🎪سوشل میڈیا میں پھیلے ملحدوں کا دجالی جال🎪
🙋نوجوانان امت رہیں ان سے ہوشیار🙋
💥((دراصل چند ایام پہلے مجھے ایک الحادی واٹساپ گروپ میں شامل کیا گیا جہاں میں نے دینی واجبات وفرائض، اسلامی تعلیمات واحکامات، مذہبی شعائر ومقدسات اور ایمانی اعمال وارکان کا کھلم کھلا انکار ومذاق اڑاتے دیکھا۔ وہ کسی کی سننے کو تیار نہیں صرف اور صرف اپنے اہداف ومقاصد کی ترویج میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لئے سوچا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے دعوتی خدمات انجام دینے والوں نیز اس سے استفادہ کرنے والے تمام نونہالان ملت کے نام ایک پیغام لکھا جائے جسے زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کی جائے تاکہ ان ابالسہ زمانہ کے ہتھکنڈوں سے اس پر فتن اور ابلیسی میڈیائی دور میں امت کے افراد بچ سکیں۔))
💥دور حاضر میں رافضی باطنیوں کی طرف سے باقاعدہ حدیثوں کا انکار کرنے والے، قرآن کے معانی کو غلط انداز میں پیش کرنے والے، اسلام کے مسلمہ اصولوں اور احکام وفرائض میں شبہ ڈالنے والے سوشل میڈیا میں بھرے پڑے ہیں۔ کیوں رافضی باطنی فرقہ خود تو حدیثوں کا انکار کرتا ہے اور قرآن کے احکام وواجبات کا معنی بدل کر خیالی معنی پہناتے ہیں تاکہ لوگوں کو عمل سے بھی دور کردیں اور معاملہ اپنے جیسا ہوجائے: خود تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔۔
اسلامی شعائر اور مسلمہ اصولوں کا انکار عربوں میں بھی ملے گا لیکن وہاں وہ کثرت نہیں ہے جو یورپ اور بر صغیر میں ہے۔ ایک مثال عربوں میں سے بھی پیش خدمت ہے جو لیلۃ القدر کا انکار کرکے خود سے اسکا مفہوم متعین کر رہا ہے۔ چنانچہ اس کے نزدیک ((سال کے جس بھی رات میں آپ اللہ سے ڈر گئے اور شرف ہدایت سے بہرہ ور ہوگئے وہی رات آپ کیلئے لیلۃ القدر ھے۔ ) دیکھیں اس ویڈیو کو:
https://www.facebook.com/groups/1035980613200810/permalink/1306578742807661/
💥اور اس مشن میں صلیبی مستشرقین (Orientalists) بھی شامل ہیں۔ بلکہ اکثر تحریفی وتخریبی مواد انہوں نے ہی تیار کیا ہے اور پھر مسلمانوں میں سے بے عمل پڑھے لکھے لوگوں کو خرید کر مسلمانوں میں چھوڑے ہوئے ہیں جنکا کام ہی یہی ہے کہ انہیں سازشی مواد اور باطل نظریات کو سوشل میڈیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔
پاکستان جیسا ملک جسکی بنیاد کلمہ توحید پر پڑی تھی سب سے زیادہ ملحدوں کی تعداد وہیں پر پائی جاتی ھے جو حدیثیں کا انکار کر کے احکام وفرائض کا مذاق بناتے ہیں کہ حج سے کیا فائدہ ہے نماز روزے سے کیا فائدہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کے پیدا ہونے کا کیا فائدہ؟ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون کا کیا مطلب رہ جاتا ہے اگر ہم ان ساری عبادتوں کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔
💥یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ اس طرح کے پیڈ ملحڈین بظاہر یہی کہیں گے کہ میں قرآن کو مانتا ہوں لیکن حقیقت میں وہ قرآن کو بھی نہیں مانتے۔ اگر قرآن کو مانتے تو کیا وہ عبادتوں کی تاویل کرکے اسکا انکار کرتے اور انکا مذاق بناتے۔ وہ تو اپنے مشن میں لگے ہوئے ہیں۔ اسکی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ وہ کسی کی نہیں سنتے۔ صرف انہیں جو سبق پڑھایا گیا ھے اسی پر عمل کرتے ہوئے وہی سارے مواد پیش کرتے رہیں گے۔ اور انہیں ساری باطل افکار کا پرچار کرتے رہیں گے۔ دوسری بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ آپ کے کسی بھی سوال کا سیدھا جواب نہیں دیں گے۔ خوب ادھر ادھر گھمائیں گے اور جب انہیں پتہ لگ جائے گا کہ یہ شخص ہتھے نہیں چڑھ سکتا تو پھر بڑے خوش اسلوبی سے جان چڑھانے کی کوشش کریں گے۔
💥واللہ میں بتا رہا ہوں کہ ان سے اگر ایک بھی شخص متاثر ہوکر ان کے گروپ میں مل گیا تو یہ انکے لئے سو سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ھوگا۔ وہ اپنے ٹارگیٹ میں کامیاب مانے جائیں گے۔ اور اپنے بوسیز اور مرشدوں سے انعام واکرام حاصل کریں گے۔
آج کل اس طرح کے لوگ کتاب وسنت کو مشکوک بنا کر پیش کرنے، لوگوں کو عمل سے برگشتہ کرنے اور گمراہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا میں بھرے پڑے ہیں۔
لہذا آج ہمیں سیدھا قرآن وحدیث پڑھ کر سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس طرح کے ملحڈین اور رافضی باطنیوں اور مستشرقین کے گماشتوں کے باطل اور گمراہ افکار کا جواب دینے کی اشد ضرورت ھے۔
💥آج الحاد و لادینیت کی نشرواشاعت کے وسائل اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنی آسانی سے مہیا ہیں کہ ماضی میں ہم ان کا تصور بھی نہ کرسکتے تھے جیسے ٹی وی چینلز،فلمیں، ویب سائٹ، نائٹ کلب، سوشیل میڈیا اور لاتعداد کتابیں، مجلات، صحیفے اور مضامین۔ گزشتہ چند سالوں میں کچھ ایسے ملحدین کا اضافہ ہوا ہے جو سوشیل میڈیا اور ٹی وی چینلز میں پوری جرأت اور بے خوفی کے ساتھ اپنے کفرو الحاد کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ ان کی تعلیم و تربیت مسلم ماحول میں ہوئی اور ان کے والدین اب بھی مذہب اسلام ہی کے حامل ہیں۔ شاید شیاطین کو اس طرح کے دینی ماحول سے آنے والے نوجوان زیادہ بھاتے ہیں جن کو اپنی جال میں پھانس کر انحراف و الحاد کی شاہراہ پر لا کھڑا کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔ ایسے ناعاقبت اندیشوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (إِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُواْ ثُمَّ کَفَرُواْ ثُمَّ آمَنُواْ ثُمَّ کَفَرُواْ ثُمَّ ازْدَادُواْ کُفْراً لَّمْ یَکُنِ اللّہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ سَبِیْلاً)( سورۃ النساء: ۱۳۷)’’جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے اُن کو اللہ نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا ‘‘ شیطان کی ناپاک چال اور اس کے ہدف کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ صحیح مسلم کی اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے جسے عیاض المجاشعی نے روایت کیا ہے : ’’أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ کُلَّھُمْ، وَإِنَّھُمْ أَتَتْھُمُ الشَّیَاطِینُ فَاجْتَالَتْھُمْ عَنْ دِینِھِمْ ‘‘(مسلم: ۲۸۶۵)’اور بے شک میں نے اپنے بندوں کو راہِ حق پر پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے دین سے پھیر دیئے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم ودائم رکھے۔ کتاب وسنت کا پابند بنائے، شیاطین الانس کے ہتھکنڈوں کو سمجھنے اور ان سے دور رہنے کی توفیق بخشے۔
🎪ایک الحاد گزیدہ سے مباحثہ:🎪
👾قرآن کے الفاظ کی تحریف معنوی کرنا جس کی مثالیں آخر میں موجود ہیں۔
🙋یہ سب تحریف معنوی ھے ۔ قرآن کے الفاظ کو غلط معنی پہنانا ہے جسکی سخت وعید آئی ھے۔ مثلاً سورہ اعراف 180 دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں۔
کسی بھی زبان میں اسکا مطلب اہل زبان سے سمجھا جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ آپ قرآنی آیات کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں نیز یہ "خدمت" کس کے حساب پر انجام دے رہے ھیں۔
در اصل قرآنی آیات کے ظاہری سمجھ میں آنے والے معنی سے پھیر کر دوسرے غیر مرادی معنوں میں لے جانا یہ اسماعیلی باطنیوں کا طریقہ رہا ہے جن کے عقائد قرآن وسنت سے دور دور کا واسطہ نہیں ھے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم میں تحریف اور تحریف کرنے والوں کے وسوسوں سے بچائے۔
👾 دوبارہ آیتوں میں تحریف۔
🙋سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے قرآنی آیت (وفاکھۃ وابا) کے بارے میں جب پوچھا گیا تو (ابا) کا مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے آپ نے کہا تھا:
أي سماء تظلني؟! وأي أرض تقلني؟! إن أنا قلت في كتاب الله ما لا أعلم۔
یعنی اگر میں کتاب اللہ میں کسی لفظ کا معنی نہیں جانتا اور اپنی طرف سے بیان کردوں تو مجھے کہیں پناہ نہیں ملے گا۔
اللہ اکبر۔ یہ تھے صحابہ کرام جو اس قدر احتیاط برتتے تھے اور آج ہم لوگوں کو اپنی جیب سے قرآن کا کیا کیا معنی بتا رہے ھیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین
👾حج کے مناسک کی قرآنی آیات میں غلط توجیہ۔
اور پھر اس پر اپنی طرف سے بک لیٹس اور مقالے کی رہنمائی کرنا۔ اور اسے مطالعہ کرنے پر ابھارنا۔
🙋آپ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود کتاب الحج پڑھ لیں۔ تسلی ہوجائے گی۔ پھر حج کے تعلق سے بحث کریں۔ حج جیسی عبادت کو آج کے رافضیت زدہ عقل پرست (Rationalists ) بک لیٹ کے ذریعے کیا سمجھا پائیں گے۔
👾نماز کا انکار کرکے اس کا غلط مفہوم نکالنا۔
🙋آپ نے اس آیت میں موجود جملہ ((واقیموا الصلاۃ)) کا ترجمہ کیا ہے : اور قوانین الہیہ پر مبنی نظام قائم کرو۔
اس طرح کا مطلب باطنی فرقے والے نکال کر نماز کا انکار کرتے ہیں جس میں صاف صاف نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نماز کا انکار کرکے کون سا نظام قائم کر سکتے ہیں؟
اس طرح کی ہیرا پھیری کر کے آپ کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
اور میں یقین سے کہہ رہا ہوں کہ یہ سارے بک لیٹس آپ کی تحریر نہیں ہیں کیوں کہ آپکو تو اردو رسم الخط میں لکھنا بھی نہیں آتا عربی زبان سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ اگر سمجھتے تو ( اقیموا الصلاۃ) کا ترجمہ سیدھا سا کر دیتے کہ نماز قائم کرو۔
اللہ ہم سب کو رافضی باطنیوں کے فتنے سے محفوظ رکھے۔
👾اس بات پر اصرار کہ میری تحریروں پر بھی غور کر لیں ممکن ہے میری بات بھی سمجھ میں آ جائے۔
🙋ارے بھئی آپ آج غور کرنے کی بات کر رہے ہو۔ جس پر قرآن اتارا گیا اس نے کیا غور نہیں تھا؟ فرایض کے ساتھ نوافل بھی اتنا پڑھتے تھے کہ پاؤں سوج جایا کرتے تھے۔
آپ نماز قائم کرنے کا مطلب نظام قائم کرنے کی بات کرتے ہو۔ اسلام کے علاوہ کس نظام کی بات کر رہے ہیں؟ کیا اسلام میں نماز نہیں ہے؟ میں پورے وثوق سے کہ رہا ہوں کہ آپ حج اور نماز ہی نہیں بلکہ زکاۃ وغیرہ دیگر احکام کے بھی منکر ہیں۔
ایسی حالت میں مسلمانوں کے بیچ میں آپ کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں محترم؟!
آپ اپنے لبادے سے باہر آ جائیں اپنی ٹیم میں جاکر اسی اسٹیج سے اس طرح کے ملغوبے پیڈ کی شکل پھیلائیں ۔ یہاں مسلمانوں کو سنت نبوی کے مطابق دین پر عمل کرنے دیں۔
کیوں کہ آپ نماز کا مطلب لوگوں کو بتاؤ گے نظام قائم کرو۔ وہ پوچھیں گے کیسا نظام؟ کہو گے : قوانین الہیہ۔ پوچھیں گے اس سے کیا مراد ہے؟ کہو گے: ہمارے بک لیٹ کا مطالعہ کرو سمجھ جاؤ گے۔ پھر وہ بھی وہی سمجھیں گے جو آپ نے سمجھا ہوا ہے دوسروں کے سمجھانے سے۔
🎪سوشل میڈیا میں پھیلائے جا رہے الحاد کے کچھ نمونے:🎪
💥میں علماء حضرات کی خدمت میں بڑی عاجزی و احترام سے عرض کرتا ہوں کہ کوئی ایسا مفہوم دیجئے جو صرف قرآن کی بنیاد پر کیا گیا ہو ۔جس میں سامری کی دی ہوئی کہانیاں نہ ہوں ۔اور ہو سکے تو جدید علماء کو پیدا کیجئے جو قرآن کی خالص تعلیم کی بنیاد پر اسلام کا وه تصور دے سکیں جس میں جہالت ،مار دھاڑ لوٹ مار اور قتل و غارت گری نہ ہو بلکہ حقوق اور امن وسلامتی کی بنیاد پر قرآن کا بلا کسی اشتراک احکامات قرآنی بتائے گئے ہوں ۔ جس میں بدلہ لینے کی تعلیم نہ ہو بلکہ درگزر اور
عافیت کا پہلو نمایاں ہو ۔
💥ذات الہی کا انکار اور مذاق:
يا قَومِ ادخُلُوا الأَرضَ المُقَدَّسَةَ الَّتي كَتَبَ اللَّهُ لَكُم وَلا تَرتَدّوا عَلىٰ أَدبارِكُم فَتَنقَلِبوا خاسِرينَ۔
اے میری قوم اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو (مملکت الہیہ) نے تمہارے لیے مقرر کر دی اور پیچھے نہ ہٹنا کہ کہیں تم ناکام واپس لوٹو۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم نے ہر کام اس خدا کے لئے چھوڑ دیا ہے جس کو آسمانوں میں بٹھا دیا ہے ۔
💥کیا رسولوں کا سلسلہ بند ہو گیا؟!
عمومی ترجمہ پیش کیا جاتا ہے جس میں رسولوں کے آنے کے سلسلے کو بند کیا گیا ہے ۔ رسولوں کا ایک عرصے تک آنا بند کیوں ہو گیا ۔۔۔؟؟ کیا کسی رسول کی ضرورت نہیں رہی تھی ۔۔؟؟ کیا سب لوگ ہی ہدایت یافتہ ہو گئے تھے ۔۔؟؟یا سب لوگ ہی ہدایت سے بے بہره تھے ۔۔؟؟ آج کیوں رسول نہیں آرہے جب کہ آج اس بگاڑ کی دنیا میں ہدایت کی سخت ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔؟
ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ رسول اسی قوم سے خود اٹھے گا جس قوم میں ذرا بھی اصلاح کی خواہش ہوگی ۔ آسمانوں میں بیٹھے خدا نے نہ تو پہلے کبھی زمین پر اتر کر رسولوں کو متعین کیا ہے اور نہ ہی کبھی کرے گا ۔یہ تو انسانوں میں سے خود آتے ہیں اور کارنامے انجام دے کر قوم کو سدھارتے ہیں۔
اوپر کی آیات سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے کہ ایک عرصہ تک قومیں زوال کا ایسا شکار رہیں کہ ان میں ایک بھی انسان اس لائق نہ تھا ( جیسا آج کل
پاکستان کا حال ہے ) کہ قوم کو سدھارتا۔
💥قبلہ کا مذاق:
وَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ وَأَخيهِ أَن تَبَوَّآ لِقَومِكُما بِمِصرَ بُيوتًا وَاجعَلوا بُيوتَكُم قِبلَةً وَأَقيمُوا الصَّلاةَ ۗ وَبَشِّرِ المُؤمِنينَ۔
اور ہم نے ٰ موسی اور اس کے (ہم خیال جماعت) کو حکم دیا کہ تم دونوں اپنی قوم کے واسطے (حدود کے ادارے) قائم کرو اور اپنے اداروں کو مطمح نظر بناؤ اور قوانین الہیہ پر مبنی (نظام قائم کرو) ۔۔۔اور (امن قائم کرنے والوں) کو خوشخبری سناؤ۔
دیکھئے گھروں کو قبلہ بنانے کا حکم ہے ۔ہم نے ایک شہر میں قبلہ بنا کر دوسرے مذاہب کی نقالی کرتے ہوئے پوجا پاٹھ کی جگہ بنا دی ہے ۔ اور ((عرب قوم نے اس کو مسلمانوں کی خون پسینے کی کمائی کو اڑانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔))
💥نوح علیہ السلام کی نظریاتی کشتی:
فَكَذَّبوهُ فَأَنجَيناهُ وَالَّذينَ مَعَهُ فِي الفُلكِ وَأَغرَقنَا الَّذينَ كَذَّبوا بِآياتِنا ۚ إِنَّهُم كانوا قَومًا عَمينَ۔
ان لوگوں نے اسے اور اسکے ہمسفر ساتھیوں کو جھٹلایا ۔اور ہم نے ان لوگوں کا بیڑا غرق کیا جنہوں نے ہمارے احکامات کو جھٹلایا ۔۔یقیناً وه ایک اندھی قوم تھی .
سیدنا نوح کے قصے میں جس کشتی کا ذکر ملتا ہے ۔اس کشتی کے متعلق اتنا جان لیجئے کہ اس کشتی سے وه معاشره مراد ہے جہاں ہم نظریاتی افراد سوار ہوتے ہیں ۔اور جہاں جہاں غرق ہونے کی بات آئی ہے وہاں انسانوں کی تباہی اور بربادی کی بات کی گئی ہے ۔
💥حج اور کعبہ کا مفہوم:
The word HAJJ is from the root h j j, whose derivatives are Hujjat, Haajat, Ehtejaj, etc., meaning debate, discussion, arguments, protest, row or quarrel, final clash, etc. to reach a result, conclusion, agreement, consensus……
Please look at the following verses where the “traditional” meaning of “pilgrimage” can never be applied, AND EVEN THE TRADITIONALISTS were compelled to adopt its meaning in the right perspective:
Once the rightful meaning of Hajj is established (by above quotations), all of us should feel free to do our Hajj (debate and consensus) in any Institution (Al-Bayit) that we may deem fit as the disseminator of genuine interpretations of Quranic guidance. Genuine interpretations are only those in total conformity with the rules of Arabic language and grammar. That Institution (Al-Bayit) may be in Arabia or elsewhere around the world.
Ka’aba is not the Stone Rectangle in Mecca. It means the centre or highest point of our guidance and inspiration. And that need not be a physical point on earth, but may well be a Book of Divine Guidance/philosophy. Our Ka’aba is Al-Quran. We do not go along with the idea of Paganism, which is against Quranic Ideology; hence circumambulation of a stone rectangle called Ka’aba is simply stone worship and is defined as UN-QURANIC.
💥مقام ابراہیم اور طواف کا مطلب:
وَإِذ جَعَلنَا البَيتَ مَثابَةً لِلنّاسِ وَأَمنًا وَاتَّخِذوا مِن مَقامِ إِبراهيمَ مُصَلًّى ۖ وَعَهِدنا إِلىٰ إِبراهيمَ وَإِسماعيلَ أَن طَهِّرا بَيتِيَ لِلطّائِفينَ وَالعاكِفينَ وَالرُّكَّعِ السُّجودِ۔
اور میری نعمتوں کا وه زمانہ بھی یاد کرو جب میں نے احکامات کو انسانیت کیلئے بار بار رجوع کرنے اور قیام امن کیلئے مقرر کیا اور حکم دیا کہ (ابراہیم کی سیرت) کی پیروی کرو اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے عہد لیا کہ میرے احکامات کو بار بار رجوع کرنے والوں اور غور و خوض کرنے والوں اور احکامات پر عمل پیرا ہونے والوں کیلئے اور ہمیشہ آماده رہنے والوں کیلئے ہر غیر الٰہی حکم سے پاک رکھو۔
💥بنیاد کعبہ سے مراد:
وَإِذ يَرفَعُ إِبراهيمُ القَواعِدَ مِنَ البَيتِ وَإِسماعيلُ رَبَّنا تَقَبَّل مِنّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّميعُ العَليمُ۔
اور جب ابراہیم اور ٰ اسمعیل احکامات الٰہی سے قواعد کو پیش کرتے ہوئے کہہ رہے تھے پروردگار نظام ربوبیت ، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو بر بناء علم سننے والا ہے۔
اس آیت میں لفظ " قواعد " آیا ہے جو " قاعده " کی جمع ہے ۔ لفظ "قاعده" معروف ہے، جس کے معنی اصول اور ضابطے کے ہوتے ہیں۔ اس کے معنی عمارت کی بنیاد کر کے "مملکت الٰہی کے اداروں" کو ایک عبادت گاه کا مفہوم پہنا دیا گیا۔
💥حج اکبر اور عذاب الٰہی کا مطلب:
وَأَذانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ إِلَى النّاسِ يَومَ الحَجِّ الأَكبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَريءٌ مِنَ المُشرِكينَ ۙ وَرَسولُهُ ۚ فَإِن تُبتُم فَهُوَ خَيرٌ لَكُم ۖ وَإِن تَوَلَّيتُم فَاعلَموا أَنَّكُم غَيرُ مُعجِزِي اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الَّذينَ كَفَروا بِعَذابٍ أَليمٍ۔
اور مملکت الہیہ کی طرف سے حج اکبر کے دور میں تمام لوگون کے لئے اعلان ہے کہ مملکت الہیہ اور اس کا پیغامبران مشرکین سے بری ہے جو مملکت کے خلاف سازشیں کرتے ہیں ۔پس اگر" تم "باز آئے تو تمہارے لئے بہتر ہے ،اور اگر تم لوٹے تو جان رکھو کہ تم مملکت الہیہ کو عاجز کرنے والے نہیں اور انکار کرنے والوں کو دردناک سزاکی وعید سنا دیں ۔
💥اللہ کی رسی اور جہنم کے گڑھے کا مطلب:
وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّقوا ۚ وَاذكُروا نِعمَتَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ كُنتُم أَعداءً فَأَلَّفَ بَينَ قُلوبِكُم فَأَصبَحتُم بِنِعمَتِهِ إِخوانًا وَكُنتُم عَلىٰ شَفا حُفرَةٍ مِنَ النّارِ فَأَنقَذَكُم مِنها ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم آياتِهِ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ۔
اور سب کے سب وحی الٰہی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور قدرت کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو قدرت نے تم کو اس سے بچا لیا بوجہ اسی کے قدرت تم کو اپنے دلائل کھول کھول کر بیان کرتی ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
قرآن نے آگ کی خود وضاحت کر دی ہے کہ آگ کیا ہوتی ہے ۔۔۔؟ کیا یہ کوئی آگ کا الاؤ ہوتا ہےجہاں انسانوں کو جھونکا جائے گا یا یہ انسان کے اندر لگی آگ ہوتی ہے ۔؟ قرآن کہ رہا ہے کہ "تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو قدرت نے تم کو اس سے بچا لیا" کیا واقعی رسالتمآب کے زمانے میں کوئی آگ کا گڑھا جل رہا تھا جس میں لوگ آتے تھے اور گر کر جل بھن جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔جی نہیں ۔۔۔۔۔۔قرآن نے خود واضح کر دیا ہے کہ یہ آپس کی دشمنی کی آگ
تھی ۔
💥صفا مروہ اور حج وعمرہ وطواف وغیرہ کا مطلب:
إِنَّ الصَّفا وَالمَروَةَ مِن شَعائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَن حَجَّ البَيتَ أَوِ اعتَمَرَ فَلا جُناحَ عَلَيهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِما ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيرًا فَإِنَّ اللَّهَ شاكِرٌ عَليمٌ۔
بےشک صفا اور مروه الٰہی شعائر میں سے ہیں ٰ لہذا جو شخص (مملکت خداداد) کی ّ(حجت قائم کرے) یا اس کے لیے (تعمیری کام) کرے تواس پر کو ئی رکاوٹ نہیں ہے کہ ان دونوں الٰہی شعائر کے ساتھ مملکت خداداد کی حفاظت کریں اور جو کوئی وحی الٰہی کی اطاعت کرتا ہے تو قدرت بر بناء علم قدر شناس ہے۔
اس آیت میں چند الفاظ قابل غور ہیں جیسا کہ صفاء ، مروة ، حج ، البیت ۔
صفأء : ماده "ص ف و"۔ معنی: ‘‘خالص ہونا، تصفیہ کرنا، برگزیده کرنا’’۔
مروه : ماده "م ر ء" یا "م ری" یا "روء" "روی" ہو سکتے ہیں۔ معنی: اگر مفعل کے وزن پر رکھا جائے تو معنی ہونگے ایسی تعلیم یا نظریہ جس میںٓ مروت اور خو شگواری کا پہلو نمایاں ہو گا۔ مہربانی، بہتات اور خوشحالی ہو، لیکن اگر مصدر لیا جائے تو معنی میں صفاء اور مروه دونوں معرف بالا م ہیں اس لیے الٰہی احکامات کی تعلیم و نفاذ سے منسوب ہیں۔
شعائر کسی کے رجحانات کو کہتے ہیں۔ بدکردار انسان کے لیے کہا جاتا ہے "اس کے شعائر کوئی اچھے نہیں ہیں" ... یعنی شعائر کسی کے رجحانات اور نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی ماده سے نظم کے اشعار کو بھی کہا جاتا ہے۔ کسی کے بال اور شعور بھی اسی ماده سے بنے ہیں۔
الله کے شعائر ( من شعائر الله ) سے مراد وه طریقہ کار ہے جس سے وحی الٰہی کے مقاصد کو ترویج دی جا سکے، جس کے ذریعے مملکت خداداد کے طریقہ کار میں صفاء یعنی تصفیہ خلوص اور برگزیدگی کا پہلو نمایاں ہونا چاہئے۔ دوسرا الله کا شعائر ہے مروه یعنی مملکت خداداد کے شعائر میں مروت رحمت اور خوشحالی کا پہلو نمایاں ہو گا۔
حج : ماده "ح ج ج" معنی: ‘‘کسی کی حجت قا ئم کرنا، بحث و مباحثہ میں دلیل کے ذریعہ غالب آنا، کسی کے پاس آنا، حج الجرح زخم کی گہرا ئی ناپنا’’۔
اعتمر ماده "ع م ر" معنی: ‘‘بسنا ،زندگی گزارنا’’۔ اعتمر باب افتعال سے ہے،معنی ہیں اہتمام سے کسی کو آباد کرنا۔
اس آیت کا مفہوم ہے کہ جو بھی الله کے احکام کے ذریعے ایک اصلاحی معاشرے کے قیام کیلئے کھڑا ہوتا ہے خواه جنگ کی کیفیت ہو یا امن کی، تو اس
پر کوئی روک نہیں ہے کہ احکام کے نفاذ میں خلوص، محبت ، مروت اور نرمی سے کام نہ لے۔
بیت : ماده"ب ی ت" معنی: ‘‘جہا ں رات گزاری جائے، گھر، اداره ً مثلا بیت المال ، بیت ٰ الیتٰمی ’’ لیکن یاد رکھیے کہ اینٹ پتھر کی عمارت کی کوئی قدر نہیں ہوتی جب تک کہ وه مقصد کہ جس کےلیے وه عمارت تعمیر کی گئی ہے، اس عمارت میں پورا نہ ہو۔ ((‘‘البیت’’ کے معنی کوئی مکان نہیں ہیں بلکہ احکام الٰہی ہیں۔))
🏇اللہ ان الحادی گماشتوں سے امت کی حفاظت فرما اور انہیں انکے مقصد میں ناکام کردے۔ آمین
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق