السبت، 20 أكتوبر 2018

کیا اب اردگان کی ترکی میں یہ وحشیانہ کام بند ہو جائے گا ؟

ا اب اردگان کی ترکی میں یہ وحشیانہ کام بند ہو جائے گا؟!🎪
💥ترکی حکومت پر اردگان پندرہ سالوں سے قابض ہیں اور اب مزید پانچ سال وہاں کے حاکم مطلق رہیں گے۔ اب تک ترکی میں بہت کچھ غیر اخلاقی اور غیر شرعی کام ہوتے رہے لیکن کیا اب اس طرح کے کام بند ہو جائیں گے؟! 
کیا پروسٹیٹیوشن (جسم فروشی) کا گھٹیا دھندہ جس سے حکومت 4/ارب ڈالر سالانہ کماتی ہے بند کر دے گی؟! 
ترکی میں کہاں کہاں زنا کاری کے اڈے ہیں کس کس معیار کے ہیں، کس کی سرپرستی میں چلتے ہیں، اجنبی لڑکیوں کو کیسے نوکری کے بہانے لایا جاتا ہے پھر جسم فروشی کے اڈوں میں کیسے بیچ دیا جاتا ہے اور ملکی معیشت میں اسکا کیا کردار ہے؟! یہ ساری جانکاری لینے کے لئے تفصیل کے ساتھ اس رپورٹ کو پڑھ سکتے ہیں: 
https://ahvalnews.com/ar/node/205
💥کیا ترکی میں اردگانی دور حکومت ہی کے اندر تسلیم کیے گئے (گے ازم)، لیسبین ، اور ہم جنس پرستی کے حقوق کو ختم کر دیا جائے گا؟!
شراب خانوں، جوا خانوں اور اور بار ہوٹلوں پر کیا پابندی عائد کر دی جائے گی؟!
کیا اب اتنی مضبوطی کے ساتھ آنے کے بعد یہودیوں سے سارے تعلقات ختم کر لئے جائیں گے؟!
مذکورہ کسی بھی قضیے کا تصفیہ ممکن نہیں ہے خاص طور سے جبکہ ترکی کی معیشت کا انحصار ہی انہیں پر قائم ہے اور ایسے موقع پر تو محال ہے کہ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ 
نیز مذکورہ مسائل کا حل کیا ایسا شخص کر سکتا ہے جس نے اپنی سیاست کی بنیاد ہی معیشت کی ترقی اور سیکولرازم پر قائم کی ہو خواہ ذرائع کچھ بھی ہوں۔ 
💥چلئے ترکی بھی عام سیکولر جمہوری ایک ملک ہے اس لیے وہاں بھی وہ سارے کام انجام پا رہے ہیں اور پاتے رہیں گے۔ ترکی میں انسانی قانون نافذ کرنے کیلئے وہاں کا پورا دستور ہی بدلنا پڑے گا جو نہ تو اردگان کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہے اور نہ ہی اردگان کا یہ ہدف ہے اور نہ ہی اسکا انہوں نے کبھی اظہار کیا ھے بلکہ اسکے الٹا ہی کہا ہے کہ اس ملک میں اسلامی شریعت کو نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ سیکولرازم یعنی لا دینیت پر ہمارا یقین ہے اور اسی سے ملک ترقی کرے گا۔ (ویل ڈن)
💥 بنا بریں ابھی اسلامی قانون ذرا مشکل ہے۔ پوسٹ میں مذکورہ جرائم کے خاتمے کی اپیل کی جائے۔ بھکت اس کے لئے بھی دعاؤں کا اہتمام کریں۔ دعاؤں کیلئے خصوصی طور پر تسبیحات اور مٹر چنے کے دانے وغیرہ استعمال کریں۔  ان شاء اللہ یہ کام بھی "امیر المومنین" کے بدست انجام پائے گا۔
نیز اردگانی بھکتوں سے یہ بھی اپیل ہے کہ ترکی جس درج ذیل وحشیانہ اور غیر انسانی جرائم میں ملوث ہے اس پر سنجیدگی سے غور کریں اور اپنے امیر المومنین سے درخواست کریں کہ کم از کم انہیں ختم کروا دیں جسے کہ شاید دنیا کے ہر ملک میں گھناؤنا جرم اور قابل سزا شمار کیا جاتا ہے۔ نیز یہ عمل انسانیت کو شرمسار کرنے والی ہے۔ 
💥خبر مع ترجمہ پیش خدمت ہے: 
((أن المركز التركي اليهودي للمتاجرة بالاعضاء البشرية يقوم بتجريد السوريين المختطفين من اجسادهم باكملها.))
ترجمہ: یہ گزشتہ سال کی خبر ہے کہ ترکی میں یہودیوں کا ایک پر اسرار سینٹر ہے جو انسانی اعضاء کی تجارت کرتا ہے۔  ان پر الزام ہے کہ انہوں نے شامی مہاجرین کے زخمیوں اور بیماروں کو کڈنیپ کیا اور زندہ حالت میں انکے اعضاء کاٹ کر انہیں پھینک دیا۔ انا للہ و انا الیہ رجعون۔ 
(("السلطات التركية متورطة في تهريب الاعضاء البشرية للجرحى السوريين الذين يصلون الى الاراضي التركية”.))
ترجمہ: خبر یہ بھی ھے کہ وہ شامی پریشان حال لوگ جو ترکی میں علاج ومعالجہ کی غرض سے آتے تھے انہیں کڈنیپ کرنے اور انکے جسمانی اعضاء کی اسمگلنگ میں ترک حکومت بھی ملوث ہے۔ 
((“السلطات التركية تقوم بنقل الجرحى الشباب من السوريين من الذين يدخلون الى تركيا الى المستشفيات في مدينتي انطاليا والاسكندرون في سيارات تحرسها الشرطة والمخابرات التركية”.))
ترجمہ: اخبار آگے لکھتا ہے کہ ان شامی زخمیوں کو ترک گورنمنٹ ہی طرف سے ترکی کے انطالیہ اور اسکندرون شہروں میں لے جایا جاتا تھا اور یہ کام ترک خفیہ ایجنسی اور پولیس محکمہ کی مکمل نگرانی میں انجام پاتے تھے۔ 
((“الجرحى المصابين يتم تجريدهم من اعضائهم بعد تخديرهم ليتم قتلهم لاحقا ودفنهم في الاراضي التركية او ارسالهم الى الحدود، وان معظم الاعضاء التي يتم الاتجار بها هي الكبد والكلى والقلوب والتي تعطى للاشخاص الذين ينتظرون العلاج في تركيا”.))
ترجمہ: ان زخمیوں کو پہلے نشہ آور دوا دے کر مدہوش کیا جاتا پھر انکے جسم کے قیمتی اعضاء نکالے جاتے اور اسکے بعد انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ پھر انکی لاشوں کو ترکی ہی میں کسی جگہ یا ترکی سیریا باڈر کی طرف بھیج دیا جاتا۔ 
زیادہ تر کلیجی، گردہ اور دل جیسے قیمتی اعضاء کو نکال کر انکی تجارت کی جاتی ہے اور جن مالدار لوگوں کو انکی ضرورت ہوتی ہے انہیں بھاری قیمتوں میں دیا جاتا ہے۔ 
((“عمليات زرع الاعضاء قد زادت في تركيا خلال العامين الماضيين “.))
ترجمہ: اخبار یہ بھی لکھتا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں انسانی اعضاء کی چوری اور انکی اسمگلنگ وتجارت نے خوب زور پکڑا ہے۔ 
((“الاطباء السوريين الذين قدموا من المانيا وفرنسا وبلجيكا لمعالجة الجرحى عثروا على اعضاء مسروقة من بعض الجرحى  ولكنهم منعوا من الحصول على اي معلومات من الجيش التركي”.))
ترجمہ: جرمنی، فرانس اور بلجیئم میں موجود کچھ شامی ڈاکٹر ترکی میں شامی زخمیوں کی علاج کے لیے آئے تھے جنکو بہت سارے جسمانی اعضاء کی چوری کا پتہ چلا لیکن انہیں ترک فوج کی طرف سے اسکے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے منع کر دیا۔ 
((“من بين 62 الف جريح مدني وعسكري نقلوا الى تركيا، تم استئصال اعضاء 15.622 منهم، واعيدوا الى سوريا لغرض دفنهم”.))
ترجمہ: 62/ ہزار شامی زخمیوں کو علاج کیلئے ترکی منتقل کیا گیا جن میں عام شہری اور فوجی دونوں شامل تھے۔ ان میں سے 15622 زخمیوں کے اعضاء نکالے گئے پھر مار کر انہیں واپس انکے وطن دفن کرنے کیلئے بھیج دیا گیا۔ 
((وزادت تجارة الأعضاء في سوريا، وانضم ما يمسى بالجيش السوري الحر إلى مستشفيات ميدانية سورية، حيث قام بتسليم السوريين المصابين إلى بعض المستشفيات التركية حيث يتم حصادهم هناك.))
ترجمہ: اس طرح کے انسانی جرائم میں شام بھی شامل ہے جہاں سے زخمیوں کو ترکی اسی غرض سے بھیجا جاتا ہے کہ ترک اسپتالوں میں انسانی اعضاء کو پوری آزادی سے عمل جراحی کے ذریعے نکالا جائے۔💥اور یہ انتہائی تعجب کی بات ہے کہ یہ جرائم ترکوں شامیوں اور اسرائیلی یہودیوں کے مابین ایک سازش اور متفقہ سمجھوتے سے انجام پا رہے ہیں۔  
اس اندوہناک رپورٹ کو درج ذیل اخبارات میں دیکھ سکتے ہیں: 
http://www.almaalomah.com/2017/11/26/258622/#

https://www.alaraby.co.uk/amp//politics/2015/12/13/موقع-عبري-تركيا-تكشف-شبكة-إسرائيلية-تتاجر-بأعضاء-السوريين

https://www-alaraby-co-uk.cdn.ampproject.org/c/s/www.alaraby.co.uk/amp/economy/2014/9/22/أجساد-السوريين-للبيع

http://elaph.com/Web/news/2012/10/768836.html
🐇‫کیا اردگانی دور حکومت میں دھیرے دھیرے اصلاحی کام ہو رہے ہیں؟ 
تحریکی عام مسلمانوں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ اردگان نے آکر اصلاح کرنا شروع کردی ہے دھیرے دھیرے سب صحیح ہو جائے گا، جبکہ حقیقت حال کچھ اور ہی ہے۔ کیوں کہ جسم فروشی پہلے قانونا جرم سمجھا جاتا تھا اردگان نے آکر اس کے لئے قانونی لیسینس جاری کیا، ہم جنس پرستوں کے حقوق کو اردگان ہی نے تسلیم کیا، بڑے بڑے ساحلی نیوڈ پارکوں کا افتتاح اردگانی عہد ہی میں ہوا نیز پندرہ سالوں کے بعد بھی اب تک ترکی کے تعلقات اسرائیل سے ختم تو دور کی بات مضبوط سے مضبوط تر ہوئے ہیں۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...