السبت، 20 أكتوبر 2018

صفقة القرن: فلسطین کے خلاف صدی کا سب سے بڑا سودا🎪 .. اسکے پیچھے کون؟

🎪صفقۃ القرن: فلسطین کے خلاف صدی کا سب سے بڑا سودا🎪 اسکے پیچھے کون؟!
💥حقیقت میں 2017 کے اندر تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے اعلان سے ایک سال پہلے ہی 2016 میں تحریکی اردگان نے اسرائیل آ کر بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کر کے فلسطینیوں کے خلاف سودا کر لیا تھا۔ اس لنک پر معاہدے کا وہ وثیقہ دیکھا جا سکتا ہے جس میں ترکی اور اسرائیل کی طرف سے دستخط کئے گئے ہیں کہ القدس اسرائیلی راجدھانی ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1425160924295963&id=396925020452897
 پوری رپورٹ اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں: 
https://www.slaati.com/2018/05/17/p1091008.html
 ترکی کے سابق نائب وزیر اعظم عبد اللطیف شنار کا ویڈیو بھی موجود ہے جس میں عالم عرب کی تباہی اور فلسطینی قضیے کی تجارت میں اردگان کا صہیونی چہرہ اجاگر کیا ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1763319997121524&id=575572929229576
💥اور اس سے تین سال پہلے مصر میں اخوانی حکومت کے دوران مرسی اور حماسی لیڈروں نے پورے فلسطین کا سودا کر لیا تھا۔ اسکے لیۓ حماس کو قطر نے راضی بھی کر لیا تھا۔ دیکھیں اس رپورٹ کو: ((أن حماس مستعدة للعمل مع الأمريكيين حول صفقة القرن مقابل السيطرة على غزة والنفوذ في الضفة الغربية، لكن اللافت للنظر هو أن قطر تحاول الدفع بحماس” نحو قبول ذلك المشروع، مشيرًا إلى أنه من الواضح أن “هذه الرسالة مصدرها هو الشيخ تميم بن حمد آل ثاني”.))
ترجمہ: قطر کے بادشاہ وقت تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا: غزہ اور مغربی پٹی پر اگر حماس کو مکمل حکومت دے دی جائے تو وہ اس معاہدے (صفقۃ القرن) کے بارے میں امریکیوں سے بات کرنے کے لئے راضی ہے۔ اور اس پلان کو قبول کروانے کے لیے قطر کی پوری کوشش ہے۔ 
https://www.eremnews.com/news/arab-world/gcc/1306174
💥جہاں تک مرسی حکومت کی بات ہے تو اسکی تفصیل یہ ہے کہ 2013 کے اندر مصر میں اخوانی مرسی حکومت کے دوران امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی مفاہمت کے ساتھ یہ معاہدہ کیا گیا کہ مصر صحرائے سیناء کے اندر 770 مربع کیلومیٹر زمین فلسطینیوں کو بسانے کے لئے دیدے جو بالکل غزہ پٹی سے ملا ہوا ہو۔ اسکے بدلے میں اسرائیل جنوب میں مصری اسرائیلی سرحد پر اتنی ہی زمین دیدے گا۔ اور اس نوزائیدہ ملک کی آبادکاری کے لئے امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، اردن اور اسرائیل کو دعوت دی جائے گی۔ تفصیلات اس رپورٹ میں دیکھیں: 
((أولا: تتنازل مصر عن 770 كيلومتراً مربعاً من أراضى سيناء لصالح الدولة الفلسطينية المقترحة. وهذه الأراضى عبارة عن مستطيل، ضلعه الأول ٢٤ كيلومتراً، ويمتد بطول ساحل البحر المتوسط من مدينة رفح غربا، وحتى حدود مدينة العريش، أما الضلع الثانى فيصل طوله إلى ٣٠ كيلومتراً من غرب «كرم أبوسالم»، ويمتد جنوبا بموازاة الحدود المصرية الإسرائيلية. 
وهذه الأراضى (٧٢٠ كيلومتراً مربعاً) التى سيتم ضمها إلى غزة تضاعف مساحة القطاع ثلاث مرات، حيث إن مساحته الحالية تبلغ ٣٦٥ كيلومتراً مربعاً فقط.
ثانيا: منطقة الـ(٧٢٠ كيلومتراً مربعاً) توازى ١٢% من مساحة الضفة الغربية. وفى مقابل هذه المنطقة التى ستُضم إلى غزة، يتنازل الفلسطينيون عن ١٢% من مساحة الضفة لتدخل ضمن الأراضى الإسرائيلية.
ثالثا: في مقابل الأراضى التى ستتنازل عنها مصر للفلسطينيين، تحصل القاهرة على أراض من إسرائيل جنوب غربى النقب (منطقة وادى فيران). المنطقة التى ستنقلها إسرائيل لمصر يمكن أن تصل إلى ٧٢٠ كيلومتراً مربعاً (أو أقل قليلا)، لكنها تتضاءل في مقابل كل المميزات الاقتصادية والأمنية والدولية التى ستحصل عليها القاهرة لاحقا.))
مزید معلومات اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں: 
https://www.marefa.org/صفقة_القرن
💥اس پلان کو اس سے تین سال پہلے ہی اسرائیلی جنرل گیورا آئیلاند (Giora Eiland) 2010 ہی کے اندر بنا کر پیش کر چکا تھا۔ چنانچہ 2017 میں متشدد، کٹر اور یہودیوں کے قریبی مانے جانے والے امریکی صدر ٹرمپ کے آنے کے بعد اہل فلسطین کے خلاف اس سازشی معاہدے کو پھر اچھالا گیا تا کہ وہ اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کردے۔ لیکن چونکہ اب اخوانیوں کی حکومت نا رہی اسلئے یہ بیچارے اس کا الزام موجودہ مصری حکومت اور ساتھ میں سعودی عرب پر بھی لگاتے ہیں اور میڈیا میں زبردست اسکا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ مصر، اردن اور سعودی عرب مل کر فلسطینی عوام کا سودا کر رہے ہیں۔ مقصد اس سے انکا صرف یہ ہے کہ انکی منافقت اور سازس اسی پروپیگنڈے میں چھپ کر رہ جائے۔ 
لیکن اتنی بڑی سازش کو کیسے چھپایا جا سکتا ہے؟! چنانچہ مصری خفیہ ایجنسی کے سابق چیف فواد علام نے اس راز کا انکشاف کرتے ہوئے کہا: (المقالات تؤكد ما سبق وتردد، بأن جماعة الإخوان المسلمين عقدت اتفاقًا مع اسرائيل بتسليم جزء من صحراء سيناء لتسكين الفلسطينيين بها، وأن مثل هذا التصريح يؤكد أن جماعة الإخوان المسلمين مستعدة للتحالف مع الشيطان فى سبيل تحقيق أهدافها والتواجد على الساحة السياسية والوصول إلى الحكم.)
ترجمہ: یہ بات پوری تاکید سے کہہ رہا ہوں کہ اخوان المسلمین نے اسرائیل کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ فلسطینیوں کی آبادکاری کے لئے وہ انہیں صحرائے سیناء میں جگہ دینے کے لئے تیار ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اخوان المسلمین حکومت وسیادت حاصل کرنے کے لئے شیطان سے بھی دوستی کر سکتے ہیں۔ 
مذکورہ خبر کو اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.youm7.com/story/2017/4/5/وانكشف-المستور-عن-علاقة-الإخوان-بتل-أبيب-وزير-الخارجية-الإسرائيلى/3176491
فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اس کا بھانڈا یہ کہہ کر پھوڑ دیا کہ اس معاہدے کے پیچھے مرسی کی حکومت تھی۔ اور میں نے مرسی کی درخواست کو اسی وقت رد کر دیا تھا، دیکھیں اس ویڈیو کو:
https://youtu.be/ez2F6rJ-YGs
مزید اس سنگین قضیے کی صراحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو اسے صاف صاف نکار دیا لیکن حماس نے مرسی کے اس درخواست کو شرح صدر کے ساتھ قبول کر لیا۔ سچ کہا ہے کسی نے: 
کبوتر با کبوتر باز با باز 
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
محمود عباس کا یہ بیان بھی سن لیں: 
https://youtu.be/9Kup3TI8_Uk
💥2016 ہی میں امریکی کانگریس نے اوباما سے ان 8/ارب امریکی ڈالر کا حساب مانگا تھا جسے انہوں نے اخوان المسلمین کو اسی سودے کو حل کرانے کے لئے دیا تھا لیکن مرسی حکومت کے گر جانے سے یہ سودا کھٹائی میں پڑ گیا۔ پڑھیں اس رپورٹ کو:
((في اجتماع الكونجرس الأمريكي امس في جلسة ساخنه وجهت الاتهامات الي الرئيس أوباما باهدار ثمانية مليار دولار دفعها المواطن الامريكي  ثمنا لسوء ادارة اوباما  وفريقه وطالبه الآن باسترداد مبلغ 8 مليار دولار استلمهم خيرت الشاطر دعما لجماعة الاخوان المسلمين مقابل تسليم 40% من مساحة مصر للفلسطينيين التابعين لأعضاء حماس، ولما أصبح خيرت وأعوانه خارج السلطة أصبح أوباما فى ورطة لعدم إتمام الصفقة, وهذا هو الحرج الأساسي في موقف اوباما الذى أثار حفيظة أعضاء الكونجرس فى جلستهم أمس۔
يذكر أن الوثيقة المتفق عليها والمُوقع عليها كلا من الرئيس المعزول مرسي ونائب المرشد العام خيرت الشاطر ومستشار الرئيس لشئون الخارجية عصام الحداد.)) 
ترجمہ: امریکی کانگریس نے اوبامہ پر جم کر الزامات لگائے کہ اوبامہ ایڈمنسٹریشن نے امریکی عوام کے پیسے کو ضائع کر دیا۔ چنانچہ ان آٹھ ارب ڈالر کو واپسی کا مطالبہ کیا جسے اوبامہ انتظامیہ سے خیرت شاطر نے لیکر اخوان المسلمین کو دیا تھا تا کہ مصری صحرائے سیناء سے چالیس فیصد حصہ فلسطینیوں کو اسکے بدلے ہبہ کر دیں۔ 
لیکن مرسی حکومت کے گر جانے کے بعد جب خیرت شاطر اور ان کے معاونین اقتدار سے باہر ہوگئے تو اس سودے کی عدم تکمیل کی وجہ سے اوبامہ بڑی مصیبت میں پھنس گئے۔ ۔۔۔۔۔۔ بتایا جاتا ہے کہ (اس منحوس) معاہدے پر معزول صدر مرسی، نائب مرشد عام خیرت شاطر اور صدر کے مشیر خاص برائے خارجہ امور عصام حداد نے دستخط کئے تھے۔ 
 پوری خبر اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
http://www.elbyan.com/الكونجرس-يطالب-اوباما-بسداد-8مليار-دول/
انگریزی میں اس ویڈیو کو بھی دیکھ سکتے ہیں:
https://youtu.be/vYKmn9MhvmE
💥اور چونکہ اسرائیل نے مرسی حکومت سے جس فلسطینی زمین کے حوالے سے سودا کیا تھا اس میں مشرقی یوروشلم کے ساتھ صرف وہی علاقے شامل تھے جو الفتح کے زیر کنٹرول ہیں۔ اس میں حماسی زیر کنٹرول غزہ کا علاقہ شامل نہیں ہے۔ کیوں کہ بدلے میں ملنے والی زمین اس سے ملحق ہے۔ لہٰذا اسے بھی اس میں شامل مان لیا گیا تھا۔ چنانچہ یہ عین معقول اور منطقی بات ہے کہ اس معاہدے کو تسلیم کر لینے میں اس سے حماس کو کوئی نقصان نہیں ھے۔ نقصان اور پریشانی صرف انہیں فلسطینیوں کو ہے جو فلسطینی صدر محمود عباس کے اور سعودی عرب کے سپوٹرز ہیں۔ ایسی صورت میں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اسے محمود عباس نے مانا ہوگا یا سعودی عرب نے اس کی تائید کی ہوگی۔ 
💥فلسطینیوں کے خلاف رافضیت گزیدہ حماسی لیڈروں اور مرسی حکومت کی سازش جب کھل کر سامنے آگئی تو سارے تحریکی رافضی بلبلاہٹ کا شکار ہو گئے اور کالی پیلی میڈیا کا سہارا لیکر فورا اس الزام کو سعودی عرب کے سر منڈھ دیا اور اسکا خوب خوب پرچار بھی کیا۔ ان پروپیگنڈوں کو درج ذیل ویب سائٹس پر دیکھ سکتے ہیں: 
1/http://www.aljazeera.net/news/alquds/2018/4/17/السعودية-بين-صفقة-القرن-ونزع-الوصاية-الأردنية-عن-الأقصى
2/https://www.google.co.in/amp/s/arabic.sputniknews.com/amp/arab_world/201803171030830718-صحيفة-تسليم-صفقة-القرن-للسعودية-بنود-تصدم-الفلسطينيين/
3/http://www.akhbarona.com/mobile/world/236363.html


فیس بک پر بھی دیکھیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...