🎪ترکی الیکشن اور حالیہ اقتصادی بحران: ذمہ دار کون؟!🎪
💥حال ہی میں اردن جب اقتصادی بحران کا شکار ہوا تو اخوانیوں نے زمین کو سر پر اٹھا لیا۔ لیکن کئی مہینوں سے ترکی اسی اقتصادی بحران کا شکار ہے اس پر یہ ایک لفظ بولنا تو درکنار الٹا اسکے لیے دعائیں کر رہے ہیں اور لوگوں سے ترکی کے تعاون کی درخواست کر رہے ہیں۔
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس اقتصادی بحران کے پیچھے کسکا ہاتھ ہے اسے سارے تحریکی اور ترک حکمران چھپا کر اس کا ٹھیکرا دوسروں پر پھوڑتے ہیں۔ قطر میں موجود ترک سفیر نے تو بلا نام لئے یہ بھی کہہ دیا کہ ترکی کے اندر آئے اقتصادی بحران کے ذمہ دار خلیج کے دو ممالک ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے خود اردگان فیملی ہے۔ اور وہ ہے قوم کا پیسہ اپنی نجی زندگی پر خرچ کرنا اور اسے محلوں کی تعمیر اور عیش وعشرت پر لگانا ہے۔
💥انہی محلوں میں ایک قصر اردگان ہے۔ سلجوقی طرز تعمیر پر قائم یہ محل 2/ لاکھ مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے جسکے اندر 1150 عالی شان کمرے اور کئی ایک اندرونی خاص خاص محل ہیں۔ غرباء ومساکین کے لئے گھر بنانے کے واسطے جو سرکاری بجٹ 2014 میں پاس کیا گیا تھا جسکا تخمینہ 600/ میلین امریکی ڈالر سے زیادہ لگایا جاتا ہے اسے اردگان نے اسی محل پر خرچ کر دیا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ محل وہائٹ ہاؤس کے مقابلے تیس گنا بڑھ کر ہے۔ دنیا میں مشہور فرانسیسی محل (قصر فرسای) کے مقابلے مسافت میں چار گنا بڑھ کر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس جگہ کو کمال اتاترک نے زراعت کے مقصد سے خریدا تھا لیکن اسکی ہلاکت کے بعد سرکاری تحویل میں آگئی جسے (غابات اتاترک) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ لیکن اسی جگہ پر اردگان نے اپنے محل کو تعمیر کرکے اس کا نام (قصر اردگان) رکھ دیا۔
💥اس محل پر اعتراض کرتے ہوئے ترک لیڈر محمد جونال کا کہنا ہے کہ جو آدمی اپنے آپ کو قوم کا لیڈر ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے اس نے اپنے لیے یہ کیسے جائز سمجھ لیا کہ اسی قوم کے پیسے سے اتنا عالی شان مہنگا محل تعمیر کر لے۔ اور ہزاروں کمروں پر مشتمل محل میں سوئے۔ اور کئی محلوں کا مالک بنے۔
پوری تفصیل اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://raseef22.com/politics/2018/06/21/السلطان-إردوغان-أنفق-600-مليون-دولار-لبن/?
قصر اردگان کو اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں:
https://youtu.be/qUFS56N83kU
💥مشہور ایرانی اخبار العالم نے قصر اردگان پر تبصرہ کرتے ہوئے آج یہ خبر لگائی ہے:
((وتقول صحيفة "ديلي ميل" البريطانية ان اردوغان "يملك ثروة لايقل حجمها عن 139 ميليون جنيه استرليني و يملك 3 قصور، ومشغول فقط بشراء الاشياء الثمينة. بينما يرضخ ربع عدد سكان تركيا تحت خط الفقر لدرجة ان معدل دخل الكثير منهم اقل من 3 جنيه استرليني في اليوم" على حد قولها.
وتضيف الصحيفة: "تستهلك امينة، زوجة اردوغان الشاي الابيض المخصوص الذي يصل سعر الكيلو الواحد الى 1500 جنيه استرليني".))
ترجمہ: اردگان کے پاس 139/ اسٹرلنگ کی دولت ہے جبکہ تین محلوں کے مالک ہیں۔ اور دنیا کی قیمتی ترین اشیاء کے خریدنے میں مشغول ہیں۔ جبکہ ترکی میں ایک چوتھائی آبادی خط فقر سے نیچے (BPL) زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ نیز اردگان کی بیوی اس مخصوص سفید چائے کا استعمال کرتی ہے جسکی قیمت 1500 اسٹرلنگ فی کلو ہے۔ تفصیل اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
http://www.alalam.ir/news/1841725/شاهد--صور-من-داخل-قصر-اردوغان-الذي-كلف-600-مليون-دولار
💥اخبار نے امینہ اردگان کے بارے میں لکھا ہے کہ اس عورت سے زیادہ مہنگے سامانوں اور زیورات کی خریداری میں کسی کو نہیں دیکھا گیا۔ صدام حسین جو کہ شاندار محلوں کے بنانے اور عیش وعشرت میں رہنے کا عادی تھا وہ بھی اگر آج موجود ہوتا تو اردگان کی فیملی کو دیکھ کر شرما جاتا۔ دیکھیں اس ویب سائٹ کو:
http://www.alalam.ir/news/1840979
💥امینہ اردگان اپنے ہینڈ بیگ کو لیکر بھی میڈیا کے اندر چرچے میں بنی رہتی ہیں۔ کیوں کہ اسکی قیمت پچاس ہزار امریکی ڈالر ہے جو کہ اردگان کی تقریباً چھ مہینوں کی تنخواہ ہے۔ ایک ترک نوجوان کا کہنا ہے کہ تم جیسے لیڈر قوم سے مذاق کیوں کر رھے ہو ایک طرف امینہ جسکا کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے وہ اتنے مہنگے قیمت کا بیگ لیکر چلتی ہے جتنا اسکے شوہر کی آمدنی چھ مہینے کی کمائی ہے۔ تفصیل یہاں دیکھیں:
https://www.zamanarabic.com/2018/05/19/حقيبة-قرينة-أردوغان-ذات-الـ50-ألف-دولار/#comments
💥ایک ترک اخبار مذکورہ مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ذرا تفصیل کے ساتھ لکھا ہے:
((رواد مواقع التواصل الاجتماعي '' أمينة أردوغان'' زوجة الرئيس التركي ''رجب طيب أردوغان'' وذلك بسبب حقيبتها، وأشار بعض المنتقدين إلى أن سعر الحقيبة يتجاوز (50 ألف دولار) مؤكدين أن أمينة لا تمتهن مهنة معينة تمكنها من الحصول على هذا المبلغ الباهظ. وقال آخرون أن راتب الرئيس التركي ذاته لا يتعدى (40 ألف ليره تركية) فمن أين حصلت زوجته على هذه المبلغ التي تظهر بوضوح في ملابسها وأمتعتها الشخصية، وأضاف ''تورغوت أوغلو'' وهو أحد السياسيين المعارضين لسياسة أردوغان، أن على السيدة أردوغان أن تتعاون مع زوجها الذي يريد مساعدة أطفال غزة وأن ترسل لهم جزءً من الأموال التي تشتري بها هذه الأمتعة الباهظة بدلًا من ترويج الأحاديث عن المساعدات فقط.))
http://www.alkawnnews.com/print/146084
💥دو سال پہلے اردگان کی بیٹی کی شادی کے موقع پر بے انتہا دولت خرچ کرنے پر بھی لوگوں نے آواز اٹھائی جسکے اندر ہزاروں لوگ مدعو تھے۔ اور شاہانہ انداز میں اس شادی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ لڑکی سمیہ لندن سے فارغ ہے اور داماد امریکہ سے فارغ ہے۔ پوری تفصیل اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://www.alarabiya.net/ar/last-page/2016/05/14/زواج-إبنة-أردوغان-في-اسطنبول-وسط-اجراءات-أمنية-مشددة-.html
عیش وعشرت کے دلدادے اس گھرانے پر تفصیلی معلومات کیلئے پڑھیں یہ رپورٹ:
https://mobile.almasdarnews.com/article/nod1147/
👈نوٹ:
آپ جتنے بڑے بڑے اخوانی لیڈروں کو دیکھیں گے تو ان کے بارے میں یہی پائیں گے کہ ان کے بچے یورپ اور امریکہ ہی کے پڑھے ہیں۔ اور یہ اکثر داماد بھی ایسا تلاش کرتے ہیں جو یورپ اور امریکہ میں پڑھا ہو۔ لیکن یہی اخوانی تحریکی لیڈران جب اسٹیج پر آتے ہیں تو یورپ اور امریکہ کی مذمت کرتے نہیں تھکتے اور ان سے جن کے روابط ہیں انہیں انکا ایجنٹ، غلام اور نہ جانے کن کن القاب سے نوازتے رہتے ہیں۔
نیز اخوانیوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ یہ وہی اردگان ہیں کہ غربت کی وجہ سے جن کے پاس انگریزی اسکولوں میں پڑھنے کے لئے پیسے نہیں تھے تو عربی مدرسے میں داخلہ لے لیا اور ساتھ میں پھل بھی بیچا کرتے تھے تاکہ گھر خرچ میں متعاون بن سکیں۔ (شاید یہ محاورہ سچ ہی ہے کہ مالک جسکو دینے پر آجائے تو چھپر پھاڑ کر دے سکتا ہے!) اس سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ حضرت اپنی قوم کے کتنے ہمدرد ہیں اور جو اپنی قوم کا نہ ہوا وہ دوسروں کا کیا خاک ہوگا! لیکن ہر ایک کی اپنی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں!
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق