السبت، 20 أكتوبر 2018

☠اردگان کئ بدست کیا ترکی میں اتاترکی دور واپس آ رہا ھے ؟

🎪تحریکیوں کے نور نظر اردگان کے بدست🎪
☠کیا ترکی میں اتاترکی دور واپس آ رہا ھے؟☠ 
💥مصطفی کمال اتاترک نے 1924 میں خلافت بنام عثمانی سلطنت کا خاتمہ کرکے لا دینی جمہوریت کو ترکی میں سختی سے نافذ کر دیا تھا۔ دینی شعار اور اسلامی امور سے اسے اس قدر نفرت تھی کہ جس بھی چیز میں دین اسلام کی خو بو دکھائی دیتی اس پر فوراً پابندی لگا دیتا۔ اذان، عربی زبان، اسلامی لباس، حجاب، دینی تعلیم، مسجد ومدارس کا قیام اور داڑھی وغیرہ پر پابندی اسی دشمنی کا نتیجہ تھا۔ دستور کے اندر 163 نامی قانون کا اضافے کر کے کھلے عام دینی اجتماعات اور تعلیمات کیلئے اکٹھا ہونے پر پابندی لگا دی۔ 
💥لیکن ابھی پچیس سال یعنی ربع صدی نہیں گزری تھی کہ عوام سے لیکر حکام تک میں دینی بیداری آنا شروع ہوگئی۔ چنانچہ ساٹھ کی دہائی میں عدنان میندریس گرچہ خود بہت ہی سیکولر تھا لیکن اسے عوام کی دینی بے چینی کا شدت سے احساس تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے صدر بنتے ہی ان بہت سارے قوانین کو ختم کر دیا جن سے دینی آزادی پر ضرب پڑتا تھا۔ جیسے کہ مساجد کا کھولنا، اذان عربی میں دینا اور دینی تعلیم حاصل کرنا وغیرہ۔ گرچہ اسے اسکی قیمت اپنی جان گنوا کر چکانی پڑی۔ 
عدنان میندریس کے بعد نجم الدین اربکان نے بھی سرکاری سطح پر ملک میں دینی بیداری کے لئے بہت کچھ کیا جسکی وجہ سے انہیں سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔ ساتھ ہی فتح اللہ گولن اور انکی تنظیم نے تو پورے ملک میں دینی مدارس کا جال پھیلا دیا خصوصا اس وقت جب کہ سابق صدر تورگوت اوزال نے 163 نامی بدنام قانون کا خاتمہ کر دیا۔ اور جس کے بعد ترکی میں دینی بیداری کے لئے اجتماعات اور کھلے عام دینی تعلیمات کی مکمل آزادی حاصل ہوگئی۔ اس طرح اکیسویں صدی کے آتے آتے ملک میں تمام قسم کی آزادیوں کے ساتھ ساتھ تقریباً مکمل طور سے دینی آزادی بھی حاصل ہوگئی۔ 
💥لیکن لادینی سیکولر ترکی میں فوج اور عدالت کا کنٹرول اس طرح سخت تھا کہ کسی سیاسی سطح پر کسی بڑی دینی تبدیلی کا لانا جوئے شیر لانے کے برابر تھا۔ اس راز کو بہادر حضرت رجب سید اردگان اور یار غار بن علی یلدرم نے اچھی طرح سمجھ لیا اور دین سے کوسوں دور انصاف وترقی کے نام پر فورا ایک کمالی کمنسٹ پارٹی کی بنیاد ڈال دی۔ اور دین ومذہب کا استعمال کرکے سادہ لوح ترکوں کو ان چالبازوں اور کمالی مکاروں نے خوب بے وقوف بنایا۔ اور چوطرفہ پیمانے پر لوگوں کی خوب تائید حاصل کی۔ اور دیکھتے دیکھتے مذکورہ شخصیات کے بنائے ہوئے دینی ماحول کا خوب فائدہ اٹھایا۔ 
اندر سے کمالی کمنسٹ اور بظاہر وقت کا رئیس المنافقین بن کر أردگان مذکورہ شخصیات کے ہاتھوں بنی بنائی کھیتی کو بے وقوف بنا کر کاٹتا رہا۔ دین پسند عوام سمجھتے رہے کہ 2018 میں اقتدار اعلی مکمل طور سے حاصل ہو جائے گا پھر دین وشریعت کے نام پر سید أردگان ایک سے ایک کارہائے نمایاں انجام دیتے رہیں گے۔ لیکن الیکشن جیتنے کے بعد عوامی اعتماد کے بالکل خلاف جب کام ہوتے دکھائی دیئے تب عوام کو سمجھ آئی۔ 
💥بہادر نے پہلے 2016 میں یلدرم کے ساتھ مل کر ملکی بغاوت اور مصنوعی انقلاب کا ڈرامہ رچا پھر اسی کو بنیاد بنا کر اپنے سارے گولنی مخالفین میں کچھ کو سلاخوں کے پیچھے کردیا کچھ کو نوکریوں سے برخاست کر دیا جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق تقریبا دو لاکھ بتائی جاتی ہے۔ اور پھر اسی انقلاب کا بہانہ بنا کر ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔  پھر دوسرے سال 2017 میں زبردستی ایک مصنوعی ریفرنڈم کرا کے ملک میں صدارتی نظام نافذ کر دیا اور وزارت عظمی کا عہدہ ختم کر دیا۔ اسطرح مسٹر اردگان کے پاس سارے اختیارات ازخود آگئے۔ پھر اپنے تمام اثر ورسوخ اور عیاری کو بروئے کار لا کر وقت سے پہلے ہی اسی سال پچھلے مہینے میں ایمرجنسی ہی کی حالت میں الیکشن کروا دیا۔ اور اسطرح ترکی میں مسٹر اردگان ایک بار پھر کمال اتاترک کی طرح ون مین شو کی طرح نمودار ہوئے۔ 
اور حلف برداری کے وقت اتاترکی عزم وارادے کو ظاہر کرکے اپنے سارے مریدین اور بھکتوں کو ناراض کر دیا۔ 
⁦👩‍❤‍💋‍👩⁩ابھی اسی ہفتہ کی خبر ھے کہ 163 نمبر کا قانون دوبارہ لاگو ہونے جا رہا ہے جسکی اجازت مسٹر أردگان نے دے دی ھے۔ ایسی صورت میں ایک مرتبہ پھر کمالی دور واپس آنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے مرد بیمار ترکی کے اندر۔ لیکن اس مرتبہ اسلام سے دشمنی کے نام پر نہیں بلکہ خود اسلام ہی کے نام پر یہ سب کچھ کھیل کھیلا جائے گا۔ اور وقت کے رئیس المنافقین اردگان کو اب کوئی سبق بھی نہیں سکھا سکتا کیوں کہ ماضی کے تجربات سے اس نے اچھا سبق سیکھا ہے۔ اپنے بھکتوں اور مریدوں کو بے وقوف کیسے بنایا جاتا ہے اسے اسکا ہنر اچھی طرح آتا ھے۔ وہ ایک طرف اسرائیل کو دھمکی بھی دیتا ہے دوسری طرف اس سے زیادہ کوئی اسرائیل سے قریب بھی نہیں ہے۔ بیت المقدس کا قضیہ سب سے زیادہ وہ اچھالتا ہے اور امریکہ سے پہلے خود ہی اسے اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کر لیتا ھے۔ عالمی فورم پر جا کر امریکہ کو احمدی نجاد کیطرح دھمکی دیتے ہوئے بیت المقدس کو خط احمر قرار دیتا ہے اور یورپ میں جا کر خود ہی ٹرمپ سے گلے لگتا ہے۔ ایک طرف عالمی محفلوں میں چیخ چیخ کر کہتا ھے کہ اسلام ہمارے دلوں سے کوئی نکال نہیں سکتا اور دوسری طرف بے دین ملحد کمال اتاترک کو اپنا آئیڈیل ہی نہیں سمجھتا بلکہ اسکے نظریات پر عمل بھی کرتا ھے۔ اور اسکی تصویر کو اپنے دفتر میں سجا کر بھی رکھتا ہے۔ ایک طرف دوسرے مسلم ملکوں میں جاکر پردے اور شرافت کی بات کرے گا اور دوسری طرف اپنے ملک میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کو تسلیم کرتا اور جسم فروشی کرنے والی عورتیں کیلئے لائسنس جاری کرتا ہے۔ مجلسوں میں قرآن اٹھا کر اپنی مسلمانیت کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور حلف برداری کے وقت لا دینی نظریات پر عمل کرتا ھے۔ 
💥نیا اتاترکی قانون جسکا چرچا ترکی میں اس وقت زوروں پر ہے وہ 163 والا قانون ہے جسے بنیاد بنا کر دینی اجتماعات اور تعلیمات پر پابندی عائد اسی طرح ہوجائے گی جیسے مصطفی کمال اتاترک کے دور میں تھا۔ ترکی کے مشہور اخبار «زمان» اور «جمہوریت» کے حوالے سے چند تراشے آپ پڑھ سکتے ہیں: 
👈قانون مسلط على المسلمين: 
صحيفة "زمان" التابعة للمعارضة التركية، أكدت أن الرئيس التركي أعاد قانونًا مسلطًا على المسلمين كالسيف، حيث بموجبه ستُغلق أماكن اللقاءات الدينية للجماعات الدينية في تركيا بموجب المرسوم الجديد الذي أعدته حكومة رجب طيب أردوغان.
وذكرت صحيفة " جمهوريت"، التابعة للمعارضة التركية أيضا، أنه بموجب القرار ستتمتع قوات الأمن والولاة والمحافظون بصلاحية مراقبة الأماكن الدينية وغلقها، حيث تم إعداد قانون مكافحة الإرهاب وتعزيز الأمن الداخلي الذي سيظل ساريًا حتى 31 ديسمبر 2020، كما سيمنح القانون السلطات التركية، إمكانية اتخاذ كل طرف متعاقد اجراءات منافية للمسؤوليات الواردة في  الاتفاقية في حالات الحرب أو الخطر العام الذي يهدد بقاء الدولة بالقدر الذي يفرضه الوضع وبشرط عدم مخالفتها للمسؤوليات الأخرى النابعة من القانون الدولي.
👈محاربة المسلمين: 
وأوضحت الصحيفة التابعة للمعارضة التركية، أن العديد من الجماعات الدينية أعلنت عن دعمها لأردوغان في الانتخابات الرئاسية التي شهدتها تركيا  وكانت تركيا قد حظرت التجمعات الدينية للمسلمين بموجب المادة 163 بالدستور التي أضيفت في عهد أتاتورك، موضحة أن إعادة أردوغان المعروف بالزعيم الإسلامي لقانون يقيد حريات المسلمين بعدما ألغى الرئيس التركي الراحل تورغوت أوزال هذا القانون.
http://www.soutalomma.com/Article/820592/أردوغان-يحارب-المسلمين-تفاصيل-مشروع-قانون-لغلق-ومراقبة-اللقاءات-الدينية

👈أردوغان يصدم مؤيديه ويُعيد "قانون أتاتورك" لإغلاق المساجد: 
قالت مصادر تركية إن الحكومة التركية تجهز لقانون جديد ستُغلق بموجبه أماكن اللقاءات الدينية في البلاد، فيما سيكون من حق سلطات الأمن مراقبة الأشخاص والاستيلاء على أموالهم للمنفعة العامة.
ونقلت صحيفة" جمهوريت"، عن مصادر سياسية أن قانون مكافحة الإرهاب المقرر أن يظل ساريًا حتى عام 2020 سيعطي قوات الأمن والولاة والمحافظين صلاحية مراقبة الأماكن الدينية وغلقها، فيما يمثل ضربة لتوقعات مؤيدي الرئيس رجب طيب أردوغان، بعد إعادة انتخابه رئيسًا للبلاد بسلطات غير مسبوقة في تاريخ البلاد.
https://ajel.sa/international/2176041
👈اس ٹیوٹر پر ہنگامہ دیکھیں:
https://twitter.com/m_altayer/status/1017400041793818625?s=19

فیس بک پر بھی دیکھیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...