السبت، 20 أكتوبر 2018

مرسی حکومت: کیا عرب فسادیہ کا صلہ تھی ؟ !

🎪مرسی حکومت: کیا عرب فسادیہ کا صلہ تھی؟!🎪
☠نیز قطری حکام کا عرب فسادیہ میں گھناؤنا کردار☠
💥2011 کے عرب فسادیہ کے پیچھے کون تھا؟ کیا عرب حکومتوں کو طاغوتی نظام کہنے والے اور پھر عوام کو (الاسلام ھو الحل) کا نعرہ دیکر ان کو گرانے کا خواب دیکھنے والے بنائی اور قطبی تحریکی نہیں تھے؟! سنیئے آج خود ان بلوائیوں کے ان آقاؤں نے اس راز کا انکشاف کر دیا ہے جن کا مقصد ان تحریکیوں کو استعمال کر کے مضبوط مسلم ممالک کو کمزور کرنا اور مشرق وسطی کا جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل کرنا تھا۔ اور اسکے بدلے میں انہیں حکومت کی گدی پر اپنا پٹھو بنا کر بٹھا دینا تھا۔ اور ہوا بھی یہی کہ کئی مسلم ممالک کی تباہی کے بدلے انہیں مصر، لیبیا اور تیونس میں حکومت کی گدی تک پہونچا دیا گیا یہ الگ بات ہے کہ یہ کہیں کے نہ رہے۔ ہر جگہ حکومت بھی گئی اور دنیا کے سامنے رسوا بھی ہوئے۔ 
💥چنانچہ امریکی صوبے ورجینیا کا سینیٹر ڈک بلیک (Richard Hayden Dick Black) عرب فسادیہ کے اصل تحریکی مقاصد سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتا ہے: 
2011 کا سال ہم لوگوں کے لئے بڑا سخت تھا، کیوں کہ مشرق وسطی کو تہس نہس کرنے کیلئے عرب بہاریہ (Arab Spring) نام کا بم ہم نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عرب ممالک میں پھینک دیا تھا۔ اور اخوانیوں کی جماعت ان میں سب سے آگے آگے تھی۔ ان کے پیچھے کچھ اجنبی ہاتھ بھی تھے جن میں اوبامہ انتظامیہ پیش پیش تھا جن سب کا واحد مقصد مشرق وسطی میں ان تمام حکومتوں کو اکھاڑ پھینکنا تھا جو بڑی تیزی سے اپنا قدم آگے کی طرف بڑھا رہی تھیں۔ 
یقینا مصر اور لیبیا میں تو 2011 ہے کے اندر تشدد اور فساد کے ذریعے انقلاب آ چکا تھا، اسی طرح ملک شام میں بھی برطانوی خفیہ ایجنسی، ترکی اور اخوانیوں کے ذریعے تشدد کی آگ بھڑکا دی گئی تھی۔ 
مصر میں اخوانی تحریکیوں کی مرسی حکومت کے آنے کے بعد یہ حال ہو چکا تھا کہ وہاں سے عوام بھاگنے لگی تھی۔ کیوں کہ مرسی نے کسی پارلیمانی یا قانونی خوف سے اپنے آپ کو بالا تر سمجھتے ہوئے ڈکٹیٹر کا روپ دھار لیا تھا اور صرف اتنا ہی مرسی حکومت کے خاتمے کیلئے کافی تھا جبکہ انکی دہشت گردی اور خوف اس پر مستزاد تھا۔ 
ڈک بلیک نے مزید کہا کہ مرسی حکومت کے ایک سال کے بعد 2013 میں 30/جولائی کو مصر کی سڑکوں پر 30/ ملین عوام مرسی حکومت کے خلاف ابل پڑی اور پکار اٹھی کہ اخوانیوں کی حکومت اب نہیں چلے گی۔ انسانی تاریخ میں اس سے بڑا مظاہرہ کبھی نہیں دیکھا گیا جس نے مرسی کو معزول ہونے پر مجبور کر دیا۔ 
اور جنرل سیسی نے حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے فوج کو حکم دیا کہ ملک کو سول وار کی آگ میں بھڑکنے سے بچائے۔ لیکن تعجب ہے اوبامہ انتظامیہ پر کہ جس نے شام اور لیبیا میں تو حکومتوں کو بدلنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا لیکن مصر میں مرسی حکومت کے خلاف آئی عوامی انقلاب کی سختی سے مذمت کر دی۔ 
ورجینیا کے سینیٹر نے اس بات  کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اخوانی 1973 کے جنگ اکتوبر کے بھی دشمن ہیں وہ جنگ کہ جس نے مصر کے وقار کو بحال کیا۔ میں حیران ہوں کہ اخوانی اس جنگ سے کیوں نفرت کرتے ہیں اور کیوں اسکا مذاق اڑاتے ہیں (حالانکہ یہ جنگ اسرائیل کے خلاف تھی جس میں مصری فوج نے اسرائیلی فوج کو ناکوں چنے چبوایا تھا) ایسا لگتا ھے کہ ان کے پاس اپنے ملک کی تاریخ کا ذرہ برابر احترام نہیں ہے۔
یقیناً تحریکی اخوانیوں کی جماعت دہشت گردی کا مسکراتا ہوا اور نازیوں کا خیر خواہ چہرہ ہے۔ چنانچہ اب وقت آگیا ہے کہ اسے بھی داعش کی طرح دہشت گرد جماعت قرار دے دیا جائے کیوں کہ جو مشرق وسطی میں رہتے ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ تنظیم دہشتگردی کا متعاون اور ممد ہے۔ 
اس نے پتے کی بات یہ کہی کہ ہر داعشی کو ختم کر دینا معاملے کا حل نہیں ہے بلکہ سیسی کے بقول متشدد اور تکفیری فکر کو ختم کرنا اصل مسئلے کا حل ہے جسکی نمائیندگی اخوانیت کر رہی ہے اور جسکا روحانی پیشوا یوسف قرضاوی ہے۔  
پوری تفصیل اس رپورٹ میں دیکھ سکتے ہیں: 
((أبدى السيناتور الأمريكى السابق عن ولاية فيرجينيا سيناتور ديك بلاك، ترحيبه بزيارة الرئيس عبد الفتاح السيسى الحالية لواشنطن، قائلا: " اعتبر الرئيس السيسى أحد القادة العظام فى عصرنا هذا".
وأشار سيناتور ديك بلاك خلال الندوة التى نظمها الإعلامى الدكتور مايكل مورجان بنادى الصحافة بواشنطن عن العلاقات المصرية الأمريكية، إلى أن عام ٢٠١١ كان قاسيا جدا لوجود عملاء ساعدوا فى تفجير الربيع العربى لزعزعة الشرق الأوسط، وكانت جماعة الإخوان فى قلب هذا الأمر، كما كانت هناك أيادى لدول خارجية من بينها إدارة أوباما التى تورطت فى مخطط الإطاحة بأنظمة كانت مستقرة فى الشرق الأوسط، مضيفا " 
أن مصر وليبيا تم الانقلاب فيهما بعنف فى ٢٠١١ وكذلك سوريا التى تم إشعالها من المخابرات البريطانية والتركية والإخوان، وأن سكان مصر مسلمين ومسيحيين كانوا يريدون الهروب من البلد، بعدما أعلن مرسى نفسه ديكتاتورا من خلال سلطات مطلقة دون رقابة برلمانية أو قضائية وهذه كانت النهاية فضلا عن الإرهاب وخوف المصريين". 
وأكد  ديك بلاك أن ٣٠ يونيو كانت ثورة فريدة فقد نزل ٣٠ مليون مصرى إلى الشارع وقالوا كفاية لحكم الإخوان، وهذه كانت أكبر مظاهرة فى تاريخ البشرية، لذلك تم خلع مرسى من المصريين، كما أن الجنرال عبد الفتاح السيسى وقتها أمر الجيش بمنع اندلاع حرب أهلية  فى مصر، وكانت هذه حركة فى منتهى الحكمة، لكن ما يدعو للتعجب أن إدارة أوباما قامت بتنفيذ عمليات فى سوريا وليبيا لتغيير الأنظمة وفى نفس الوقت رفضت ثورة المصريين"
وأشار السيناتور عن ولايه فيرجينيا إلى عداء الإخوان لحرب أكتوبر ١٩٧٣ وقال إنها حرب أعادت كرامة مصر، لكنى اندهشت أن الإخوان كرهوا حرب أكتوبر ليخلقوا من تاريخها فوضى فى مصر، ويسخرون من هذه الحرب ولَم يكن لديهم ذرة احترام لتاريخ بلدهم" 
وأكد أن الإخوان يمثلون الوجه المبتسم للإرهاب والوجه الخيرى مثل النازيين، لذلك حان الوقت لإعلان الإخوان جماعة إرهابية، لأن الإرهاب ليس فقط داعش ومن فى الشرق الأوسط يذكرون ذلك جيدًا، ويدركون أن الإخوان تدعم الإرهاب.  "تقتل كل عناصر داعش لكن لن تحل المشكلة، فالمشكلة كما قالها الرئيس السيسى تتعلق بتحديد الخطاب الدينى ومكافحة الفكر المتطرف والمنهج التفكيرى الذى يتعارض مع السلام"، لافتًا إلى أن الإخوان المسلمين فى أمريكا يمثلون التفكير المتطرف، كما أن يوسف القرضاوى هو رأس الأفعى الأيديولوجية للإخوان.))
https://m.youm7.com/story/2017/4/4/خلال-ندوة-بنادى-الصحافة-بواشنطن-سيناتور-سابق-السيسى-أحد-القادة/3175791
💥تنظیمی پیمانے کے علاوہ اگر ملکی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس منحوس عرب فسادیہ میں ترکی اور ایران کے علاوہ قطر نے سب سے زیادہ حصہ لیا اور اس نے لیبیا پر خصوصی توجہ دی جسکا اخوانیوں نے پورا پورا ساتھ دیا یہاں تک کہ قطر میں بیٹھ کر کٹر اخوانی یوسف قرضاوی نے لیبیا کے صدر معمر القذافی کو قتل کرنے کا فتویٰ بھی جاری کردیا۔ قطر نے بھی فوج، دولت اور اسلحہ کا بھر پور استعمال کیا ساتھ میں ناٹو فوج کی مدد بھی حاصل رہی۔ اسطرح لیبیا کو ترقی کے مینار پر پہونچانے والے ایک مسلم حکمراں کو انہوں نے قرضاوی کے فتویٰ پر عمل کر کے کتے کی موت مار دی۔ 
آخر قطر نے لیبیا کے پیچھے اتنی دولت کیوں برباد کی؟! ٹھیک ہے قطر کے پاس دولت بہت ہے لیکن کیا اخوانیت کے بہکاوے میں آکر اس نے ایسا کیا کہ اخوانیت کی فکر سے جو بھی ظالم حکمران ہو اسے کتے کی موت مار دیا جائے؟! ایسا بالکل نہیں ہے۔ قطر کے حکمران اخوانیوں سے کہیں زیادہ چالاک ہیں اور وہ اپنی مصلحت میں انکا استعمال بخوبی کر رہے ہیں۔ 
در اصل قطر لیبیا پر اپنا تسلط جما کر فرانس سے مکمل مفاہمت کے ساتھ وہاں ایک اپنا مضبوط بیس بنانا چاہتا تھا کہ جہاں سے اپنا دنیا کا نمبر ون گیس کا خزانہ لیبیا منتقل کرے اور پھر وہاں سے اسرائیل کی شراکت کے ساتھ یورپ تک اسے پہونچائے۔ کیوں کہ لیبیا بھی گیس کے میدان میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا۔ چنانچہ قطر اسے کیسے برداشت کرسکتا تھا؟! قطر کی اس پوری سازش کو درج ذیل تینوں ویب سائٹس میں دیکھ سکتے ہیں: 
https://www.google.co.in/amp/s/qatarileaks.com/leak/amp/قطر-تحالفت-مع-فرنسا-ضد-القذافي-للسيطرة-على-الغاز-الليبي
http://www.afrigatenews.net/content/الغاز-وراء-حرب-قطر-في-ليبيا
https://www.albayan.ae/one-world/arabs/2017-12-17-1.3133544
💥قطر کی اس سازش کا علم اھل لیبیا کو اسی وقت ہوگیا تھا لہٰذا وہ اسی وقت قطر سے کافی محتاط ہوچکے تھے۔ اور اخوانیوں کو چھوڑ کر وہاں کے سارے لوگوں نے قطر کی جم کر مخالفت کی، خصوصاً سلفیوں نے اس میں بھر پور حصہ لیا۔ معروف سلفی عالم کمال بزازہ کو اسی لئے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کیوں کہ وہ اخوانیت کے گڑھ بنغازی میں قطر کی مخالفت پرزور انداز میں کر رہے تھے۔ اور انہوں نے لوگوں کو #لا_لمشروع_قطر_في_ليبيا# کا نعرہ بھی دیا کہ لیبیا میں قطر کے کسی بھی پلان کو پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایک رپورٹ کے ساتھ انکی پرجوش تقریر اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں: ((بعد ما خطب هذه الخطبة في يوم الجمعة  7/3/2013 قام التكفيريين حينها من  انصار الشريعة وغيرهم من ايادي الخوارج الآثمة حينما كانت لهم اليد الطولي في بنغازي بعد صلاة ظهر يوم السبت قام الخوارج بتفخيخ سيارته وبعد خروجه من صلاة الظهر بعشر دقائق تتفجر السيارة و فيها الشيخ كمال رحمه الله
فبقت كلماته الي هذا اليوم و نقول ان هذا الشيخ قد حذر قبل اربع سنين من مشروع قطر الاخواني الداعم للخوارج ....غفر الله للشيخ و اسكنه فسيح جناته: 
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=223403598465732&id=100023882802303
💥اخوانیوں کی مدد سے قطر نے لیبیا کو صرف برباد ہی نہیں کیا بلکہ اس ترقی یافتہ ملک کو بھرپور لوٹنے کی بھی کوشش کی۔ چنانچہ بتایا جاتا ہے کہ لیبیا نے 2010 میں ہی فرانسیسی سائنسدانوں کی مدد سے (قاف1) نام کا سیٹ لائٹ چھوڑ چکا تھا۔ لیکن 2011 میں تباہی کے بعد یہ منظم پلان پھیل ہوگیا جس کے پیچھے قطر کو بتایا گیا جب اچانک اس نے 2013 میں (سھیل سیٹ1) کے نام سے سیٹلائٹ چھوڑنے کا اعلان کیا اور اس وقت الجزیرہ ٹی وی چینل اسی کے تھرو چلایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اھل لیبیا کا کہنا ہے کہ قطر نے انہیں فرانسیسی سائنسدان کو رشوت دےکر لیبیائی سیٹلائٹ کو ہائی جیک کر لیا اور اس کے نام کو بدل دیا۔ یعنی معمر قذافی نے جس کے بارے میں سوچا تھا کہ اس سیٹلائٹ کے ذریعے عالم اسلام کے تعلق سے سچی خبریں نشر کیا جائے گا آج اخوانیوں نے اسی کو ہائی جیک کر کے اکاذیب واراجیف اور پروپیگنڈوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ 
یہ ہے قطری حکام اور اخوانیوں کا گندہ کھیل جو مسلم ممالک کو تباہ کر کے کھیلا جا رہا ہے۔ اسکی پوری تفصیل اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://www.albayan.ae/one-world/arabs/2017-06-17-1.2980406
بارہ مسلم ممالک نے قطر سے تعلقات ویسے نہیں توڑ دیا۔ اسکی مزید سازشوں کو اس پوسٹ پر دیکھ سکتے ہیں: 
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1547029612076987&id=100003098884948
💥ویسے اس وقت معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام قذافی بہت ہی متحرک ہے۔ اس نے اپنے باپ کو بلوائیوں کے ہاتھوں کتے کی موت مرتے دیکھا ہے۔ اگلے الیکشن میں صدارتی انتخاب لڑنے کی تیاری میں ہے۔ اخوانیت اور قطری حکام کو اپنا جانی دشمن مانتا ہے۔  اسے کافی تائید بھی مل رہی ہے۔ لگتا ہے آنے کے بعد لیبیا سے اخوانیت کا جنازہ نکال دے گا۔ 
سیف الاسلام قذافی کے اس ٹیوٹر اکاؤنٹ پر جا کر دیکھیں وہ کس طرح کے عزائم رکھتا ہے: 
 https://twitter.com/SaifAlIslam_G?s=09

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...