السبت، 20 أكتوبر 2018

فلسطینی لہو پر اردگانی تجارت

💔عالم اسلام کی کربناک حالت💔 
🎪اور فلسطینی لہو پر اردگانی تجارت🎪
💥تل ابیب سے القدس امریکی سفارت خانے کی منتقلی کو لے کر عالم اسلام میں بے چارگی کی کیفیت طاری ہے۔ ایسے موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے ترکی صدر اردگان نے اپنا منافقانہ کارڈ ایک بار پھر کھیل کر اپنے بھگتوں کو خوش کر دیا اور اسرائیل وامریکہ سے اپنے سفراء کو بلانے کا ناٹک کر کے فلسطینی ہمدردی کا سارا کریڈٹ اردگانی  عنتریات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ ابھی ترکی کے اندر اسرائیل کے سترویں برسی کے موقعے سے خوشی منائے ہوئے دو دن بھی نہیں گزرے ہیں۔ 
یہ بھی واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 2017 میں یہ اعلان کیا تھا کہ اب اگلے سال سے اسرائیل کی راجدھانی القدس رہے گا۔ لیکن یہ ترکی صدر اردگان اس سے ایک اور سال پہلے 2016 میں ہی اپنی بیوی کے ساتھ اسرائیل جاکر باضابطہ طور پر القدس کو اسرائیلی راجدھانی تسلیم کیا ہے۔ اور پھر صہیونیوں کے باوا آدم ہرٹزل کی قبر پر دونوں ‌میاں بیوی نے نعوذ بااللہ حاضری دیکر اس خب،ث کی قبر پر پھول چڑھایا ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ اس کربناک صورت حال کا ذمہ دار صرف ٹرمپ ہی ہے یا اس بھی بڑھ کر صہیونی ایجنٹ اردگان بھی ہے؟ 
ایسی صورت میں کیا اردگان اسرائیل سے دوسرے اسلامی ممالک کی طرح اپنے وہ سارے تعلقات ختم کرنے کی ہمت رکھتے ہیں جو بڑی مضبوطی سے درج ذیل میدانوں میں اسرائیل کے ساتھ نعوذ باللہ بنے ہوئے ہیں: 
💥سفارتی تعلقات: 
ترکی نے پہلے اسرائیل کو 28/مارچ 1949میں ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا پھر اس کے محض پانچ ہی ہفتے کے اند3/مئی 1950 میں اس وقت کے ترکی وزیر اعظم عدنان مندریس نے اپنا پہلا سفیر سیف اللہ اسین کو اسرائیل بھیج دیا۔ترکی سفارت خانہ تل ابیب کے اندر (Rehov Hayarkon 202) نامی مشہور جگہ پر واقع ہے ۔ فی الحال موجودہ ترکی سفیر (کمال اوکیم) ہیں ۔ ماضی میں درج ذیل ترکی سفراءنے اسرائیل میں سفارتی خدمات انجام دی ہیں: 
1991سے 1995تک (Onur Gökçe)، 1995 سے 1999تک (Barlas Özener)، 2003سے 2006 تک (Feridun Sinirlioglu)، 2007 سے 2009تک (Namik Tan)، 2009سے2010تک (Ahmet Oguz Çelikkol)، 2010سے 2010تک (Kerim Uras) سفارتی امور انجام دیتے رہے ہیں۔ لیکن اس کے بعد ترکی کی بحری امدادی جہاز پر اسرائیلی فورسیز کی طرف سے حملے کے بعد سفارتی تعلقات کو اے گریڈ سے کم کردیا گیا اور سفیر کو واپس بلالیا گیا لیکن پھر 2016میں سفارتی تعلقات بحال کرکے نئے سفیر کو متعین کردیا گیا۔ بیچ میں کئی ایک بار دونوں ملکوں کے درمیان تلخیاں پیدا ہوئی ہیں لیکن جلد ہی دوستی بحال ہوگئی ہے۔
💥اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات: 
ترکی اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم3/ارب امریکی ڈالر سالانہ رہا ہے لیکن آخری پانچ سالوں میں یہ حجم بڑھ کر دو گنا ہوچکا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 2002 سے پہلے یعنی اردگان کے حکومت میں آنے سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان یہ حجم چند ملین ڈالر سے زیادہ نہیں تھا لیکن اردگان کے آنے کے بعد بے تحاشہ یہ حجم بڑھکر صرف دس سالوں کے اندر پانچ ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ اور اس میں صرف اسرائیل کا فائدہ ہوا ہے کیونکہ اس بیچ اسرائیل سے ترکی نے زیادہ تر اسلحوں کا سودا کیا ہے۔ 
یکم جنوری/2002سے ترکی اور اسرائیل دونوں ملکوں کے مابین مشترکہ آزاد تجارتی معاہدہ کے تحت ٹیکس فری تجارت کا عمل جاری ہوگیا ہے۔ 
-ایک طرف اہل فلسطین کے پانی کا انحصار مکمل اسرائیل پر ہے، وہ جب چاہ لے انہیں ایک ایک بوند کیلئے تڑپا کر مار ڈالے ۔ اسی لئے بیچ میں جب کئی دفعہ اس طرح کی ابتر صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو 2013 میں امریکہ کے توسط سے فلسطین اور اسرائیل کے بیچ یہ معاہدہ طے پایا کہ حالات کیسے بھی ہوں پانی کا بحران نہیں ہونا چاہئیے۔ دوسری طرف مسلم ملک ترکی ہے کہ شام کے راستے اسرائیل کو پانی فروخت کرنے کا بڑا پلان بنا رہا ہے(جوکہ ترکی کے علاقوں میں کافی حد تک پورا بھی ہوچکا ہے) جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے: 
 اردگان کی ترقی وانصاف پارٹی کے حکومت میں آنے کے سال ہی ترکی اور اسرائیل کے مابین (مشروع أنابیب السلام) کے نام سے پانی کا معاہدہ ہواہے جس کے تحت ترکی اسرائیل کو شام کے راستے سالانہ پچاس ملین ٹن پانی سپلائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 1991میں ترکی صدر تورگوت اوزال نے کہا تھا: (جس طرح عرب پٹرول بیچتے ہیں ترکی بھی اپنا پٹرول بیچے گا یعنی پانی کو)۔ لیکن کسے بیچا جائے گا اس بات کو پوشیدہ رکھا گیا یہاں تک کہ2002میں مذکورہ معاہدے پر ترکی اور اسرائیل کے مابین دسخط کر دیئے گئے۔ 
اگر ترکی کو فلسطینیوں کی اتنی بھی فکر ہوتی جتنا میڈیا میں پرچار کیا جارہا ہے تو کم سے کم اسرائیل کو پانی فروخت کرنے کا معاہدہ نہ کیا ہوتا بلکہ وہی پانی فلسطین کو فروخت کرتا۔ ترکی کے اس موقف اور عمل پر ترکی نواز تحریکی کیا تبصرہ کریں گے؟ 
-عراقی صوبہ کردستان کے کردوں سے اسرائیل کے گہرے تعلقات ہیں ، اسی بنا پر اسرائیل ان سے پٹرول خریدتا ہے اور ترکی کے راستے سے اپنے ملک میں سپلائی کرتا ہے۔امریکہ کی سرپرستی میں اور ترکی ہی کو مہرہ بناکر اور اسی کی سرزمین کو استعمال کرکے کردستان، عراق اور شام سے عالمی مارکیٹ سے چھپ کرغیر قانونی طور پر بہت ہی معمولی قیمت پر (ایک رپورٹ کے مطابق صرف دس ڈالر فی بیرل کے حساب سے) گیس اور تیل کی اسمگلنگ کرتا ہے۔ پھر دوسرے ممالک میں منہ مانگی قیمت پر فروخت کرتا ہے۔ ترکی اگر چاہ لے تو اسرائیل کی یہ اسمگلنگ اور چوری کی کمائی بالکل بند ہو جائے۔ لیکن ترکی چاہے گا کیوں اسرائیل جو اس کا جگری دوست ٹھہرا۔ 
💥فوجی اور عسكرى تعاون:
-فروری1996 میں دونوں حکومتوں کے مابین عسکری تعاون کے معاہدے پر باقاعدہ دستخط کیا گیا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ اسٹراٹیجک ریسرچ گروپ کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ بحری اور فضائی مشترکہ مشقیں شروع کی گئیں۔ اس کے علاوہ ترکی میں موجود (امریکی انجرلیک فوجی بیس) میں اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر اپنی فوجی مشقیں کرتا رہتا ہے۔ آخر تحریکی اس وقت کہاں ہیں ترکی میں اس امریکی فوجی اڈہ کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے جبکہ انہیں تحریکیوں نے بہت پہلے سعودی میں موجود امریکی فوجی اڈے کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیا تھا اور اسی کو کفر واسلام کا مسئلہ بنا دیا تھا۔ آج وہی آڈہ تحریکی نواز قطر میں چلا گیا تو اس پر بھی زبان نہیں کھلتی بالکل اسی طرح اپنے دار الخلافہ ترکی میں بھی موجود امریکی فوجی اڈہ پر خاموش ہیں۔ 
-ترکی مسلح افواج میں باقاعدہ اسرائیلی فوجی صلاح کار موجود ہیں۔ ترکی فوجی شعبے میں اسرائیل سے مختلف انواع کے جدید اسلحوں کی خریداری کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے فضائی راستوں کو بلا اجازت کبھی بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ 
- اسرائیل اور ترکی کے بیچ سفارتی پیمانے پر کئی بار تلخی پیدا ہوئی ہے البتہ فوجی ، عسکری اور اسٹراٹیجک پیمانے پر ذرا بھی فرق نہیں آیا ہے۔ چنانچہ2009میں غزہ پر بھیانک حملے اور2010میں ترکی امدادی جہاز پر حملہ کرکے دس ترک امدادی اہل کاروں کو مار دینے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جو بھی تلخی ہوئی لیکن اسرائیلی وزیر اعظم یہود باراک نے 2010میں انقرہ کے اندر اردگان سے ملاقات کی اور اسی ملاقات کے اندر دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی اور عسکری میدان میں ساٹھ (60) معاہدے عمل میں آئے۔ 
💥سیکورٹی اور سلامتی تعاون: 
-سیکورٹی اور سلامتی کے میدان میں ترکی کا اسرائیل کے ساتھ بہت ہی اہم تعاون رہاہے ۔ اس نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر خطے میں اپنے اثر ورسوخ کو بڑھانے کیلئے امن معاہدہ کر رکھا ہے جس کی رو سے اسرائیل کے ساتھ مل کر خطے میں عراق ، شام اور کسی دوسرے ملک کے دبدبے کو ختم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی نے عراق اور شام کے اندر کبھی بھی مضبوط حکومتوں کی حمایت نہیں کی ہے بلکہ ان کے کمزور ہونے یا حکومت گر جانے ہی کی خواہش کی ہے۔ اسی طرح ترکی فوجوں نے عراق اور شام کے اندر کبھی بھی داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ نہیں کیا ہے ۔کیونکہ اصل مقصد اسرائیل کے ساتھ مل کر خطے میں تجارتی اثرورسوخ کوبڑھانا نیز داعش جیسی تنظیموں اور مختلف قسم كے باغيوں کے ذریعے گیس اور تیل کی کالا بازاری کرکے منافع کمانا ہے۔ 
-سیکورٹی اور امن وسلامتی ہی کے نام پر ترکی نے مشرقی علاقے ملاطیہ شہر (Malatya City)میں کوراجیک نامی مشہور جگہ میں ایک تنبیہی ائیر بیس (Early Warning Base)بنا رکھا ہے جس کا واحد مقصد اسرائیل کی حمایت ہے اور خطے میں اسے تمام ممالک کی خفیہ نگرانی کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس پر ترکی کو اندرون ملک اور بیرونی ممالک میں کافی نقد وجرح اور فضیحت کا سامنا کرنا پڑا ہے پھر بھی اسکی اسرائیل نوازی میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑا ہے ۔ 
-1996کے اندر پہلی مرتبہ کھل کر انقرہ اور تل ابیب کے مابین اسٹراٹیجک شراکت کا معاہدہ ہوا جس کے تحت دونوں ملکوں کے مابین مخابراتی معلومات، عسکری تعاون ، باہمی فوجی مشقوں، انٹلی جنس شیئرنگ اور دیگر کئی میدان میں مختلف امور کے اندر تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔ 
-2002میں کینیا کے اندرسے لیبر پارٹی کے کرد رہنما عبد اللہ اوجلان کو گرفتار کرنے میں اسرائیل نے ترکی حکومت کی پوری پوری مدد کی تھی۔ 
💥ہنگامی اور ايمرجنسى تعاون: 
1999 میں جب ترکی میں زبردست زلزلہ آیا تھا اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی اس موقع پر دوسرے دوست ممالک کی طرح اسرائیل نے بھی بھرپور تعاون پیش کیا تھا بلکہ اسرائیل نے باقاعدہ اپنی فوج بھیجی تھی۔ اور ساتھ ہی اسرائیل نے منہدم شدہ گھروں کی جگہ پر بہت سارے گھر اپنے خرچے پر بنوائے جنہیں بعد میں اسرائیلی گاوں سے جانا جانے لگا۔ 
اسی طرح جب گزشتہ سال 2016 میں اسرائیل کے اندر بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پانا ناممکن ہوگیا تو ترکی نے بھی اپنی دوستی کا صلہ دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا اور پوری ایک فوجی ٹکڑی بھیج دی ساتھ ہی آگ بجھانے والا جیٹ طیارہ بھی روانہ کیاجس پر اسرائیلی وزیر اعظم نے رجب طیب اردگان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ 
مذکورہ میادین اور مجالات کے علاوہ سیاحتی میدان میں بھی دونوں ملکوں کا کافی تعاون رہا ہے۔ نیز جس طرح ایک اچھے دوست اور اچھے پڑوس ملک سے تعلق رکھنا چاہئیے ترکی کا تعلق بالکل اسرائیل سے ویسے ہی ہے ۔ 
نوٹ:
اب کیا صورت میں اردگان اسرائیل سے فلسطینیوں کی ہمدردی میں مذکورہ تمام میدانوں میں تعلقات ختم کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر ایسے سنگین موقعے پر سفراء کے طلب کرنے کو ایک اور اردگانی ناٹک سے زیادہ اور کیا کہہ سکتے ہیں؟ 
(ڈاکٹر اجمل منظور)

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...