السبت، 20 أكتوبر 2018

صدی کی ڈیل: فلسطینیوں کے ساتھ ایک دھوکہ

🕸صدی کی ڈیل: فلسطینیوں کے ساتھ ایک دھوکہ🕸 
🔊پروپیگنڈوں اور حقائق کے سائے میں
💥یہ صدی کی ڈیل جسے فلسطینیوں کے خلاف یہودی صیہونی ریاست، رافضیت زدہ حماس، اخوانی مرسی حکومت اور اوبامہ ایڈمنسٹریشن نے مل کر اسے انجام کے مرحلے تک پہنچانے کیلئے آپس میں طے کیا تھا اور جس کیلئے اوبامہ ایڈمنسٹریشن نے حماس کو تیار کرنے کیلئے مرسی حکومت کو کافی پیسہ دیا تھا۔ لیکن اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ دونوں کی حکومت ختم ہوگئی۔ اور یہ ڈیل لٹک گئی ۔ 
⚠️ڈونالڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد پھر سے یہ ڈیل چرچا میں آئی۔ کیونکہ اس نے قطر کو شامل کرکے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی۔ لیکن رافضیوں اور تحریکیوں نے میڈیا میں یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ اس کے پیچھے سعودی عرب اور اردن کا ہاتھ ہے تاکہ اصل حقیقت پروپیگنڈوں کے بیچ چھپ کر رہ جائے اور انکی فلسطینی لہو کی تجارت کی بھنک کسی کو لگ نہ سکے۔ 
لیکن (وشهد شاهد من أهلها) کے بمصداق دشمن ہی اب گواہی دے رہا ہے کہ یہ ڈیل پکی تھی اگر سعودی عرب نے اسے نہ بگاڑا ہوتا۔ چنانچہ اس ڈیل سے بالکل محروم ہو جانے کے بعد خود اسرائیل نے بیان دے دیا ہے کہ سعودی عرب نے اس ڈیل کو پورا نہیں ہونے دیا۔ آئیں دیکھتے ہیں اسرائیل نے کیا کہا اور جسے ترکی اخبار نے چھاپا ہے: 
((قالت صحيفة “معاريف الاسرائيلية”  أن المملكة العربية السعودية قضت على آمال “صفقة القرن” الأمريكية بعد توجيهها رسالة قاسية إلى الرئيس الأمريكي دونالد ترامب.
وذكرت الصحيفة، اليوم الثلاثاء، أن الرسالة التي بعثت بها السعودية حول رفضها لـ”صفقة القرن”، التي لا تعالج ملفي القدس واللاجئين الفلسطينيين، أحبطت الرئيس الأمريكي دونالد ترامب، وقضت إكلينيكيا على “الصفقة الأمريكية”.
وأفادت الصحيفة العبرية بأن الرئيس الفلسطيني، محمود عباس (أبو مازن) والسلطة الفلسطينية ليسا الوحيدين اللذان رفضا “صفقة القرن”، إنما انضم إليهما المملكة العربية السعودية، التي اغتالت آمال الرئيس ترامب، حينما اعتقد أن الرياض حليفة واشنطن.
وكتب المحلل السياسي للصحيفة على موقعها الإلكتروني، شلومو شامير، أن هذه الرسالة السعوديةتعني نهاية “صفقة القرن”، وإن لم تكن إعلانا رسميا، لكنها على ما يبدو تمضي في هذا الطريق.
وأشار الكاتب الإسرائيلي إلى ما نشرته القناة الثانية الإسرائيلية، أول أمس، الأحد، من أن السعودية أعلنت عن رفضها لخطة السلام في الشرق الأوسط، التي لا تعالج ملفي القدس واللاجئين، وبأن الرياض تتفق مع الدول العربية التي تخشى من “صفقة.))
✏مفہوم: اسرائیلی اخبار معاریف کہتا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پاس مملکت سعودی عرب نے سخت ترین پیغام بھیج کر "صدی کی ڈیل" کے تمام آرزووں پر پانی پھیر دیا۔ اور اس ڈیل کو ختم کرنے میں فلسطینی اتھارٹی اور اسکے صدر محمود عباس نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ 
http://www.turkeyalaan.net/2018/08/صحيفة-السعودية-قضت-على-صفقة-القرن/
⚠️مزید تفصیلات اس ویب سائٹ پر دیکھیں:
http://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2018/07/23/سعودیہ-اور-مصر-نے-صدی-کی-ڈیل-کا-منصوبہ-ناکام-بنا-دیا-فلسطینی-سفیر.html
⚠️نیز اس "صدی کی ڈیل" کا مطلب، اس کی حقیقت، پس منظر، اس ڈیل کے اصل ہیرو اور اس کے مقاصد کو بالتفصیل جاننے کیلئے میرے اس مضمون کا مطالعہ کریں: 
صفقة القرن: فلسطینیوں کے خلاف صدی کا سب سے بڑا سودا۔ پس پردہ کون؟ 
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1695947797185167&id=100003098884948

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...