🎪کیا ترکی میں فوجی انقلاب ایک ڈرامہ تھا؟!🎪
💥ترکی کے اندر 2016 کا اردگانی ڈرامہ جسے تحریکی ناکام فوجی انقلاب کا نام دیتے ہیں۔ اگر آپ اس واقعے کی ویڈیو، تصاویر اور خبروں کو دیکھیں گے تو اسے ڈرامہ کے علاوہ کچھ نہیں کہیں گے۔ لیکن أردگان نے جو فلم دکھا دی ہے اسی کو تحریکی رٹ رہے ہیں۔ کچھ تو أردگان سے بھی آگے نکل گئے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ اس انقلاب کے پیچھے امریکہ، امارات، مصر، اسرائیل اور سعودی عرب کا ہاتھ ہے حالانکہ أردگان نے صرف اسکے پیچھے فتح اللہ گولن کا نام لیا تھا۔ کیوں اسے صرف اسی شخص سے خوف تھا، ملک میں پھیلے اسکے نیٹ ورک سے ڈر تھا جو سب اردگانی سیاست سے نفرت کرتے ہیں۔ اور أردگان نے یہ ڈرامہ رچ کر اپنے مقصد میں کامیاب بھی رہا چنانچہ ان سارے اہل کاروں کو چن چن کر جیل میں ڈلوا دیا جو گولن کے معتقدین میں سے تھے۔
🎪اور آج اس ڈرامے کی سچائی خود اردگانی پارٹی حزب العدالۃ ہی کے ایک بڑے قد آور شخصیت وزیر اعظم بن علی یلدرم نے یہ کہہ کر ظاہر کر دی ہے اور جھوٹے ناکام انقلاب کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ یہ ہم لوگوں کی طرف سے مکمل پلاننگ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ وہ کسی کی طرف سے کوئی حقیقی انقلاب نہیں تھا۔ صحافیوں نے جب مزید سوالات کئے کہ آپ لوگوں نے مزید کیا کیا پلاننگ کر رکھے ہیں جن سے خوش ہوئے یا ان سے تکلیف ہوئی؟ اس پر یلدرم نے جواب دیا کہ ہم لوگوں نے بہت سارے سنگین پلان بنائے لیکن جتنی تکلیف مجھے اس مصنوعی انقلاب سے ہوئی اور کسی سے نہیں ہوئی۔
پورے انٹرویو کو اس لنک پر سن سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2078839115708421&id=1545117079080630
مزید پوری خبر اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://www.google.co.in/amp/s/arabyoum.com/egypt/amp/5973902
💥میں نے اپنے کئی پوسٹ میں یہ ذکر کیا ہے کہ 2016 میں ترکی کے اندر فوجی انقلاب محض ایک ڈرامہ تھا۔ اور یہی حقیقت ہے کہ اردگان نے اس ڈرامے کی پوری سازش ایک منظم پلان کے تحت رچا تھا۔ یعنی فتح اللہ گولن کے تمام حامیوں کو بغاوت کے جرم میں پھنسا کر سلاخوں کے پیچھے کر دینا کیوں کہ ترکی میں أردگان کی الحادی اور میکاولی سیاست کا سب سے بڑا مخالف فتح اللہ گولن تھے۔ اور حکومت کے تمام شعبوں میں انکے حامی پائے جاتے تھے۔ اسی لئے اس منظم ڈرامے کے ذریعے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ پھر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اور پھر میمورنڈم کراکر سارے اختیارات صدر نے اپنے پاس کر لئے۔ اور حالیہ الیکشن کے بعد ترکی میں أردگان کی پوزیشن ایک مطلق العنان آمر کی ہوگئی ھے۔ اسی آمرانہ قوت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گزشتہ کل اٹھارہ ہزار سے زائد لوگوں کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔ اور آج اپنی صدارت کیلئے حلف برداری لینے جا رہے ہیں جو اپنی نوعیت میں کرسی صدارت کیلئے پوری دنیا میں انوکھا ہوگا۔ بہانہ ہے سیکولر ڈیموکریسی کا اور اختیارات ہوں گے مطلق العنان ایک آمر جیسے۔
اردگانی بھکتو! دیکھتے رہو آگے آگے کیا کرتے ہیں آپ کے پیر مغاں۔
________________________________________________________________________________________
🎪جس وقت أردگان نے یہ ڈرامہ رچا تھا اور اسکے فلم پوری دنیا کو دکھائی جا رہی تھی اس وقت بی بی سی اور الجزیرہ سے لیکر سارے کالے پیلے اخبارات اسے ایک ناکام بغاوت ہی کے طور پر دکھا رہے تھے اور أردگان کو ایک چمتکاری لیڈر کے طور پر اچھال رہے تھے ایسے موقع پر اسے ڈرامہ کہنا یا ایک اردگانی سازش کہنا کسی کیلئے آسان نہیں تھا۔ لیکن پڑھیں غیر جانبدار معتدل صحافی برادرم ایم ودود ساجد کا یہ مضمون جس میں آپ نے اسی وقت اسے ایک اردگانی بغاوت قرار دیا تھا۔ یہ مضمون فتح اللہ گولن اور أردگان پر معلومات کا خزانہ بھی ہے۔
_________________________________________
یہ ’اردوگانی‘ بغاوت ہے!
بقلم : ایم ودود ساجد
ترکی کی حالیہ ناکام بغاوت کو فوجی بغاوت کہنا اس لئے درست نہیں ہے کہ فوج کے اعلی حکام اور اس کا ایک بڑا حصہ اس میں شامل نہیں تھا۔ترکی میں پچھلی چار دہائیوں میں چار مرتبہ ہونے والی فوجی بغاوت کبھی ناکام نہیں ہوئی۔لیکن ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے پاس اس امر کا بھی کوئی پختہ حقیقی یا واقعاتی ثبوت نہیں ہے کہ اس بغاوت کے پیچھے ترکی کے خودساختہ جلاوطن مذہبی وسماجی رہنما فتح اللہ گلین کا ہاتھ ہے۔ہم محض یہ جان کر کہ فتح اللہ گلین ایک عرصہ سے امریکہ کے پینسلوانیا میں رہتے ہیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ ترکی میں ہونے والی اس بغاوت میں فتح اللہ گلین یا امریکہ کا ہاتھ تھا۔ کسی بھی نتیجہ پرپہنچنے کے لئے فتح اللہ گلین کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔
فتح اللہ گلین ایک مذہبی قائد ہیں ‘وہ1999سے امریکہ میں مقیم ہیں ‘ انہوں نے ’خدمت‘(ترکی نام ہزمت)نامی ایک عالمی فلاحی تنظیم بناکر پوری دنیا میں اس کا جال بچارکھا ہے۔یہ تنظیم امریکہ‘برطانیہ‘وسط ایشیا اور افریقہ ویوروپ ‘برصغیر ایشیا کے ممالک ہندوستان‘پاکستا ن اورسری لنکا جیسے 150ملکوں میں بڑے پیمانے پر تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہے۔اس کے بہت سے اسکول‘کالج اور کوچنگ سینٹر ہیں۔خود ترکی میں بھی اس تنظیم نے اسکول‘کالج اور یونیورسٹیاں قائم کر رکھی ہیں۔صرف ترکی میں ہی اس کی 11یونیورسٹیاں ہیں۔استنبول کی مشہور فاتح یونیورسٹی اسی تنظیم کے تحت چلتی ہے۔ان کے پیروکاروں میں اتنے متمول لوگ ہیں کہ 11میں سے زیادہ تر یونیورسٹیاں ذاتی طورپرایک ایک شخص کی بنائی ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ دنیا بھر میں مذاکرات بین المذاہب کے لئے بھی یہ تنظیم کام کرتی ہے۔یہ جماعت ترکی کے مصلح بدیع الزماں نورسی اور ہندوستان کے مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی کے اصلاحی کارناموں سے بھی متاثر ہے ۔اس تنظیم سے ترکی کے تقریباً ایک ہزار تاجر وصنعت کار وابستہ ہیں جو فتح اللہ گلین کو اپنا قائد ہی نہیں بلکہ اپنا پیرومرشد بھی مانتے ہیں۔یہی وہ تاجر ہیں جوپوری دنیا میں اس تنظیم کا صرفہ برداشت کرتے ہیں۔مگر آج نہ صرف یہ تاجر اردوگان کے عتاب کا شکار ہیں بلکہ ان کے تحت چلنے والے تمام تعلیمی وفلاحی ادارے بند کردئے گئے ہیں۔ ترکی میں ان کے چھوٹے سے چھوٹے اسکول کے معیار کا ہندوستان کی بڑی سے بڑی مسلم تنظیم کا کوئی بڑا تعلیمی ادارہ مقابلہ نہیں کرسکتا۔فتح اللہ گلین نے 35سے زائد مذہبی اور سماجی موضوعات پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ان کا دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔سیرت پر ان کی لکھی ہوئی انگریزی کتاب’’محمد‘‘بہت ہی عمدہ تصنیف ہے۔ان کی تصنیفات کے مطالعہ سے اس کی رمق بھی نہیں ملتی کہ فتح اللہ گلین کچھ سیاسی عزائم بھی رکھتے ہیں۔گلین کی ہزاروں تقریریں گوگل اور یوٹیوب پر موجود ہیں لیکن کسی ایک تقریرسے بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو سب کے لئے تعلیم اور سب سے محبت کے علاوہ اور کوئی ترغیب دی ہو۔ گوکہ ان کی تنظیم ترکی کے میڈیااور مالیاتی سیکٹر پر حاوی ہے لیکن کبھی انہوں نے سیاست میں حصہ نہیں لیا۔وہ چاہتے توکوئی سیاسی پارٹی بنالیتے یامصر کی سابق اخوان کی طرح بغیر پارٹی بینرکے اپنے حمایت یافتہ لوگوں کو الیکشن میں اتاردیتے۔ان کے لئے الیکشن جیتنا اس لئے مشکل نہیں تھا کہ ترکی کا سب سے مقبول عام روزنامہ ’زمان‘ انہی کی ملکیت ہے۔اس کی کم سے کم پچاس لاکھ کاپیاں ہر روز شائع ہوتی تھیں۔ب تو اردوگان نے اس پر پابندی لگادی ہے اور اس سے وابستہ ہر بڑے صحافی کو گرفتار کرلیا ہے۔جو ہاتھ نہیں لگا اس کے بیوی بچوں کو پکڑکربٹھالیا ہے۔اسی طرح ایک خبر رساں ایجنسی ’’جہان‘‘ہے۔اس کے تحت کئی ٹی وی چینل بھی چلتے ہیں جو ترکی کے علاوہ بھی کئی ملکوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ترکی کے چند بڑے بنکوں میں سے ایک ایشیابنک ہے جو اسلامی طرزپر چلتا ہے۔یہ بھی اسی تنظیم کی ملکیت ہے۔اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی جو جماعت برارہ راست سیاسی میدان میں نہ اترے کیا وہ ایسی حماقت کرسکتی ہے کہ کمال اتاترک کی اسلام مخالف ذریات پر مشتمل بددین فوج میں گھس پیٹھ کرکے جمہوری طورپر منتخب حکومت کے خلاف ایسی ناقص بغاوت کرادے جو خود اسی کے لئے عذاب بن جائے؟
خود فتح اللہ گلین نے اس بغاوت کے خلاف بیان جاری کرکے کہا کہ’ جمہوری طورپرمنتخب حکومت سے ہمارے کتنے ہی سخت اختلافات ہوں لیکن اسے غیر قانونی طورپرگرانے کی کوشش سراسر حرام ہے اور یہ کہ میں اس کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں‘۔فتح اللہ گلین کے تعلق سے میرا خیال ہے کہ اتنا بتانا کافی ہوگا۔اب آئیے ذر ا’امیرالمومنین‘ حضرت قبلہ رجب طیب اردوگان ‘صدر ترکی کے بارے میں کچھ ایسے حقائق کاذکر کیا جائے جنہیں عام طورپربرصغیر کے مسلمان نہیں جانتے۔زیر نظر مضمون دوسوسے زائد صفحات پر مشتمل مضامین‘رپورٹوں‘انٹرویوز‘بیانات اور خبروں کے مطالعہ کا نچوڑ ہے۔ممکن ہے کہ آج کے اس کالم میں تمام حقائق کا بیان نہ ہوسکے۔
رجب طیب اردوگان خود فتح اللہ گلین کے شاگرد اور ان کے افکار کے حامی رہے ہیں۔وہ خود کو اسلام پسند ظاہرکرکے ہی 2005میں اقتدار میں آئے تھے۔انہوں نے آنے کے بعد کچھ ایسے اقدامات کئے بھی تھے جن سے لگتا تھا کہ وہ اسلام پسند ہیں اور ترکی کی بددین فوج میں اصلاحات چاہتے ہیں۔لہذا جب وہ وزیر اعظم تھے توانہوں نے کئی درجن جنرلوں کو گرفتاربھی کرایا اور سزائیں بھی دلوائیں۔یہ صورت حال کمال اتاترک کی حامی فوج کے لئے قطعی حیرت انگیز تھی۔اسی دوران اردوگان نے ایک طرف تو مسلم دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ اسرائیل کے مخالف ہیں لیکن دوسری طرف یوروپ کا حصہ بننے کے لئے انہوں نے خود کوبعض معاملات میں معتدل اور سیکولربھی ثابت کیا۔تیسری بات جوبرصغیر میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے لیکن جسے ترکی کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ رجب طیب اردوگان نے ایک طرف تو اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے لوگوں (بڑے کاروباریوں)سے کہا کہ میں امیرالمومنین ہوں اور مجھے خمس یعنی آمدنی کا بیس فیصد ادا کرو۔اور دوسری طرف اپنے بیٹے اور دوسرے اعزاء کے ذریعہ بدعنوانی کو عروج پر پہنچادیا۔ابھی تک فتح اللہ گلین کے اخبارات اور چینل اردوگان کا ساتھ دے رہے تھے۔لہذا جب کچھ برس قبل(تاریخ معلوم نہیں)اردوگان اپنے جگری دوست اور شام کے بے گناہوں کے قاتل بشارالاسدکو ساتھ لے کر پینسلوانیا میں اپنے استاذ فتح اللہ گلین سے ملنے گئے اور ان سے کہا کہ مجھے حکمرانی کے تعلق سے کچھ نصیحت کیجئے تو فتح اللہ گلین نے جو کچھ کہا اس سے اردوگان سمجھ گئے کہ اب گلین ’’باغی‘‘ہوگئے۔گلین نے کہا کہ’’ہماری حمایت اصولوں کی بنیاد پر ہے۔عوام کی خدمت کیجئے اور بدعنوانی سے بچئے۔اگر آپ ان اصولوں سے منحرف ہوں گے تو ہم حمایت سے دست کش ہوجائیں گے۔‘‘
گلین کی تنظیم نے اردوگان کے صدارتی الیکشن میں ان کا ساتھ بھی دیااور وہ 50فیصد عوام کی حمایت سے صدر بن گئے۔لیکن اس کے بعد جب انہوں نے بدعنوانی کو مزید فروغ دیا تو گلین کے اخبارات نے ان کے کرپشن پرمبنی مضامین اور رپورٹیں شائع کرنی شروع کردیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمانی الیکشن میں اردوگان کی پارٹی کا فیصد گرگیا۔اردوگان آئین بدلنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس ایوان میں مطلوب تعدادمیں ارکان نہیں ہیں۔اردوگان نے سمجھ لیا کہ جب تک گلین طاقتور ہیں اس وقت تک بلاشرکت غیرے امیرالمومنین بننے کا ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔
ایک نکتہ سمجھنے کا یہ ہے کہ اردوگان ترکی کے 11 سال تک (یعنی دومرتبہ) وزیر اعظم رہے۔اس دوران انہی کانام زبان زد عام وخاص رہا۔جب کہ اس وقت کے صدر عبداللہ گل بھی مرتبہ اور مقبولیت میں ان سے کچھ کم نہ تھے۔مگر اقتدار پر گرفت اردوگان کی ہی مضبوط رہی۔ترکی کے آئین کے مطابق کوئی ایک شخص تیسری مدت کے لئے وزیر اعظم نہیں بن سکتا لہذاانہوں نے فتح اللہ گلین سے حمایت طلب کرکے صدارتی الیکشن لڑا اور جیت گئے۔اب ترکی کا وزیر اعظم کون ہے شاید زیادہ لوگوں کو اس کا علم نہ ہو۔ایک بہت ہی نامانوس سا نام ‘بن علی یلدرم۔لہذا جب وہ خود وزیر اعظم تھے تو ترکی کے صدر کو لوگ نہیں جانتے تھے آج جب وہ خود صدر ہیں تو ترکی کے وزیر اعظم کو کوئی نہیں جانتا۔کیا یہ اس امر کا اشاریہ نہیں ہے کہ اردوگان ہر حال میں اقتدار پر خود ہی حاوی وقابض رہنا چاہتے ہیں اور یہ کہ وہ طبعاً آمر مطلق ہیں؟ان کے اس مزاج کا ایک بڑا‘کھلا اور بدیہی ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بغاوت کی ناکامی کے 24گھنٹے کے اندر اندرہزاروں ڈاکٹروں‘انجینئروں‘ٹیچروں‘وکیلوں‘پولس اور فوجیوں اور بڑے کاروباریوں کو گرفتار کرالیا۔آج تک کی تاریخ کی تفصیل یہ ہے: 72078افراد کو نوکری سے نکال دیاگیا۔18510کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا گیا۔9949کو گرفتار کرلیاگیا۔1058اسکول‘کالج اور یونیورسٹیوں کو بند کردیاگیا۔1229تنظیموں کو کالعدم قرار دیدیا گیا۔35ہسپتالوں کو بند کردیا گیا۔150اخبارات اور چینلوں کو بند کر دیا گیااور 59صحافیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اس موضوع کے تعلق سے جیسا کہ مجھے اندیشہ تھا ابھی درجنوں نکات رہ گئے ہیں۔لیکن جواعدادوشمار آپ نے اوپر پڑھے ان کی روشنی میں ترکی کے امیرالمومنین کے ہندوستانی دوستوں سے ایک سوال ضرورکیجئے کہ فوج کی ایک ٹکڑی کی بغاوت کااسکولوں‘کالجوں‘یونیورسٹیوں‘فلاحی تنظیموں‘ہسپتالوں‘ٹیچروں اور ڈاکٹروں سے کیا تعلق ہے؟اتنی بڑی تعداد میں عوام اور خواص کوگرفتارکرکے اورفلاحی اداروں کو بند کرکے دہشت کون پھیلا رہا ہے؟پینسلوانیا میں بیٹھا ہوا استاذفتح اللہ گلین یا ترکی میں بیٹھاہواان کا شاگردرجب طیب اردوگان؟
____________________________________________
____________________________________________
🎪برادرم ایم ودود ساجد نے جب مذکورہ مضمون لکھا اور پھر 2017 میں جب أردگان نے روہنگیائی مسلمانوں کے خون کی تجارت کرنا شروع کی تو اس پر بھی ایک مضمون لکھا اسے آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1246217978857677&id=100004084594567
پھر کیا تھا اردگانی بھکتوں نے آپ کو اچھی طرح گھیرا ، خوب کھری کھری سنا ڈالی۔ گالیوں سے نوازا۔ اس پر دوبارہ آپ نے اردگانی اندھ بھکتوں کے نام ایک مضمون لکھا جو واقعی پڑھنے کے لائق ہے:
____________________________________________
💥اردوگان کے عقیدت مندوں سے---
ایم ودودساجد
میں اپنے مضامین پرتعمیری اور مدلل تنقید کو سر آنکھوں پر رکھتاہوں لیکن طوفان بدتمیزی اور بدکلامی کا جواب نہیں دیتا۔لیکن 16ستمبر کی نصف شب سے تاحال جس طرح دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزاروں احباب اور خیر خواہوں کو چند نام نہاد’ فضلاء‘ کی برہنگی‘شرانگیزی‘بداخلاقی اور سطحی جملے بازیوں سے تکلیف پہنچی اس نے مجھے جواب دینے پر مجبور کردیا۔لکھتے وقت میرے سامنے صرف اور صرف حقائق ہوتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔میں نے گزشتہ 30برسوں میں 8ہزار سے زائد مضامین لکھے ہیں اور ہر مضمون پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھا ہے۔میں اپنے ان احباب کو یقین دلاتا ہوں جنہوں نے مختلف ذرائع استعمال کرکے مجھ سے شدت جذبات کا اظہار کیا ہے کہ میں نہ پہلے کسی سے ڈرا ہوں اور نہ آئندہ کسی سے ڈروں گا۔
میں نے ظالم وجابرحکمرانوں سے خوف نہیں کھایا تو میرے شرپسندمخالف مجھے کیاڈرائیں گے۔ہاں میں بدتمیزی اور بداخلاقی کا جواب نہیں دیتا۔اس لئے کہ جب آپ اظہار رائے کرتے وقت کسی کے خلاف بازاری جملے استعمال کرتے ہیں تو آپ خود اپنی حقیقت کوظاہر کردیتے ہیں۔آپ بتادیتے ہیں کہ آپ ابھی ابھی غلاظت کے ڈھیر سے اٹھ کر آئے ہیں ۔آپ دوسروں پراپنا ظرف عیاں کردیتے ہیں اور جس طرح آپ کو دوسروں کو گالی دینے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی اسی طرح آپ گالی کھانے کو بھی تیار رہتے ہیں۔لیکن میں الحمدللہ اپنی سطح سے نیچے نہیں اتروں گااوراپنے حاسدین‘معاندین اور تخریب کار ناقدین کو ہرگز اس زبان میں جواب نہیں دوں گا۔
میرے 16ستمبرکے پوسٹ پرجن ’فضلاء اوردوسرے عاقبت نااندیش مبصرین نے مغلظات کے ڈھیر لگائے ہیں ان کی فہرست میرے قانونی مشیران نے تیار کرکے مزید تفصیلات جمع کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔وہ یہ فہرست سائبرکرائم سیل کو بھیجناچاہتے ہیں۔گوکہ میں اس کے حق میں نہیں ہوں لیکن مجھے فون اور دوسرے ذرائع سے جس انداز کی دھمکیاں دی گئی ہیں ان کے پیش نظر میرے مشیران اسے ضروری سمجھتے ہیں۔میں اپنے ان احباب کاہزار بار شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے شرپسندوں کو مہذب انداز اور الفاظ میں جوابات دئے اورگالیوں سے بھرے اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔ان کا بھی شکریہ جنہوں نے میرے موقف سے اختلاف کیا لیکن مہذب انداز میں تبصرے کئے۔واقعہ یہ ہے کہ میں نے اپنے پورے صحافتی سفر میں بارہاتنقیدوں کا سامنا کیا ہے لیکن کچھ جہلاء سمیت ان علماء وفضلاء کو مغلظات کی ایسی جھڑی لگاتے ہوئے پہلی بار دیکھا ہے۔
یہ دیکھ کر بہت دکھ ہواکہ ہمارے جن مدارس اسلامیہ نے قربانیاں دے کر ان عظیم اسلاف کوپیدا کیا جن کی بدولت آج ہم ایمان واسلام کی دولت سمیٹے ہوئے ہیں آج انہی مدارس سے یہ کھیپ چلی آرہی ہے کہ جس کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ وہ اپنے قول وفعل سے قرآنی تعلیمات کی کیسی دھجیاں اڑا رہی ہے۔مجھے اس موقع پر اپنے وقت کے جلیل القدر عالم دین حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری ؒ کا واقعہ یاد آتا ہے۔90کی دہائی کے اواخر میں ایک سیاسی واقعہ پر میں نے نئی دنیا میں ایک رپورٹ شائع کی۔اس رپورٹ میں کلیدی طورپر مولانا مرحوم کا بھی ذکر تھا۔انہوں نے اس رپورٹ پر ناگواری کا اظہار کیا اور نئی دنیا کو ایک خط لکھا۔مگر یہ دیکھ کر میرے نزدیک ان کی شخصیت اوربلند ہوگئی کہ سخت اختلاف اور ناگواری کے باوجود انہوں نے تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا۔میں نے ان کی وضاحت بھی شائع کی لیکن اپنے موقف پر قائم رہا۔اس کے بعد متعدد مرتبہ مولانا سے ملاقات ہوئی مگر مولانا نے ہر بار خلوص ومحبت کا سلوک کیا اور ہرگز ظاہر نہ ہونے دیا کہ کسی نکتہ پر ہم دونوں کے موقف میں بعد المشرقین تھا۔
میں حیرت زدہ ہوں کہ اردوگان کے چاہنے والے کیسی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ایک عام مسلمان کو بھی یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی الزام کو دلیل سے کاٹنے کی بجائے گالیاں دینے پر اترآئے۔چہ جائیکہ یہ گالیاں علماء وفضلاء دینے لگیں۔کیا نعوذ باللہ یہ لوگ اللہ کے رسول ﷺ سے بھی آگے بڑھ گئے؟کیا انہیں اللہ کا یہ حکم نظر نہیں آتا جس میں اللہ کے رسول ﷺ کو ہدایت ہے کہ وہ کفار ومشرکین کواپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور موعظت حسنہ کے ذریعہ بلائیں۔اور ان کے ساتھ بہترین طریقہ سے گفتگو کریں۔آپ کو اختلاف ہے توضرورظاہر کیجئے۔لیکن مہذب اندازاوردلیل سے کیجئے۔
میں جب رجب طیب اردوگان کے ذریعہ کردوں اور مسلمانوں پر ظلم کا موازنہ روہنگیا ئی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی سے کرتا ہوں تو اس میں برہنہ مغلظات کہاں ہیں۔آپ دلائل سے کاٹ کیجئے۔کون آپ کو روکتا ہے۔لیکن آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ آپ گالیوں پر اترآئیں اور وہ الفاظ استعمال کریں کہ جو خود آپ کی شایان شان نہیں ہیں۔کیا آپ کو آپ کے قابل احترام والدین نے دینی مدارس میں اسی لئے بھیجا تھا؟اپنے والدین کی قربانیوں کے اعتراف واحترام کا یہی طریقہ آپ کو سکھایا گیا ہے؟آخر یہ کیسی تربیت ہے کہ برسوں تک قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں سننے کے بعد آپ کا منہ شقاوت وشرپسندی کی آگ میں بجھاہوا یہ زہر اگلے؟ آپ کے نزدیک اردوگان متقی وپرہیزگارہیں تو ٹھیک ہے ‘آپ انہیں وہی مانئے لیکن آپ مجھ پر اپنا موقف تھوپنے والے کون ہیں؟میں اردوگان کے مظالم کی بنیاد پر ان کی مخالفت کروں تو سعودی ریال کا بھکاری اور آپ تمام حقائق کو جاننے کے باوجود اردوگان کے مظالم سے صرف نظر کریں تو آپ کو کس کا ایجنٹ اور بھکاری قرار دیا جائے؟کیا آپ کو ترکی کا سفارت خانہ درہم ودینار پہنچا رہا ہے؟میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے مگر آپ مفت میں ان کے لئے ذلت ورسوائی ڈھورہے ہیں۔
فتح اللہ گلین کا ذکر آتے ہی اردوگانی مافیا بس یہی رٹ لگاتا ہے کہ جو گلین امریکہ میں رہتا ہواس کا کیا اعتبار؟کیا کبھی آپ نے فرح خان کا نام سنا؟وہ ایک عرصہ تک اردو اخبارات پڑھنے والوں کا ہیرو رہا ہے۔فرح خان امریکی شہری ہے اورامریکہ میں مقیم ہے ۔وہ نہ صرف امریکی مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھاتا رہا ہے۔تو کیا فرح خان کو محض اس لئے مسترد کردیا جائے گا کہ وہ امریکہ میں رہتا ہے؟فتح اللہ گلین کو جانے بغیر لوگ اسے دہشت گرد قرار دینے لگے ہیں۔انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ 2014تک اردوگان اسی’ دہشت گرد‘ کی حمایت سے الیکشن جیتتے رہے۔
اگر 2005میں گلین نے اردوگا ن کی حمایت نہ کی ہوتی تو وہ آج آمر مطلق نہ ہوتے۔ دونوں کے درمیان استاذ شاگرد کا رشتہ ہے۔اردوگان نے گلین سے قرآن پڑھا تھا۔تاریخ کا علم نہ ہو تو تاریخ کا مطالعہ کیجئے فضلاء صاحبان !مغلظات بک کر دینی مدارس کو بدنام مت کیجئے۔ہمارے اسلاف کی قربانیوں کی توہین مت کیجئے۔اور سب سے بڑ ھ کر ہمارے نوجوانوں پر رحم کردیجئے۔آپ کے ان انتہاپسندانہ خیالات پر حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی گہری نظر ہے۔آپ جب ہندی یا رومن میں مجھے گالیاں لکھتے ہیں تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کو کوئی ’واچ‘ نہیں کر رہا ہے؟مجھے صدفیصد یقین ہے کہ دہشت گردی کے الزامات میں ماخوذ تمام مسلم نوجوان بے قصور اور بے داغ ہیں۔لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی تکلف نہیں کہ بے سوچے سمجھے بین الاقوامی معاملات پر آتشی تقریریں اور تحریریں جاری کرنے والے ان احمق فضلاء کی وجہ سے ہی ہمارے یہ نوجوان گرداب میں پھنس گئے ہیں۔مجھے آپ کی مغلظات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن آپ اپنے طرز عمل اورطرز تکلم سے سرکش افسروں کو موقع فراہم کر رہے ہیں۔میرے زیر بحث پوسٹ پر کچھ احمقوں نے مسلکی عناد نکالنے کی بھی کوشش کی لیکن دلیل سے وہ بھی کورے نکلے۔
گلین اور اردوگان کے رشتوں کی حقیقت کو سمجھے بغیرکوئی درست موقف قائم نہیں کیا جاسکتا۔اردوگان اور ان کی حکومت کی نظر میں جو فتح اللہ گلین چند برس قبل تک امن پسند مصلحین اور جدید ترکی کے معماروں میں شامل تھا وہ اب دہشت گردوں کا سرغنہ کیسے بن گیا؟اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ جب وعدہ کے مطابق اردوگان نے بدعنوانی اور سیاسی تشدد کے واقعات پر قدغن نہیں لگائی اور خود ان کا بیٹا اور دامادمسٹر 10پرسینٹ کے طورپر مشہور ہوگئے تو گلین کے وسیع الاشاعت اخباروں‘خبر رساں ایجنسیوں اور نیوز چینلوں نے ان کے خلاف مہم چلانی شروع کردی۔بس اسی سے ناراض ہوکر اردوگان نے گلین سے وابستہ صحافتی اداروں کو بند کرکے ہزاروں لوگوں کو نہ صرف بے روزگار کردیا بلکہ انہیں سلاخوں کے پیچھے بھی پہنچا دیا۔یہ کوئی زیادہ عرصہ کی بات نہیں ہے۔یہ 2014اور 15کی بات ہے۔آخر اس وقت آپ کہاں تھے؟کیوں آپ کی غیرت ایمانی اس وقت بیدار نہیں ہوئی؟اس لئے کہ آپ کو کچھ اتہ پتہ ہی نہیں ہے۔اگر گلین دہشت گرد تھے تو اردوگان نے ان سے اتنے عرصہ تک کیوں رسم وراہ رکھی؟ان سے حمایت کیوں لی اور کیوں ان کے مختلف اداروں کو پھلنے پھولنے دیا؟کیا اردوگان کے عقیدت مند اس کا جواب دے سکیں گے؟
میں نے ترکی سفارتخانے کی طرف اچھے اچھے فضلاء کوغلامی کے خطوط ہاتھوں میں لے کر بس اس وقت بھاگتے ہوئے دیکھا جب اردوگان نے پراسرار قسم کی بغاوت کو کچل دیا۔اس کے بعد کردوں اور مسلمانوں پر جو ظلم روا رکھا گیا اس پر ان فضلاء کی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔جس گلین کی50سالہ تحریک کے سبب بددین ترکی کی مسجدیں نوجوان نمازیوں سے آباد ہوگئیں وہ تو دہشت گرد اور جس اردوگان نے بددین کمال اتاترک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کو آمر مطلق بناڈالا وہ امیرالمومنین؟نعوذ باللہ من ذالک۔شرم آنی چاہئے کہ ترکی کے ان مظلوم مسلمانوں کو آج دہشت گرد قرار دے رہے ہو کل تک جن کے پروگراموں میں آپ کے قائدین شرکت کرتے نہیں تھکتے تھے اور دعوتیں اڑاتے تھے۔میں اب کسی کا نام لے کر رسوا نہیں کرنا چاہتا لیکن کیا چھوٹا کیا بڑا سب فتح اللہ گلین کی تنظیم سے مستفید ہوچکے ہیں۔جب ان کے اچھے دن تھے سب انہی کے اوصاف بیان کرتے تھے آج ان کے ستارے گردش میں ہیں تو اردوگان جیسا آمر، ان کی امیدوں کا مرکز بن گیا ہے۔
میں مدلل تنقید کا احترام واستقبال کرتا ہوں۔لیکن بدکلامی اور بداخلاقی کا روادار نہیں ہوں۔میری ٹائم لائن ان مکروفریب سے بھرے ہوئے فضلاء کے لئے نہیں ہے جنہیں اظہار رائے کی آزادی کا احترام کرنا نہ آتا ہو۔ایسے لوگ کوئی اور راستہ تلاش کریں۔میں ان کی زبان میں تو ان کا جواب نہیں دوں گا لیکن ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ضرورکی جائے گی۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ دورمسلمانوں اور اسلام پسندوں پر بہت ناز ک ہے ایسے شرپسندوں کے ساتھ کوئی رورعایت نہیں کی جائے گی۔اس لئے کہ مسلمانوں اور اسلام کو ایسے بداخلاق اور بدزبانوں سے پاک کرنا خود اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کے تحفظ کیلئے بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ ۔۔۔۔۔
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق