🌛اردگانی ترکی کی اقتصادی حالت کی حقیقت🌜
💥اردگان نے الیکشن سے پہلے اپنے پھیکم پھاک بیانات میں سے ایک بیان یہ بھی دیا تھا کہ ترکی نے اپنا پورا قرضہ ادا کر دیا ہے اور اس وقت اس پوزیشن میں ہے کہ عالمی بینکوں کو قرضہ دے سکے۔
اس اردگانی بیان کو بھی سچ مان کر بہت سارے اردگانی بھکتوں نے میڈیا میں اس کا بھی پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا۔ ایک بھکت لکھتا ہے:
اردوغان رجل تركيا الحديثة يقود البلاد من بلد مديونة للصندوق الدولي إلى بلد تدين ذات الصندوق ، ومع ذلك ينتصر الرجل ب53% فقط من الأصوات۔
یعنی اردگان اب اس پوزیشن میں آگئے ہیں کہ عالمی بینکوں کو قرضہ دے سکیں۔
اس جھوٹی اردگانی خبر کو بر صغیر میں بھی خوب پھیلایا گیا۔ بلکہ ایک بڑا سا مضمون بغیر نام کے سوشل میڈیا میں پھیلایا گیا جس میں اس بڑے جھوٹ کے ساتھ مزید نوے فیصد جھوٹ ملا ہوا ہے۔
ایک طرف یہ اردگانی پروپیگنڈہ ہے دوسری طرف آئیے دیکھتے ہیں ترکی معیشت کی کیا حقیقت اور پوزیشن ہے؟!
پہلی بات یہ کہ اردگان نے اپنے داماد کو وزیر مالیات بنایا ہے جس پر کسی تحریکی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے جب کہ یہی لوگ صحابہ کرام جیسی شخصیات پر اقربا پروری کا الزام لگانے سے نہیں چوکتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ ابھی پچھلے ہفتے میں یہی داماد صاحب چین سے 3.6 ارب امریکی ڈالرز قرضہ لیکر آئے ہیں اور بڑے خوش نظر آ رہے ہیں۔ دیکھیں انکے ٹیوٹر اکاونٹ کو:
https://twitter.com/BeratAlbayrak/status/1022513489993261056?s=19
مزید دیکھیں اس ترک ویب سائٹ کو:
https://ahvalnews.com/china-turkey/turkey-secures-36-billion-loan-package-china#
الیکشن سے کچھ پہلے کی خبر ہے کہ مختلف ترقیاتی امور میں پیسہ لگانے کیلئے ساڑھے بائیس سالوں کیلئے 600 ملین امریکی ڈالر قرضہ اسی عالمی مونیٹری فنڈ نے ترکی کو موافقہ دیدیا ہے۔ پڑھیں اس رپورٹ کو:
((وافق صندوق النقد الدولي، الثلاثاء، على منح قرض بقيمة 600 مليون دولار على 22 عاما ونصف عام، منها فترة سماح مدتها 7 سنوات، لتمويل أعمال توسعة منشأة تخزين الغاز الطبيعي بولاية أقسراي (وسط).
جاء ذلك بحسب بيان صادر عن البنك الدولي، ذكر فيه أنه تمت الموافقة على الحزمة المذكورة من أجل تمويل مشروع توسعة منشأة تخزين الغاز الطبيعي الواقعة أسفل "بحيرة الملح" في أقسراي.
ولفت البيان أنه سبق أن تمت الموافقة على قرضين، الأول كان بقيمة 325 مليون دولار في 2005، والثاني 400 مليون دولار عام 2014، من أجل المنشأة التي ستزيد من أمن إمدادات الغاز التركية.
وذكر أن السعة المبدئية للمنشأة تبلغ مليار متر مكعب من الغاز، مشيرا أن مشروع توسعة تخزين الغاز الطبيعي بها سيدعم الأعمال التي تهدف لرفع سعة التخزين إلى 5 أضعاف الرقم المذكور.
وأوضح البيان أن مشروع التوسعة الذي ستنفذه شركة خطوط الأنابيب الحكومية التركية (بوتاش)، سيحد من اعتماد تركيا على الفحم في فصل الشتاء، كما سيساعد في الحد من انبعاثات الغازات الدفيئة.
https://www.aa.com.tr/ar/تركيا/600-مليون-دولار-من-البنك-الدولي-لتمويل-منشأة-لتخزين-الغاز-الطبيعي-في-تركيا/1154151
⚠️گزشتہ مئی کے مہینے میں استنبول کے اندر منعقد ایک عالمی فورم پر اردگان نے اہل مشرق کو یہ پیغام دیا کہ عالمی بینکوں سے قرضہ لینا ایک قسم کی غلامی اور استعمار کی شکل ہے۔ اس کھوکھلے بیان پر وقتی طور پر اردگان نے خوب واہ واہی حاصل کی۔ لیکن اسی مہینے میں دوسری طرف اردگانی حکومت اسی عالمی بینک سے 600 ملین امریکی ڈالر کے قرضہ کی درخواست دے رہی تھی۔ یہ ہے اردگان کا حقیقی چہرہ۔ دیکھیں اس خبر کو:
https://m.mobtada.com/details/735451
ابھی اسی ہفتے کی خبر ہے کہ امریکیپارلیمنٹ میں کچھ اراکین کی طرف سے یہ بل پیش کیا گیا ہے کہ ترکی پر زیادہ قرضہ لینے کی پابندی عائد کی جائے۔ اور جو پاس بھی ہو چکا ہے۔ دیکھیں اس ویب سائٹ کو:
https://www.aa.com.tr/ar/دولي/لجنة-بـالشيوخ-الأمريكي-تقر-مشروع-قانون-يقيّد-منح-قروض-لتركيا/1215193
👈مذکورہ قرضوں کو ترکی اگر لینا چھوڑ دے جیسا کہ اردگان نے دعوی کیا ہے اور ساتھ ہی اگر اسرائیل کے ساتھ اپنے تمام عسکری وتجارتی معاہدے ختم کردے۔ اور ساتھ ہی جسم فروشی اور شراب کے اڈوں کے لائسنس منسوخ کر دے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اسی دن اردگان کا ترکی دیوالیہ ہو جائے گا۔ چنانچہ أردگان یہودیوں کے ساتھ اپنے تمام کاروبار کو نیز جسم فروشی اور شراب کے اڈوں کے لائسنس کو کبھی ختم نہیں کر سکتا۔
یہ ہے اردگانی ترکی کی اقتصادی حقیقت جسے خود اردگان اور اسکے بھکت بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں۔
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق