکوں پر مظاہرہ بھی کیا ہےجس کے پیچھے رافضیوں اور تحریکیوں کی سازش بتائی جا رہی ہے۔ بلکہ کچھ تحریکیوں کو اس کے لیے باقاعدہ بھاڑے پر استعمال کیا گیا ہے اور پیسہ قطر نے دیا ہے۔ تفصیل اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1517886508340118&id=100003563501036
توکل کرمان جو یمن کی سوشل ورکر ایک تحریکی سرگرم نوبیل انعام یافتہ ہے جو عرب اتحاد کے سخت خلاف ہے۔ یہ بھی اس مظاہرے میں شامل تھی۔
اور الجزیرہ ٹی وی چینل نے اس مصنوعی مظاہرے کو خوب مشہور کیا۔ دیکھیں اس رپورٹ کو:
http://www.dogruhaberarapca.com/Haber/Haber-17870.html
اماراتی وزیر خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ اخوانیوں کے سارے ناٹک پر قابو پا لیا گیا ہے:
http://www.vetogate.com/mobile/3170047
اور اب تو سعودی فوج بھی وہاں پہونچ چکی ہے۔ اور وہاں کے لوگوں نے عرب اتحاد کی تائید میں مظاہرے کا اہتمام کیا جس میں عرب اتحاد کی تعریف اور شکریہ ادا کیا اور حوثیوں اور اخوانیوں کی مذمت کی۔ دیکھیں اس ویب سائٹ کو:
https://m.alwafd.news/عالمـي/1875316-مظاهرات-في-سقطرى-اليمنية-ضد-الجزيرة-والإخوان
خلاصہ یہ کہ عرب اتحاد کو بدنام کرنے کے لئے یہ اعدائے توحید ہر ممکن سازش کر رہے ہیں لیکن اللہ انہیں ہر جگہ رسوا ہی کرتا ہے۔
💥در اصل 2011 کے اندر رافضیوں, تحریکیوں اور صہیونیوں کی سازش سے سنی عرب ممالک کے خلاف عرب فسادیہ (Arab Spring) کے نام سے جو بھیانک کھیل کھیلا گیا اور جسکی بنیاد پر کئی عرب دیشوں کو تباہ کر دیا گیا، اسکا اصلی اور آخری ٹارگیٹ مملکت توحید تھا اور 2014 آتے آتے یہ اعدائے اسلام مملکت کی سرحدوں تک پہونچ بھی چکے تھے۔
ویسے تو 2011 اور 2012 میں کویت اور بحرین کے اندر ان کی بغاوتوں کو کچل دیا گیا تھا اور یہ نہیں اندازہ تھا کہ حجاز تک پہونچنے کے لئے یمن کو یہ اللہ کے دشمن اپنا آخری راستہ بنائیں گے۔
چنانچہ ان اعدائے اسلام کے اس آخری حیلے پر کڑی ضرب لگانے کی سخت ضرورت آن پڑی تا کہ ان کے ناپاک حملوں سے بلاد حرمین شریفین ملوث نہ ہو سکے اور تمام سنی مسلمان ان کے شر وفتن سے محفوظ رہیں۔
يہ بات اب كسى سے ڈھكى چھپى نہيں ره گئى ہے كہ ايرانى ايجنٹوں اور رافضی ذاكروں كے ذريعہ تعز اور صعده كے زيدى يمنيوں كى برين واشنگ كركے انہيں سنيوں كا دشمن بنايا گيا اور نوجوانوں پر مشتمل انقلابى جماعت كى تشكيل دے كر اسے يمنى حكومت كے خلاف كهڑا كيا گيا يہاں تك كہ 2014 ميں مكمل ايرانى اور اخوانی سپورٹ كے ساتھ بغاوت كے ذريعے حكومت كا تختہ پلٹ ديا گيا اور ديكهتے ہى ديكهتے يمن كے اكثر حصوں پر باغى حوثيوں كا قبضہ ہوگيا۔ يہ تو عربوں كى حكمت عملى تهى كہ سعودى عرب كى قيادت ميں عرب اتحاد كے ذريعے 2015 ميں يمنى حكومت كى درخواست پر باغيوں كے خلاف فوجى كارروائى شروع كى گئى جو كافى حد تك كامياب رہى ۔ چنانچہ اگر يہ كارروائى نہ كى گئى ہوتى تو آج يہ لڑائى صنعاء ، حديده ، تعز اور صعده ميں نہ ہوكر سعودى اور ديگر خليجى ممالك ميں ہو رہى ہوتى۔
یمن پر قبضہ کرکے حرمین اور جزیرہ عرب کے اکثر علاقوں پر قبضہ کرنے کا خواب ایر انی اور حوثی رافضی جس طرح پوری دنیا کی نظروں کے سامنے بنائے ہوئے تھے اور یمن کے بری اور بحری تمام راستوں سے صفوی رافضی ایران جس طرح حوثی باغیوں کی مدد کر رہا تھا یہ سب دیکھ کر سنی عربوں کے ہوش اڑ گئے۔ اسے شاہ سلمان کی سیاسی بصیرت اور مدبرانہ چال کہیئے کہ آپ نے دنیا کے کسی بھی اجنبی ملک کو خبر کئے بغیر خاص خاص خلیجی اور عرب ممالک کی فوری میٹنگ بلائی اور عربوں کا ایک فوجی ایلائنس بنایا اور اس طرح اچانک یمن کے قانونی صدر ہادی منصور عبد ربہ کی دعوت پر عرب اتحادیوں کی فوج نے رافضی حوثیوں پر حملہ کردیا ۔ جسے دیکھ کر ایران ہی نہیں پوری دنیا خصوصا یورپ اور امریکہ سب حیران ہوگئے۔ اس طرح صہیونیوں کی سازش سے رافضی شیعوں اور تحریکی صوفیوں کا خلیج عرب پر قبضہ کرنے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔
چنانچہ عرب الائنس نے اپنے پہلے ہی آپریشن عاصفة الحزم (Operation Decisive Storm)کے ذریعہ صنعاءپر قبضہ کرکے حوثیوں کی تمام جنگی(بری، فضائی اور بحری) صلاحیتوں کو نیست ونابود کر دیا ۔ فضائی اور بحری راستوں سے ایرانی تمام طرح کی فوجی امداد کی ناکہ بندی کر دی گئی۔
یہ ایسا فیصلہ تھا جسے دیکھ کر تمام رافضی ایرانی اور ان کے اذناب واذیال بے آب ماہی کی طرح تڑپنے لگے۔ پہلی مار انہیں پر پڑی ہے جو اب تک تڑپ رہے ہیں۔ کیونکہ جزیرہ عرب کے اندر ان کے انقلاب کا سارا خواب چکنا چور ہوگیا۔
چنانچہ عرب سنی مسلمانوں کے اسی عظیم کارنامے نے جہاں ایک طرف رافضی فارسی ایرانیوں کی نیندیں حرام کردیں ، وہیں دوسری طرف تمام مسلمانوں کو ان کی گہری نیند سے بیدار کر دیا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل سنت مسلمانوں کو دشمنوں کی ہر سازش سے بچائے اور حرمین شریفین کی اپنی مکمل حفاظت فرمائے۔ آمین۔
(ڈاکٹر اجمل منظور)
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق