🎪کیا تحریکیوں کے خلیفہ یہودیوں کے دشمن ہیں؟🎪
✍ڈاکٹر اجمل منظور
💥حالیہ دنوں میں صہیونی غاصب ریاست اسرائیل اپنی سترویں برسی منا رہا ہے۔ اردگان نے بھی اپنا اخلاقی فرض نبھاتے ہوئے ترکی راجدھانی انقرہ میں واقع یہودی سفارت خانے کے اندر یاروں کی خوشی میں خوب جشن منایا۔ لیکن برا ان بھکتوں پر جنہوں نے اس خوشی میں شرکت نہ کرکے اور اسے مشہور نہ کر کے الٹا اسے چھپانے کے لئے یہ خبر اڑا دی کہ قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے اندر صہیونی برسی منانے کے لیے سعودی سفیر نے شرکت کی۔ جس کی حکومت سعودیہ کی طرف سے تردید کرنی پڑی۔
قارئین کرام! مملکت توحید کے خلاف رافضیوں اور تحریکیوں کی طرف سے یہ پروپیگنڈہ برابر آتے رہتا ہے کہ آل سعود نے اسرائیل سے خفیہ تعلقات بنا کے رکھا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اسرائیل سے کس طرح ترکی نے ہر سطح پر اپنے تعلقات کو بنایا ہی نہیں بلکہ مضبوط سے مضبوط تر کرتا جا رہا ہے ۔ اور ماضی کے مقابلے اس وقت اس قدر مضبوط ہو گئے ہیں کہ اب تعلقات کو ختم مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
💥گزشتہ سال 6/دسمبر کو جب ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی بننے کا اعلان کیا تو ایک بار پھر اردگان کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو توڑنے کی دھمکی دی گئی۔ لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے کہ نفاق پر قائم اردگانی حکومت عوام کو صرف دھوکہ دینے کیلئے دھمکی دیتی ہے ورنہ صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات میں کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔
💥کیا ترکی اسرائیل سے اپنے تعلقات ختم کرسکتا ہے؟
میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ترکی اپنے سارے تعلقات صہیونی غاصب یہودی ریاست اسرائیل سے کبھی نہیں ختم کر سکتا ہے اسکے کچھ مضبوط وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں:
۱- ترکی اقتصادی پیمانے پر دن بدن مزید مضبوط بننے کی کوشش میں ہے تاکہ یورپی یونین میں شمولیت کیلئے راہ ہموار ہوسکے ۔ ترکی توانائی کے میدان میں خود کفیل نہیں ہے چنانچہ اسے اس میدان میں گیس وغیرہ دوسرے ممالک خصوصا روس سے در آمد کرنا پڑتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں ترکی اور اسرائیل کے مابین توانائی کے سیکٹر میں زبردست معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت آئندہ ترکی اپنا سارا گیس اسرائیل سے در آمد کرے گا ۔قریب ہونے کی وجہ سے نیز پڑوسی ہونے کی وجہ سے اسرائیل سے گیس خریدنا ترکی کیلئے سستا اور آسان (Cheap $ Best) ہوگا۔ نیز معاہدے کے تحت اسرائیل ترکی کے راستے اپنا سارا گیس یورپی ممالک میں بھی سپلائی کرے گاجس سے ترکی کرایہ بھی وصول کرے گا پھر تو اسرائیلی گیس ترکی کیلئے مزید سستا ہوگا۔ اس طرح توانائی سیکٹر میں اسرائیل ترکی کیلئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم ثابت نہیں ہوگا۔
۲- ترکی کے باڈر پر عراق ، شام اور لبنان کے اندر اسرائیل نے کرد علاحدگی پسندوں کو اسلحہ دیکر اور سیاسی سپورٹ کرکے دہشت کا ایسا ماحول بنا کر رکھا ہوا ہے کہ جن سے نپٹنے کیلئے اسرائیل سے دوستی ناگزیر ہے۔ ایک طرف اسرائیل کرد علاحدگی پسندوں کی مدد بھی کرتا ہے اور دوسری طرف ترکی کو ان سے نپٹنے کیلئے طریقے بھی بتاتا ہے۔ اس طرح یہودی ایک طرف دولت بھی کما رہے ہیں دوسری طرف ترکی کو سیاسی پیمانے پر تعلقات بھی بنانے پر مجبور کررہے ہیں۔
۳- ترک-عراق-ایران باڈر پر کردستان کے عدم قیام کیلئے اسرائیل کو ساتھ میں لینا ترکی کی مجبوری ہے۔ کیونکہ ترکی کو اس بات کا احساس ہے کہ مالی اور فوجی مدد دیکر اسرائیل کسی بھی وقت کردستان بنا سکتا ہے۔ جس کے بعد خود ترکی میں بھی کرد علاحدگی پسندوں کی سورش بڑھنے کا خطرہ شدید ہوجائیگا۔
4-مشرق وسطی بالخصوص ایران، شام اور عراق کی کشیدہ صورتحال ترکی کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی نے عراق اور شام سے ملحقہ علاقوں میں شورش سے بچاو کیلئے بڑے پیمانے پر فوجیں لگا رکھی ہیں۔اسرائیل جسے اس خطے میں شدت پسندوں سے نپٹنے کا اچھا تجربہ ہے ترکی اس سے انٹلیجنس شیئرنگ ، اسٹراٹیجک اور فوجی تعاون حاصل کرتا ہے۔ مذکورہ شعبوں میں اسرائیلی تعاون کے بغیر ترکی سیاسی ، فوجی اور اقتصادی پیمانے پر زبردست نقصان اٹھائے گا۔ یہ بھی ترکی کی ایک مجبوری ہے۔
5- عبد الحمید ثانی کے دور سے لیکر پہلی جنگ عظیم تک(دس پندرہ سالوں کے درمیان) ترکی حکومت کی طرف سے ارمن قوم کی بڑے پیمانے پر نسل کشی کی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق دس سے پندرہ لاکھ عیسائی ارمن قوم کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی کے بعد اسے دنیا کی سب سے بڑی نسل کشی (Arminian Genocide/Holocaust)مانی جاتی ہے۔یونان اور آرمینیا کے ساتھ تقریبا بیس یورپی ممالک نے مل کر ترکی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ میں متعدد بار ریزولیوشن پاس کروا چکے ہیں جس میں ترکی حکومت پر دباو ڈالا گیا ہے کہ وہ اسے ارمن قوم کے خلاف نسل کشی کے اعتراف کے ساتھ انہیں ہرجانہ ادا کرنے پر راضی ہوجائے۔ لیکن ترکی حکومت نے اسکا ہر بار سختی سے انکار کیا ہے۔ نیز اسرائیلی حکومت سے مل کریہودی لابی کے ذریعے اس کے خلاف یورپ وامریکہ کے اندر زبردست مہم چلا رکھی ہے تاکہ ترکی کے خلاف ارمن قوم اسے استعمال نہ کرسکیں جس طرح اسرائیل نے جرمنی کے خلاف یہودی ہولوکاسٹ کا جرم اعتراف کروا کر اس سے بھاری قیمت وصول کر لی ہے اور ساتھ ہی عالمی پیمانے پر جرمنی حکومت کی رسوائی بھی ہوئی ہے۔ ترکی کی یہ ایک بہت بڑی مجبوری ہے کہ اسرائیلی یہودیوں کے ذریعے ہی یہ اس عظیم گناہ سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے۔ صرف اسی ایک ایشو کو لیکر اگر یہودی لابی چاہ لے تو ترکی حکومت کا تیا پانچا کردے۔
6- تزویراتی، عسکری، مخابراتی اور ٹیکنیکی پیمانے پر اسرائیل نے ترکی کی جس طرح مدد کی ہے یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے۔ اسی بنیاد پر اسرائیل نے عراق اور سیریا کے پاس ترکی کے حدود میں آزاد فضائی بیس بنا رکھا ہے تاکہ علاقائی خصوصاً عرب ممالک پر کڑی نگرانی کرسکے۔ یہی ہوائی بیس ہے جہاں سے اسرائیل نے عراق ایران جنگ کے وقت عراق کے ایٹمی پلانٹ کو تباہ کیا تھا۔ یہ بھی ترکی کی مجبوری ہے جسے معاہدے کے تحت کبھی ختم نہیں کرسکتا جو بلا شبہ تمام مسلمانوں کے حق میں ایک بہت بڑا دھوکہ او ر انکی پیٹھ میں ترکی چھرا ہے۔
7- ترکی کے اندر یہودیوں کی جڑ بہت پرانی اور مضبوط ہے ۔ حالیہ جدید ترکی حکومت کے قیام میں انہیں کا اہم رول رہا ہے۔ صحافت کے ذریعے ترکی میں اخلاقی فساد پھیلانے میں ان کا اہم کردار ہے۔ سیاسی پیمانے پر اسلام پسندوں کے خلاف یہ ہمیشہ لام بند رہتے ہیں۔ سیاسی ، سماجی اور اقتصادی اعتبار سے یہ اتنا طاقتور ہیں کہ ترکی حکومت اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف کوئی بھی بڑا غلط فیصلہ نہیں لے سکتی۔ یہی ترک یہودی ہیں جنہوں نے فلسطین کی سرزمین پر یہودی وطن بنانے میں بھاری مدد کی تھی۔ بلکہ ترک یہودی جتنا صہیونی محافل اور تنظیموں کے ذمیدار ہوں گے شاید خود اسرائیل کے یہود بھی نہ ہوں۔
اسرائیل عظمی کے قیام کے مقاصد کو پورا کرنے میں ترکی کے اندر مشرقی اناضول کے علاقے میں ترک یہودیوں نے زمین کی خریداری اور وہاں یہودیوں کو بسانے میں بہت پہلے سے کام شروع کردیا ہے کیونکہ یہودیوں کے مزاعم کے حساب سے شمال مشرق میں ان کے عزائم یہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ سب کچھ جاننے کے باوجود ترکی حکومت ان یہودیوں کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی۔ اور یہی ترک یہودی ہیں جنہوں نے ایک طرف ترکوں کو ارمن مسیحیوں کے خلاف ابھار کر ان کی نسل کشی کرائی وہیں دوسری طرف انہیں عربوں کے خلاف ابھار کر خود مسلمانوں کے اندر آپسی دشمنی پیدا کرادی۔
تحریکیوں اور تقلیدیوں کے امیر المومنین اردگان اپنی بیوی کے ساتھ صہیونیوں کے مؤسس اعلی کی قبر پر پھول چڑھاتے ھوئے۔ کیا اب بھی ڈوب کر مرنے کا وقت نہیں آیا۔ دیکھیں ویڈیو کلپ کی لنک:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1545507405518944&id=100001790985829
👈حاصل کلام:
میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ یہودیوں کا جو دوست ہو اسے دوست سمجھا جائے اور جو انکا دشمن ہو اسے دشمن سمجھا جائے۔ صہیونی غاصب ریاست اسرائیل سے جس کے ہر سطح پر تعلقات ہوں اسے سامنے لایا جائے اور جن کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو اسکے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ بند کیا جائے۔ اہل فلسطین کے جذبات سے جو کھیلتے ہوں اور مسجد اقصی کے نام پر تجارت کرتے ہوں انہیں بے نقاب کیا جائے اور جو اہل فلسطین کے حقیقی ہمدرد ہوں اسے دنیا کے سامنے پیش کیاجائے۔ اب بھی وقت ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے مسلمانوں کو دھوکہ دینے سے باز آجائیں، ان کے ساتھ نفاق اور سازش کی پالیسی ترک کردیں اور اپنی ساری طاقت مسلمانوں کے مشترکہ دشمن (اہل کفر ، شرک اور رفض) کے خلاف استعمال کریں۔
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق