السبت، 20 أكتوبر 2018

🎪عالم اسلام پر نفاق کا الزام اور منافق عصر؟!(٢)🎪

🎪عالم اسلام پر نفاق کا الزام اور منافق عصر؟!(٢)🎪
@ہوئے کس درجہ فقیہانِ "دکن" بے توفیق@
------------------تتمہ----------------
✍ڈاکٹر اجمل منظور
((جناب خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے مضمون (عالم اسلام پر نفاق کے گہرے بادل) کا جواب سوشل میڈیا پر آنے کے بعد اس پر لوگوں کے تبصرے جس انداز میں آنا شروع ہوئے اس سے مجھے لگا کہ میں موصوف کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا نیز موصوف کا اعتدال صرف ایک پروپیگنڈہ ہے۔ وہ ویسے ہی غالی متعصب اہل حدیثوں کے دشمن رہے ہیں جیسے ایک اندھا مقلد ہوتا ہے۔ موصوف میں ایک صفت (نفاق) مستزاد تھی جو اب کھل کر سامنے آ گئی۔ اس لیے سوچا کہ احباب کے گوناگوں تبصروں اور قیمتی معلومات کو اکٹھا کرکے بطور تتمہ کے انہیں ایک مضمون کی شکل دی جائے تاکہ وہ سارے حقائق بھی لوگوں کے سامنے وا ہوجائیں جو جو پچھلے مضمون میں اوجھل رہیں۔ چنانچہ پہلے ایک مراسلہ -جو ہندوستان ایکسپریس میں چھپا ہے- پیش خدمت ہے پھر احباب کے تبصرے))
نفاق كا گرجتا بادل
مكرمى!
روزنامہ ہندوستان ايكسپريس اور ديگر ذرائع سے پتہ چلا كہ دنيا كے سب سے بڑے ظالم اور غاصب اسرائيل كے ظلم وجارحيت كى پاداش ميں جہاں القدس پر امريكى سفارت خانے كے ذريعے قبضہ كرنے ، فلسطينيوں كا بے دريغ خون بہانے اور ان كو شہيد كرنے كا ظالمانہ ولائق مذمت كام ہو رہا ہے وہاں اسكى آڑ ميں عالم اسلام پر نفاق كے گہرے بادل كے عنوان سے ايك منافق گرجتے بادل كا كردار ادا كررہا ہے۔ اس كے نفاق كى حد تو يہ ہے كہ وه كويت كا بيسيوں سال سے پانچ سو دينار تقريبا ايك لاكھ روپئے ماہانہ وظيفہ خوار ہے يعنى اب تك دو كروڑ چاليس لاكھ روپئے ڈكار چكا ہے۔ اور وہاں كى حكومت كى كتابوں كے ترجمہ اور نشر واشاعت پر اربوں روپئے اب تك وصول كر چكا ہے اور مسلسل وصول رہا ہے اور جس برتن ميں كها رہا ہے اسى ميں سوراخ كر نے اور اسى كى دولت كے بل پر اوروں سے سوراخ كرانے كيلئے كوشاں ہے۔ كيا اس سے بھى بڑھ كر كوئى نفا ق ہو سكتا ہے ؟ اس كے نفاق اور ڈھٹائى كى حد تو يہ ہے كہ سعودى عرب كى تمام كانفرسوں ميں شركت كى اور ايك قدم ہندوستان ميں تو دوسرا قدم سعوديہ ميں جمائے ركها۔ حتى كہ بادشاه كے ساتھ فوٹو كهينچوانے سے بهى دريغ نہيں كيا۔ اپنے فقہى مركز كيلئے اسى حكومت كے راجحى كى دولت سے حيدرآباد سے ليكر دہلى اور بہار تك بے شمار دولت كے انبار لگا لئے۔ رابطہ عالم اسلامى كے ايك شعبہ جس كا يہ ممبر ہے جب شيخ بدر الحسن قاسمى حفظہ الله اس كے نائب بن گئے تو اس وقت يہ سعوديہ ميں جاكر كيسے نفاق كا گرجتا بادل بن رہا تها كہ وه اس عہده پر كيسے فائز ہوگئے۔ آج بهى شرب اليہود كے طور پر اس كے سيال دولت كو بهر بهر منہ پى رہا ہے۔ چورى اور سينہ زورى كى حدتو يہ ہے كہ سيد منصور آغا اور پروفيسر اختر  الواسع جيسے لوگ جن كو يہ منافق دنيا دار كہتاہے اسى ہندوستان ايكسپريس ميں سيد صاحب نے سعوديہ اور ديگر عرب ممالك كے ذريعے اسرائيل كى مذمت كيے جانے كو كوٹ كيا ہے ۔ ليكن اسى پرچے ميں يہ منافق تجاہل عارفانہ برت رہا ہے اور صاف صاف لكھ رہا ہے كہ سعودى عرب امارات وغيره خليجى ممالك نے اس  كى مذمت نہيں كى  حالانكہ پروفيسر اختر الواسع نے اس حوالے سے سعودى عرب كے ذريعے فلسطينيوں كے خلاف امريكى واسرائيلى جارحيت كى مذمت اور امريكہ اور اسرائيل كے خلاف اقدامات كو خوش آئند قرار ديا ہے۔
يہ منافق لوگوں كى آنكھ ميں دهول جھونكتے ہوئے بڑى ڈهٹائى سے كہہ رہا ہے كہ تركى نے اسرائيل سے اپنے سفير واپس بلا لئے۔ (چہ دلاور است دزدے كہ بكف چراغ دارد ) كے بموجب يہ چور كتنا بڑا ڈكيٹ نكلا كہ جس تركى كو وه ہيرو بنا رہا ہے وه اسرائيل كو تسليم ہى نہيں كرتا اور اسكے ساتھ اہم معاہدے ہى نہيں كر ركھے ہيں بلكہ دونوں ملكوں كى دوستى ڈھكى چھپى نہيں ہے۔ سارے خليجى اور اسلامى ممالك كے مكمل بائيكاٹ اور انتہائى دشمنى اور متعدد لڑائيوں كے باوجود اسرائيل سے تركى كے سفارتى تعلقات بحال رہے جس كا اعتراف خود مضمون نگار كر رہا ہے، اور دنيا كے سارے مسلمانوں اور  تنظيموں كو پروپيگنڈے كے ذريعے اندهيرے ميں ركھ كر خليجى ممالك كو زبر دستى منافق ثابت كرنے اور تركى كو بے جا طور پر ہيرو بنانے ميں لگا ہوا ہے۔ اس كى پول خود ا سكےقلم سے كهل گئى ہے۔ اور اسے مضمون نگار كى ڈھٹائى ، چورى اور سنہ زورى يا دهونس ودهاندلى ماننے پر ہر قارى مجبور ہے۔ مضمون سے ايك اور بہت بڑى تلبيس اور گہرا ترين نفاق يہ بهى سامنے آيا كہ سعوديہ نے اسرائيل سے متعلق پروپيگنڈوں كى ترديد نہيں كى ہے جب كہ سعودى سفير سميت پاك وہند كے انگريزى اور اردو متعدد ذرائع ابلاغ نے سعودى ولى عہد اور اسرائيل سے متعلق ان پروپيگنڈوں كا پوسٹ مارٹم كر ديا ہے۔
