🎪یہ کون سا اردگان ہے؟!🎪
💥طیب رجب ایردگان ماضی میں ترکی کی “جماعت اسلامی” یعنی سعادت پارٹی میں تھے۔ اس جماعت کا پہلا نام نیشنل وائس پارٹی تھا جس کا منشور “غلبہ اسلام” تھا۔ یہ وہی غلبہ اسلام ہے جس کا تصور سید مودودی اور سید قطب نے دیا۔ جماعت اسلامی نے سید مودودی و حضرتِ اقبال کے تصور سے جنم لیا اور اخوان المسلمون نے امام حسن البنا و سید قطب کے تصور سے۔انہی تصورات پر ترکی میں ڈاکٹر نجم الدین اربکان نے نیشنل وائس پارٹی قائم کی ۔1971میں اس جماعت نے اڑتالیس نشستیں حاصل کیں۔1974 میں ڈاکٹر نجم الدین اربکان نائب وزیراعظم بن گئے۔
💥سیاسی رد وکد میں اس جماعت پر کئی بار پابندیاں عائد ہوئیں۔ بلاشبہ یہ پابندی ریاست کے استبدادی طرز عمل کا نتیجہ تھیں ۔ تب ترکی میں ریاست کا مطلب فوج اور فوج کا مطلب ریاست تھا۔اس جماعت کا احیا ہوا تو نام رفحا پارٹی پڑگیا۔ 1994 کے انتخابات میں رفحا پارٹی نے تقریبابائیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔مخلوط حکومت قائم ہوئی اور رفحا پارٹی کے سربراہ نجم الدین اربکان وزیراعظم منتخب ہوئے۔ طیب ایردگان رفحا پارٹی کے ٹکٹ سے استنبول کے مئیر منتخب ہوگئے۔ بے مثال ترقیاتی کارکردگی کے نتیجے میں وہ دنیا کے بہترین میئرز میں سے ایک قرار پائے۔اٹھانوے میں فوج نے منتخب عوامی حکومت کا دھڑن تختہ کردیا۔ باقی قیادت کے ساتھ طیب ایردگان کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ننانوے میں ایردگان پردہشت اور خوف پھیلانے کا مقدمہ قائم ہوا جس کی بنیاد ایک نظم بنا۔ اس مقدمے میں ایردگان کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ جیل میں ایردگان کو اپنے سیاسی تجربے سے کچھ نتائج اخذ کرنے کا موقع ملا:
• ہمارا رویہ دینی نہیں سیاسی ہونا چاہیئے
• ہمارا منشور مذہبی نہیں معاشی ہونا چاہیئے
• ووٹر کو نیک اور بد کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہیئے
• ووٹ مذہب کے نام پر نہیں سیاسی کارکردگی کی بنیاد پر لینا چاہیئے
ایردگان نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا تو نجم الدین اربکان نے اتفاق نہیں کیا۔ڈاکٹراربکان کا موقف تھا کہ غلبہ اسلام ہمارا مقصد ہے اور یہ بات ہمارے منشور میں بغیر کسی سمجھوتے کےدرج ہونی چاہیئے۔ ایردگان نے اپنی راہ بدل لی اور جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی بنیاد رپڑ گئی۔ نہ صرف یہ کہ سعادت پارٹی (سابقہ رفحاپارٹی) کا زرخیز ذہن ایردگان کے ساتھ ہولیا بلکہ دیگر سیاسی دھڑوں سے بھی لوگ جوق درجوق جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی میں پہنچے۔ اب چونکہ ایردگان “غلبہ اسلام” کے روایتی خبط سے باہر نکل آئے تھے اس لیے تقریبا سبھی طبقات کو ایردگان پر اعتماد کرنے کا حوصلہ ہوا۔
💥یہ اعتماد حاصل کرنے کے لیے ایردگان نے ایک طرف اپنے منشور سے غلبہ اسلام کے ہر تاثر کو ختم کرکے معیشت کی بنیاد بنایا دوسری طرف انہوں نے ترک اخبارات میں ایک اشتہار شائع کروایا جس پر درج ہوتا تھا”اب میں وہ ایردگان نہیں ہوں”۔ یہ اشتہار استنبول یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کے سربراہ ڈاکٹر منصور کنڈی نے مجھے دکھایا۔
سوچنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ “وہ” کون سا ایردگان تھا جس سے “یہ” والا ایردگان برات کا اعلان کررہا تھا؟ دونوں ایردگانوں میں فرق سیاسی اسلام اور جمہوری طرز سیاست کا تھا۔ یہ غلبہ اسلام کا تصور ہی ہے جسے سیاسی اسلام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔یار لوگ غلبہ اسلام کی تعبیر ایردگان کو ان بیانات کو سمجھ بیٹھے ہیں جو انہوں نے اسرائیل کے خلاف دیے۔ ان سہولیات سے وہ نظر پھیرلیتے ہیں جوترکی نے اسرائیل کوسب سے زیادہ ایردگان کے دور میں دیں۔ اور اسی بنیاد پر ترکی کے صالحین یعنی سعادت پارٹی کے رہنما وکارکنان ایردگان کو استعمار کا ایجنٹ کہتے ہیں۔
(فرنود عالم)
👈نوٹ:
حقیقت یہی ہے کہ ملحد ترکی میں یہی اردگان جیت سکتا ہے وہ اردگان نہیں جیت سکتا۔ اور حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ اردگان اسلامی شریعت نافذ کرنے کی تو دور کبھی اسکی بات نہیں کرے گا۔ لیکن بھکت کہیں کا غم کہیں پر ہلکا کر لیں اور قصیدے پڑھ دل کی بھڑاس نکال لیں۔ جذبات پر کوئی روک نہیں ہے۔
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق