🎪عالم اسلام پر نفاق کا الزام اور "فقيه عصر"؟!(١)🎪
@هوئے کس درجہ فقيهان " دكن" بے توفيق@
✍ڈاکٹر اجمل منظور
(یہ در اصل جواب ہے جناب خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے اس مضمون کا جسکو موصوف نے سعودی عرب کے خلاف دو قسطوں میں لکھا ہے "عالم اسلام پر نفاق کے گہرے بادل" کے نام سے جسے رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں انقلاب اخبار میں چھاپا بھی گیا ہے اور انہیں ان لنکس پر دیکھا جا سکتا ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1669455769841544&id=100003314109475
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1052632128218112&id=100004140030533
موصوف اپنے اس مضمون کے ساتھ پہلی مرتبہ کھل کر سامنے آئے ہیں)
💥ابھی تک میں خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کو سلجھا ہوا غیر متعصب حنفی فقہ کا ایک مقلد عالم سمجھتا تھا جن کے سعودی عرب سے اچھے تعلقات تھے۔ اور اسی تعلقات کی بنیاد پر شاہی مہمان بن کر حج بھی کرتے ہیں، اپنے ادارے المعھد العالی الاسلامی کیلئے سعودی چندے بھی لاتے ہیں۔ اور لگے ہاتھوں فری میں اپنے بچوں کا مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ بھی دلواتے ہیں۔
لیکن اچانک سعودی عرب سے محترم کا کیا بگاڑ ہو گیا چندے بند ہوگئے یا اس سال حج کے لیے شاہی مہمان نہیں بن پائے؟ یا کوئی اور وجہ ہو گئی جس کی بنیاد پر جناب والا نے زیادہ دنوں تک اپنی اصلیت نہ چھپا سکے اور مجھ جیسے کتنوں کے بھرم کو توڑ کر اور اپنے آج تک کے منافقانہ چال سے باہر آکے اندر بسی ہوئی مدتوں سے سعودی عرب کے بغض وعداوت اور کینہ وکپٹ اور اپنے سارے زہر کو ایک ساتھ اگل دیا۔
💥کوئی تحریکی سعودی عرب پر کچھ لکھ مارے اور اس پر کفر ونفاق کا فتویٰ نہ لگائے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ تو کیا یہ محض اتفاق ہے یا سابق قطبی تکفیریوں کا تسلسل ہے۔ اس مضمون سے تو بالکل یہی جھلک رہا ہے۔ بلکہ تعصب اور بغض توحید میں اڑے ہوئے کا ننگاپن ظاہر ہو گیا اس مضمون میں جس نے رمضان مبارک میں طبیعت کو مکدر کر کے رکھ دیا جو "سماعون للكذب " کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔
مجھے تو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ مضمون جناب خالد سیف اللہ صاحب کا ہوگا۔ مجھے گذشتہ سال کا وہ مضمون یاد آرہا ہے جسے آپ نے حج کی واپسی پر لکھا تھا کہ جس میں موصوف نے سعودی عرب کی جم کر تعریف کی تھی۔ لیکن اس وقت یقین کرنا پڑا جب انہیں کے "گھرانے" کے ایک دوسرے نمبر پر نظر پڑی جسے لوگ سید گہر والا سلمان حسینی کہتے ہیں۔ جنہوں نے بالکل موصوف کی طرح یا ان سے کچھ زیادہ ہی سعودی عرب کی ملائی کھا رکھی تھی ۔ وہاں باپ بیٹے دونوں فری میں پڑھائی کی۔ کٹولی کیلیے خوب چندے بھی بٹورے۔ سعودی شاہوں کے پاس انہوں نے مبارکبادی کے خطوط بھی بھیجے۔ لیکن کیا وجہ بنی وہی جانتے ہوں گے اچانک سعودی مخالف بن گئے اور وہی سعودی عرب جو کل تک ان کا باپ دادا تھا، سرپرست اور متبرع کبیر تھا اچانک دنیا کی سب سے بڑی ظالم اور مجرم حکومت بن گئی جس کے خلاف پورے مسلمانوں کو لام بند ہونے کے لئے للکارا اور بری بری بھٹیارن والی گالیوں سے بھی نوازا اور کھل کر بندہ صاف صاف اپنے اصلی روپ میں آگیا۔ یعنی توحید پرست سعودی عرب کے خلاف ایک مقلد تحریکی دوسروں کے مقابلے زیادہ ہی بغض و عناد رکھتا ہے۔
💥آل سعود کے جرائم کے عنوان سے کیا کیا الزام لگایا اور کلا پھاڑ پھاڑ کے برا بھلا کہا ہے لگتا ہے سات پشت سے بندے کی دشمنی رہی ہو آل سعود سے اتنا بغض تو روافض بھی نہیں رکھتے ہوں گے۔ سنیں اور الزامات کو شمار کرتے جائیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1101536679980938&id=1101018710032735
(مسلمانو! آل سعود کو سبق سکھا دو کہ اب تمہاری حکومت نہیں رہے گی۔ سلمان ندوی) سعودی عرب سے تحریکی دشمنی کی ایک مثال۔
سید گہر والا نے تو حدیثوں سے غلط استدلال کر کے آل سعود کو نعوذباللہ ماں بہن کی گالی دینے کی لوگوں سے اپیل بھی کی ہے۔ اب پتہ نہیں کتنے سلمانی بھکت اسے درست مان کر آل سعود کی نیکیوں میں اضافہ کرتے ہوں گے۔
اس بندے کا تو واضح ہو چکا کہ کٹولی کا کٹورا نہ بھرنے کی وجہ سے کھل کر اپنے اصلی روپ میں آیا۔ لیکن اس بی کاپی کا ابھی تک سراغ نہیں لگ پا رہا ہے کہ اتنے دنوں تک بغض وعناد چھپا کر اچانک اصلی روپ میں کیوں کر آیا؟! لیکن کچھ تو ھے جس کی پردہ داری ہے۔
💥منافقت پر لکھنے سے ہزار بار ایسے شخص کو سوچنا چاہیے تھا کہ ابھی تک وہ خود کس حالت میں تھا؟
در اصل یہ لوگ خود اصلی نفاق کے حامل ھیں، بیٹے کو مدینہ پڑھنے کے لئے بھیج دیا اس وقت سعودی عرب میں کوئی خرابی نہیں نظر آئی، شاہی خرچ پر فری میں حج کرتے رہے کوئی خرابی نہیں۔
دراصل یہ سڑے ھوئے صوفی ھیں، ان کی کتابوں میں قرآن وحدیث کا ذکر بھی خال خال ھی نظر آئے گا، ان کی ایک کتاب ھے حلال و حرام، صرف فقہاء کے اقوال سے بھری پڑی ھے کتاب.
💥میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ مکار اور منافق تقلید پرست جتنا سعودی عرب سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں توحید پرست اس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔ کتنی سعودی ایڈ رفاہی تنظمیں ہیں جو پورے طور پر انہیں تقلیدیوں کے زیر نگرانی ہیں جہاں توحید پرستوں کیلئے پہونچنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے ہائیر ایجوکیشن کے نام پر مسلم بچوں اور بچیوں کو وظیفہ ملتا ہے۔ جدہ بیس دہلی میں اسکا مرکز ہے جہاں پورے طور پر تقلیدی بھرے ہوئے ہیں۔ مجال ہے کسی توحید پرست کے بچے انٹرویو میں پاس کرکے وظیفہ حاصل کر لیں۔ اس کے باوجود یہ نفرت، یہ منافقت اللہ کی پناہ!!!
جناب خالد سیف الله صاحب کے مضمون کا عربی ترجمہ کرکے سعودی سفارت خانہ کو بھیجا جائے۔ اس قسم کے کینہ پرور ہی سعودیہ کے خرچہ پر بار بار حج اور عمرہ پر جاتے ہیں اور انہیں کھلا دھوکہ دیتے ہیں۔ اور دوسرے ہمیں خود سوچنا چاہیے کہ ہماری اچھائیوں کا غلط ترجمہ تو یہ تحریکی اور ندوی سعودیہ کو بھیج دیتے ہیں مگر ہم ان کی بدبودار خباثتوں سے کتنا باخبر کراتے ہیں...؟
نیز ایسے موقع پر وہ سلفی حضرات بھی شدت سے یاد آتے ہیں جو تحریکیوں میں سلفیوں کے لیے خیر کا تصور رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں ان کے لیے نرم گوشہ ہی نہیں بلکہ صفائی ستھرائی پیش کرتے ہیں۔ خوش فہمی کے شکار ان حضرات کو کم از کم اب تو ہوش میں آ جانا چاہیے۔
💥مملکت توحید پر بلا ضرورت کچھ بھی لکھ مارنا آج کل کا جدید ترین فیشن ہے۔ بہت سے مبغضین مملکت اکٹھا ہو کر دو چار گالی دیدیتے ہیں اور دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔ لیکن کیا منافق عصر کا یہ مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے مجھے تو ایسا نہیں لگتا ہے۔ پہلے محسن عثمانی ندوی کا زہر اور اب خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا اس پر تیل ڈالنا کہیں کوئی طے شدہ پروگرام تو نہیں ؟؟؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سلمان ندوی کو مسلم پرسنل لاء بورڈ میں واپس لانے کی تیاری ہو رہی ہو؟ اور اس کا غاز سعودی عرب پر گرایا جا رہا ہو۔ اس انڈسٹری (آل سعود کو گالی دیکر اپنا الو سیدھا کرنا) پر روک لگنی چاہئے۔
💥ایسے مغلظات، جھوٹ، نفاق، الزامات اور پروپیگنڈے بھکتوں کے لئے "ملفوظات فقیہ العصر" ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ سعودی عرب جاکر اپنی ننگی آنکھوں سے وہاں کا منظر دیکھیں تب ان کی سمجھ میں آئے گا کہ یہ وہ ملفوظات مبنی بر نفاق ہیں۔
ایک مقلد بھی فقیہ ہوسکتا ہے، اور وہ بھی فقیہ عصر، آج پتہ چلا! مقلد جسکی عقل جامد ہوجاتی ہے بھلا اسکے پاس فقاہت کیسے اور کیونکر آسکتی ہے؟ اسے تو اسکی ضرورت ہی نہیں پیش آنی چاہئیے ! ابھی کوکب نورانی حنفی مقلد نے ٹی وی چینل پر بیان دیا کہ ایک مقلد کو صرف امام کے قول سے مطلب ھے نہ کہ قرآن وحدیث سے۔ اور یقینا اس نے گھر کی بات بتائی ھے۔
💥حضرت کا مسلکی تعصب، علمی خیانتیں اور تمام بے اعتدالیاں ان کی کتاب "راہ اعتدال" میں دیکھیں۔ واقعی اس حدیث کا مطلب کہ شراب کا نام بدل کر پیا جائے گا اس کتاب کو دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ اتنا خوشنما نام رکھ کر کس طرح علم کا خون کیا گیا ھے۔ اسے سمجھنے کیلئے "احسن الجدال" ضرور پڑھیں جو اس لنک پر موجود ہے:
http://kitabosunnat.com/kutub-library/ahsan-al-jadal-bajawab-rahe-aitidal
اسی کتاب کے صفحہ 28 پر لکھتے ہیں: (( امام ابو حنیفہ کو مطعون کرنا ہمارے یہ بھائی (اہل حدیث) عین تقاضائے ایمان تصور کرتے ہیں۔))
اھل حدیث کا کٹر دشمن ہی ایسا پرچار کر سکتا ہے۔
ان کے بھکتوں نے انہیں معتدل غیر متعصب صرف یہاں اور سعودی عرب وغیرہ میں مشہور کر رکھا ہے ورنہ اس میں نصف فیصد بھی سچائی نہیں ہے۔
💥جناب خالد سیف الله صاحب نے اتنے اہم منصب پر فائز ہوکر بھی من گھڑت اور بہت ساری ان افواہوں پر اعتماد کرکے یہ مضمون لکھ مارا ہے جن کے متعلق سعودیہ نے آفیشیل طور پر تردید بھی کی ہے۔ ممکن ہے کچھ باتیں درست بھی ہوں لیکن ایک شخص اپنے بیان میں معمولی سچ کے ساتھ بلا تحقیق جھوٹ کی اتنی لمبی فہرست بھی آمیزش کر لے گا اس بات کی توقع موصوف سے بالکل نہیں تھی۔ لیکن انسانی نظروں سے گرانے اور ناقابل اعتبار بنانے کیلئے اللہ سبحانہ وتعالی کوئی نہ کوئی سبیل نکال ہی دیتا ہے۔
مسلم پرسنل لاء کی سکریٹری شپ چھوڑئے بلکہ ممبر شپ سے بھی استعفی کا مطالبہ کرنا چاہئے کہ ایک جھوٹا اور بلا تحقیق جھوٹ پھیلانے والا شخص اس اہم ادارہ کا ذمہ دار کیا ممبر بھی نہیں رہ سکتا۔
تقلیدی تحریکیوں کا حال یہ ہے کہ یہ ملوکیت کے سخت مخالفت کرتے ہیں لیکن دین سے لیکر دنیا تک ہر جگہ وارث اپنے بچوں کو ہی بناتے ہیں۔ در اصل حقیقت میں اصلی جڑ تقلید کی کھائی ھے۔ ان کے یہاں ملوکیت صرفـ"آل سعود" کی مبغوض ہے. وگرنہ اسی ملوکیت میں اگر زینی دحلان جیسے لوگوں کو مملکہ کا قاضی بنا دیا جائے تو وہی ملوکیت محبوب ہی نہیں جان سے بھی پیاری ہو جائے گی۔
💥موصوف کے تعصب کا تو یہ حال ہے کہ کسی نے پوچھا کہ اہل حدیث کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ فرمایا: ہاں، اگر صحابہ کرام کو گالی نہ دیتا ہو۔ تین طلاق کے مسئلہ میں آج تک متعصبانہ گفتگو،،، اور ہر بار اسی اسلوب میں بات کہ: شیعہ اور اہل حدیث کے یہاں ایک ہے۔
نفاق کی تو بات ہی الگ ہے۔ جناب اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہتے ہیں کہ اسلام میں حلالہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ بھی انگریزی میں۔ لیکن اسی طلاق ثلاثہ اور حلالہ کے بچاؤ میں ان عورتوں کو سڑک پر لے آتے ہیں جنہیں نماز پڑھنے کیلئے مسجدوں میں جانے سے منع کردیتے ہیں۔
💥موصوف کے تعصب کا نظارہ کرنا ہو تو انکی کتاب "جدید فقہی مسائل" کا مطالعہ کریں ان کا وہ اعتدال کا چہرہ کھل کر سامنے آ جائے گا جس کے لئے غیروں میں مشہور ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے سارے مسائل کو حنفی بنانے کی کوشش کی ہے۔ بالکل اسی طرح ایک بڑے حنفی مقلد انور شاہ کشمیری کے بارے آتا ہے کہ ایک مرتبہ مصری عالم جناب رشید رضا دیوبند تشریف لائے۔ کلاس میں"بیع مصراة" والی حدیث پڑھا رہے تھے۔ اور رشید رضا صاحب سن رہے تھے۔ کشمیری نے کہا: یہ حدیث چونکہ شافعی مسلک کے حق میں ہے اس لیے ہم اسے نہیں مان سکتے۔ ہم تو ابو حنیفہ کے مقلد ہیں۔ اتنا سننا تھا کہ رشید رضا چونک پڑے اور تعجب سے کہا: سبحان الله أصبح الحديث أيضا شافعيا وحنفيا. یعنی تعجب ہے تم لوگوں کے یہاں حدیث بھی شافعی اور حنفی ہوتی ہے۔
چنانچہ ان کے یہاں اصل مسئلہ ڈیڑھ اینٹ کی مسلک کا ہے۔ حلالہ منحوسہ ہو یا ایک مجلس کی تین طلاق ہو اور اس سے اسلام اور مسلمانوں کی کتنی ہی کیوں نہ رسوائی ہو اسٹنگ آپریشن ہو مسلک کی دکان بند نہیں ہوگی کچھ بھی ہو جائے۔
💥جہاں تک اردگان کی بے جا حمایت ہے تو اسی سے تحریکی پہچانے جاتے ہیں. ورنہ اردگان کے نفاق اور اسکی صہیونیت نوازی کا پردہ جس طرح میں نے اپنے مختلف پوسٹوں میں فاش کیا ہے وہ کافی ھے۔ صرف ایک پوسٹ پر نظر ڈال لیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1509697815810167&id=100003098884948
رہی بات سعودیہ پر الزامات کی تو اس کا مختصر جواب درج ذیل ہے:
1- عالم اسلام پر نفاق کے گہرے بادل کے عنوان سے
ایک لمبی چوڑی تمہید نفاق کے لئے باندھی ہے اور آخر میں جا کر عربوں خصوصا ال سعود پر اسے بڑی عیاری سے چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو ایک سراسر تہمت الزام اور حرمت والے مہینے میں اپنے محسنین کے ساتھ احسان فراموشی اور دغا بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک دوسرے کی کردار کشی کرنے سے محفوظ رکھے۔
2- موصوف تمہید کے آخری حصے میں فرماتے ہیں: ((خلافت راشدہ کے بعد بنو امیہ اور بنو ہاشم بلکہ خود بنو ہاشم میں بنو عباس اور علویین کے درمیان ایسا کارزار برپا ہوا کہ ہزاروں مسلمان شہید ہو گئے، لوگوں نے خود اپنے رشتہ داروں اور قرابت مندوں کو قتل کر کے اپنی تلوار کی پیاس بجھائی، اورجب تک تاتاریوں نے خود ان کو تہہ وبالا نہیں کر دیا، وہ آپس میں ایک دوسرے کی خون ریزی میں مبتلا رہے۔))
قارئین کرام! کیا یہ زبان ایک ملحد مستشرق اور اھل سنت کے دشمن رافضیوں کی نہیں ہے؟! حضرت والا نے بنو امیہ اور عباسیہ کی روشن تاریخ اور خدمات اسلام کو بھلا کر اس طرح ان کا نقشہ کھینچا ہے جس سے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کشت و خون میں بتا دی۔ نعوذ باللہ
3- موصوف نفاق کے بارے میں آگے چل کر لکھتے ہیں:
((جب مسلمانوں کی قوت ایمانی پختہ رہی تو یہ فتنہ کمزور رہا اور جب مسلمان ضعف ایمانی کا شکار ہوگئے تو یہ فتنہ طاقت ور ہوگیا))
میں نہیں سمجھتا موصوف کا یہ اصول صحیح ہے۔ کیوںکہ نفاق مسلمانوں کی قوت ایمانی پختہ ہونے کے وقت ہی ہوتا ہے۔ اور کمزوری کے وقت نفاق کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس وقت سارے منافق اور تقیہ باز کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ منافقت یا تقیہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے آج روافض اور تحریکیوں کا حال ہے۔ بصورت دیگر اگر مسلمانوں کی حالت ایمانی اور حکومتی ہر اعتبار سے مضبوط ہو تو سامنے کھل کر آنے والے نفاق وتقیہ کی چادر اوڑھ لیں گے۔ لیکن موصوف یہ اصول بیان کر کے عربوں خصوصا آل سعود کو منافق بتانا چاہتے ہیں یہ بات اور بھی سر کے اوپر سے جا رہی ھے۔ کیوں کہ وہ حاکم ہیں اور فی الحال مد مقابل میں سارے تقیہ باز اور منافق کمزوری کا شکار ہیں۔ پھر انہیں منافقت کرنے کی کیا ضرورت؟!
4- نفاق کے تعلق سے ابو عثمان النھدی کی ایک روایت ذکر کی ہے لیکن نسبت نہدی نہ لکھ کر مہدی لکھا ہوا ہے۔ اب یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کتابت کی خامی ہے یا اس کا معاملہ کچھ مولانا علی میاں ندوی کی طرح ہے؟ کہ جب شیخ صلاح الدین نے مولانا علی میاں ندوی کے اوپر اپنی کتاب ذو الوجہین لکھ کر ان کے پاس بھیجی تو انہوں نے یہ کہ کر واپس کر دیا کہ اس میں بزرگوں کو کلاب کہا گیا ہے۔ حالانکہ وہ فرقہ کٌلّابیہ لکھا ہوا تھا۔
5- موصوف نے منافقین کے بارے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے یہ پیشین گوئی نقل کی ہے کہ قیامت کے قریب ہر قوم کی قیادت اہل نفاق کے ہاتھ میں آجائے گی ’’ لاتقوم الساعۃ حتیٰ یسود کل قوم منافقوھا‘‘ (المعجم الاوسط، حدیث نمبر: ۷۷۱۵)
سوال یہ ہے کہ اس طرح کی پیشین گوئی اللہ اور اسکے رسول کے علاوہ کیا کوئی امتی کر سکتا ہے؟ یا کہیں رافضیت کا اثر تو نہیں ہے۔ ویسے ایک صحابی اس طرح بغیر رسول اکرم کی طرف اشارہ کئے کہہ بھی نہیں سکتا۔ اسی لئے یہ روایت ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ( ضعيف جدا ) کہا ہے انظر حديث رقم : 4779 في ضعيف الجامع.
نفاق پر حدیثیں بھری پڑی ہیں لیکن "فقیہ عصر" کا تقلیدی اثر نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ لیکن جو راز کی بات ہے وہ یہ کہ ممکن ہے جناب کو حدیث کا ضعف معلوم رہا ہو لیکن چونکہ روایت سے قرب قیامت میں حکام کے منافق ہونے کا ذکر ہے۔ اور یہ قرب قیامت چل رہا ہے حرمین شریفین پر آل سعود حاکم ہیں۔ کام ہو گیا۔ روایت چاہے ضعیف ہو یا صحیح حرمین کے حکام منافق ثابت تو ہوئے!!!! (ہائے ضمیر کی بحرانی)
6- (( یہ تو امراء اور قائدین کا حال ہوا، دوسری طرف جو درباری علماء اور منصب دار ہوں گے ، وہ بھی ایسے اسلام دشمن قائدین کی ہاں میں ہاں ملائیں گے، ان کی تعریف کریں گے، انہیں یقین دلائیں گے کہ ان کا ہر فیصلہ درست ، ہر قدم مبارک اور ہر عمل عدل وانصاف کے مطابق ہے))
یہ تو ہر تحریکی کا عقیدہ ہے کہ وہ سعودی کے علماء کو درباری علماء کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کے یہاں علماء حق وہی ہیں جو حکام کے خلاف مظاہرہ کریں لوگوں کو اکسائیں اور خروج کے قائل ہوں۔ اس پر کچھ مزید کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
7- سقوط خلافت عثمانیہ تک عالم اسلام کے بارے میں مسلم حکمرانوں کے تعلق سے لکھا ہے:
((عمومی طور پر ایسانہیں ہوتا تھا کہ مسلمان حکمراں یہودی اور نصرانی ایجنڈے کو اپنے ملک میں نافذ کریں))
یعنی 1924 کے بعد مسلم حکمراں بالخصوص عرب حکمران ایسا کرتے ہیں نعوذ باللہ۔ یہ بھی تحریکیوں اور خارجیوں کا عقیدہ ہے۔
8- ((غرض کہ عالم اسلام کے بڑے حصہ خاص کر مشرق وسطیٰ پر ایسے آمروں کو اقتدار پر فائز کیا گیا، جو صرف نام کے مسلمان تھے، یاکسی خاص مذہبی تہوار کے موقع پر مسجد یا عیدگاہ آجاتے تھے؛ ورنہ اپنے دل ودماغ کے اعتبار سے پوری طرح یہودیوں، عیسائیوں اور کمیونسٹوں کے ساتھ تھے، اور زبان سے مصلحتاََ موقع بہ موقع اپنی مسلمانیت کا اظہار کرتے تھے۔))
مشرق وسطی کی اصطلاح مشہور ہے جس میں تمام عرب ممالک آتے ہیں۔ پھر کیا موصوف کے بیان کے مطابق عرب حکمرانوں خصوصاً سعودی حکمرانوں کا یہی حال رہا ہے؟! اس نقطے کو میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔
9- (لارنس آف عربیہ کو عرب ایسے نجات دہندہ شخص کی طرح دیکھنے لگے، جیسے کوئی مرید اپنے شیخ کو یا کوئی سعادت مند شاگرد اپنے استاذ کو دیکھتا ہے۔))
یہ شخص بالکل انگریزوں کی طرف سے جاسوس تھا جو ترکوں کے خلاف آل شریف کو بھڑکانے آیا تھا جن کی حجاز پر حکومت تھی۔ اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوا ۔ آل شریف نے ترکوں کے خلاف بغاوت کردی اور اس طرح انگریزوں کی مدد سے آل شریف نے ترکوں کو حجاز سے نکال باہر کردیا۔
اس سے آل سعود وغیرہ کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن موصوف نے جس طرح اپنی عبارت میں لفظوں کو جوڑا ہے اس سے ہر قاری پہلے آل سعود کو سمجھے گا اور یہی مطلوب ہے۔ واہ رے عیاری اور نفاق !
10- موصوف کہتے ہیں: ((مملکت سعودی عرب کا قیام بھی انگریزوں ہی کے تعاون سے ہوا تھا)).
یہ بالکل رافضیوں والی بات ہے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے سوائے موصوف کے رافضی چہرے کو پہچاننے کے۔
11- موصوف بے لاگ کہہ رہے ہیں: ((سیاسی اور معاشی نظام کو کبھی بھی حکومت (سعودی عرب) نے قانون شریعت کے سانچہ میں ڈھانے کی کوشش نہیں کی))۔
یہ جناب اپنے دعوے میں کتنے سچے ہیں اسکے لئے میرا یہ پوسٹ پڑھنے سے معلوم ہوجائے گا:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1477137992399483&id=100003098884948
11-((اگرچہ ان کی دماغی صحت کے بارے میں مغرب کے ایک حلقہ کی طرف سے سوالات کھڑے کئے جا رہے تھے؛ لیکن عمومی طور پر یہ رائے تھی کہ وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں))۔
موصوف شاہ سلمان کے بارے میں دین دار نیم پاگل ثابت کر کے کہنا کیا چاہتے ہیں؟! کیا جس طرح قطر میں فہد بن حمد کو کٹر دین پرست نیم پاگل کا الزام لگا کر قید کر دیا گیا کیوں کہ وہ ملک میں انقلاب کے سخت مخالف تھا اسی طرح شاہ سلمان کو شاہی تخت سے ہٹا دیا جائے؟! غیر معتبر یورپی پروپیگنڈوں پر اعتماد کر کے اس طرح نتیجہ نکالنا کیا معنی رکھتا ہے؟!
12- ((بجا طور پر تمام مسلمان اس وقت سب سے زیادہ تشویش اپنے مقامات مقدسہ کے بارے میں محسوس کرتے ہیں))
حضرت کو یہ تشویش ابرہان زمانہ حوثی باغیوں کی طرف سے میزائل حملے یا رافضی ایران کیطرف سے حرمین پر قبضے کو لیکر نہیں ہے۔ بلکہ حضرت کو تشویش وہاں پھیل رہی فحاشی اور حرمین کے انتظامی امور میں یہود ونصاری کے دخیل ہونے پر تشویش ھے۔ وہی رافضیوں اور تحریکیوں کے پروپیگنڈے کا اثر۔ کیا ایسا واقعی ھے؟ اس پر کوئی ثبوت کیوں نہیں پیش کیا جاتا؟
13- مخلوط تعلیم، مخلوط تفریح اور سینما وغیرہ کو ایسا رنگ دیکر پیش کیا ہے گویا سعودی عرب کوئی یورپی ملک ہو۔ بالکل ویسے ہی جیسے رافضی اور تحریکی عام طور سے مملکہ کے بارے میں پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں۔
14- ((محمد بن سلمان نے خود بیان دیا ہے کہ وہابیت کو کسی مذہبی جذبے کے تحت قبول نہیں کیا گیا تھا، امریکہ کے اشارہ پر قبول کیا گیا تھا، اور وہابیت نے سعودی عرب کو بہت نقصان پہنچایا ہے))
یہاں دیکھیں حضرت کس طرح کھل کر اپنے محسن سعودی عرب کے خلاف تازیانہ پیش کر رہے ہیں۔ رافضیوں کی کاٹ چھانٹ کر غلط بیانی کے ذریعے جو بات پھیلائی گئی اسی کو یہ حضرت صحیح مان کر بن سلمان کی طرف منسوب کر رہے ھیں۔ حالانکہ اس نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے۔ اس کی حقانیت اور اعدائے مملکت کی دشمنی کا پردہ چاک کرنے کیلئے پڑھیں میرے اس تفصیلی پوسٹ کو:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1615042328609048&id=100003098884948
15- ((ایک خبر یہ بھی آچکی ہے کہ فرانس کے دورے میں ٢٦/اپریل ۲۰۱۸ءکو انہوں نے پوپ فرانسس کے ساتھ ایک ایسے معاہدہ پر دستخط کیاہے، جس کے تحت پورے سعودی عرب میں چرچ کھولنے کی بات طے پائی ہے، ۔۔۔۔اس میں حرمین کا بھی استثنا نہیں ہے))
اس پروپیگنڈے کو ذکر کرکے "فقیہ عصر" اپنی کس دشمنی کا بدلہ چکانا چاہتے ہیں؟ نیز اپنے بھکتوں میں کیسی مقبولیت حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ قطر میں باقاعدہ جسوقت گرجا گھر بنایا جا رہا تھا اسی وقت اسے خبر نہ بنا کر سارے اعدائے مملکت سعودی عرب کے تعلق سے یہی پروپیگنڈہ پھیلا رہے تھے جسکی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اب موصوف کا قطر والی خبر چھوڑ کر اس پروپیگنڈے کو ذکر کرنا اس سے کیا پتہ چلتا ھے؟ وہی سلفیت سے پرخاش اور جلن۔
16- ((سعودی عرب نے بھی پہلے ہی سے اپنا پورا دفاعی نظام امریکہ کے حوالہ کر رکھا ہے، اور پٹرول کے کنویں پر کویت، عراق جنگ کے موقع پر ہی امریکہ نے اپنا پنجہ گاڑ دیا تھا، اب فکری اور تہذیبی اعتبار سے بھی مملکت اپنے آپ کو مغرب کے حوالہ کر رہی ہے۔))
ایسا لگ رہا ہے سلمان ندوی کی طرح ان کا بھی کھیل ختم ہو چکا ھے۔ سعودی عرب نے لگتا ہے انہیں بھی کسی خفیہ جرم کی پاداش میں طلاق بتہ دیدی ہے۔ ورنہ جان بوجھ کر یہ زبان استعمال نہ کرتے۔
کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی@ یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا۔
17- ((عالم اسلام میں سوائے ترکی کے ،نیز عالم عر ب اور خلیج میں سوائے قطر کے اکثر ممالک اس بڑی منافقانہ سازش کو قبول کر چکے ہیں))
اب سمجھ میں آگیا حضرت نے کیسی راہ نکالی ھے سلمان ندوی کی طرح۔ سارا مسئلہ جیب کا ہے ورنہ ترکی اور قطر کا معاملہ اور ان کا نفاق کون نہیں جانتا؟! میرے فیس بک پر قطر اور ترکی کے بارے میں پوسٹ بھرے پڑے ھیں۔ پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ منافق اصل میں کون ہے۔
18- ((ایک ظالم وجابر آمر (السیسی) نے مصر میں عوام کی منتخب حکومت جو” الاخوان المسلمون“کے زیر انتظام تھی، کو طاقت اور پیسے کے بل پر معزول کیا؛ تاکہ فلسطینیوں کا کوئی پُرسان حال باقی نہیں رہے، اور اسرائیل کے پڑوس میں کوئی ایسا ملک نہیں رہ پائے، جو اسرائیل کے عزائم میں رکاوٹ بن سکے))
یہ بات پوری کی پوری مجھے سلمان ندوی کی لگ رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے دونوں ایک جان دو قالب ہیں۔
اور السیسی یہودی نواز ہے یا اخوان المسلمین یہودیوں کے عزائم کو پورا کرتے ہیں اور کس طرح منافق بن کر الیکشن جیتتے ہیں انکی ساری عیاری جاننے کیلئے اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=169835447186377&id=100024797670854
19- حماس اور اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دینے پر حضرت عربوں پر ویسے ہی برس رہے ہیں جیسے سلمان ندوی اور دیگر تحریکی برستے ہیں۔ حالانکہ انکی خیانت اور خروج معروف ہے۔
20- ((اصل مسئلہ اس آمرانہ سرکاری دہشت گردی کا ہے ، جس کے زیر سایہ عرب ممالک کے عوام مظلومیت اور مقہوریت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔))
یہ بالکل قطبی تحریکی فرمان ھے جسے حضرت گھول کر پئیے ہوئے ہیں۔ یہی پرچار کر کے یہ تحریکی عوام کو حکمرانوں کے خلاف ابھارتے ہیں۔ عرب فسادیہ اسکی تازہ مثال ہے۔
21- ((افسوس کہ ہمارے ان حکمرانوں کو یہ بھی توفیق نہیں ہو سکی کہ وہ اس اعلان کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کرتے اور دو ٹوک انداز پر ٹرمپ کی تردید کرتے،))
امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے حوالے سے محترم یہ افسوس کر رہے ہیں۔ حالانکہ مذمتی بیان کے ساتھ ساتھ عرب لیگ اور او آئی سی دونوں کی میٹنگ بھی ہوئی ہے۔ لیکن نفرت اور تعصب انسان کو حق بات کہنے سے روک دیتا ہے۔
22- ((۴اپریل ۲۰۱۸ءکو سعودی عرب کے ولی عہد نے بیان دیا کہ اسرائیل کو اپنی سرزمین پر قابض رہنے کا حق حاصل ہے، کاش !یہی بیان فلسطینیوں کے بارے میں آتا۔ یہاں تک کہ اب سعودیہ کی طرف سے فلسطینیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے فارمولے کو قبول کر لیں؛ ورنہ انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا))
پہلے جملے میں دجل اور تحریف ہے جبکہ دوسرا جملہ نرا جھوٹ اور تہمت ہے۔ موصوف کی رافضی چال یہاں بھی نمایاں ہے۔ میرے اس پوسٹ میں اسکا جواب موجود ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1615042328609048&id=100003098884948
23- ((محمد بن نائف کو بلا وجہ معزول کرنے کے بعد اخبارات میں خبریں آئیں کہ اسرائیل کے پندرہ جنگی جہاز ریاض میں اتر چکے ہیں، اور سعودیہ کی طرف سے اس کی کوئی تردید نہیں کی گئی، اور اب خبر آئی ہے کہ سعودیہ حج کے سارے انتظامات اسرائیلی کمپنی کے حوالہ کر رہا ہے، افسوس))
یہ بھی موصوف کا مملکت توحید کے خلاف اپنے چھپے ہوئے بغض وعناد کو اگلنے کے سوا کچھ نہیں ہے ورنہ اس طرح جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈوں کا سہارا نہ لیتے۔
24- ((میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب*
*اسی عطار کے بیٹے سے دوا لیتے ہیں))
میر ہی کے شعر میں جوابا کہہ سکتے ہیں:
اس کے فریب لطف پہ مت جا کہ ہمنشیں
وہ دیر میرے حال پہ بھی مہرباں رہا
25- ((حقیقت یہ ہے کہ طیب اردگان کو جس قدر خراج محبت پیش کیا جائے کم ہے اور عالم اسلام کی بزدلی ،بے حمیتی اور غیرت اسلامی سے محرومی پر جس قدر رویا جائے کم ہے۔))
موصوف نے یہ بات ترکی کے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے پر لکھی ہے۔ کس قدر افسوس ھے حضرت والا پر کہ جس اردگان منافق نے یہودیوں سے سارے رابطے بنا رکھے ہوں اور سفیر واپس بلانے اور اسرائیلی سفیر کو ملک چھوڑنے کا ناٹک کر رہا ہو اسے خراج تحسین پیش کر رہے اور جس کے یہودیوں کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہ ہو اسے ملامت کر رہے ہیں۔ سچ ہے:
وعينُ الرِّضا عن كلَّ عيبٍ كليلة ٌ, وَلَكِنَّ عَينَ السُّخْطِ تُبْدي المَسَاوِيَا.
کم از کم یہ دونوں پوسٹ ضرور پڑھ لیں اردگان کے تعلق سے تاکہ مولانا کی اندھ بھکتی اور اور اردگانی منافقت کا پردہ فاش ہو جائے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1659785040801443&id=100003098884948
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1656130257833588&id=100003098884948
26-(( اسرائیل حماس پر حملہ آور ہوگا، اور جب ان کو غزہ چھوڑنا پڑے گاتو مصری فوج ان کو بھگا کر سینا کے بے آب وگیاہ صحراءمیں لے جائے گی، وہاں ان کو آباد کیا جائے گا، اور ان کی آباد کاری کے لئے سعودی عرب اور بعض خلیجی ممالک فائنانس کریں گے؛ تاکہ فلسطین کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے، اور اسرائیل پورے خطہ پر قابض ہو جائے))
موصوف کا اس افسانے کو بیان کرنے کا مقصد سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہیں قطر اور ترکی کے مقابلے سعودی اتحادیوں سے سخت نفرت ہے۔ اس لیے ان کے خلاف کچھ بھی پروپیگنڈہ کیا جائے سب وحی کے درجے میں ہو جاتے ہیں۔ ویسے تعصب انسان کو اس گھٹیا مقام تک پہنچا دیتی ہے اس مضمون کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا ۔
27- ((حکمرانوں کے علاوہ اگر کوئی اس کے خلاف آواز اُٹھا سکتا تھا تو وہ علماءتھے؛ لیکن ان جیسے ممالک میں علماءربانیین کی ایک بڑی جماعت کو جیل کی کوٹھری میں ڈال دیا گیا ہے، اور وہ ناقابل بیان مظالم کے شکار ہیں))
یہ موصوف کی تحریکیت کا اصلی چہرہ ہے جو ظاہر ہے اور ایران، ترکی اور قطر سے قریب ہونے کا بہترین ذریعہ ھے۔
28- ((لیکن اس سے آگے بڑھ کر وہ حکومت کے ہر خلاف شریعت عمل پر مہر تصویب ثبت کرتے جاتے ہیں))
یہ اوپر کے برخلاف دیگر علماء سعودیہ کے بارے کہہ رہے ہیں جو کہ جھوٹا الزام ہے۔ رافضی اور تحریکی کی یہی پہچان ہے۔
29- ((اس وقت جو شخص یا جو حکومت مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرتی ہے، اور یہودیوں کے ہاتھ اس کا سودا کرنے کو تیار ہے، وہ اس دور کے منافقین ہیں))
موصوف جس کو بھی مراد لے رہے ہوں لیکن اس جملے سے پوری اردگانی بھکت باہر آگئی ہے۔ لیکن سارے اردگانی بھکت سن لیں کہ اردگان انہیں استعمال پورا کرے گا لیکن یہ اس سے ایک لیرہ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ وہ سعودی حکمران یا سعودی شیوخ کی طرح نہیں ہے کہ آنکھ بند کر کے دستخط کردے۔
30-((اگر اعداءاسلام کی ہم نوا ان ظالم حکومتوں کی طرف سے کوئی دعوت آئے تو اسے قبول نہیں کیا جائے، اور صاف طور پر لکھا جائے کہ مسئلہ فلسطین میں آپ کی مسلمان مخالف پالیسی کی وجہ سے ہم لوگ اس دعوت کو رد کررہے ہیں۔))
موصوف کو اگر اس بار دعوت نہ ملی تو کیا دوسروں کو بھی نہیں قبول کرنے دیں گے؟ کیا اسی لئے یہ ساری محنتیں کی گئی ہیں؟؛ فیا للعجب۔
31- ((فلسطین کا سودا کرنے میں جن ملکوں کا نام سامنے آ رہا ہے، دینی کاموں کے لئے نہ ان سے عطیہ مانگا جائے اور نہ ان کا عطیہ قبول کیا جائے؛ کیوں کہ ایسے ممالک مسجدیں اور عمارتیں بنوا کر یا تھوڑی بہت رقمی امداد کر کے اپنے حقیقی مکروہ چہرے کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔))
نعوذ باللہ یہ حنفیوں میں ایک معتدل چہرے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اور جو متشدد ہونگے وہ کیسا رخ اپناتے ہونگے ۔ ویسے مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت کا چندہ بند ہو چکا ہے۔ ورنہ ان منگھڑت باتوں کو یقین کا درجہ دیکر اس پر ایک رائے قائم کرنا پھر مطالبہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟!
32- ((اب اگر کوئی شخص حکمرانوں کے روبرو کچھ بول نہ سکے، دل کی کڑھن کے ساتھ خاموشی اختیار کر لے تو وہ ایمان کے آخری درجہ میں ہے، اگر کڑہن محسوس کرنے کے بجائے وہ خوشامد اور چاپلوسی کرنے لگے، جیسا کہ اس وقت عالم اسلام کے بعض علماءوارباب افتاءکا حال ہے تو گویا وہ ایمان کے اس آخری درجہ سے بھی محروم ہے))
آخری جملے میں موصوف کس طرح اپنے اعتدال والی قلم سے وہ سب لکھ رہے ہیں جو ایک سڑا ہوا تحریکی اور رافضی عام طور سے علماء سعودیہ کے بارے میں اعتقاد رکھتا ہے۔
والی اللہ المشتکی
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق