🎪ترکی میں اردگانی جیت: توقعات اور خدشات🎪
💥اردگان کی جیت پہلے سے طے تھی۔ نوٹ کرپشن، جبری ایمرجنسی اور میڈیائی دادا گیری کے بعد بھی "فتح مبین" نہ ملے تو پھر آخر اردگانی بھکت ڈھول کیسے پیٹتے۔ انہیں بھی خوش تو رکھنا ہے۔ اور اسی خوشی میں اگر کچھ دیوانے کہیں کہ اب امیر المومنین اسلامی حکومت ضرور نافذ کریں گے تو انہیں تماچہ مارنے کیلئے اردگان کا وہ بیان کافی ہے جس وہ کہہ رہے ہیں کہ صدیوں پرانی اسلامی شریعت اب نافذ کرنے کا وقت نہیں۔ (تصویر نمبر 1)
اور اگر کوئی کہے کہ شریعت اسلامی کا نفاذ تو نہیں مگر الحاد اور بے دینی سے تو ضرور لڑیں گے تو ان دیوانوں کو ہوش میں لانے کے لئے اردگان کا وہ بیان کافی ہوگا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ سیکولر ازم اور بے دینی ہی ترکی میں جمہوریت کا ضامن ہے۔ (تصویر نمبر 2)
اور اگر کوئی دیوانہ مذکورہ دونوں باتوں پر معذرت کر کے یہ کہہ کر خوشی منائے کہ یہودی ریاست اسرائیل سے اب ہر طرح کے تعلقات ختم کر کے بیت المقدس کو فتح کریں گے تو انہیں بھی راستہ دکھانے کیلیے انقرہ کی اس تقریب کی طرف توجہ دلانا کافی ہوگا جس میں اسرائیل کی یوم تاسیس کے موقع پر ترک حکومت نے جم کر خوشی منائی تھی۔ (تصویر نمبر 3)
اور اگر کوئی ادنٰی سا اردگانی بھکت مذکورہ تمام باتوں سے معذرت کر کے صرف یہ کہے کہ کچھ نہیں تو ترکی کے اندر کمالی الحاد کو تو ختم کر کے ہی رہیں گے ہمارے امیر المومنین۔ تو انہیں کمال اتاترک کے برسی کے موقع پر اردگان کا صرف وہ بیان دکھا دینا کافی ہوگا جس میں وہ کمال اتاترک کو اپنا ہیرو اور آئیڈیل مان کر اسکا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ (تصویر نمبر 4)
💥اردگان نے صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں خصوصی طور سے دو محاذوں پر دھیان دینے پر زور دیا ہے۔ پہلی چیز شامی مہاجرین کو انکے اپنے ملک شام میں واپسی کیلئے راہ ہموار کرنا تاکہ اقتصادی بحران سے نمٹنے میں آسانی ہو۔ دوسری چیز عراق اور شام کے اندر کردوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم۔
https://www.alarabiya.net/ar/arab-and-world/2018/06/25/أردوغان-بعد-الفوز-بولاية-جديدة-سنواصل-التقدم-في-سوريا.html
مطلب کرد سنی مسلمانوں کی نسل کشی اب مزید عزم و حوصلے کے ساتھ کی جائے گی۔ اور (بھکتوں کے بقول) وہ مہاجرین جن کی دعاؤں کے سہارے "فتح مبین" حاصل ہوئی ہے انہیں انکے اجڑے دیار میں واپس بھیجنے کی تیاری کی جائے گی۔
💥بعض اردگانی بھکت کہہ رہے ہیں کہ پر امن ماحول میں الیکشن کراکے صدر اردگان نے ایک مثال قائم کر دی ان کیلئے ضروری ہے کہ ان خبروں کو بھی پڑھ لیا کریں جن میں اردگانی جرائم اور اسکی ناٹک کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اسکے لئے صرف یہی ایک خبر ضرور پڑھیں:
https://www.christian-dogma.com/t1530762
💥دوسری طرف اسٹیج پر آکر ملکہ ترکی نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ ہماری بنیادی زمہ داری ہے ایسی دنیا تعمیر کرنا جہاں بچے محفوظ زندگی گزار سکیں۔
👈🗯اردگان کے اقوال زریں:
🎤علمانیت یعنی سیکولر ازم ہی کامیابی کا واحد ذریعہ ہے۔
🎤ہم جنس پرستوں کے حقوق محفوظ رہیں گے۔
🎤حالیہ ایرانی نظام کا خاتمہ خطے کے لئے فتنہ وفساد کا سبب بن سکتا ہے۔
🎤ایران ہمارا پڑوسی ملک ھے اسکا تحفظ کرنا ہمارا فریضہ ہے۔
🎤ایران کے ساتھ ملک شام کے اندر دہشت گردوں سے لڑنا ہمارا متفقہ فیصلہ ہے۔
🎤دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں روس ہمارا حلیف ہے۔ حلب اور عفرین کی جنگ میں ہمارا اور شامی حکومت کا اتفاق تھا۔
💥ترکی خلیفہ اور تحریکی رجحان
از.محمد افضل محی الدین
خلیفۃ المسلمین سکولر طرز پر دوبارہ خلیفہ چنے جاتے ہیں .یہ کیسی خلافت اور کیسا خلیفہ ہے جو میعاد پوری ہونے پر خلیفہ اور خلافت دونوں کو معطل قرار دیا جاتا ہے پھر دوبارہ نۓسرے سے کئ خلفاء میدان خلافت میں اپنی دعوہ داری کے خم ٹھوکتے نظر آتے ہیں ہر ایرے غیرے کو خلیفہ کو انتخاب کرنے کا موقعہ دیا جاتا ہے اس انتخابی مہم میں چور چمار زانی و بدکار حرامخور و حرامزاد بد عنوان و بدکار صالح و دین دار سب ننگے نظر آتے ہیں اس انتخابی مہم میں ثقاہت استناد و عتبار کا کوئ شمار نہیں ہوتا ایل دانش مند ذہین ہائ کوالیفائڈ اور ایک باگل آوارہ سڑک چھاپ جاہل دونوں ایک ہی صف میں گھڑے نظر آتے ہیں اسی انتخابی مہم میں معطل خلیفہ و خلافت پر اتہامات و الزامات کی بوچھار ہوتی ہے خلافت کے نمائندگان کو خریدا جاتا ہے جلسے دھرنے مہا سبھا لوک سبھا ریلیوں کے چکر میں عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے ہر خلافت کا نمائندہ اپنی کرسی بحال رکھنے کے لۓ جھوٹے دنیادار فساق مولویوں کی رسائ حاصل کرتا ہے اور یہ دنیادار احبار و رہبان چند ٹکوں کی خاطر ملت کی ٹھیکیداری نبھاتے ہوے عوام کی مستقبل سے کھیلتے ہوے ذرا بھی نہیں شرماتے ...اسی خلافت کی باگ ڈور کے لۓ علاقائ اسمبلیوں کی سیثیں خریدی جاتی ہیں ہر ہر گلی میں ہر ہر چوراہے پر تمام تر سکولر پارٹیوں کے کتے اپنے خلیفہ کی مدح و تمجید کرتے ہوے نظر آتے ہیں عوام کیا چاہتی ہے انے مطالبات کیا ہیں انکی ترجیحات کیاں ہیں انکے مسائل کون کون سے ہیں ان سب سے کوئ سروکار نہیں ہوتا بس سب کو اپنی خلافت کی پڑی رہتی ہے اور یہ نمائندگان خلیفہ پبلک کو اپنی پیر کی جوتی سمجھتے ہیں کم بیش تمام تر اسلامی ملکوں میں نہیں بلکہ مسلمانی ملکوں میں یہی ہوتا ہے .لیکن صرت حال یہ ہے کہ برصغیر تحریکی بھیڑۓ ہر وقت ترکی صدر و صدارت کو خلافت سے جوڑتے نظر آتے ہیں ...جی ہاں یہی تحریکیت ہے اوریہ اس کی دینی سوچ ...
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق