السبت، 20 أكتوبر 2018

تدویل حرمين : مملكت توحيد كے خلاف ایک خطرناک حربہ🎪

🎪تدويل حرمين : مملكت توحيد كے خلاف ایک خطرناک حربہ🎪
✍ڈاکٹر اجمل منظور
💥تدويل اصل ميں دول  سے ماخوذ ہے جس كو انگلش ميں (Internationalization) كہتے ہيں ۔ يعنى كسى خاص جگہ يا امن وسلامتى كى تنظيم يا كسى خاص برى ، بحرى اور فضائى راستے كو انٹر نيشنلائز كردينا  يعنى اسے كسى ايك ملك يا كسى ايك تنظيم كے دائرے سے نكال كر كئى يا سارے ممالك كيلئے عام كردينا۔  چنانچہ جب تدويل حرمين  كا دعوى كيا جاتا ہے تو اس كا مفہوم يہى ہوتا ہے كہ حرمين يعنى مكہ مكرمہ ، مدينہ منوره اور حجاز ميں موجود سارے مشاعر مقدسہ كى سرپرستى صرف سعودى عرب نہ كرے بلكہ سارے مسلم ممالك كى طرف سے ايك كميٹى تشكيل دى جائے جس ميں مختلف مذاہب ومسالك كے حاملين شامل ہوں جو حرمين كى سرپرستى كرے نيز حج وعمره اور زيارت وغيره كى ذميدارى اسى عالمى تنظيم کی رہے۔ 
💥رافضيوں  اور بدعتيوں كى بہت پہلے سے يہ كوشش رہى ہے كہ حرمين شريفين كو مملكت سعودى عرب كى نگرانى اور سرپرستى سے نكال ديا جائے اور اقوام متحده كى طرح ايك عالمى تنظيم بنا كر اسى كے حوالے كر ديا جائے۔ رافضى اور بدعتى اسكے لئے بارہا احتجاج بهى كر چكے ہيں  اور ايرانى خمينى حكومت تو ہميشہ يہی رٹ لگاتى رہتى ہے۔ گزشتہ سال سے ملكى پيمانے پر تركى اور قطر بهى اس مطالبے ميں شامل ہوگئے ہيں اور تحريكيوں كى طرف سے بدعتيوں اور رافضيوں كے اس مذموم مطالبے كو جائز ٹھہرايا جا رہا ہے۔  چنانچہ جب بهى كبھى مملكت كے اندر كسى شرك وبدعت كے اڈے يا کسی شرکیہ عمل كو مٹايا جاتا ہے تو فورا يہ تكڑى (رافضى- بدعتى- تحريكى) حركت ميں آ جاتى ہے اور يہی مطالبہ شروع كر ديتى ہے۔ 
حالانکہ تاریخ اسلام میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہے کہ حرمین ایسی کسی تنظیم کی نگرانی میں رہا ہو، مقامی حکمران ہی ہمیشہ اس کے خادم رہے ہیں۔ حتی کہ ترکی حکومت کے دور میں بھی مصری پاشاؤوں کی طرف سے مکہ کے اشراف کا خاندان نگہبان تھا۔ اب جو تاریخ میں کبھی نہ ہوا اسکا مطالبہ جہاں غیر معقول اور غیر ضروری ہے وہیں پر یہ سازش اور بد نیتی پر مبنی بھی ہے۔
💥مرکز توحید کا بت خانوں سے کیا موازنہ مگر بر سبیل تذکرہ دیکھ لیں کہ جتنے پیر فقیر کے آستانے اور مزار ہیں کیا وہ ایسی کسی تنظیم کے تابع ہیں جب کہ وہاں کے سارے سجادہ نشین اور سارے بابے بین الاقوامی ہیں: اجمیر کے چشتی سے لے کر ملتان کے بابا فرید الدین تک جو انتہائی بد نظمی کے ساتھ عرس مناتے ہیں پھر بھی ان سجادہ نشینوں سے لے کر کسی عالمی تنظیم کے حوالے کرنے کی بات نہیں کی جاتی اور نہ ہی ان مزاروں کو انٹر نیشنلائز کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ حد تو یہ  ہے کہ خود مقامی حکومتیں ان میں دخل نہیں دیتیں۔ حالانکہ ان سب کے مرید اور زائرین ساری دنیا سے آتے ہیں۔ اور جہاں اکثر بد نظمی کی وجہ سے حادثات بھی ہوتے رہتے ہیں‌۔
ہاں کیا ایران خود نجف اور قم کے دینی مراکز کو  کسی ایسی تنظیم  کے حوالے کر سکتا ہے جو عالمی ہو جس میں سارے مذاہب ومسالک کے مسلمانوں کی نمائندگی ہو؟! اگر ان خود ساختہ مزاروں اور درگاہوں کو انٹر نیشنلائز کیا نیشنلائز تک نہیں کیا جاتا تو پھر حرمین شریفین جیسے کتاب وسنت سے ثابت اٹل مقدس مقامات کے بارے میں ایسی بے ہودہ مطالبے کیوں کئے جاتے ہیں؟؟
💥چونكہ حجاز ميں تركى حكومت كے دوران سارے خرافات ، شرك وبدعات  اور حرم ميں تقليد كے بدنما داغ چار مصلے پائے جاتے تھے ، مزارات قبے اور خانقاہوں كى بهر مار تهى ۔ ليكن بانى مملكت ملك عبد العزيز نے آكر ان سب كو جڑ سے ختم كر ديا جس سے ان ناعاقبت انديشوں او ردين كے ٹھيكيداروں كى لوٹيا ڈوب گئى ۔ مزارات ، شرك وبدعات اور خرافات كے نام پر سارے دهندے فيل ہوگئے۔ چار مصلى كے نام پر حرم مكى كے اندر تقليديوں كى دھينگا مستى پر لگام لگ گيا۔ 
آج پورے حجاز ميں آپ كہيں بهى شرك كى كوئى نشانى نہيں ديكھيں گے۔ يہى اس تكڑى كا درد ہے اور يہى اسكى پريشانى ہے ۔ يہ چاہتے ہيں چار كے بدلے اب حرمين ميں پانچ پانچ مصلے بنيں یعنی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی کے علاوہ رافضیوں کا جعفری مصلی بھی نصب کر دیا جائے۔ اور اس طرح پہلے سے زیادہ بھیانک انداز میں شرك وبدعت اور تقليد کی لعنتيں پهر سے حرمين ميں برسنا شروع كر دیں۔ يہ چاہتے ہيں كہ پيرى مريدى كا دور حرمين ميں بهى شروع ہوجائے اور عوام كو بيوقوف بنا كر   دين كے نام پر گرم بازارى پهر سے شروع كيا جائے۔  ان كى شديد خواہش ہے كہ مكہ اور مدينہ كى ہر قبر پر مزار بنے اور سب كا ايك ايك سجاده نشين ہو اور اسكے ساتھ مواليوں اور ديوانوں كى ايك ٹيم ہو جو سبز چادر اور كالى كملى كے نام پر معصوم او ر بهولے عوام كى جيبوں پر ڈاكہ زنى شروع كرديں ۔ بر صغيرى مزاروں پر معصوم لوگوں اور پاكدامن عورتوں كے ساتھ جو سارے كھيل كهيلے جاتے ہيں وه سارے كهيل وہاں بهى عام ہوجائيں۔ يہ اس بات كيلئے آہيں بهر بھر كر بد دعا كرتے ہيں كہ آل سعود كى حكومت ختم ہو تاكہ اس پرفتن دور ميں تقدس كے نام پر وہاں كى تمام چيزوں ، شجر وحجر، مٹى اور پانى وغيره سب كى تجارت شروع كردى جائے۔ ايك گلاس آب زمزم پر كم ازم دس روپئے فيس لگا ديئے جائيں۔ اس طرح تعويذ گنڈوں اور بهوت پريت اور جن وشياطين كے نام پر اس مقدس سرزمين پر ان کی چاندى ہى چاندى ہوگى۔ حجر اسود کے چومنے  اور روضہ ميں دو ركعت نفل پڑھنے  پر بهارى فيس لگا دى جائے اس سے وہاں بھيڑ بهى كم ہوگى اور پيسے كا پيسہ بهى بنے گا۔ 
💥کہتے ہیں کہ 1974 ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺷﺎﮦ ﻓﯿﺼﻞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺋﮯ تو ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ذو الفقار ﺑﮭﭩﻮ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺳﯿﮩﻮﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ لال شہباز قلندر کے ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﻼﻡ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺷﺎﮦ ﻓﯿﺼﻞ  ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺳُﻨﮩﺮﯼ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮩﯿﮯ کہ: " ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﺍﺭ ﺑﻨﺎﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺟﮭﮑﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ قبر شریف اور ﺭﻭﺿﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭘﻮﺟﺘﮯ "
ﺑﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﻣﯿﺪﯾﮟ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻧﻮﻣﯿﺪﯼ
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓــــــــﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ
💥ليكن ميں سمجهتا ہوں كہ رفض وتحريكيت اور بدعت وتقليديت كى تكڑى  كا یہ سازشی کھیل یعنی (تدويل حرمين ) مملكت توحيد كے خلاف آخرى حربہ ہے جو كبهى پورا نہيں ہوگا اور ان كا يہ پر حسرت خواب كبهى شرمنده تعبير نہيں ہو گا۔ يہ اپنے انہيں حسرتوں اور خوابوں كو ليكر دنيا سے رخصت ہوجائيں گے۔ اور حرمين شريفين  كے اندر مملكت توحيد كى سرپرستى ميں كتاب وسنت كا پرچم لہراتا رہے گا۔ 
اسی لئے حاليہ قطر كے اس  سازشى مطالبے پر كسى نے كان نہيں دهرا بلكہ ازہر سے يہ بيان آيا: 
((إن إقحام الحرمين الشريفين في الخلافات السياسية يؤدي إلى إثارة الفتن وتدمير الأمة الإسلامية ويمزق وحدتها، وهذا غير جائز شرعا وينهى عنه الإسلام ورسوله محمد صلى الله عليه وسلم، ويخالف أحكام الشريعة الإسلامية، وأن فكرة تدويل الحرمين الشريفين، يعد مساسا بالمقدسات الدينية، التي أمرنا الله تعالى ورسوله بالدفاع عنها وتقديسها وشد الرحال إليها.))
ترجمہ: حرمين شريفين كو سياسى اختلافات ميں لانا ايك خطرناك امر ہے اس سے فتنے پيدا ہوں گے، امت اسلاميہ مزيد تباہى كا شكار ہوگى اور اسكى وحدت پاره پاره ہوجائے گى۔ يہ شرعا بهى ناجائز ہے۔ اسلامى شريعت كے بالكل خلاف ہے ۔ تدويل حرمين كى يہ (گندى) سوچ  ان مشاعر مقدسہ  اور دينى مقامات كے لئے انتہائى تباه كن ثابت ہوگاجن كی دفاع ، جن كى تقديس اور جہاں حج وعمرے كى نيت سےزيارت كرنے كاحكم ہميں الله اور رسول نے دے ركھا ہے ۔
دراصل قطر كى طرف سے شروع سال ميں يہ پروپيگنڈه كيا گيا كہ ايك عالمى تنظيم بنائى گئى ہے جسكا مركز ملائشيا ميں ہے جو حرمين شريفين كى ديكھ بهال كرے گى۔  بغير دُم كے اس جهوٹ كو قطرى ذرائع ابلاغ اور رافضى چينلوں نے خوب پھيلايا خصوصا الجزيره، جريدة الشرق اور الراية نے ۔  قطرى حكومت نے يہ بهى الزام لگايا كہ قطرى عوام كو حج كيلئے سعودى حكومت اجازت نہيں دے رہى ہے۔ جسكا سعودى وزارت خارجہ نے سختى سے انكار كيا۔ بلكہ ديكها گيا كہ قطرى حكومت نے خود ہى قطری عوام پر  سختى كر ركهى تهى۔
💥در اصل اس سے ان اعدائے مملكہ كا اصلى مقصد  سعودى عرب كے خلاف رائے عامہ كو ہموار كرنا، حرمين شريفين ميں بدامنى پهيلانا (جسكا ارتكاب رافضى كئى بار كر چكے ہيں)، اور پھر  دنيا ميں يہ مشہور كرنا كہ سعودى حكومت حرمين كى حفاظت ميں فيل ہوچكى ہے۔ 
ان سارى خباثتوں كو اور حرمين شريفين كے تعلق سے ان كى بدنيتوں كو ان دونوں سائٹ پر تفصيل سے ديكھ سكتے ہيں: 
http://www.alittihad.ae/mobile/details.php?id=9124&y=2018
http://www.alhayat.com/article/914831/تحذيرات-لقطر-الدعوة-ل-تدويل-الحرمين-علان-حرب
💥سوال يہ ہے كہ جس عظيم الشان پيمانے پر سعودى حكومت حرمين ميں انتظام كرتى ہے ، زائرين كيلئے تمام طرح كى سہولت مہيا كرتى ہے كيا اس طرح قطر، تركى ، ايران يا كوئى بهى ملك يا تنظيم كر سكتى ہے؟؟ نیز ان صوفی تقلیدیوں، مجوسی رافضیوں، قطبی تحریکیوں اور قبر پرست بدعتیوں کی طرف سے جو یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ حج وعمرہ کی آمدنی کو آل سعود نے اپنی ملکیت سمجھ رکھی ہے اور اس آمدنی کو اس خاندان کے شہزادے اپنی تعیش پرستی میں اڑا دیتے ہیں۔ اسکی کیا حقیقت ہے نیز کیا اس میں کچھ سچائی بھی ہے یا یہ کفران نعمت کے ساتھ ساتھ نرا تہمت اور آل سعود پر سراسر الزام ہے؟؟!! پیش ہے اس پر ایک مختصر جائزہ: 
مملکت توحید کے حاسدین اور گداگران وقت ایک عجیب مضحکہ خیز پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ حج وعمرہ سے حاصل آمدنی صرف سعودی حکمرانوں ہی کی ملکیت نہیں ہے بلکہ اسے سارے عربوں پر مساوی تقسیم ہونا چاہئے۔ دشمنان مملکہ اور اسکے حاسدین کے اس عجیب پر فریب پروپیگنڈے کے پیش نظر ضروری سمجھا گیا کہ حج وعمرہ کے اخراجات اور اس کی آمدنی کے تعلق سے اس مکروہ فتنہ پرور گروہ کے سامنے کچھ حقائق اور وضاحتیں پیش کی جائیں: 
1) صرف مسجد حرام کی توسیع پر بانی مملکت سے لیکر حالیہ فرمانروا شاہ سلمان تک سعودی عرب نے کل 300 ارب ریال خرچ کیا ہے۔ 
2) حج وعمرہ سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدنی دس سے پندرہ ارب ریال ہے۔ ایک سعودی مخالف ویب سائٹ میں سالانہ 12 ارب ریال آمدنی بتائی گئی ہے۔ دیکھیں اس ویب سائٹ کو:
https://www.alaraby.co.uk/economy/2017/9/4/الحج-والعمرة-يدران-على-السعودية-12-مليار-دولار-سنويا
معلوم ہونا چاہئیے کہ یہ آمدنی صرف حرم مکی پر آنے والے اخراجات کا پانچ فیصد بھی نہیں ہے۔ اس اخراجات میں مسجد نبوی کی تاریخ ساز توسیع اور منی، مزدلفہ اور عرفات کی توسیع کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ حرمین کی صرف آخری توسیع پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ 100 ارب ریال سے زیادہ بتایا گیا ہے دیکھیں یہ ویب سائٹ:
http://www.alekhbariya.net/ar/node/18971
3) مسجد نبوی کی حالیہ توسیع میں اخراجات کا مجموعی لاگت 30 ارب ریال ہے۔  مسجد نبوی کی توسیع اور اس پر آنے والے اخراجات کی تفصیل کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے: 
http://www.alyaum.com/articles/127779/
4) مکہ مکرمہ کے اندر مشاعر مقدسہ میں ریلوے کا مجموعی لاگت 4 ارب ریال ہے۔  
ریلوے کی لاگت کا تخمینہ یہاں دیکھ سکتے ہیں:
http://www.waraqat.net/15488/
5) منی میں جمرات پر بنے پلوں کا لاگت تقریبا 2 ارب ریال ہے۔ 
صحیفہ عکاظ نے جمرات پر بنے پلوں اور سہولتوں کی تفصیل نیز اس پر آئی لاگت کو اس عنوان سے ذکر کیا ہے ((6 طوابق حولت منشأة الجمرات لأضخم مشروع عالمي
بتكلفة 6 مليارات وتستوعب 300 ألف حاج في الساعة)):
https://www.google.co.in/amp/s/www.okaz.com.sa/ampArticle/1017992
6) غلاف کعبہ کی سالانہ اخراجات 13 ملین ریال سے زیادہ ہے۔ 
حرمین شریفین کے تعلق سے تفصیلی معلومات اسکے اس ذاتی ویب سائٹ سے حاصل کر سکتے ہیں جہاں ((عمارة المسجد الحرام والمسجد النبوی في العهد السعودي الزاهر)) کے عنوان سے سب کچھ موجود ہے: 
http://www.alharamain.gov.sa/index.cfm?do=cms.conarticle&contentid=5825&categoryid=1004
اخراجات کی کچھ تفصیل اس لنک پر موجود ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1315311201908845&id=505735169533123
7) مجمع ملک فہد پرنٹنگ قرآن کے تحت 10 ملین نسخے سالانہ چھپائی ہوتی ہے۔ 39 زبانوں میں 55 مختلف ترجمے بھی چھاپے جاتے ہیں۔ اس پریس میں 1700 ملازمین کام کرتے ہیں۔ اس کا پورا خرچ للہ فی اللہ سعودی حکومت اٹھاتی ہے۔ یہ ٹوٹل وقف للہ ہے۔ پوری دنیا میں قرآن کے نسخے اور تراجم پہنچائے جاتے ہیں۔ 
8) پرنٹنگ پریس برائے قرآن کریم کی طرح گزشتہ سال ملک سلمان نے ایک اور پرنٹنگ پریس برائے حدیث شریف کی بھی بنیاد رکھی ہے۔ وہ بھی وقف للہ ہے۔ 
9) آب زمزم کی نکاسی اور حرمین شریفین و مقامات مقدسہ تک اسکی سپلائی خاص طور سے ٹینکر کے ذریعے مدینہ تک سپلائی اور اس کا پورا عملہ۔ اس کا پورا خرچ بھی سعودی حکومت ہی برداشت کرتی ہے جو وقف للہ ہے۔ 
یہ سارے اخراجات بجلی، پانی، حرمین کے ملازمین اور اسکے سیکورٹی گارڈ اور محافظ دستے وغیرہ کے علاوہ ہے۔ 
💥ایسی صورت حال میں عملا ہونا تو یہی چاہیے کہ سعودی عرب تمام مسلم دیشوں سے ان کا مطالبہ کرے کیوں کہ ان کے بقول یہ صرف سعودی عرب کی ملکیت نہیں ہے بلکہ سارے عرب اور مسلم ممالک کا بھی اس میں حصہ ہے۔ نیز حرمین شریفین کی سہولیات سے سارے مسلمان برابر مستفید ہوتے ہیں۔ 
 لیکن سعودی عرب نہ تو اس کا کسی سے مطالبہ کرتا ہے اور نہ ہی کسی کے سامنے اس کا پورا حساب پیش کرتا ہے کہ وہ شاہی خزانے سے حرمین شریفین پر کتنا خرچ کر رہا ہے۔ اس سے ایک معمولی عقل والا آدمی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ حرمین شریفین سے ہونے والی آمدنی اس پر آنے والے اخراجات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہے۔ 
اب یہ الزام لگانا کہ حرمین شریفین سے ہونے والی آمدنی سے آل سعود مستی اڑاتے ہیں کس قدر انسانیت سے گری ہوئی گھٹیا حرکت ہے!!! لیکن یہ ایک پروپیگنڈہ ہے جس کے پیچھے ان کی وہ ساری خباثتیں کار فرما ہیں جو مسلکی تعصب، سلفیت دشمنی کے آڑ میں پھیلا رہے ہیں کیونکہ ایک عرصے سے مملکت توحید میں شرک وبدعت پر لگام، رفض وتشیع کے انتشار پر ضرب محمدی اور تحریکیت وحزبیت پر غضب سلمانی کا کوڑا برسنے رہا ہے جس سے یہ تکڑی اب تک بلبلا رہی ہے۔ 
دعا ہے کہ اللہ رب العزت مملکہ اور اسکے حکمرانوں کو اسلامی عقیدے پر قائم رہنے ، کتاب وسنت پر مبنی سلفی منہج کو پھیلانے، غلو، تشدد اور ہر طرح کی تخریب کاری کرنے والوں کو صفایا کرنے کی توفیق بخشے۔شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو اچھے وزراءاور ناصح علماءعنایت فرمائے، مملکہ کو اس کے حاسدین اور معارضین کی نظر بد سے بچائے نیز دن دونی رات چوگنی اسے ترقی دے۔ آمین۔

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...