💥فلسطینیوں کا یوم النکبہ/ اسرائیل کا یوم القدس💥
🎪سپر مین لندن کی سیر پر، حماسی مجاہدین زیر زمین، ایران شام وعراق کو ہتھیانے میں مست اور عرب اتحاد کو یمن میں رافضیوں اور تحریکیوں کے ساتھ الجھا دیا گیا۔ واقعی صہیونیت نے کیا خوب کھیل کھیلا! کیا خوب استعمال کیا ان رفض وتحریکیت کے دلدادوں کو!
💥ایران کی صہیونیت نوازی آئی سامنے:
امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی مناسبت سے اسرائیل نے تاریخی یادگار کے طور پر ایک سکہ جاری کیا ہے جس میں امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ایرانی حاکم کورس کی بھی تصویر لگائی ہے جس نے یہودیوں کو قید بابل سے آزادی دلائی تھی جسے یہودی آج بھی نہیں بھولے ہیں۔ ساتھ ہی اسرائیلی حکومت کے شاہین والے (لوگو) کے ساتھ ایرانی ساسانی حکومت کا شیر والا (لوگو) بھی لگانا نہیں بھولے ہیں۔ ایران اور امریکہ سے زیادہ ان کا کوئی خیر خواہ نہیں ہے دنیا میں اس وقت۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر ایران اور اس کے سارے گریے خاموش ہیں جبکہ یہی مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔
💥آج ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی سترویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر فلسطینی ہر سال یوم النکبہ مناتے ہیں۔ اس سال چونکہ القدس کو امریکہ نے اسرائیلی دارالحکومت قرار دیا ہے، اس لئے اس احتجاجی لہر میں مزید شدت آئی ہے۔ آج لاکھوں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے تو اسرائیلی انتظامیہ نے بھی حسب روایت قتل عام شروع کردیا۔ تادم تحریر مظاہرین بھی میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کا قتل عام بھی جاری ہے۔
اب تک 45 نہتے مظاہرین شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں دو کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق شہدا میں بیشتر کی عمر 19 سے کم ہیں۔ خوفناک فائرنگ اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں 17 سو سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں،
جن میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں میں چار صحافی بھی شامل ہیں۔
القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد آج امریکہ نے اپنا سفارتخانہ بھی وہاں باقاعدہ طور پر منتقل کردیا۔ جسے فلسطینی ایک اور یوم ا لنکبہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم 2011 میں بھی بیس سے زائد مظاہرین کو شہید کیا تھا۔ حماس کا دور دور تك پتا نہیں۔۔۔۔ یہ ساری عوام ہے صرف۔۔۔۔۔اللہ رحم فرمائے ان فلسطینی عوام پر۔
💥جب یہ سارا منظر ختم ہو جائے گا تب سارے حماسی اپنے بلوں سے نکلیں گے اور ڈرامہ کریں گے۔ مشعل اور ھنیہ سب چیخیں گے ابھی ایران نے چھپا کر رکھا ہو گا ان ہیروں کو۔
اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے والا ایران سنی فلسطینی مسلمانوں کو شہید ہوتے خوب خوشی منا رہا ہے۔ عراق میں اپنے پٹھؤوں کو الیکشن جتوانے میں لگا ہے۔ اور شام کے حصے بخرے میں لگا ہوا ہے۔
حزب اللات کا سپر مین نصر الشیطان لبنان میں سیاسی جوڑ توڑ کرنے میں مشغول ہے۔ اور تحریکیوں کے اسپائیڈر مین امیر المومنین 2016 ہی میں القدس کو اسرائیلی راجدھانی تسلیم کر کے اس وقت اپنے گھر بار کے ساتھ لندن کی سیر پر ہیں۔ پڑوسی ممالک لیبیا، مصر، شام اور عراق کو تو رافضیوں اور تحریکیوں نے 2011 ہی سے کمزور کر کے رکھا ہوا ہے۔ اور 2015 سے انہیں اعدائے اسلام نے عرب ممالک کو یمن جنگ میں الجھا کے رکھا ہوا ہے۔
اب ایسی حسین فرصت میں اسرائیل کو جو مناسب ہوگا کیوں نہیں کر سکتا ہے۔
دعا ہے کہ رب العالمین فلسطینی عوام پر رحم فرما، ان کی مدد کر اور ظالم صہیونیوں کو نیست و نابود کر دے۔ آمین۔
💥اس وقت غزہ میں جہاں فلسطینی نہتے عوام کی اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپ چل رہی ہے صرف وہیں پر پچاس کے قریب جہادی تنظیمیں موجود ہیں جن میں لڑنے والوں کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے۔ اور جن کے پاس میزائل سے لیکر توپ بندوق سارے اسلحے موجود ہیں جو عالم اسلامی کے چندوں سے خریدے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ فوجی اور اسلحے حماس کے پاس ہے۔ چند بڑی تنظیموں کا ایک اجمالی خاکہ دیکھیں:
حماس:30000 جنگجو
الجهاد:14000 جنگجو
الشعبية:3000 جنگجو
الوطنية:3000 جنگجو
المقاومة:3000 جنگجو
الأقصى:4000 جنگجو
العامودي:2000 جنگجو
الصابرين:1000 جنگجو
سوال یہ ہے کہ اس سنگین موقعے پر یہ سارے منافقین کہاں چھپے ہوئے ہیں؟!
یہ خمینی اسکولوں میں پڑھنے والے بچے فلسطین کو آزاد کریں گے؟
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=581993698833994&id=100010701069669
اس وقت لندن سے سپر مین اردگان کا کھوکھلا بیان آ رہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ سے سفیر واپس بلا لیں گے۔ اس طرح کا ناٹک 2010 میں بھی ہو چکا ھے۔
کیا اردگان مکمل طور سے سفارتی، تجارتی اور عسکری تعلقات ختم کر سکتے ہیں؟ ترکی میں اسرائیلی اور امریکی اڈے کو ہٹا سکتے ہیں؟ اسلحے اور گیس کی خرید وفروخت کو بند کرنے کی ہمت کر سکتے ہیں؟ سب سے بڑی بات یہ کہ القدس کو 2016 میں اسرائیل کے لئے تسلیم شدہ راجدھانی کے معاہدے سے دست بردار ہو سکتے ہیں؟
💥دیکھیں اس حزب اللاتی سربراہ نصر الشیطان کو کتنی صراحت سے کہہ رہا ہے کہ ہم اسرائیل کے دوست ہیں اور اس کے اسی طرح حلیف ہیں جیسے شام میں بشار کے ہیں۔ یہ ہماری مصلحت ہے اب ہم اسے چھپا نہیں سکتے۔ دیکھیں اس ویڈیو میں اسی کی زبانی سنیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=213115679291664&id=179626315973934
یہ ان لوگوں کے پر زور دار تماچہ ہے جو اب بھی سمجھتے ہیں کہ فلسطین کا حقیقی دفاع کرنے والے یہی حزب اللاتی اور حماسی گروپ ہیں۔
💥ایرانی مجوسی سربراہ حماس کو صرف اپنے رافضی مقاصد کے استعمال کر رہے ہیں یہ جاننا ہے تو سنیں اس شیعہ عالم کی بات جو بڑی صراحت سے کہہ رہا ہے کہ فلسطین سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=144528899732804&id=100025270850123
💥اس وقت شام میں جنوب دمشق کے اندر مخیم الیرموک سے سنی مسلمانوں کے ساتھ فلسطینی مہاجرین کو بھی مار بھگانے اور انہیں کھدیڑنے میں ایرانی مجوسی ملیشیاؤں کے ساتھ ساتھ فلسطینی حماسی بھی سرگرم عمل ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کہ ایران حماسیوں کا استعمال خطے میں کس مقصد کے لیے کر رہا ہے۔ اسے خطے میں یہودیوں کے اتفاق کے ساتھ صرف شیعہ چاہیے باقی جائیں سارے سنی مسلمان اپنی قسمت پر روئیں۔
تفصیل دیکھیں اس ویب سائٹ پر:
https://www.alaraby.co.uk/politics/2018/4/24/تدمير-مخيم-اليرموك-خدمة-كبيرة-لإسرائيل
اس سے صاف ہو گیا کہ حماس جیسے بہت سارے فلسطینی گروپس صرف ایرانی مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
💥سعودی حکومت کی طرف سے مذمتی بیان:
سعودی عرب نے نہتے فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بحالی اور نصب العین کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک سرکاری ذریعے نے سوموار کو ایک بیان میں غزہ کی پٹی میں غیر مسلح فلسطینیوں کو فائرنگ میں ہدف بنانے پر اسرائیلی فورسز کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزارت خارجہ کے ذریعے نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے تشدد کو رکوانے اور برادر فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کرے۔وزارت خارجہ نے سعودی مملکت کی جانب سے فلسطینی نصب العین اور اقوام متحدہ کی قرارداد وں اور عرب امن اقدام کے مطابق جائز حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کی حمایت کا ا عادہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے امریکی سفارت خانے کی سوموار کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے خلاف غزہ کی پٹی میں احتجاج کرنے والے ہزاروں فلسطینیوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے۔اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے باون فلسطینی شہید اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں ۔ان کی شہادت کے بعد مارچ کے بعد سے غزہ کے سرحدی علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے جان کی بازی ہارنے والے فلسطینیوں کی تعداد نوّے سے متجاوز ہو گئی ہے۔
غزہ کے مکین اسرائیلی فوج کی چیرہ دستیوں اور گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جاری اس فلسطینی علاقے کی ناکا بندی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔
دریں اثناء فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یروشلیم ( مقبوضہ بیت المقدس ) میں امریکی سفارت خانہ کھلنے سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا اور تشدد آمیز واقعات کو مہمیز ملے گی۔ترجمان نے کہا کہ اس اقدام کے بعد امریکا اب مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل میں ثالث کار کا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔
https://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2018/05/14/سعودی-عرب-نے-نہتے-فلسطینیوں-پراسرائیلی-فورسز-کی-فائرنگ-کی-شدید-مذمت-کردی-.html
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق