السبت، 20 أكتوبر 2018

ایک پیغام ان لوگوں کے نام جو ترکی کو مملکت توحید و سنت یعنی سعودی عرب پر فوقیت اور ترجیح دیتے ہیں

🎪ایک پیغام ان لوگوں کے نام جو ترکی کو مملکت توحید و سنت یعنی سعودی عرب پر فوقیت اور ترجیح دیتے ہیں🎪

✍تحریر : عبدالله بن صالح العبيلان( ١٤٣٧/١٠/١٤ھ)
اردو ترجمہ : محمد شاهد يار محمد سنابلى 
___________________

👈قرآن کی ان آیات پر غور کیجئے:

ارشادی باری تعالیٰ ہے:
(قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ ۚ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ ۗ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ۗ) البقرة 61
موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم لوگ بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو! اچھا شہر میں جاؤ وہاں تمہاری چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ کا غضب لے کر وہ لوٹے۔

اس آیت کے اندر چند ایک قابل غور باتیں ہیں وہ یہ کہ بنی اسرائیل کے لوگ صحرا میں تھے، ان کے اوپر بادل چھا گئے جس سے اللہ نے ان پر من و سلویٰ کا نزول فرمایا مگر وہ لوگ من و سلویٰ سے اکتا کر موسیٰ علیہ السلام سے کھانے پینے کی دوسری چیزیں طلب کر بیٹھے جیسے :
📌لہسن
📌پیاز
📌دال
📌سبزی
📌کھیرا 

👈 حالانکہ یہ ان کا غلط مطالبہ اور غلط فیصلہ تھا کیونکہ انہیں صحت بخش غذاؤں کے متعلق صحیح علم نہیں تھا۔

👈 اسی لئے موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو!

📍ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تو پھر اس شخص کے بارے میں کیا کہا جائے جو ہدایت کے بدلے گمراہی اور توحید کے بدلے شرک اور سنت کے بدلے بدعت کو ترجیح دے۔ (إغاثة اللهفان( ٣٠٩/٢ ).

👈ایک دوسری جگہ اللہ تعالی نے قوم سبا کے غلط فیصلے اور غلط ترجیح اور اس کے انجام کو اس انداز میں بیان فرمایا:
(فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ ) سبأ 19
لیکن انہوں نے پھر کہا اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کر دے چونکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اس لئے ہم نے انہیں ( گذشتہ ) افسانوں کی صورت میں کر دیا اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے بلاشبہ ہر ایک صبرو شکر کرنے والے کے لئے اس ( ماجرے ) میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔ 

📍ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان لوگوں نے تکبر اور کفران نعمت کے سبب ایسا مطالبہ کیا تھا جیسا کہ ابن عباس، مجاھد، حسن اور دوسرے مفسرین نے بیان کیا ہے۔ یعنی ان لوگوں نے صحرا و بیابان اور چٹیل میدان میں سفر کرنے کی خواہش ظاہر کی جسے طے کرنے کے لئے زاد راہ، سواریاں اور گرمی میں دشوار گزار راستوں پر چلنے کی ضرورت پڑے۔ یہاں تک کہ ان کی اس نادانی اور غلط فیصلے کے نتیجے میں اللہ تعالی نے انہیں افسانہ بنا دیا اور خوشحال اور الفت و محبت بھری زندگی گزارنے والی قوم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ۔

📜 ایک اور جگہ اللہ نے قوم ثمود کی نادانی کے متعلق ارشاد فرمایا:
(وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى)

📍 قوم ثمود کو اللہ کی طرف سے  ہدایت کی دولت ملی مگر انہوں نے  اس ہدایت جیسی نعمت کے بدلے ضلالت و گمراہی کو ترجیح دیا۔

📍ابن قیم رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ بھی ایک پوشیدہ آفت و مصیبت ہے کہ اللہ تعالی بندے کو کسی نعمت سے نوازے مگر بندہ اس نعمت سے بے رغبتی و بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کسی اور دوسری چیز کا مطالبہ کریے جسے وہ اپنی نادانی اور جہالت کی بنیاد پر پہلی نعمت سے بہتر سمجھتا اور تصور کرتا ہے لیکن اس کا رب اپنے رحم و کرم سے اسے اس نعمت سے محروم نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس کی جہالت اور اس کے غلط فیصلے کی وجہ سے اسے معذور سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب بندہ بلکل اس نعمت سے بیزار اور تنگ ہو جاتا ہے تو بالآخر اللہ تعالیٰ اس سے اس نعمت کو چھین لیتا ہے۔ پھر بندہ جب اپنی مطلوبہ چیز کو پا لیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ پہلی اور دوسری نعمت کے درمیان بہت فرق ہے تو اس وقت اسے سخت بے چینی لاحق ہوتی ہے اور اپنے فیصلے پر بہت شرمندہ ہوتا ہے اور دوبارہ پہلی نعمت کو پانے کی تمنا اور آرزو کرنے لگتا ہے .... ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ آگ مزید فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی نعمتوں سے تنگی اور بیزاری کا اظہار کرنا یہ بندے کے لئے بہت خطر ناک امر ہے کیونکہ بندہ ایسی صورت میں نعمت کو نعمت نہیں سمجھتا اور نہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور نہ اس سے خوش ہوتا ہے بلکہ اس پر ناراضگی اور شکوے ظاہر کرتا ہے، اسے اپنے لئے مصیبت سمجھتا ہے حالانکہ یہ اسے اللہ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ملی ہوئی ہوتی ہے۔ یہی حال اکثر لوگوں کا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کے دشمن ہوتے ہیں، انہیں اس کا احساس و ادراک نہیں ہوتا بلکہ اپنی نادانی و ناسمجھی کی وجہ سے وہ اللہ کی نعمتوں کو رد کرنے اور ٹھکرانے میں لگے رہتے ہیں۔ کتنی نعمتیں بندے تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں مگر بندہ انھیں ٹھکرانے اور اپنے سے دور کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح کتنی نعمتیں اس کے پاس پہنچ جاتی ہیں مگر وہ اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے انھیں ٹھکرا دیتا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے سچ کہا ہے:
(ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۙ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (التوبة 53) 
ترجمہ: یہ اس لئے کہ اللہ تعالٰی ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے جب تک کہ وہ خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں جو کہ ان کی اپنی تھی۔

( إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ [الرعد:11]
 ترجمہ : کسی قوم کی حالت اللہ تعالٰی نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے۔

👌انسان کا اپنے نفس سے بڑھ کر اللہ کی نعمت کا کوئی دشمن نہیں۔( كتاب الفوائد ١٨١)

✋ عصر حاضر میں سعودی عرب ودیگر ممالک کے تمام ائمہ اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ موجودہ دور میں زندگی کے تمام شعبوں میں توحید پر عمل کرنے اور شریعت اسلامیہ کو نافذ کرنے میں سعودی عرب کا کوئی ثانی اور ہمسر نہیں۔

👌 یہی نہیں بلکہ عرب کے سیکولر اور لبرل لوگ بھی اسی وجہ سے سعودی عرب کو قدامت پسند ملک سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ :
🔴سعودی عرب اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کو تسلیم نہیں کرتا۔ 
🔴سعودی عرب شرک و بدعات انجام دینے کی اجازت نہیں دیتا۔
🔴سعودی عرب co-education یعنی مخلوط نظام تعلیم کا قائل نہیں۔ 
🔴سعودی عرب زناکاری وفحاشی کے اڈے اور شراب خانے قائم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ 
🔴سعودی عرب میں بوقت نماز دکانیں بند کر دی جاتی ہیں۔ 
🔴سعودی عرب کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسا ایک اہم دینی شعار قائم و دائم ہے۔
🔴سعودی عرب کا نظام حکومت اور اس کا دستور آج کے اس گئے گزرے  دور میں بھی قرآن و سنت پر قائم ہے۔

👈ان سب کے باوجود آج یہ کہا جا رہا ہے کہ ترکی سعودی عرب سے بہتر ہے۔ 
❌وہ ترکی جہاں توحید کا کوئی بول بالا نہیں۔ ❌وہی ترکی جس کا نظام حکومت اور دستور سیکولر ہے جو یہود و نصاریٰ جیسی خسیس ترین قوم سے لیا گیا ہے۔

📜 اسی لئے اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
(وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ (البقرة 130)

ترجمہ: دین ابراہیمی سے وہ ہی بے رغبتی کرے گا جو محض بیوقوف ہو۔

                     والله اعلم ؛؛؛
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...