السبت، 20 أكتوبر 2018

🎪موجودہ مسلم معاشرہ: اخوانیوں کی نظر میں🎪

🎪موجودہ مسلم معاشرہ: اخوانیوں کی نظر میں🎪
💥کیا عصر حاضر کا سماج مبنی بر طاغوت ہے؟!💥
ترکی اس وقت ظالمانہ ایمرجنسی اور جبری الیکشن کا شکار ہے اور ساتھ ہی اقتصادی بحران کا بھی جسکے خلاف ایک لفظ بھی بولنا دو درکنار الٹا ان اخوانیوں نے دعاؤں کا اہتمام اور اقتصادی بحران سے نکلنے کیلئے تمام مسلمانوں سے تعاون کی اپیل بھی کی۔ 
جبکہ دوسری طرف اسی رمضان مہینے کے اندر اقتصادی بحران کے شکار مملکت اردن میں اخوانیوں کیطرف سے پہلے پر امن مظاہرے ہوئے پھر دیکھتے ہی دیکھتے سڑکوں پر دھرنے اور پر تشدد احتجاج شروع ہوگئے۔ اور کالی پیلی میڈیا نے اسے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا، الجزیرہ اور بی بی سی جیسے رافضی اور تحریکی چینلوں نے اس میں ایندھن ڈالنے کا کام کیا۔ 
نوبت بایں جا رسید کہ حکومت نے بہت ساری وزارتوں میں تبدیلی کر ڈالی اور کئی سرکاری اہل کاروں کو معزول کر دیا۔ اسکے باوجود یہ ظالم مظاہرین تختہ پلٹنے سے کم پر راضی ہی نہیں تھے۔ 
لیکن شاہ عبداللہ ثانی نے اپنی حکمت عملی اور سخت سیکیورٹی کے ذریعے نیز سعودی اتحادیوں کے تعاون سے کسی طرح اس بحران سے چھٹکارا حاصل کیا۔ اور یہ سارے منافقین اور خائنین ملک وملت خائب و خاسر ہوکر کچھ گرفتار ہوئے اور کچھ کرائے کے ٹٹو منہ لٹکا کر واپس ہوئے۔ 
💥در اصل یہ اخوانی ہر اس حاکم کے خلاف خروج کے قائل ہیں جو انکی فکر کا حامل نہ ہو۔ اسکے لیے یہ پہلے پر امن مظاہرات، اعتصامات یعنی پیشانی پر پٹی باندھ کر سڑکوں پر نعرے بازی کرتے ہوئے نکلنا جس میں یہ امت مسلمہ کی لڑکیوں کا بھی بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ پھر یہ پر تشدد احتجاج اور شر وفساد نیز ملک کی تباہی وبربادی میں بدل جاتا ہے۔ اور یہی سب کچھ انہوں نے 2011 میں عرب فسادیہ کے موقع پر کیا جس میں کئی مسلم ملک تباہ وبرباد ہوگئے۔ ایک نظر سرسری ہی سہی انسانی وملکی تباہی کا اندازہ لگانے کیلئے اس ویڈیو پر ضرور ڈالیں: 
https://youtu.be/7J09FKkq4A8
متشدد اور کٹر اخوانی طارق سویدان کو سنیں جو 2011 اور 2012 کی بغاوتوں پر خوشی کا اظہار کر رہا ہے اور انکے نتائج کو بھی خوشگوار بتا رہا ہے۔ لیکن جب یہی بغاوت کا اثر قطر میں دیکھا گیا تو اس کے ہاتھ پاؤں سوجنے لگے اور اسکے نتائج بد سے لوگوں کو آگاہ کرنے لگا۔ واقعی امت کے اصلی منافقین اور خائنین یہی لوگ ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=342804996249371&id=100015596192498
💥حقیقت میں اخوانیوں کی یہ تنظیم ہی خروج، بغاوت، سازش اور فریب کاری پر قائم ہے۔ چنانچہ 1928 میں اس پر اسرار تنظیم کے قیام ہی سے مسلم دنیا میں اغوا، دھوکے سے قتل، حکمرانوں کے خلاف احتجاج اور مظاہرے شروع ہوئے۔ اور موجودہ ساری خارجی، تکفیری اور دہشت گرد تنظیمیں اسی فکر کی مستعار ہیں۔ اسامہ بن لادن کو سعودی عرب نے اور ایمن الظواہری کو مصر نے انکی تکفیری اور خارجی فکر ہی کی وجہ سے جلا وطن کیا۔ کیوں کہ سارے کے سارے اخوانی اور قطبی کتابوں اور ان کے لٹریچر سے متاثر ہوکر مسلم حکمرانوں کو کافر سمجھ کر ان کے خلاف خروج کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ 
سید قطب اس فکر میں اپنی مثال آپ ہیں بلکہ یہی اس میدان کے سرخیل مانے جاتے ہیں۔ ان کے لٹریچر میں جابجا یہ بغاوت اور خروج وتکفیر کے تیور دیکھے جا سکتے ہیں۔ (ممکن ہوا تو آگے اس پر ایک الگ سے مضمون آ جائے گا ان شاء اللہ۔) اور خاص طور سے جب انہوں نے امریکہ سے قانون کی تعلیم حاصل کرکے مصر واپسی کی۔ اپنی مشہور بدنام زمانہ کتاب (فی ظلال القرآن) میں لکھتے ہیں: "إن هذا المجتمع الجاهلي الذي نعيش فيه ليس هو المجتمع المسلم"!  (2009/4)
ترجمہ: یقینا یہ جاہلی سماج جس میں ہم جی رہے ہیں بالکل مسلم سماج نہیں ہے۔ 
یعنی -نعوذ باللہ- ان کے نزدیک اور انکے سارے معتقدین کے نزدیک ہم سب جاہلیت ثانیہ یا مکی دور یا کفر کے دور سے گزر رہے ہیں اور جسے عالم اسلام کہا جاتا ہے وہاں کے سارے حکمرانوں سے سرزمین کو پاک اور آزاد کرنا یہ اخوانی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اسکے لئے یہ پہلے ایسے حکمرانوں اور ان کی ماتحتی کو قبول کرنے والوں کی تکفیر کرتے ہیں اور پھر نوجوانوں کو ان کے خلاف خروج اور بغاوت پر ابھارتے ہیں۔ یہاں تک کہ خود کش بم دھماکوں کے جواز کا بھی فتویٰ دیتے ہیں۔ 
💥‏خروج وبغاوت کی ایک اور مثال دیکھ لیں۔ ان کے ایک مرشد محمد عاکف نوجوانوں کو مسلم حکمرانوں کے خلاف ابھارتے ہوئے فرماتے ہیں: "إن دور الإخوان المسلمين هو إثارة وعي المواطنين للتحرك ضد الحكام"!  سر الجماعة: ص ٤٢
ترجمہ: بیشک اس وقت اخوان المسلمین کا کردار یہی ہے کہ وہ عوام کے اندر بیداری پیدا کرکے انہیں حکمرانوں کے خلاف ابھارا جائے اور ان کے خلاف متحرک کیا جائے۔ 
در اصل انکی یہی کج روی اور تکفیری فکر ہے جسکے نتیجے میں یہ مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر کے فتنہ وفساد مچاتے ہیں۔ اور اس طرح حکمرانوں کے خلاف خروج وبغاوت کی دعوت وہی دے سکتا ہے جو شریعت اسلامیہ سے نابلد اور کتاب وسنت کے نصوص سے یا تو ناواقف یا انکا منکر ہو۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات جو بالکل حکمرانوں کی تابعداری کے تعلق سے ہیں ان کا ان اخوانیوں کے پاس کیا جواب ہے؟! جواب تو دور کی بات یہ تکفیری ذہنیت کے حامل ان نصوص کا مذاق بھی اڑاتے ہیں خاص کر وہ حدیث جس میں آیا ہے کہ اس حاکم کی بھی اطاعت ضروری ہے جو تم پر ظلم کرے اور مارے بھی۔ 
ذیل میں کچھ حدیثوں کو لکھتے ہیں جن کو یہ سرے سے مانتے ہی نہیں حالانکہ وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایتیں ہیں: 
①ﺍﻟـﺤﺪﻳﺚ ﺍﻷﻭﻝ :
ﻋَﻦْ ﻭﺍﺋﻞ ﺑﻦ ﺣﺠﺮ - ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ - ﻗَﺎﻝَ : ﺳَﺄَﻝَ ﺳَﻠَﻤَﺔُ ﺑْﻦُ ﻳَﺰِﻳﺪَ ﺍﻟْﺠُﻌْﻔِﻲُّ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓَﻘَﺎﻝَ : ﻳَﺎ ﻧَﺒِﻲَّ ﺍﻟﻠﻪ، ﺃَﺭَﺃَﻳْﺖَ ﺇِﻥْ ﻗَﺎﻣَﺖْ ﻋَﻠَﻴْﻨَﺎ ﺃُﻣَﺮَﺍﺀُ ﻳَﺴْﺄَﻟُﻮﻧَﺎ ﺣَﻘَّﻬُﻢْ ﻭَﻳَﻤْﻨَﻌُﻮﻧَﺎ ﺣَﻘَّﻨَﺎ ﻓَﻤَﺎ ﺗَﺄْﻣُﺮُﻧَﺎ، ﻓَﺄَﻋْﺮَﺽَ ﻋَﻨْﻪُ. ﺛُﻢَّ ﺳَﺄَﻟَﻪُ، ﻓَﺄَﻋْﺮَﺽَ ﻋَﻨْﻪُ. ﺛُﻢَّ ﺳَﺄَﻟَﻪُ ﻓِﻲ ﺍﻟﺜَّﺎﻧِﻴَﺔِ ﺃَﻭْ ﻓِﻲ ﺍﻟﺜَّﺎﻟِﺜَﺔِ، ﻓَﺠَﺬَﺑَﻪُ ﺍﻷﺷْﻌَﺚُ ﺑْﻦُ ﻗَﻴْﺲٍ، ﻭَﻗَﺎﻝَ : ﺍﺳْﻤَﻌُﻮﺍ ﻭَﺃَﻃِﻴﻌُﻮﺍ ﻓَﺈِﻧَّـﻤَـﺎ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢْ ﻣَـﺎ ﺣُــﻤِّﻠُﻮﺍ ﻭَﻋَﻠَﻴْﻜُﻢْ ﻣَﺎ حُمِّـلتُم.
📚‏[ ﻣﺴﻠﻢ 1846 ‏]
ترجمہ: علقمہ بن وائل حضرمی سے روایت ہے، انہوں نے سنا کہ سلمیٰ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا نبی اللہ! اگر ہمارے امیر ایسے مقرر ہوں جو اپنا حق ہم سے طلب کریں اور ہمارا حق نہ دیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا پھر پوچھا: جواب نہ دیا۔ پھر پوچھا تو اشعث بن قیس نے سلمہ رضی اللہ عنہ کو گھسیٹا اور کہا: ”سنو اور اطاعت کرو ان پر ان کے عملوں کا بوجھ ہے اور تم پر تمہارے اعمال کا۔“
②ﺍﻟـﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﺜﺎﻧﻲ :
ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ - ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ - ﻗﺎﻝ : ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ : ﺇِﻧَّﻬَﺎ ﺳَﺘَﻜُﻮﻥُ ﺑَـﻌْﺪِﻱ ﺃَﺛَﺮَﺓٌ ﻭَﺃُﻣُﻮﺭٌ ﺗُـﻨْــﻜِﺮُﻭنـَهـا ﻗَﺎﻟُﻮﺍ : ﻳَﺎ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠﻪ، ﻛَﻴْﻒَ ﺗَﺄْﻣُﺮُ ﻣَﻦْ ﺃَﺩْﺭَﻙَ ﻣِﻨَّﺎ ﺫَﻟِﻚَ؟ ﻗَﺎﻝَ : ﺗُﺆَﺩُّﻭﻥَ ﺍﻟْـﺤَﻖَّ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﻋَـﻠَﻴْـﻜُﻢْ ﻭَﺗَﺴْﺄَﻟُﻮﻥَ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﻟَـــﻜُﻢْ . ‏( ﺃﺛﺮﺓ = ﺍﺳﺘﺌـﺜﺎﺭ ﺑﺎﻷﻣﻮﺍﻝ ‏)
📚‏[ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ 3603 / ﻣﺴﻠﻢ 1846 ‏]
ترجمہ: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ (یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا)۔
③ﺍﻟـﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﺜﺎﻟﺚ :
ﻋﻦ ﺣﺬﻳﻔﺔ - ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ - ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ : ﻳَﻜُﻮﻥُ ﺑَﻌْﺪِﻱ ﺃَﺋِﻤَّﺔٌ ﻻ ﻳَـﻬْﺘَﺪُﻭﻥَ ﺑِـﻬُﺪَﺍﻱَ، ﻭَﻻ ﻳَﺴْﺘَﻨُّﻮﻥَ ﺑِﺴُﻨَّﺘِﻲ، ﻭَﺳَﻴَﻘُﻮﻡُ ﻓِﻴﻬِﻢْ ﺭِﺟَﺎﻝٌ ﻗُﻠُﻮﺑُﻬُﻢْ ﻗُﻠُﻮﺏُ ﺍﻟﺸَّﻴَﺎﻃِﻴﻦِ ﻓِﻲ ﺟُـﺜْﻤَــﺎﻥِ ﺇِﻧْﺲٍ، ﻗَﺎﻝَ : ﻗُﻠْﺖُ : ﻛَﻴْﻒَ ﺃَﺻْﻨَﻊُ ﻳَﺎ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠﻪ ﺇِﻥْ ﺃَﺩْﺭَﻛْﺖُ ﺫَﻟِﻚَ؟، ﻗَﺎﻝَ : ﺗَﺴْﻤَﻊُ ﻭَﺗُﻄِﻴﻊُ ﻟِﻸﻣِﻴﺮِ، ﻭَﺇِﻥْ ﺿُﺮِﺏَ ﻇَﻬْﺮُﻙَ، ﻭَﺃُﺧِﺬَ ﻣَﺎﻟُﻚَ؛ ﻓَﺎﺳْﻤَﻊْ ﻭَﺃَﻃِﻊْ .
📚‏[ ﻣﺴﻠﻢ 1847 ‏]
ترجمہ: حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد وہ لوگ حاکم ہوں گے جو میری راہ پر نہ چلیں گے، میری سنت پر عمل نہیں کریں گے، اور ان میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کے سے اور بدن آدمیوں کے سے ہوں گے۔“ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! اس وقت میں کیا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر تو ایسے زمانہ میں ہو تو سن اور مان حاکم کی بات کو اگرچہ وہ تیری پیٹھ پھوڑے اور تیرا مال لے لے پر اس کی بات سنے جا اور اس کا حکم مانتا رہ۔“
④ﺍﻟـﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﺮﺍﺑﻊ :
ﻋَﻦْ ﻋَﺪِﻱِّ ﺑْﻦِ ﺣَﺎﺗِﻢٍ ﻗَﺎﻝَ : ﻗُﻠْﻨَﺎ : ﻳَﺎ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠﻪ، ﻻ ﻧَﺴْﺄَﻟُﻚَ ﻋَﻦْ ﻃَﺎﻋَﺔِ ﻣَﻦِ ﺍﺗَّﻘَﻰ، ﻭَﻟَﻜِﻦْ ﻣَﻦْ ﻓَﻌَﻞَ ﻭَﻓَﻌَﻞَ، ﻓَﺬَﻛَﺮَ ﺍﻟﺸَّﺮَّ،
ﻓَﻘَﺎﻝَ : ﺍﺗَّﻘُﻮﺍ ﺍﻟﻠﻪ، ﻭَﺍﺳْﻤَﻌُﻮﺍ ﻭَﺃَﻃِﻴﻌُﻮﺍ .
📚‏[ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﺎﺻﻢ ﻓﻲ ﺍﻟﺴﻨﺔ 1069 ‏]
ترجمہ: عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے اچھے اور نیک حکمرانوں کے تعلق سے نہیں پوچھ رہے ہیں بلکہ ان حکمرانوں کے بارے میں جو ظلم کرے تو آپ نے فرمایا: اللہ سے ڈرتے رہو اور اطاعت وفرمانبرداری کرتے رہو۔ 
⑤ﺍﻟـﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﺨﺎﻣﺲ :
ﻋﻦ ﻋَﻮْﻑ ﺑْﻦَ ﻣَﺎﻟِﻚٍ ﺍﻷﺷْﺠَﻌِﻲَّ ﻳَﻘُﻮﻝُ : ﺳَﻤِﻌْﺖُ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻳَﻘُﻮﻝُ : ﺧِﻴَﺎﺭُ ﺃَﺋِﻤَّﺘِﻜُﻢُ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺗُـﺤِﺒُّﻮﻧَﻬُﻢْ ﻭَﻳُــﺤِﺒُّﻮنـَـكُـم، ﻭَﺗُﺼَﻠُّﻮﻥَ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢْ ﻭَﻳُﺼَﻠُّﻮﻥَ ﻋَﻠَﻴْﻜُﻢْ ، ﻭَﺷِﺮَﺍﺭُ ﺃَﺋِﻤَّﺘِﻜُﻢُ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺗُﺒْﻐِﻀُﻮﻧَﻬُﻢْ ﻭَﻳُﺒْﻐِﻀُونـَـكُم، ﻭَﺗَﻠْﻌَﻨُﻮنـَهُم  ﻭَﻳَﻠْﻌَﻨُﻮنـَـكُم ﻗَﺎﻟُﻮﺍ : ﻗُﻠْﻨَﺎ ﻳَﺎ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠﻪ، ﺃَﻓَﻼ ﻧُﻨَﺎﺑِﺬُﻫُﻢْ ﻋِﻨْﺪَ ﺫَﻟِﻚَ؟، ﻗَﺎﻝَ : ﻻ، ﻣَﺎ ﺃَﻗَﺎﻣُﻮﺍ ﻓِﻴﻜُﻢُ ﺍﻟﺼَّﻼﺓَ، ﻻ ﻣَﺎ ﺃَﻗَﺎﻣُﻮﺍ ﻓِﻴﻜُﻢُ ﺍﻟﺼَّﻼﺓَ ﺃَﻻ ﻣَﻦْ ﻭَﻟِﻲَ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺍﻝٍ ﻓَﺮَﺁﻩُ ﻳَﺄْﺗِﻲ ﺷَﻴْﺌًﺎ ﻣِﻦْ ﻣَﻌْﺼِﻴَﺔِ ﺍﻟﻠﻪ، ﻓَﻠْﻴَﻜْﺮَﻩْ ﻣَﺎ ﻳَﺄْﺗِﻲ ﻣِﻦْ ﻣَﻌْﺼِﻴَﺔِ ﺍﻟﻠﻪ، ﻭَﻻ ﻳَﻨْﺰِﻋَﻦَّ ﻳَﺪًﺍ ﻣِﻦْ ﻃَﺎﻋَﺔٍ.
📚‏[ ﻣﺴﻠﻢ 1856 ‏]
ترجمہ: سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر حاکم تمہارے وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو اور وہ تم کو چاہتے ہیں وہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تم ان کے لیے دعا کرتے ہو۔ اور برے حاکم تمہارے وہ ہیں جن کے تم دشمن ہو اور وہ تمہارے دشمن ہیں تم ان پر لعنت کرتے ہو وہ تم پر لعنت کرتے ہیں۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسے برے حاکموں کو تلوار سے نہ دفع کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک وہ نماز کو تم میں قائم کرتے رہیں اور جب تم کوئی بات اپنے حاکموں سے دیکھو تو دل سے اس کو برا جانو لیکن ان کی اطاعت سے باہر نہ ہو۔“ (یعنی بغاوت نہ کرو)۔
⑥ﺍﻟـﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﺴﺎﺩﺱ :
ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﻋﻤﺮ - ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ - ، ﻋَﻦْ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺃَﻧَّﻪُ ﻗَﺎﻝَ : ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟْـﻤَﺮْﺀِ ﺍﻟْـﻤُﺴْﻠِﻢِ ﺍﻟـﺴَّﻤْﻊُ ﻭَﺍﻟﻄَّﺎﻋَﺔُ ﻓِﻴﻤَـﺎ ﺃَﺣَﺐَّ ﻭَﻛَﺮِﻩَ، ﺇِﻻَّ ﺃَﻥْ ﻳُﺆْﻣَﺮَ ﺑِـﻤَﻌْﺼِﻴَﺔٍ،
ﻓَﺈِﻥْ ﺃُﻣِﺮَ ﺑِﻤَﻌْﺼِﻴَﺔٍ ﻓَﻼ ﺳَﻤْﻊَ ﻭَﻻ ﻃَﺎﻋَﺔَ .
📚‏[ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ 2955 / ﻣﺴﻠﻢ 1709 ‏]
ترجمہ: ﺍﺑﻦ ﻋﻤﺮ - ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ - سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے نہ اطاعت کرنا۔“
⑦ﺍﻟـﺤﺪﻳﺚ ﺍﻟﺴﺎﺑﻊ :
ﻋَﻦِ ﺍﺑْﻦِ ﻋَﺒَّﺎﺱٍ، ﻋَﻦِ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗَــﺎﻝَ :
ﻣَﻦْ ﻛَﺮِﻩَ ﻣِﻦْ ﺃَﻣِﻴﺮِﻩِ ﺷَﻴْﺌًﺎ ﻓَﻠْﻴَﺼْﺒِﺮ، ﻓَﺈِﻧَّﻪُ ﻣَﻦْ ﺧَﺮَﺝَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺴُّﻠْﻄَﺎﻥِ ﺷِﺒْﺮًﺍ ﻣَﺎﺕَ ﻣِﻴﺘَﺔً ﺟَــــﺎﻫِﻠِﻴَّـــــﺔً .
📚‏[ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ 7053 / ﻣﺴﻠﻢ 1851 ‏]
ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے (خلیفہ) کی اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔“
👈ﻭﺃﺧﺮﺝ ﺍﻟﺨﻠّﺎﻝ ﻓﻲ ﺍﻟﺴﻨﺔ ‏ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ :
ﺳﺄﻟﺖ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﻓﻲ ﺃﻣﺮ ﺣﺪﺙ ﻓﻲ ﺑﻐﺪﺍﺩ، ﻭﻫﻢَّ ﻗﻮﻡ ﺑﺎﻟﺨﺮﻭﺝ – ﺃﻱ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﺤﺎﻛﻢ. ﻓﺄﻧﻜﺮ ﺫﻟﻚ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﻭﺟﻌﻞ ﻳﻘﻮﻝ : " ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺪﻣﺎﺀ ﺍﻟﺪﻣﺎﺀ، ﻻ ﺃﺭﻯ ﺫﻟﻚ ﻭﻻ ﺁﻣﺮ ﺑﻪ، ﺍﻟﺼﺒﺮ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﻧﺤﻦ ﻓﻴﻪ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﺍﻟﻔﺘﻨﺔ ﻳُﺴﻔﻚ ﻓﻴﻬﺎ ﺍﻟﺪﻣﺎﺀ ﻭﻳﺴﺘﺒﺎﺡ ﻓﻴﻬﺎ ﺍﻷﻣﻮﺍﻝ ﻭﻳﻨﺘﻬﻚ ﻓﻴﻬﺎ ﺍﻟﻤﺤﺎﺭﻡ،
ﺃﻣﺎ ﻋﻠﻤﺖ ﻣﺎ ﻛﺎﻥ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻓﻴﻪ - ﻳﻌﻨﻲ ﺃﻳﺎﻡ ﺍﻟﻔﺘﻨﺔ -
ﻗﻠﺖ : ﻭﺍﻟﻨﺎﺱ ﺍﻟﻴﻮﻡ ﺃﻟﻴﺲ ﻫﻢ ﻓﻲ ﻓﺘﻨﺔ ﻳﺎ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ؟
ﻗﺎﻝ : " ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻓﺈﻧﻤﺎ ﻫﻲ ﻓﺘﻨﺔ ﺧﺎﺻﺔ، ﻓﺈﺫﺍ ﻭﻗﻊ ﺍﻟﺴﻴﻒ ﻋﻤَّﺖ ﺍﻟﻔﺘﻨﺔ ﻭﺍﻧﻘﻄﻌﺖ ﺍﻟﺴﺒﻞ، ﺍﻟﺼﺒﺮ ﻋﻠﻰ ﻫﺬﺍ ﻭﻳﺴﻠﻢ ﻟﻚ ﺩﻳﻨﻚ ﺧﻴﺮ ﻟﻚ، ﻭﺭﺃﻳﺘﻪ ﻳﻨﻜﺮ ﺍﻟﺨﺮﻭﺝ ﻋﻠﻰ ﺍﻷﺋﻤﺔ ﻭﻗﺎﻝ : ﺍﻟﺪﻣﺎﺀ ﻻ ﺃﺭﻯ ﺫﻟﻚ ﻭﻻ ﺁﻣﺮ ﺑﻪ۔ 
📚ﺍﻟﺴّﻨﺔ ﻟﻠﺨﻠّﺎﻝ ‏( ﺻﻔﺤﺔ..89)
ترجمہ: ایک مرتبہ بغداد میں حاکم کے خلاف بغاوت ہوئی تو اس تعلق سے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو آپ نے سختی سے اس پر نکیر کی اور سبحان اللہ پڑھنے لگے۔ پھر فرمایا: اس طرح کے خون وخرابے کو نہ میں جائز سمجھتا ہوں اور نہ ہی اس میں شرکت کا حکم دیتا ہوں۔ ہم جس بھی حال میں ہیں اسی پر صبر کرنا بہتر ہے اس فتنے سے جس میں خون وخرابہ ہو، اموال کی بربادی ہو اور حرمتوں کی پامالی ہو۔ ۔۔۔۔۔۔الخ
💥مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج وبغاوت جیسی فتنہ وفساد والی فکر کے حامل صرف تحریکی اخوانی ہے نہیں ہیں بلکہ انکی ایک فہرست ہے: 
📌ﺍﻟﺨـﻮﺍﺭﺝ
📌ﻭﺍﻟﺮﻭﺍﻓﺾ
📌ﻭﺍﻟﻘﺎﻋـﺪﺓ
📌ﻭﺩﺍﻋـش
📌اور عمومی طور پر تمام تکفیری گروہ اور تنظیمیں۔ 
☠نمونے کے طور پر اخوانی تحریکیوں کے مشہور عالم یوسف قرضاوی کا یہ انٹرویو سنیں جس میں کہہ رہے ہیں کہ آخر ان ظالم حکمرانوں کے ظلم کو عوام کب تک برداشت کرے۔ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ لگتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ زیادہ جانتے ہیں: 
https://www.facebook.com/khaleelsanaabilee.khaan/posts/1891511667607397
                   ━═════﷽════━
◈ 🌹مسلم حکمرانوں کی تکفیر اور ان پر خروج وبغاوت کا حکم🌹
تاریخ شاہد ہے کہ ظالم حکمرانوں کے خلاف جتنے بھی خروج وبغاوت کئے گئے ان کا نتیجہ شر وفساد کا سبب اور بھیانک سے بھیانک تر ثابت ہوا۔ اور کبھی کبھار تو باغیوں کے جھانسے میں آکر ایسی بغاوتوں میں اچھے خاصے علماء بھی شریک ہوگئے پھر بھی اس بغاوت کا نتیجہ صفر ہی رہا۔ مثال میں حجاج بن یوسف کے خلاف ابن الاشعث کی بغاوت کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے ابن تیمیہ وغیرہ جیسے محققین نے تجربات اور مذکورہ نصوص کی روشنی میں نیز سد ذریعہ کی خاطر ظالم سے ظالم حاکم (بشرطیکہ صراحتاً کفر کا مرتکب نہ ہو) کے خلاف کسی بھی قسم کے خروج وبغاوت کی حرمت پر اجماع نقل کیا ہے۔ 
💥مشہور سلفی عالم شیخ ربیع بن ہادی المدخلی سے سوال کیا گیا کہ کیا سلفیوں کے یہاں حکمران کی تکفیر اور ان پر خروج جہاد شمار کیا جاتا ہے؟
◈ جواب:
✺ «یہ عمل گذرے ہوئے خوارج کے یہاں جہاد شمار ہوتا تھا۔ [اور آج کے خوارج کا بھی یہی عقیدہ ہے]. 
✺ رہی بات نبی ﷺ کی تو آپ نے اس کا سد باب کرتے ہویے فرمایا:❞أطيعوا ما أقاموا فيكم الصلاة ❝. ((صحيح مسلم: ١٨٥٥)) ترجمہ: حکمران جب تک نماز قائم کریں ان کی اطاعت کرو".
⇚ اور اس متعلق بہت ساری احادیث ہیں. مثلاً: 
❐ ❞وإن الله سائلهم عما استرعاهم ❝.
((صحيح البخاري: ٣٤٥٥، صحيح مسلم: ١٨٤٢))
ترجمہ: اللہ تعالی حکمران سے ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا۔
✺ ایک عالم کا فریضہ ہے کہ وہ نصیحت پیش کرے.
✺ رہا ان کے خلاف بغاوت وخروج، تلوار نکالنا، اور خون خرابہ مچانا جیسا کہ جزائر میں ہوا، یہ عمل مذاھبِ خوارج کی خبیث ترین صورت ہے.
☜ سلفی مذهب اس سے براءت کا اظہار کرتا ہے.
☜ کیونکہ سلفی منہج کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے،
☜ اور یہ منہج؛ نبوی احکام کے مطابق فتنے اور فساد کا سد باب کرنا چاہتا ہے۔
☜ مسلمانوں کی عزت وآبرو، اور ان کے خون و نفس کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔
☜ اسلام کے نام پر کسی شخصی مفاد کے خاطر ان کا خون بہائے جانے سے روکنا چاہتا ہے۔
✺ واضح رہے کہ اِس قسم کے (خوارج صفت) لوگ جب کرسی تک پہونچ جاتے ہیں، تو اِن کی حالت اُن حکمرانوں سے بدتر ہوجاتی ہے جن کے خلاف انہوں نے بغاوت کرکے خروج اختیار کیا تھا.
☜ یہ پوری طرح مشاہدہ کیا ہوا معاملہ ہے۔ [١]
⇚ اللہ تعالی نے کئی ملکوں میں ان کی حقیقت کو واضح کردیا ہے.
☜ سو معلوم رہے کہ اس قسم کے خارجی لوگ ہی اپنے فاسد اعمال کو جہاد شمار کرتے ہیں».
📚: ((اللباب من مجموع نصائح وتوجيهات الشيخ ربيع: ٢٤٢، ط: الميراث النبوي؛ ١٤٣٤ھ))
#الفوائد_المنهجية_السلفية
 •┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
[١] مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت قائم ہونے کے بعد انہوں نے جو کچھ اسلام مخالف کارنامے انجام دیئے اس سے ہر کوئی واقف ہے۔
(جاری ہے)


فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...