مضمون نگار كى بدديانتى كا عالم يہ ہے كہ اس كے اس منافقانہ پروپيگنڈے كے مطابق اگر ولى عہد سعودى عرب آج ويسے ہى ہوگئے ہيں تو كل تك اخوان المسلمين اس كے بقول سعودى عرب كى اچهى روايات اور كتاب وسنت پر مبنى دستور اور سينما واختلاط وخرافات سے پاك معاشرے كى مذمت اور مخالفت كيوں كرتے تهے ۔ مقامات مقدسہ كى حفاظت ، اسلامى اقدار كيلئے قربانى اور انفاق كا جو كام سعودى عرب نے كيا ہے مضمون نگار اپنى تمام تر ہٹ دهرمى اور نفاق كے باوجود اس كا اعتراف كرنے پر مجبور ہے ۔ حد تو يہ ہے كہ امريكى اور يہودى جھوٹ اور پروپيگنڈے كا يہ علمبردار مضمون نگار وہابيت كو اسلام دشمن طاقتوں كے دباؤ ميں سعودى عرب نے اپنايا ہے كا جهوٹ دہرا رہا ہے۔ حالانكہ اس كى ترديد ہر طرف سے خود سعودى عرب اور ديگر ذرائع سے ہوچكى ہے ۔ سعودى عرب نے صاف صاف ہميشہ كہا ہے كہ وہابيت نہ ہمارا مذہب رہا ہے ، نہ ہے اور نہ رہے گا۔ يہ يہودى پروپيگنڈه  كل بهى تها اور آج بهى اس مضمون نگار جيسے منافقين كر رہے ہيں۔ ويسے ہندوستان كے اہل سنت والجماعت سنى بريلى بهائى خالد سيف الله رحمانى اور اس كے ہم نوا ٹولے كو بهى وہابى اور كبهى گلابى وہابى يعنى منافق وہابى ٹھہرانے ميں حق بجانب ہيں۔ 
مراسلہ طويل ہونے كا خوف ہے ورنہ اس طرح كے نفاق كے گرجتے بادلوں كو اب دنيا سمجھ چكى ہے اور بابرى مسجد قضيے ميں اس شخص كا نفاق جس طرح آسمان چهو گيا اور خود مسلم پرسنل لا بورڈ اور اويسى صاحب وغيره لوگ دنگ ره گئے كہ كيسے يہ سلمان ندوى كا ايجنٹ بنا ہوا ہے اور مسلم پرسنل لا كى ٹهيكدارى بهى كر رہا ہے۔ شريعت كے نام پر سعودى عرب ميں بے پردگى كا غلط پروپيگنڈه كرنے والے نے  اپنى حماقتوں پر پرده ڈالنے كيلئے پورے ملك كى مسلم خواتين كو سڑكوں پر لا ديا ہے اور اختلاط مردو زن كا عجيب بے ہنگم سماں بندها ہوا ہے۔ تركى ، قطر اور ايران جس نے خليجى ممالك كى اينٹ سے اينٹ بجا دى ، كى محبت كى آڑ ميں عرب اور مسلم ممالك كے درميان كيسے گہرے نفاق كى بيج بو رہا ہے ۔ 
يہ تو خيريت كہئيے كہ ايسے طالع آزما ، مطلب پرست اور وظيفہ خوار ملاؤں كو ہمارے عوام اور تنظيميں خوب پہچانتى ہيں، ورنہ نفاق كے گہرے بادل بہر حال عالم اسلام خصوصا خليجى ممالك پر چھا چكے ہيں۔ تركى ، قطر اور ايران وغيره مسلم ممالك كے بارے ميں ايك حرف بهى كہنا نہيں چاہتا كيوں كہ الجھے ہوئے موجوده عالمى اور اندرونى منظر نامے كى روشنى ميں كوئى بات كسى ملك كے خلاف مطلب برارى اور نفس پرستى ميں آكر كرنا اچها نہيں ہے  جيسا كہ مضمون نگار كا وطيره ہے ۔ اس لئے جو باتيں بهى آئى ہيں وه ضمنا ہيں۔
عين الہدى جامعى
بٹلہ ہاوس ، جامعہ نگر ، نئى  دہلى
💥خالد سیف اللہ صاحب زمانے سے بدبودار تعصب رکھتے ہیں اور اپنے خاص لب ولہجہ میں اس کا اظہار بھی کرتے ہیں اس لب ولہجہ کا اگر کچھ نام ہو سکتا ہے تو.... منافقانہ اسلوب.... منافقانہ اسلوب اس لئے کہ یہ حضرت دل کا بغض لفظوں میں بہت سنبھال کر ڈالتے ہیں اور معروضیت کا مظاہرہ کر نے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر أجمل جیسے قلمکار سیدھا اور صاف لکھنے اور بولنے والے ہیں ان کے دل اور زبان میں فرق مشکل سے نکالا جا سکتا ہے.... انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے کہ ہر سنی سنائی کو بیان کرے مولانا خالد سیف اللہ اس کی بہترین مثال ہیں بہترین۔
💥خالد سیف اللہ صاحب غالی درجے کے متعصب مقلد ہیں اور اپنی رائے وقول کو حرف آخر سمجھتے ہیں. اس کا مشاہدہ میں نے ای ٹی وی میں دوران ملازمت کیا ہے. ایک دفعہ انہیں لائیو پروگرام رمضان اسپیشل کے لئے مدعو کیا تھا. انہوں نے تراویح سے متعلق تمام سوالات کے جوابات میں مقلدانہ روش پر قائم رہے، جب کہ انہیں بارہا اشارہ کیا جاتا رہا کہ چینل کسی خاص مسلک کی ترجمانی کے لئے نہیں ہے لہذا کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں، لیکن وہ نہیں مانے. پروگرام کے اختتام پر ان سے میں نے بحث کی بھی کی لیکن اپنی بات پر مصر رہےاور عظمت اکابر کی دہائی دیتے رہے.
💥خالد سیف اللہ رحمانی کو جب حیدرآباد میں حیدر آبادی عوام کوئی عزت نہیں دیتے تھے تو وہ اہل حدیثوں کی تعریف کرتے تھے اور اہل حدیث کی ایک مسجد میں امامت بھی کرتے تھے پھر حنفیوں نے ان کو کچھ لالچ دیا تو اہل حدیثوں کو برا بھلا بولنے لگے۔ 
💥ايك زمانہ میں جامعہ المفلحات میں مدرس بھی تھے اھل حدیٹوں نے ٹھکانہ دیا تھا مگر فطرت کے مطابق اسی زمانے میں راہ اعتدال لکھی اور وھاں سے نکالے گئے در اصل حنفیون کو خوش کرنا اور حیدرآباد دکن میں اپنے پاوں جمانا تھا کامیاب ہوئے۔ 
💥مضمون كى ابتدا تو جناب نے نفاق سے کی ہے ، اور قسط اول كے بیشتر حصے اسی کا "طواف" كر رهے ہیں ، قسط أول كے اخير سے خمار ، اور زهر كی ابتدا هوتى هے . قسط أول كے اخير مين كهيں سعوديه كى تعريف اور حق گوئی بھی شامل هے .
 گو کہ محمد سلمان كى هر پالیسی اور ہر عمل کی حمايت هم نهيں كرتے ، مگر مضمون زبردست خطرناك هے .
ترکی اور اردغان كو " بطل" بنا كر پیش کیا ہے ، جو سراسر "باطل" هے ، اردغان كا سفير اسرائيل ميں تھا اس نے بلالیا ، عربون كا سفير اسرائيل میں هے ہی نہیں تو واپس کہاں سے بلائے ؟
 عرب ممالك ميں صرف قطر كو هيرو بنا كر پیش کیا ہے ، مگر "قرضاوى" صاحب كا ذكر خير نه كر پائے .
ان كو مسجد اقصى اور حرمين بچانے کی ایسی فكر۔  ذرا " بابرى مسجد" اور " كشمير" كے بارے میں بھی لب کشائی کریں . 
سعوديه ایک ایسا ملک ہے جس پر لب کشائی کرنا سب کو آتا هے ، چاہے عالم اسلام اور عالم عرب نيز اپنے ملک کی تاريخ سے نا آشنا ہی کیوں نہ ہو ، چاہے دسویں فیل ہی کیوں نہ ہو ، خالد سيف الله كو يهان مستشنى كرسكتے ہیں ، بڑے آدمی ہیں ، سعودي كا خوب كھایا ہوگا ، مگر سلمان ندوی سے کم .
 ايسی ويسي ، جيسى تيسى خبروں كا تذكره كركے کہا گیا ہے " سعوديه نے اس کی تردید نهيں كى " . لگتا ہے صرف ترديد كرنے کے لئے وہاں کے حكمران اور میڈیا وقف هين " لايضر السحاب نباح الكلاب" .
 واقعى أكثر كو پریشانى سعوديه كے صحيح اسلامى عقيدة سے ہے ، اصل نشانه وهى هے ، جبکہ سعودى أمريكى اتحاد ، سعودى ميں امريكى فوج ، سنيما هال ، عورتوں كى ڈرائیونگ ....يه سب بهانه هے ، یا چور دروازے ہیں جهاں سے ان کو بہونکنے کو ملتا ہے .
ملك فيصل اور ان كى پالیسی کی سبھی تعريف كرتے ہیں ، اور ملک فهد مرحوم ايك مضبوط بانده تھے جن کے عهد تك كافى امن تھا ، مگر تھے وه بھی وهابى ، نجدى ، ملك عبد الله مرحوم كے وقت سے مسائل شروع هوتے ہیں ، اور اب محمد سلمان كى بارى هے جن کی بعض پالیسیوں کی وجہ سے لوگ متفكر هیں ، اور بھونکنے والوں كو بھی موقع غنيمت ملا.
تركى كے أحوال و كوائف پر یہ لوگ کیوں نہیں لکھتے ، خلافت عثمانيه کا ڈر اور بھوت ابھی بھی سوار هے ، یا پھر سے خطبه جمعة مين تركى كے لئے دعا ، اور آل سعود كے لئے بد دعا كى تيارى اور تمهيد هے .
سعوديه پر ضائع كی جانے والى انرجى و طاقت اپنے ملک کے مستقبل كے لئے خرچ کی جاتی تو کیا ہی اچھا هوتا .
 ايران كى منافقت کا كهيں ذكر نهيں ، جبکہ قسط أول كى ابتدا هى نفاق سے کی گئی ہے اور نفاق= تقيه ، مگر سعودية پر انگشت نمائی آسان ہے ، مگر اتنا بھی آسان نہیں اس كا اندازه تو سلمان ندوى كو هوا هوگا .
سعوديه ميں چرچ والی بات بھی دهرائي گئی ہے ، جس پر آپ لکھ چکے ہیں .  پھر بھی مضمون مين كچھ حقائق هين ، كچھ تدليس و تلبيس ، كچھ حقائق كا الٹ پلٹ ، کہیں دعا و التجا...
💥بر صغیر کے مقلد فقیہ ہیں، اپنے اکابر کی طرح باطل کو حق اور حق کو باطل قرار دینے کا ہنر تو آزمائیں گے ہی۔ لیکن ان کو معلوم ہونا چاہئے کی جس طرح ماضی میں علماء اہل حدیث نے ان کے اکابر کی تقلیدی  موشگافیوں اور فقہی بد دیانتیوں کا پردہ فاش اور چاک کیا ہے، الحمد للہ بر وقت بھی ان کے پیروکار موجودہ دینی گرگٹوں کے بدلتے رنگوں کی قلعی کھولنے والے اہل حدیث علماء (شیخ عبد المعید مدنی اور ڈاکٹر اجمل منظور مدنی وغیرہما) موجود ہیں۔
💥جناب خالد سیف اللہ کی نسبت"رحمانی" کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ یہ نسبت مونگیر میں واقع خانقاہ رحمانی کی طرف منسوب ہے۔ دیوبندیت میں خانقاہ کی اہمیت بالکل وہی ہے جو بریلویت میں درگاہ اور مزار کی ہے۔ 
اور موصوف خالد سیف اللہ صاحب کی دشمنی اہل حدیثوں سے کیوں نہ ہو کیوں یہ تو مشہور دیوبندی عالم قاضی مجاہد الاسلام کے بھتیجے ہیں جو اہل حدیثوں کے بارے کہتے تھے کہ یہ یہودیوں سے برے ہیں نعوذ باللہ۔ 
💥ڈاکٹر اجمل منظور مدنی صاحب نے اخوانی تحریک اور مودودیت رافضییت یہودیت کے علمبردار منافقین کی بہت ہی عمدہ پوسٹ مارٹم کی ہے ۔۔۔ اللہ تعالی موصوف کو حق و صداقت کا علمبردار بنائے اور منافقین کو ذلیل و رسوا کرے آمین ۔۔۔
💥آج ایک پوسٹ پڑھنے کو ملا کہ قطر نے امارات، سعودیہ اور بحرین کے سامانوں پر بین لگادیا ھے اور فورا دور کرنے کا حکم دیا ہے... پڑھتے ھی میرے دل میں یہ بات آئی کہ ظاہر ہے جو قوم رافضیوں کے پیشاب ملا ھوا غدیر نوش کررہی ہو اسے زمزم کہاں اچھی لگے گی..... در اصل تحریکیوں اور رافضیوں کے چنگل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ اللہ قطر کے حکمرانوں کو عقل سلیم سے نوازے۔
💥ماشاءاللہ شیخ اجمل منظور مدنی صاحب اللہ آپ کے اور لمبی عمر عطا فرمائے تاکہ حقائق کو سامنے لانے کی اور عوام الناس کو حق بات کی ذہن سازی کرنے کی تاکہ حق لوگوں تک منکشف ہو جائے الحمدلله شیخ جس انداز میں آپ نے اپنے تحریر کو بلفظ بخوبی سجایا ہے تا کہ اس مضمون کے ذریعے لوگوں کی غلط فہمی  دور ہو جائے اور حق لوگوں تک پہنچ جائے ویسے تو یہ بات بلکل عیاں ہے کہ جب انسان کی عقل جامد ہو جاتی ہے تو حق ایک ایسی کڑوی شئ ہے جو گلے سے بہت کم ہی اتر تی ہے۔ 
💥الطيور على أشكالها تقع...!
دراصل سارے تقلیدی + تحریکی ایک ہی بِل کے مختلف سانپ ہیں ، اپنے مالک کے پاس دودھ پیتے بھی ہیں لیکن وقت پڑنے پر سب اپنا حقیقی رنگ دکھاتے ہیں اور ڈس کر ہی جان چھڑاتے ہیں۔ 
💥مجھے نہیں معلوم  کہ سعودی حکومت تقلیدیوں کے کانفرنس کرنے کے بعد بھی( جس میں اہلِ حدیثوں کے سوا سب شامل تھے) انہیں دودھ کیوں پلا رہا ہے ۔
در اصل ان کا اصول ہے نیکی کر دریا میں ڈال۔ کوئی جب زیادہ مکاری پر اترتا ہے وہی نظر کرم سے اترتا ہے۔  یہ بھی ممکن ہے کہ أحسن الى من أساء إليك پر عمل کرتے ہوں گے !
مجھے تو لگتا ہے وہ لوگ ابھی تک چاپلوسوں سے ہوشیار نہیں ہوئے ہیں اور تقلیدی تحکیوں سے زیادہ کوئی چاپلوسی جانتا نہیں۔ لہذا انکی وہاں دال گل جاتی ہے۔ 
💥ماشاء اللہ۔ جزاک اللہ خیرا۔ رافضی نما اخوانی قاسمی کا آپنے بروقت پردہ چاک کیاھے۔ 
💥میں اس منافق کو ایک سلجھا ہوا عالم سمجھ رہا تھا ۔اور اس مقلد کے فقہی مسائل کو پڑھنے کی کوشش بھی کی تھی،، مگر آپ نے اس کا حقیقی چہرہ سامنے لا کر امت پر عظیم احسان کیا،،  اللہ آپ کو اپنے دین متین کا حافظ بنائے۔آمین
💥برصغیر کے ابن علقمی قاسمی ندوی (سب نھیں) وغیرہ کی منافقانہ روش کو عربی میں لکھ کر ذمہ داروں تک پہونچانا وقت کی اھم ضرروت ھے شیخ 
جسکی طرف آپنے نشاندھی بھی فرمائ ھے۔ 
💥ابنه عمر عابدين الذي كاد أن يطوى قيده من الجامعة الإسلامية بالمدينة لعقيدته الخبيثة وتربية أبيه الرزيلة لكن حال دون طي قيده اخي أبيه الإخواني الأكبر المسؤل الذي طرد من الجامعة الإسلامية بعد ذلك، لا حول ولا قوة إلا بالله . جميع أهل بيته منافقون: من الآباء إلى الأبناء. كيف يبقى ابنه في الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة بعد كتاباته الخبيثة الدنيئة، واتهاماته الباطلة.
ان دونوں قسطوں کو مملکہ میں پھیلائیں اور ممکن ہو تو عربی ترجمہ کر ڈالیں اور جامعہ کے ذمیداروں تک پہونچا دیں۔ ان میں سے بہتوں کی خباثتیں اب تک چھپی ہوئی ہیں۔
يا حبذا لو يتاجسر الإخوة الدارسون في الجامعة على تلخيصها إلى العربية وتقديمها إلى المشائخ المسؤولين وغيرهم
💥کمال ہے ۔۔۔جھوٹ بولنے میں تو بی جی پی کو پیچھے چھوڑ دیا صاحب بے۔
💥((یاسر صاحب مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے انتہائی معتدل مضمون لکھا ہے ۔ وہ بہت ٹھنڈے سنجیدہ اور صاحب علم ہیں ۔ ان کے جیسے عالم کا بول پڑنا اسکی دلیل ہے کہ اب بات حد سے گزر چکی ہے ۔ لیکن ان بےچاروں کو ابھی سمجھ میں نہیں آئے گا ابھی کچھ کسر باقی ہے)).
تو گویا آپ کے نزدیک حق کا معیار دلیل نہیں بلکہ شخصیت ہے، اللہ ہم سب کو ہدایت بخشے۔ تب تو پھر کسی خیر کی توقع نہیں، ان کا لکھا دلیل ہے خواہ اس میں کتنی بھی کذب بیانی کیوں نہ ہو۔ ان کے دلائل اور ایک مخصوص ذہنیت کسی اور طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کے دلائل کا وزن تو آپ نے ڈاکٹر اجمل صاحب کی تحریر میں دیکھ لیا ہے۔ اب اس کے باوجود کوئ کسر رہ گئی ہو تو اسے کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ عجیب... منطق آپ کے نزدیک غالبا سعودی عرب کو برا بھلا کہنا ہی ہے. ضعیف احادیث کو آل سعود پر فٹ کرنا، جھوٹی خبریں پھیلانا یہ سب مولانا خالد سیف اللہ صاحب کی منطقی باتیں ہیں؟ پچھلے دنوں آپ نے بھی القدس کے متعلق ٹرمپ کے فیصلے کو سعودیہ کا موید بتایا تھا، جبکہ خود سعودی عرب کی طرف سے بارہا اس پر تنقید ہوچکی ہے، اور اس فیصلے کو عرب ممالک کی طرف سے نکارا جاچکا ہے. ساری تفصیلات سعودی ودیگر اخباروں میں موجود ہیں. مگر اگر یہ سب غیر منطقی ہیں تو سوائے شخصیت پرستی کے اور کوئی چیز منطقی نہیں ہوسکتی. اللہ ہم سب کو حق کا حامی بنائے. اور شخصیت پرستی سے بچائے.  آمین... ھذا آخر ما قلت. والسلام عليكم.
💥مولانا خالد سیف اللہ کے سارے الزامات بے بنیاد ہیں۔ سب کا جواب میری اس تحریر میں یا دوسرے پوسٹوں میں موجود ہے۔ سارے پروپیگنڈوں کو انہوں نے حقیقت کا روپ دیکر سعودی کو مطعون کرنا چاہا ہے۔ اور ساتھ ہی بڑی چالاکی سے قطر اور ترکی کو عالم اسلام کے نفاق سے خارج کردیا۔ جبکہ مشرق وسطی میں مع ایران ساری تباہی کے یہی ذمیدار ہیں۔ اور ایران جو خطے میں ہٹلر کا رول ادا کر رہا ہے اسے تو گندھے ہوئے آٹے میں سے بال کی طرح نکال دیا۔ کیوں کہ تحریکی ورافضی دونوں کے ہدف ایک ہی ہیں خطے میں۔ دیکھیں اردگان کا سفیر طہران میں کیا کہہ رہا ہے کہ ہمارے ہدف ایک ہیں۔
💥بھائی ان کی تحقیقات پر جائیں تو بن سلمان مر چکا، سلمان پاگل ہے، سعودی پیرس بن چکا، حج وعمرہ کی ساری کمپنیاں یہودیوں کے ہاتھ میں میں۔ آل سعود کے سارے شہزادے عیاش ہیں، امریکی فوج ترکی اور قطر میں نہیں (جو کہ حقیقت ہے) سعودی میں ہے۔ اسرائیل کے تعلقات ترکی قطر سے نہیں(جو کہ حقیقت ہے) سعودی سے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ 
کیا ان باتوں کو ایک عقلمند انسان ماننے کیلئے تیار ہوگا؟!
💥ان کا واحد مقصد ہے کہ سعودی یورپ امریکہ سے اپنے تعلقات ختم کر لے۔ یمن سے نکل جائے پھر یہ مجوسی ایرانی ملیشیاؤں  کے ساتھ مل کر مملکت توحید سے 2016 والے اپنے پورے درد کا بدلہ چکا لیں۔ ولکن انی لہ ذلک
💥حیرت ہے رحمانی اور ایوبی صاحبان نے یہ نہیں بتایا اپنی تحریروں میں کہ بن سلمان نے مریم علیہا السلام والی پینٹنگ کتنے کروڑ میں خریدی ہے، اور بن سلمان کے کتنی امریکی اداکاراوں سے تعلقات ہیں . حیرت ھے اتنے وزن دار دلائل ان کی نظروں سے اوجھل رہے۔
💥تعجب ہے ایسے مولانا غلط انداز سے لوگوں کے سامنے سعودی عرب کی تاریخ پیش کر رہے ہیں جس کا سعودی حکومت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں۔اگر حقیقت کا مطالعہ کرنا ہو تو ان ہی کے گھر کے ایک عالم مولانا منظور نعمانی کی سعودی عربیہ پر لکھی گئی ایک کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئےجس سے سچائی لوگوں کے سامنے ظاہر ہوگی۔
💥بالکل صد فی صد.... کاش مولانا منظور نعمانی اور علامہ ابو الحسن علی ندوی رحمہما اللہ باحیات ہوتے اور ان کی بھکتی دیکھتے. آپ شیخین نے تو حتی الامکان امت کے سامنے رافضی فتنے کی پول کھولی تھی. فجزاھما اللہ احسن ما یجازی عبادہ الصالحین.
💥لیکن ان کے نواسے پوتے اور سارے مریدین ایران کے تعلق سے ایسے خاموش ہیں جیسے اس وقت ایران نام کا کوئی دیش دنیا میں ہے ہی نہیں۔
💥بکھتی اور عقلمندی دونوں متضاد ہیں۔۔۔۔ورنہ اسطرح کی غلطیاں نہیں ہوتی۔۔۔۔۔
💥"جوشيلے" ندوى صاحب عربون كو للكارتے ہوئے ، سلفيون پر إلزام تراشى كرتے ہوئے ، مريدين كو گالی گلوچ پر ابھارتے ہوئے بابرى مسجد كے سودہ بازی تک پر آگئے ، سود و زيان كتنا هوا نهين معلوم ، پر بندہ اپنوں میں ہی ذليل هوا " من حفر بئرا لأخيه وقع فيه" .
💥ایک مقلد کو فقيه العصر کہنا..  سارے فقہ کی توہین ہـے..مقلد تو سرے سے عالم ہونے سے رہا... فقيه كجـا؟ در اصل ایک منافق نے اپنا نفاق سعودی عرب پر ڈالنے کی کوشش کی اور وہ بھی اسکا نمک کھا کر۔۔۔۔۔نعوذباللہ 
💥اس خالد سیف اللہ کے بہت سے مضامین نظروں سے گذرتے ہیں ۔۔۔اور مجھے اس سے بہت اختلاف رہا ہے۔  اس کا ذکر میں نے دوستوں میں کیا بھی ہے لیکن آج اتنا کھل کر جمودی کھلاڑی خالد آیا کہ افف تفف
لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ ویسے یہ عمرآباد والوں میں بڑا عزیز ہے ممکن ہے وہ لوگ آستین کے ایک خنجر سے ناواقف ہوں ۔۔۔۔فیا للعجب😕
💥إن أخوف ما أخاف عليكم بعدي كل منافق عليم اللسان( المعجم الكبير الطبراني 593) فقیہ العصر نے اپنے مضمون میں اس حدیث کا ذکر کیا ہے اب جو سمجھے ، سمجھے کہ کون چاپلوسی اور چرپ زبانی سے مشروعات کا بھر پور لابھ اٹھاتا ہے؟
💥خالد سیف اللہ رحمانی کی تحریر کا  ترجمہ کر کے عربی دان افراد تک اس نام نہاد متعصب کی حقیقت کھولئے شیخ محترم  منظور اجمل مدنی حفظہ اللہ۔ 
💥قل موتوا بغیظکم یا أهل النفاق وتشبثوا بأذيال القرضاوي وأذنابه  وكونوا عبرة للمعتبرين داخل الهند خارجها۔
💥قابلِ غور بات یہ ہے کہ سعودی کے امریکہ سے تجارت واقتصادیات میں زمانہ سے تعلقات استوار ہیں، لیکـن اچانک ایک زمانہ کے بعد کیوں ایسا ہوا کہ  سلمان رشدی الندوی کو یہ بات آئی کہ سعودی طاغوت ہے، امریکہ سے تعلق رکھتا ہے.. حالانکہ دیگر مسلم حکومتیں (ترکیا وقطر) اس سے بڑھ کر اسرائیل سے دل لگیوں میں مصروف ہیں...
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہـے،... 🤔
ہو بہو یہی حال خالد رحمانی کا ہـے، عرصہ دراز سے ریالات کا ٹوکرا بٹورتے رہے،  اور خوب پاتے رہے. لیکـن جب ٹوکری میں خیرات آنا بند ہوگئی تو  چیخ وپکار مچانا شروع کردیا...
💥كاش کہ یوں ہوتا کہ دونوں بزرگوں کی عقلیں  شیب کے چھا جانے اور سر کے بالوں پر سفیدی کے آجانے کے بعد ہی درست ہوجاتی...لیکـن معاملہ تو بر عکس ہو رہا ہـے.. ومن نعمره ننكسه في الخلق... والله المستعان۔ 
💥((آپ جیسے بے شرم غیر مقلدین جب ڈھٹائی پر آتے ہیں تو حدوں کو پھلانگنا یقینی ہے ؛کیونکہ تمہاری بنیاد ہی اسی پر ہے. کب تک وظیفہ خواری پر قناعت کروگے!!!))
رشيد فاتح قاسمى كى ڈھٹایئ اور دیدہ دلیری کی داد دینی ہوگی کہ جس برتن میں کھاتے ہیں اسی چھید کرنے ہیں۔ ایک ایک کر کے پول کھل رہا ہے پھر بھی ہوش نہیں آ رہا ہے۔ اور جناب اب بھی بے شرم تقلیدی متبع سنت سے کہیں زیادہ عربوں کے ادھین پل رہے ہیں۔ خود یہ بڑے میاں تقریباً لاکھ روپے مہینہ کویت سے لیتے ہیں۔ اہل حدیث تو پھر بھی صحیح ہیں کہ منافق بدکردار کی طرح جس کا کھائے اسی کی ہانڈی میں سوراخ کرے ایسا نہیں ہیں۔ انا للہ و انا الیہ رجعون
💥برصغیر کے تحریکی اخوانیوں کی عقلیں کٹولی والے کےپاس گروی ہیں۔ 
💥ما شاء الله  دكتور أجمل۔   الله يؤيدك  فی رد اكاذيبهم فى وجوههم۔    والله يشهد إن المنافقين لكاذبون۔ 
💥ماشاء اللہ ۔ اس رد اور جواب کا دوسرا پہلو اس وقت مکمل ہوگا جب مقلد فقیہ کی خباثتوں کو سعودی سفارت تک پہنچایا جائے گا۔
💥لگتا ہے بندر کو کھانا ملنا بند ھوگیا بھوک سے بلبلانے لگا۔ ہندوستان میں مسلم عورتوں کو سڑکوں پر ذلیل کرنے والے یہی نمک حرام ھیں۔
💥جس قوم کے منافقوں کا یہ حال ھے انکے سروں پر لعنتوں کے جوتے نہیں پڑیں گے تو پھر کیا پھول برسیں گے۔ انکی مناسبت کے موافق کوںٔی عمدہ سی گالی اس کے لںٔے سوچ لیا جاۓ جسے وقتاً فوقتاً بولتے رہنا چاہیے۔
💥حضرت والا ڈبل شری سے ڈیل کرنے والے جب رياض مين تعليم حاصل كر رهے تھے ، اور فراغت و تخرج كے بعد " ريالى " بن كر ريال بٹور رہے تھے ، تب بھی سعودى أمريكى تعلقات تھے ، اور موجوده خادم الحرمين " أمير الرياض" كے منصب پر فائز تھے . حالات نے کیوں کروٹ لی : 
إن كنت لاتدري فتلك مصيبة
وإن كنت تدري فالمصيبة أعظم .

*💨💨"عالِم اسلام" پر نفاق کے گہرے بادل💨💨
از  : شیخ عبدالمعید مدنی علیگڑھ* 
( _مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے دو قسطوں پر مشتمل مضمون پر تبصرہ--- شیخ عبدالمعید مدنی  ملک سے باہر ہیں ۔۔ واٹس آپ بر وقت کیا گیا یہ تبصرہ آپ قارئین کی خدمت میں_ )
ٹائٹل تو بڑا شاندار ہے "فقیہ العصر" اور لاحقہ بھی بڑا جاندار ہے "سکریٹری اور ترجمان"۔مضمون بالکل برعکس،افسانوی پروپیگنڈوں پر مبنی۔بد نیتی کج فہمی اوربے خبری۔ 
 کا آئینہ دار۔ تیزابی ملائیت کی زہر افشانی یا میٹھا زہر۔سلمانی سفاہت کا نیا ایڈیشن۔
یہ ہیں جلوے ایک فقیہ العصر کے۔پھردوسرے کس شمار قطار میں؟؟؟
مضمون کیا ہے ؟؟ نفاق کو نفاق کی چھری سے ذبح کرنے کی کوشش۔پورا مضمون تاریخی غلطیوں،نظریاتی بگاڑ ،عقیدے کی خرابی،حال کی بے خبری،تحریکیت، خارجیت،رافضیت اور علمانیت کی اندھی تائید کا مجموعہ۔
مضمون میں اطلاعات غلط، استدلال غلط،استنتاج غلط۔سارا فوکس سعودی عرب کےوجود، تاریخ ،عقیدے اور حال کو زیرو بنانے کی کوشش۔
اور برصغیر کے احمقانہ منافقانہ پرانے موقف کی تکرار۔
فقاہت میں فہم، بصیرت اورعمق داخل ہے۔فقاہت تو جزء جزء،حرف حرف اورکلمہ کلمہ سے حقیقت نچوڑ لیتی ہے۔تو پھر فقیہ عصر سلمانی کیوں بن گئے؟؟؟
مضمون بے اساس ہے فتنۂ ثلاثہ (خارجیت، رافضیت اور تحریکیت)کا چربہ ہے ۔اس پر حق گوئی کا لیبل لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔
فقیہ صاحب نے سرے سے صورت حال سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے۔انکا مضمون دین دشمن اور اہلحدیث دشمن بیانیہ کی تکرارہے۔انکی فقاہت کا منہ چڑاتا ہے
اسلامی قیادت ایک ایک ذرے کے سلسلے میں انصاف کے متعلق جوابدہ ہے۔مگر مسلکی تعصب لوگوں کو اندھا بنا دیتا ہے۔
(رحمانی صاحب نے جن نکات کا موضوع بنایا ہے ان کی بابت 👇🏻)
ان تمام امور پر اتنا زیادہ لکھا جا چکا ہے کہ مزید کچھ لکھنے میں کچھ مزہ نہیں ہے۔
مضمون بروقت فلسطین کے متعلق ہے مگر  تفصیلات انتشار مضامین سے پر۔
گلف اور سعودی عرب کی مذمت اور فتنۂ ثلاثہ کی تعریف سے موضوع کو واضح کرنے کی ناروا کوشش۔
فقیہ کی فقاہت چربوں پر قائم ہے۔کیا اچھا ہوتا کہ فلسطین کے قضیے کے متعلق صحیح تاریخ کا چربہ اتار لیتے رافضیت، تحریکیت ،خارجیت اور صہیونیت و صلیبیت کا چربہ نہ اتارتے۔مسلکی تعصب یامعلومات کی کمی انسان کو صحیح نتیجہ تک پہنچنے سے قاصر بنا دیتی ہے۔
بے شک امت مسلمہ کا حال ابترہے۔لیکن کیا اس حالت کا فرد واحد یا کوئی ایک حکمراں یا ایک حکومت ذمہ دار ہے؟ 
کیا یہ ایک وقتی مسئلہ ہے؟
نادانی یہی ہے کہ امت مسلمہ کے ایک اہم ترین مسئلے کو شخصی پسند اور فتنے کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
نیز اسے وقتی تناظر میں غلط ڈھنگ سے دیکھنے کی ناروا کوشش کی جائے۔
کیا ایسی یرقانی تحریروں سے امت کی علامت مرض معلوم کی جا سکتی ہے ؟؟ بالکل نہیں ۔بلکہ ایسی تحریریں دل کے مریض ہونے کی علامت ہیں۔
میں سفیہ عصر کے نفاق اور جھوٹ کےپلندے پر کیالکھوں؟؟یہ پوری قوم ہی محسن کی پلیٹ میں کھانے اور اسی میں ہگنے کا کام کرتی رہی ہے۔جمہوریت کے ہجڑا نظام کے دور میں مولویوں کو بھی نفاق، جھوٹ اور فتنے علم اور تقوی معلوم ہوتے ہیں۔
"سنوات خداعات" کا عجیب دور ہے سب کچھ الٹ کر رہ گیا ہے ۔فقیہ عصر جب منہج ،معرفت استدلال اور بصیرت سے تہی دامن ہیں تو پھر عثمانیوں اور سلمانیوں کا کیا شکوہ ؟؟ 
جب فقاہت عصر مکھوٹا اوڑھنے والی بن جائے تو پھر دوسروں سے گلہ کیا؟ 
مقلدیت کی فقاہت سے حاصل کیا؟
خود نفس پرستی کے انگارکے ڈھیر پر بیٹھے ہیں ،خیراتی ادارے ذاتی جائداد میں داخل جن کی شرعیت ہی نہیں۔۔   نہ ان کی شرعیت کا شعور ہے اور گھر بیٹھ کر دوسروں پر سفاہت کے تیر برسا رہے ہیں ؟؟؟
فقیہ عصر منافقت اور مفاد پرستی کا لبادہ اوڑھ کر دیار فقر سے نکل کر دیار عشرت میں کیسے جیتے ہیں جانکاروں کو پتہ ہے۔
احتساب غیر سے پہلے احتساب ذات ضروری ہے۔
خالد صاحب اگر امت کے المیے پر حقیقت پسندانہ بحث کرتے تو قابل شکر گزار ہوتے۔لیکن انھوں نے مسلکی تعصب کی پرانی عینک فتنہء ثلاثہ (رافضیت، خارجیت اور تحریکیت) کی آنکھ اور منافقت کی نگاہ سے صورتحال کو دکھلانے کی ناروا جسارت کی ہے۔اس پر وہ مذمت کے مستحق ہیں۔ان کی اس گھناؤنی تحریر کے لیے مذمت بہت چھوٹا لفظ ہے لیکن اس سے زیادہ کہہ ہی کیا سکتے ہیں ؟؟
جس فقیہ کے مضمون کی کل اوقات فتنہ ثلاثہ تحریکیت خارجیت اور رافضیت ہو اورپھر اس کا منافقانہ رویہ ہو اس سے کسی خیر کی امید کی جا سکتی ہے ؟؟؟
فقیہ کو مضمون لکھنے سے پہلے منہج بحث طے کر لینا چاہیے ۔کیا ان کی فقاہت یہی کہتی ہے کہ سعودی عرب ،آل سعود اورسعودی حکمرانوں کے متعلق انکے دشمنوں تحریکیوں خارجیوں ،رافضیوں،صیہونیوں اور صلیبیوں ہی کی بات مانی جائے ؟؟
ان کے اکابر کا بھی یہی حال تھا۔سعودی عرب اورنجدی سلفی دعوت کے خلاف ان کے علماء کے فتوے اور زہرناک تحریریں انکے لئے اب بھی سرمۂ بصیرت ہیں۔توبہ کے بجائے سو سال سے رسوا کن تاویلات جاری ہیں۔۔۔
سعودی عرب میں کوئی خلائی مخلوق نہیں بستی ہے۔وہ بھی مشت خاک سے بنے ہیں۔اور اس سیارۂ ارضی پر کمپیوٹر کے زمانے میں جیتے ہیں۔اور اپنے وغیر کی عداوت و منافقت کے درمیان جیتے ہیں۔ان کے زندگی کچھ زیادہ ہی مشکل ہے۔
یہ کیا طریقہ ہے کہ امت کے حال زار پر بحث ہو تو ان کی خیرات پر جینے والے انکو امت دشمن مان کر بحث کریں اور دشمنان اسلام سے پیار کرنے لگیں اور ان دشمنان اسلام کو معتبریت اور استناد کی سند دینے لگیں ۔
فقیہ صاحب کی مصیبت یہ ہے کہ وہ اخباروں کے پے منٹ پر انکی من مرضی سطحی تحریریں لکھ کر خود کو سلمان کی طرح عقل کل سمجھنے لگے ہیں اور ہر موضوع پر منھ ماری کرتے ہیں خواہ ان کے موضوع اور ادراک سے باہر کیوں نہ ہو۔
کسی فقیہ کے لیے یہ چیپ حرکت زیب نہیں دیتی ۔
سعودی عرب حقیقت اور حق سے ماورا نہیں ہے اسکی خرابیوں،اور خطاؤں پر مواخذہ اہل حل وعقد کا شرعی حق ہے ۔لیکن دو باتیں قابل لحاظ ہیں۔
(1)کیا بغیر حقیقت جانے یامسلکی دشمنی کی بنیادپر ایسے امور سے متعلق گفتگو کرنا شرعا درست ہے جن سے آپکو لینا دینا نہیں ہے۔
(2)کیا جمہوریت کے میڈیا کو اسلامی اور مسلم امور میں اطلاقی طور پر استعمال کرنا درست ہے۔؟
کیا تماشا ہے کہ سلفیت دشمنی کا تماشا بھگوا اخبار میں شیعہ کی ادارت میں دکھایا جائے (ممبئ سے شائع ہونے والا انقلاب )کیا کہتی ہے عجمی فقاہت اس بارے میں ؟کیا بھگوا اخبار کاپے منٹ زیادہ ہے؟؟
مضمون کی دونوں اقساط منافقت، جہالت، مکر،فریب ،مسلکی تعصب،فتنۂ ثلاثہ کی تائید وغیرہ کی بدبو سے پر ہے۔
تفصیلی جواب ڈاکٹر اجمل نے دیدیا ہے۔میں نے منہجی اور اصولی بات کرنے کی کوشش کی ہے۔

💥أسأل الله أن يجعلنا ممن يستمعون القول فيتبعون أحسنه!

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...