السبت، 20 أكتوبر 2018

ترکی الیکشن کے پس منظر میں ۔۔۔۔۔

🎪ترکی الیکشن کے پس منظر میں🎪
بلاد حرمین کو مغرب زدہ ملحد ترکی بنانے کے خواب دیکھنے والوں کے نام !🎪
💥آج ترکی میں وہ الیکشن تو اختتام پزیر ہوا جس میں چھ امیدواروں کیلئے لوگوں نے خالص مغربی طرز پر ووٹ دئیے اور جس کے بارے میں تحریکیوں کی خالص دعاؤں اور نیک خواہشات کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح متعین کوئی چھ رکنی کمیٹی ہو اور انہیں میں سے کسی ایک کو وقت کا خلیفہ چننے کا اختیار دے دیا گیا ہو اور بالآخر اردگان یعنی (عثمان) کو بالاتفاق چن لیا گیا ہو۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ تحریکی اردگان کو عمر فاروق سے کم کسی سے تشبیہ دینے پر راضی ہوں گے اور خاص طور پر عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے جن پر ان کے بڑے بڑوں نے نقد واعتراض کے تیر وتلوار چلائے ہیں۔ حالانکہ آج کے الیکشن میں گودی میڈیا کی طرح اردگانی میڈیا جب اردگان کو 55-60 فیصد ووٹ لا کر سب سے آگے بتا رہی تھی تو اس پر قوم پرست "کانگریسی" نیتا محرم اینجہ نے نفسیاتی جنگ اور جعل سازی کے ذریعے جیتنے کا الزام لگایا ہے۔ نیز کہا ہے کہ 45 فیصد سے زیادہ کی امید نہیں ہے۔ اور اپنے ورکروں کو ووٹنگ شماری سے پہلے ووٹنگ سنٹروں سے نہ ہٹنے کی ہدایت کی ہے۔ (کیوں کہ جبری ایمرجنسی اور زبردستی الیکشن میں ایک ڈکٹیٹر صدر کچھ بھی کر سکتا ہے۔)
https://www.skynewsarabia.com/amp/world/1096161-تركيا-وحصيلة-يوم-الانتخابات-قتل-ومزاعم-بخروق-وتهديدات
💥اردگان نے اپنی پارٹی کی جیت کو یقین بنانے کیلئے ہر وہ ہتھکنڈہ اپنا جو ایک شاطر ڈکٹیٹر حاکم اپنایا کرتا ہے چنانچہ جبری ایمرجنسی نافذ کر کے ہر اس آواز کو بند کرنے کی کوشش کی جس نے بھی اردگانی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ادنی کوشش کی۔ چنانچہ ایک سروے کے مطابق 189 مخالف ذرائع ابلاغ ، 62 اخبارات، 29 ٹی وی چینلز، 29 چھاپہ خانے، 19 مجلے، 14 ریڈیو اسٹیشن، 5 خبر ایجنسی کو بند کر دیا۔ 
اردگانی لن ترانیوں کا پردہ فاش کرنے والے 319 صحافیوں کو جیل میں ڈال دیا جب کہ 839 صحافی سزائے موت کے انتظار میں ہیں۔ 142 صحافی اردگانی پکڑ کے خوف سے ملک سے باہر ہیں۔ 
127 ایسے ویب سائٹس اور 94 بلاگس بند کر دیئے گئے جو اردگانی ظلم کا انکشاف کرتے تھے۔ تفصیل دیکھنے کے لئے درج ذیل لنک کو دیکھیں:
https://twitter.com/F_H_D19/status/1010959748680871937?s=19
https://al-ain.com/article/death-turkish-press-report-horrors-erdogan
https://m.youm7.com/story/2018/6/22/قبل-أيام-من-انتخابات-الرئاسة-فى-تركيا-الدكتاتور-العثمانى-يحول/3842928
گویا اردگان نے اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے میکاولی چال کے ذریعے تقریبا تمام حربوں کو استعمال کر لیا تھا۔ اب اس کارگر دوا کے ساتھ اردگانی بھکتوں کی دعاؤں نے اس پر مزید تیل ڈالنے کام کیا ہوگا۔ 
💥"کسی کی دشمنی تمہیں ظلم پر آمادہ نہ کردے۔" ایک طرف یہ قرآن کی گواہی ہے  اور دوسری طرف توحید پرستوں سے دشمنی کا یہ عالم کہ ان کے مقابلے آج ایک صوفی قبر پرست علمانیت زدہ تقلیدی تحریکی کے معجون مرکب بہروپئے کو ڈھویا جا رہا ہے اور خوب خوب اسکے لئے ڈھول بجایا جا رہا ہے۔ اور ایسے شخص کا ساتھ نہ دینے والوں کو منافق کہا جا رہا ہے۔ چنانچہ ایک تقلیدی حالیہ ترکی کے الیکشن پر خوش ہوکر کہہ رہا ہے: 
وہ دیکھ! اٹھا ترکی، بستر سے شفا پا کر
معمارِ حرم! تو بھی آزارِ بُتاں ہو جا 
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=942183125964452&id=100005183190696
💥کیا حرام چیز حلال ہو سکتی ہے؟ جی ہاں تحریکیوں کے یہاں کچھ بھی ممکن ہے۔ ان کے یہاں پہلے ووٹ دینا حرام تھا لیکن اب وہی حرام حلال ہو چکا ھے۔ پہلے ووٹ دینے سے بھاگتے تھے آج ووٹ لینے کیلئے پارٹیاں ہی نہیں بنا رہے ہیں بلکہ اسے مقدس تک قرار دے رہے ہیں۔ یہی تحریکی جو عالم اسلام کی موجودہ بادشاہی حکومتوں کو طاغوتی نظام کہتے نہیں تھکتے ہیں وہ آج مغرب کی الحادی پارلیمانی نظام کے نفاذ کیلئے دعائیں کر رہے ہیں۔ حکومت الہیہ کی قیام کی خاطر جو خلافت راشدہ سے کم پر تیار ہی نہیں ہوتے تھے آج وہ کارل مارکس کے نظریے کو گلے کا ہار بنا رہے ہیں (العدالۃ الاجتماعیۃ)۔ 
حیرت اس وقت ہوتی ہے کہ ووٹ کی تقدیس کے نام پر پاکستان میں آنے والے انتخابات کیلیے اس متحدہ مجلس عمل میں جماعت اسلامی شریک ہوکر حکومت بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے جس میں بریلیوں سے لیکر ان شیعہ ذاکروں تک پارلیمنٹ کے امیدوار ہیں جن کے شب وروز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی دینے ہی میں گزرتے ہیں۔ 
------------------------------------------------------------------
 🙋”کیا ووٹ مقدس امانت ہے“؟ 
موجودہ پارلیمانی نظام میں اگر پوری پارلیمینٹ فرشتوں سے بھر جاۓ اور منتخب ہوجانیوالا ہر ممبر فرشتہ ہو تب بھی پاکستان فلاحی ریاست نہیں بن سکے گا اور نہ عوامی مسائل حل ہوسکیں گے۔ پارلیمینٹ جن بنیادوں پر کھڑی ہے وہ ہے برٹش کالونیل سسٹم۔ برٹش کالونیل سسٹم کی بنیادیں منہدم کئے بغیر مزید ہزاروں سال تک الیکشن کرواتے رہو اور ان الیکشنز کے زریعے نیک۔عابد۔زاھد اور حاجی نمازی ممبران پارلیمینٹ کی توقع کرتے رہو بس اس سے کوئ تبدیلی نہیں آنیوالی۔ اس غلامانہ ابلیسی نظام کیطرف لوگوں کو مائل کرنیوالا خود بروز قیامت رب کائنات کو جوابدہ ہوگا۔
مذکورہ قول مولانا طارق جمیل صاحب کی طرف منسوب ہے۔ واللہ اعلم
(منقووووول)

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...