السبت، 20 أكتوبر 2018

پاکستانی حالیہ الیکشن اور تحریکی کردار

🔊پاکستانی حالیہ الیکشن اور تحریکی کردار🔊
[[پڑوسی ملک  پاکستان کے اندر حالیہ جیت پر ہندوستانی تحریکی بہت خوش نظر آ رہے ہیں باوجودیکہ جماعت اسلامی کا رہنما ہار چکا ہے مبارکبادی کے پیغام بھیج رہے ہیں، شکست کھانے پر نصیحتیں اور حوصلہ نہ ہارنے کی وصیتیں کر رہے ہیں۔ 
یہی تحریکی ہیں جو ایک طرف اللہ کی سر زمین پر خلافت الہیہ کے قیام کا جھوٹا ڈھونگ رچتے ہیں اور خلافت راشدہ سے کم پر راضی ہونے کا دعوی نہیں کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے اسی ڈھونگی نظریہ کے مطابق خلافت راشدہ کے معا بعد کی ساری اسلامی حکومتوں کو یہ جاہلیت کے دور سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس حقیقت کے ساتھ دوسری طرف انکا یہ افسوسناک حال ہے کہ یہ حکومت ہتھیانے کیلئے یہودیوں کے بنائے ہوئے ڈیموکریٹک نظریہ کو گلے لگا لیتے ہیں۔ ٹیونس اور مصر اسکی واضح مثال ہے۔ بلکہ قیادت حاصل کرنے کے لئے الحادی جمہوریت بھی انکے یہاں مرغوب ہے۔ اردگانی ترکی اسکی کھلی مثال ہے۔ 
حالیہ پاکستانی الیکشن میں اس مودودی جماعت کی مزعومہ خلافت الہیہ کی ہوا ہی نکل گئی۔کیونکہ اس جماعت نے اس الیکشن میں جس متحدہ مجلس عمل کے اندر شمولیت اختیار کی ہے اس میں مرزائی قادیانیوں اور خمینی رافضیوں سے لیکر قبر پرست بریلویوں تک شامل ہیں۔ 
اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خلافت الہیہ کے قیام کا دعوی محض ایک تحریکی اخوانی ڈھونگ اور دھوکہ ہے جس کے پیچھے ملکی سیادت وقیادت کو ہتھیانا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کے انہیں جھوٹے دعووں کی وجہ سے کہیں بھی عوام کا خاطر خواہ سپورٹ نہیں مل پاتا ہے۔ ابھی پاکستان کے اندر حالیہ الیکشن میں زکاة کی طرح صرف ڈھائی فیصد ووٹ(عوامی سپورٹ) حاصل ہوا ہے۔]] 
✏✏✏✏✏✏✏✏✏✏✏✏✏✏✏✏
👈شیخ عبد المعید مدنی کا یہ مضمون پڑھیں جس میں آپ نے حالیہ پاکستانی الیکشن کے تناظر میں تحریکیت کا پول کھولا ہے: 

🎡پاکستان کا انتخاب
         ✏تحریر :شیخ عبدالمعید مدنی حفظہ اللہ
پاکستان کا انتخاب امت اسلامیہ کے سیاسی عمل کےبکھراؤکی ایک عبرتناک داستان ہے۔انتخاب الیکش رائے دہی جمہوریت حزب وحزبیت پوزیشن اپوزیشن و۔۔و۔۔!!!! مغربی سیاسی کفر کی فکری خیرات یا کفار کے سیاسی  جوٹھوں کی جگالی۔
ان کفریات کا ترجمان اگر کوئی مودودی کوئی قرضاوی کوئی غزالی مصری ہو تو عین اسلام ۔اس کا نمائندہ کوئی تحریکی مرسی اردگان سراج الحسن  اور روحانی ہو تو عین اسلام۔
اور دنیا کے سارے لونڈے سرپھرے تحریکی انکی حمایت میں دین نصوص صحابہ تاریخ اسلام سلاطین اسلام اور اسلامی سیاست سے تعصبا غیر شعوری طورپر کنارے ہونے پر تیار۔اور مودودی سے لے کر قرضاوی تک ایک تعلیم یافتہ سے لے کر ایک انگوٹھا چھاپ تحریکی تک سب کا رویہ یکساں نمونۂ عبرت۔والعیاذ باللہ۔
 اس وقت پاکستان ہمارے سامنے ہے۔پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ۔مگر پوری تاریخ میں پاکستان ایک لمحہ بھی اس مطلب کے مطابق نہیں رہا۔اس مطلب کے مطابق پاکستان کوبنانے مبارک انفرادی جماعتی کوششیں ہیں اور رہیں گی ۔لیکن پوری اجتماعی طور پر کبھی اس راہ پر لگی۔اور اب تو چند مخلص سمجھدار علماء کو چھوڑ کر  سبھی شاید اسلامی سیاست کو بھول چکے ہیں۔
یہ انتخاب لمحۂ فکریہ ہے.اس انتخاب میں ساری دینی جماعتیں  ہار گئیں۔فضل الرحمن ہار گیا گو متحدہ مجلس عمل کو عنصریت اور علاقائیت کی بناء پر دو چار سیٹیں ملی ہیں۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ہار گئے۔تحریک لبیک ہار گئی۔ملی مسلم لیگ ہار گئی۔
 ایسے موقع پر کئی اہم پوائنٹ ابھرتے ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔
(1)کیوں مذہبی جماعتوں اور دینی قیادتوں پر پبلک کو اعتبار نہیں ہے۔کسی بھی مسلک کے لوگ اپنے مسلک کی سیاسی پارٹی اور سیاسی قیادت پر بھروسہ نہکر سکے ۔تحریکی  سیاست کے باب میں دو انتہاؤں پر۔پہلے جمہوریت،انتخاب،رائے دہی سب حرام اور مکمل خارجیت ۔ایک صدی کے اندر خارجیت کی پیداوار اور خارجیت ساری تباہ کاریاں،دہشت گردیاں تحریکی پھکڑوں کی دین ہے, مگر دنیا کے ان کم عقلوں کو لاکھوں خون ریزیوں پر شرمندگی نہیں ہے۔یہ بے شعور مرسی اردگان و۔۔۔و۔۔کی حمایت کرتے رہتے ہیں .تحریکیوں کادوسرا سیاسی نقطۂ نظر اس طرح نشوونما پایا کہ شروع میں انھوں نے خوش فہمی میں یہ ذہنیت بنا لی تھی کہ یہ امت کے ولی محتسب اور وکیل اورقائد ہیں۔امت کےاوپران کا حق بنتا ہے کہ ان کے لئیے حکومت الہیہ قائم کر وا دیں.ظاہر ہے کوئی کام صرف آرزووں کے سہارے نہیں پورا ہوتا ہے۔تحریکوں نے پہلے پوری امت کو زیرو قرار دیا تھا۔جبکہ خود بھی صرف خوابوں کے شہزادے تھے علمی اخلاقی ذھنی روحانی ہر شے میں نابالغ شیخ چلی کے قبیلے کے اور اب اور زیادہ نابالغ۔ایسے لوگوں پر امت کیسے بھروسہ کر سکتی تھی۔ہوا یہی کہ ردعمل کا شکار ہو ئے کہ حکومت الہیہ کو چھوڑ کر جمہوریت کی راگ الاپنے لگے۔پہلے سب غلط تھے اب سب صحیح۔البتہ جمہوریت میں ملوکیت گنجائش نہیں اسلئے حضرت معاویہ اور انکے معاون صحابہ رضی اللہ تعالی سے لے سعودیہ تک سارے ملوک اور ملو کیتیں سب غلط۔
 انکو رافضی اور رافضیت ہر شے قبول ہے۔علمانی ،علمانیت اور سارا علمانی نظام قبول ہے۔سارے تحریکی اب بھی سعودی گلف اور سلفیت کے حق میں خالص خارجی ہیں اور ساری دنیا کے مدمقابل سیکولر اور جمہوری ہیں۔بروقت یہی تضاد ان کی سیاسی سرگرمیوں کا محور ہے۔ انکا دینی شعور شروع سے انتہائی حد تک بگڑا ہوا ہے۔تحریکیت دراصل ہے ہی انفجاریت اور ثوریت۔اور اگر اسکے ساتھ سیاسی سرگرمیوں کا اضافہ ہو جائے تو پھر اس کو گھومنے والا پہیہ بننے سے کون روک سکتا ہے؟؟مصر اور پاکستان میں شروع سےان کی تربیت سیاسی پارٹیوں کے کیڈروں کی حیثیت سے ہوئی ہے۔اسکا لازمی نتیجہ ہے غلیظ فرقہ پرستی. تنگدلی ،مفاد پرستی خود پرستی اورمکروہ بڑ بولا پن ۔
دراصل مودودی صاحب میدان عمل میں آکر سیاست اور ادعا کا تڑکا لگایا اور اس پرانقلابی اسلام کا ڈھکن  ڈھکا ۔پھر کیا تھا یخ بستہ ماحول  میں مودودی صاحب کے فکر وعمل کی ھنڈی ہردم ابال کھاتی رہی۔اور ان کے کچے مرید بولائے بولائے بوسٹنگ کرتے پھرتے. لطف یہ کہ مودودی کمیونزم کے غیر شعوری اثرات کے نیچے دب گئے .تحریکیت کانیچر ہے کہ تحریکی فتنہ ہر روش فکر وعمل کو قبولکرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔مودودی صاحب نے اس اثر بد کے تحت اسلام کی عملی وفکری تشریح میں کلیت پسندی اپنا لی۔جسکے تحت انھوں نے اسلام کوایک نے لچک سیاسی انٹیٹی(entity)بنادیا۔اور اسکو کسوٹی بنا کر پوری امت کو زیرو بنانے کا دعوی کر بیٹھے اور اب تک یہ اشتراکی اور خارجی انقلابیت و خارجیت کی کلیت پسندی تحریکیوں کے اندر جاری ساری ہے۔
 اسلام پرماننٹ اصولوں کی اساس پر قائم ہے۔اور عملی وتطبیقی زندگی میں انسانی صلاحیتوں مجبوریوں حالات ظروف کی رعایت کرتاہے۔اسلام میں استطاعت کی بھی بڑی رو رعایت ہے۔اصولوں کے ساتھ اسلام میں نجات اخروی کےلئے بہت سے اوپشنل اعمال ہیں ۔سب کو چھوڑ کر کلیت پسندی بڑی بد بختی ہے۔مودودی صاحب زندگی بھر حالت واقعی مطلوب اصلی کے دو انتہاؤں کے درمیان گھومتے رہے۔اوپر اسکا ذکر ہو چکا ہے.اس وقت تحریکیوں کی اپھان بھری باتیں مودودی صاحب کی کرانیکل اسلامی تھاٹ کی یہی پیچیدگی ہے جس کوان کے تحریکی سر پھرے اٹھائے پھرتے ہیں۔اسلامی سیاست کے ان  دعوی داروں نے پوری امت کو اپنی انھیں الجھی کج اور پیچیدہ سیاسی افکار و اعمال کے تحت برباد کیا۔اور تباہی کی ساری شکلوں کو امت پر مسلط کیا خود پیٹا اور دشمنوں کو لا کر امت کو ان سے پٹوانے کا سبب بنے اور اب بھی ساری رسوائیوں اور ناکامیوں کے باوجود کائیں کائیں سے باز نہیں آتے۔یہ ایک صدی تک اپنے کائیں کائیں کے ذریعہ امت پر مسلط رہے اور سعودیہ کو مقابل مان کر اس کی کھاتے رہے اور لمحہ لمحہ اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے رہے اور اس کی واضح
 خوبی ونقص کو واضح طور پر جاننے کے باوجود دو ٹکوں میں بکنے والے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ سعودی بیانیہ ناقابل فہم ہے۔اس تحریکی نحوست تضاد اور کجیوں کا سایہ پورے عالم اسلام پر تھا اور ہے اور لوگوں نے دیکھا کہ کتنی تباہیاں آئیں۔کتنا دینی بگاڑ پیدا ہوا.غلو فکر کو ،خارجیت ،انتہا پسندی اور دہشت گردی سب غیر فطری ہیں۔لونڈوں سرپھروں کے اندر ان تباہ کن اعمال وافکار کو مان ملتاہے اور پھر یہ تباہی پھیلا کر بلا شرمائے کنارا اختیار کر لیتے ہیں۔یہی کل کہانی تحریکیوں کی ہے۔ ان کے سوا دیگر مسالک اور علماء کی معتبر حقیقت پسندانہ اورمدلل باتوں کو ان پھکڑوں کے  شور ہنگامے اور منفی پروپیگنڈوں کے گردوغبار سنا اور دیکھا ہی نہیں گیا۔
(2)پاکستان میں نواز شریف اور زرداری کی پارٹی اور پارٹی والےسارے کےسارے کرپٹ، ملک دشمن،بدنیت،  قوم دشمن،بزدل،دین دشمن اور خائن مگر عوام کی بے حسی کہ ان غداروں کو بھی تیس سالوں تک حکومت کرنے کا موقع ملا ۔ ختم نبوت کے دستور ری تحفظ نواز حکومت نے جان بوجھ کر ختم کر نے کی شش کی۔
سپریم کورٹ نے اس کو کنوکٹ کیا ۔ قوم کی اربوں کی دولت اس نے لوٹا اور کئی ملکوں میں بھیج دیا۔ فیصلہ ماننے کے بجائے دشمنان ملک کو تین وزیر اعظم رہنے کے باوجود اپنے ہی ملک کے خلاف بھڑکاتا رہا ۔ راز اگلنے کی دھمکی دیتا رہا۔اور اپنے زرخریدوں کو لے کر عوام کو گمراہ کرتارہا۔
شرمانے۔اور قوم سے معذرت کرنے معافی مانگنے کے بجائے اسکے درمیان نفر اور فساد پھیلاتارہا اسکے باوجود فضول سا انسان فضل الرحمن اس کی حمایت کرتا رہا۔ساجد میر اس کا سیاسی دم چھلا بنا رہاسراج الحق خاموش رہا ۔اور اب عمران کےخلاف مظاہرے میں یہ سارےمولوی مذکورہ چنڈال چوکڑی کے ساتھ ہے. ساری قوم وڈیروں مسلکی گھروندوں ذات برادری اور ذاتی مفادات کے حلقوں میں بٹی ہے۔
ان چنڈالوں کو جتاتی پے۔ قاتلوں بدعنوانوں  غنڈوں اور ٹھگوں کو جتاتی ہے۔
(3)عمران خان کوئی بیتر بدل نہیں ہے۔بھنگڑے ناچ گانا،مرد وزن کا اختلاط کلچر سے لے کر اصول تک،ذوق سے لے کر پسند تک سب مغربی کتا پالنا پابی اور سب سے خطرناک یہ کہ سب شرکیہ اعمال اور عقائد کے حامل ہیں۔ایسی صورت میں کیا ایسے لوگوں پر اللہ کی۔نظر کرم ہو گی
عجیب المیہ ہے مسلمانوں کا آوے کا آوے بگڑا ہے نہ خائن علماء کو اعتراف گناہ کی توفیق ملتی ہے نہ مسلم قیادتوں کو ۔بلکہ فاسق علماءان کےگناہوں کی تحبیذ کرتے ہیں۔دین کے چودھری  خواہ کسی مسلک کے ہوں انکے نزدیک سب خیر ہی خیر ہے۔اور ان کے چمچوں کے نزدیک ان کے آقا جنتی اور ان کے اعمال بد خیانت وکذب سب جنتیوں کے۔خدمت دین ،دعوت دین کی بات ہو تو ٹھگوں دنیاداروں کی بھیڑکس خیر کی امید لگے۔اول تو دین کی شدید گھیرا بندی ہے۔دین کو گھیر کر مسجدوں تک محصور کردیا گیا ہے۔مساجد میں حاضری نام کی۔اوراس پر قبضہ گروپوں کی جنگ ،کمیشن خوردنیا دار مولویوں کی جنگ۔۔اور ایسے ایسے بہروپئے،بکاؤ ادعائی مولوی میدان میں جو سیرت وکردار کے اعتبار سے استنجا کے ڈھیلے کے برابر بھی نہیں ہیں۔یہ قلم لے کر بلا شرمائے دانشوری بھی کرتے ہیں۔قلم اٹھانے سے پہلے انھیں سوچنا چاہئے کہ کیا ان کی۔اتنی۔وقعت کہ دین و ملت کی بات کریں۔
 امت کا مسئلہ ہے ۔اسکے وجوداور بقا کا مسئلہ۔ اس مجبوری اور عدم استطاعت کے سبب سے ذیادہ مفید اور سب سے کم ضرر رساں کو انگیز کرنے کا قاعدہ لاگو ہے ۔بس جی لینےاور بنیادی حقوق کے تحفظ کی بات ہے۔ورنہ کون سا عمران اور کہاں کا عمران۔اگر ایک مسلک کے مولویوں کی حکومت قائم ہو جائے تو یہ بدذات دوسرے مسلک کے لوگوں کی زندگی عذاب بنادیں گے.تحریکی اس بابمی خاص کر سلفیوں کےلئے سب سے زیادہ intolerantثابت ہوں گے۔اسی گنجوں کو ناخن نہیں ملتے.

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...