السبت، 20 أكتوبر 2018

کیا آزادی فکر شریعت پر مقدم ہے؟🎪

🎪کیا آزادی فکر شریعت پر مقدم ہے؟🎪
☠اخوانی رہنماؤں کے اقوال کی روشنی میں☠
💥آزادی فکر ودین، آزادی نسواں، آزادی اظہار رائے اور اسطرح کی تمام آزادیوں کا تصور پہلے بالکل نہیں تھا۔ دور حاضر میں مغرب کے اندر الحاد، دین دشمنی، دین بیزاری، لا دینیت، مادہ پرستی کے نام پر تمام آزادیوں کے ساتھ آزادی فکر ودین کو بھی بہت زیادہ شہرت دی گئی اور پوری دنیا میں اسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ اور آزادی اظہار رائے کے نام پر تمام ادیان بالخصوص دین اسلام کو خوب خوب بدنام کیا گیا۔ 
آج انہیں مغربی ملحدین اور مادر وپدر آزاد دین بیزاروں کی راہ پر اخوانی تحریک چل رہی ہے۔ چنانچہ اخوانیوں کے سیاسی رہنماؤں سے لیکر دینی پیشواؤں تک سبھی آزادی فکر ودین کے قائل ہیں اور ان کے یہاں انسانی آزادی ہر حال میں دین وشریعت پر مقدم ہے۔ چنانچہ اخوانی نظریے کے مطابق ہر انسان آزاد ہے: اسے اختیار ہے کہ وہ کوئی بھی دین ومذہب اختیار کرے اور جب چاہے اپنے دین وفکر کے اندر تبدیلی لائے کیوں کہ انسانی آزادی ایک مقدس شیء ہے۔ 
⁦👩‍❤‍💋‍👩⁩آئیے اسکی چند مثالیں بطور نمونہ کے دیکھتے ہیں: 
1- محمد مرسي: 
اخوانیوں کے مظلوم سیاسی رہنما محمد مرسی کہتے ہیں: 
(بالنسبة لي أو أي مواطن له حرية كاملة في تغيير ديانته أو معتقده. والمبدأ الشرعي في ذلك قوله تعالى: لا إكراه في الدين.)
ترجمہ: میں ہوں یا کوئی اور باشندہ اسے پورا اختیار ہے کہ وہ پوری آزادی سے اپنا دین ومذہب تبدیل کرے۔ اور اس کے لئے قانونی بنیاد اللہ کا قول لا اکراہ فی الدین ہے۔ 
2- يوسف القرضاوي: 
اخوانیوں کے دینی پیشوا یوسف قرضاوی کہتے ہیں: 
(أنا مع كل الحريات، وأنا أقدس الحرية، والحرية مقدمة على تطبيق الشريعة، ومن حق الإنسان إذا كان حرا حقيقيا أن يغير دينه.)
ترجمہ: میں ہر آزادی کے ساتھ ہوں، میں کو مقدس مانتا ہوں، اور آزادی نفاذ شریعت پر مقدم ہے، اور ہر وہ انسان جو حقیقی معنوں میں آزاد ہے اسے اپنے دین کو بدلنے کا حق حاصل ہے۔ 
3- طارق السويدان: 
کویت کے مشہور اخوانی داعی طارق سویدان کہتے ہیں: 
(أنا أقدس الحرية، وعندي الحرية قبل تطبيق الشريعة.)
ترجمہ: میں آزادی کو مقدس مانتا ہوں، اور میرے نزدیک نفاذ شریعت سے پہلے آزادی ہے۔ 
4- عدنان ابراهيم: 
مشہور فلسطینی داعی اخوانیت زدہ عدنان ابراہیم کہتا ہے: 
(الحرية مقدمة على الشريعة!! فأنا أعبد الله وأؤمن به لأنه أعطاني الحرية أن أكفر به.)
ترجمہ: آزادی شریعت پر مقدم ہے، میں الله کی عبادت کرتا ہوں اور اس پر ایمان لاتا ہوں اسی وجہ سے کہ اس نے مجھے اسی طرح اس بات کی بھی آزادی دے رکھی ہے کہ میں کفر بھی کروں یعنی مرتد ہو جاؤں۔ 
مذکورہ بالا چاروں شخصیات کے بیانات کو درج ذیل ویڈیو کلپ میں سن دیکھ سکتے ہیں: 
https://www.facebook.com/ikhwanyfact/videos/1715242951857288/
5- حسن ترابی:
حسن ترابی تحریکیوں کے یہاں بڑے مقبول ہیں۔ مجدد سے معروف ہیں۔ انکی فضیلت میں یوسف قرضاوی نے کتاب بھی لکھی ھے۔ یہی حسن ترابی کہتے ہیں: (ایک مسلمان کو یہ آزادی ہے کہ وہ کبھی بھی مرتد ہوجائے۔) (جریدة المحرر العدد: 263، في 24/2/1415هه) 
6- راشد غنوشی:
افریقہ میں اخوانیوں کے سب سے بڑے سیاسی رہنما مانے جاتے ہیں۔ یہ جناب بھی ہر طرح کی آزادی کے قائل ہیں۔ ان پر تفصیلی رپورٹ اس پوسٹ میں دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1708965032550110&id=100003098884948

💥اخوانیوں نے اپنی اس فکر کو ثابت کرنے کیلئے قرآن کی آیت (لا إكراه في الدين) کو غلط معنی میں استعمال کیا ہے۔ اور اس آیت میں تحریف کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ھے کہ ہر انسان آزاد ہے اسے کسی بھی فکر کے اختیار کرنے کی آزادی ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط سوچ ہے۔ اگر معاملہ ایسے ہی ہوتا تو پھر انبیاء کرام علیہم السلام کے بھیجنے کا مقصد ہی کچھ نہ رہ جاتا۔ 
منہج سلف کے مطابق مذکورہ آیت کا مفہوم یہ ہے دین اسلام کے اندر داخل ہونے کیلئے کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ ایک شخص  علی وجہ البصیرہ دین میں داخل ہوتا ہے اسکی حقانیت کو سمجھ کر اور یہی مطلوب بھی ہے۔ اور جو اسلام کی حقانیت کو سمجھنے کے بعد بھی اس میں داخل نہ ہو اسکی تین قسمیں ہوں گی:
اول: وہ ذمی بن کر اسلامی مملکت میں رہ رہا ہوگا۔ اور ساتھ ہی اپنے جان ومال کی حفاظت کی خاطر جزیہ بھی دے رہا ہوگا۔ فی الحال یہ صورت ناپید ہے۔ 
دوم: وہ معہود ہوگا۔ یعنی وہ گرچہ کافر ملک میں ہوگا لیکن اسلامی مملکت سے اس نے معاہدہ کر رکھا ہوگا۔ اور آج کل یہی صورت عام ہے۔ 
سوم: وہ حربی کافر ہوگا۔ یہ صورت اس وقت بہت کم ہے جیسے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان۔ 
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں اس ویب سائٹ کو؛ 
https://islamqa.info/ar/178756
💥مذکورہ آیت کی تفسیر حافظ ابن کثیر نے اس طرح کی ہے: 
((يقول تعالى : ( لا إكراه في الدين ) أي : لا تكرهوا أحدا على الدخول في دين الإسلام فإنه بين واضح جلي دلائله وبراهينه لا يحتاج إلى أن يكره أحد على الدخول فيه ، بل من هداه الله للإسلام وشرح صدره ونور بصيرته دخل فيه على بينة ، ومن أعمى الله قلبه وختم على سمعه وبصره فإنه لا يفيده الدخول في الدين مكرها مقسورا . وقد ذكروا أن سبب نزول هذه الآية في قوم من الأنصار ، وإن كان حكمها عاما .
س: مذكور في القرآن الكريم:لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [البقرة:256] فما معنى هذا؟))
💥اسی طرح علامہ ابن باز نے بھی اس آیت کی تشریح منہج سلف پر کی ہے جو آپ کے ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں: 
ج: قد ذكر أهل العلم رحمهم الله في تفسير هذه الآية ما معناه: أن هذه الآية خبر معناه: النهي، أي: لا تكرهوا على الدين الإسلامي من لم يرد الدخول فيه، فإنه قد تبين الرشد، وهو دين محمد ﷺ وأصحابه وأتباعهم بإحسان، وهو توحيد الله بعبادته وطاعة أوامره وترك نواهيه مِنَ الْغَيِّ وهو: دين أبي جهل وأشباهه من المشركين الذين يعبدون غير الله من الأصنام والأولياء والملائكة والأنبياء وغيرهم، وكان هذا قبل أن يشرع الله سبحانه الجهاد بالسيف لجميع المشركين إلا من بذل الجزية من أهل الكتاب والمجوس، وعلى هذا تكون هذه الآية خاصة لأهل الكتاب والمجوس إذا بذلوا الجزية والتزموا الصغار فإنهم لا يكرهون على الإسلام لهذه الآية الكريمة ولقوله سبحانه في سورة التوبة: قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ [التوبة: 29] فرفع سبحانه عن أهل الكتاب القتال إذا أعطوا الجزية والتزموا الصغار.
https://binbaz.org.sa/fatwas/2160/تفسير-قوله-تعالى-لا-اكراه-في-الدين-الاية

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...