🎪اخوانی قلا بازی: مرسی حکومت سے پہلے اور بعد میں 🎪 اخوانیت سے دور رہیں!!!
2011 میں عرب فسادیہ کے ذریعے حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ پلٹ کر کے ملک کو پہلے تباہی کے دہانے پر پہونچا دیا پھر دین اسلام اور شریعت کا استعمال کر کے نفاق اور جھوٹ پر مبنی جیسے تیسے جوڑ توڑ کے ذریعے اخوانیوں نے مصر میں جولائی 2012 میں حکومت قائم کر لی۔ لیکن عوام سے کئے گئے وعدوں کے مطابق جب یہ حکومت کام نہ کرکے الٹا پارلیمانی جمہوریت کو ہی سارے قانون کا مصدر قرار دینے لگی۔ اور غاصب صہیونی ریاست اسرائیل سے تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دشمنان صحابہ کا گڑھ ایران سے منقطع تمام تعلقات کو بحال کرنا شروع کردیا۔ تو انہیں عوام نے مرسی حکومت کے خلاف احتجاج کرنا شروع کردیا اور وہی فوجی جنرل عبد الفتاح السیسی جسے مرسی نے اپنا چہیتا اور خیر خواہ سمجھ کر حسنی مبارک کے بنائے گئے وزیر دفاع محمد حسين طنطاوي کو ہٹاکر اس اہم منصب پر بیٹھایا تھا اسی نے الٹی میٹم دے کر جولائی 2013 میں مرسی حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔ اور خود ملک کا عبوری صدر بن گیا۔ اسی عار اور ذلت کو مٹانے کیلئے سارے تحریکی اصل اسباب کو نہ بتا کر طرح طرح کے دوسروں پر الزامات اور پروپیگنڈوں سے کام لینے لگے۔ اس کیلئے دیکھیں یہ پوسٹ:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1587849944661620&id=100003098884948
اس طرح اسلامی حکومت کا نام لیکر مرسی نے مصر کو فاطمی اور عبیدی دور رافضیت میں ڈھکیلنے کی پوری پلاننگ کرلی تھی اور اس طرح بغداد اور دمشق اور بیروت کے ساتھ قاہرہ کو بھی رافضیت کے گود میں دینے کی تیاری ہوچکی تھی۔ لیکن اہل سنت کے متوالوں نے جیسے ہی اس بھیانک سازش کو جانا مرسی کی حکومت کو فورا جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ جسکا رونا یہ آج تک رو رہے ہیں۔
💥اب انکا نفاق دیکھیں کہ حکومت حاصل کرنے سے پہلے انہوں نے کیا کیا اور حکومت کے بعد انہوں نے کیا گل کھلایا۔
👾مرسي قبل الحكومة:👾
🎤🙋مرسی نے انتخابات سے قبل کہا: "اليهود أحفاد القردة والخنازير. يجب أن تقطع جميع العلاقات من أي نوع كانت مع هذا الكيان الغاصب المجرم المدعوم من سلاح أمريكا. يجب على الشعوب العربية وحكوماتها أن يحاصر الصهاينة ولا يتعامل معهم."
ترجمہ: یہود بندروں اور خنزیروں کی اولاد ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس غاصب صہیونی مجرم ریاست سے ہر طرح کے تعلقات ختم کر لئے جائیں جسے امریکی اسلحوں کی مدد حاصل ہے۔ تمام عرب قوم اور عربی حکومتوں پر واجب ہوگیا ہے کہ صہیونیوں سے کسی طرح مروت سے پیش نہ آکر ان کا چاروں طرف سے محاصرہ کر لیا جائے۔
🎤🙋اخوانیوں نے انتخابات سے پہلے حسنی مبارک کے ظلم کے خلاف اور اسلامی جذباتی نعرے خوب لگائے، ان میں یہ درج ذیل منافقانہ نعرہ خوب مشہور ہوا: 🗯بكرة مرسي يحرر غزة.🗯 جس کا مطلب ہے کہ حکومت میں آنے کے دوسرے ہی دن مرسی غزہ کو یہودیوں سے آزاد کرا لیں گے۔ اب آخر یہ مجاہدانہ نعرہ سن کر کون سا مسلمان نہیں پگھل جائے گا؟!
🎤🙋 ایک اخوانی لیڈر اپنے شیدائیوں کو پاگل بناتے ہوئے کہہ رہا ہے: 🗯كلكم حماس كلكم حماس🗯
یعنی تم سب حماس ہو تم سب حماس ہو۔ مطلب بس ہماری حکومت بننے کی دیر ہے۔ ادھر ہماری حکومت بنی ادھر فلسطین فتح!!
🎤🙋 ایک اخوانی لیڈر مصری عوام کو بیت المقدس کی محبت سے کھلواڑ کرتے ہوئے کہتا ہے: 🗯عالقدس رايحين شهداء بالملايين🗯. یعنی اے بیت المقدس ہم لاکھوں کی تعداد میں شہید ہونے آ رہے ہیں۔
🎤🙋 ایک بڑے جم گھٹے سے ایک اخوانی انتخاباتی خطاب کرتے ہوئے چیخ چیخ کر لوگوں کے جذبات کو بھڑکا رہا ہے اور کہہ رہا ہے: 🗯لا تكون عاصمتنا القاهره ولا المدينة ولا مكة بل تكون القدس. هدفنا القدس. سنصلي في القدس أو ننال الشهادة على أعتاب القدس.🗯
ترجمہ: ہماری حکومت بننے کے بعد ہمارا دار السلطنت نہ تو قاہرہ ہوگا نہ ہی مکہ نہ مدینہ بلکہ بیت المقدس ہوگا۔ ہمارا ٹارگیٹ صرف القدس ہے۔ ہم نماز بیت المقدس میں ہی پڑھیں گے چاہے وہیں شہید ہونا پڑے۔
💥 لوگوں کے جذبات سے کھیل کر اور اسلامی شریعت کا وعدہ کرکے جب حکومت بنا لی تو عوام کو دھوکا دے کر رافضی صہیونی ایجنڈے ملک میں نافذ کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ انتخابات سے قبل ایک انتخابی مہم کے دوران مرسی نے اسلامی حکومت قائم کرنے کا وعدہ کیا اور اس مہم میں ایک معروف تحریکی نعرے (الاسلام ھو الحل) کا زور شور سے پرچار کیا گیا۔ پوری تفصیل اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں:
https://youtu.be/4fStMky1dm4
🎪اب دیکھیں حکومت بنانے کے بعد مرسی نے کیا کیا:
💥مرسي بعد الحكومة:
🎤🙋مرسی نے حکومت بنانے کے بعد کانفرنس بلا کر اپنے اصلی تحریکی چہرے کو واضح کرتے ہوئے کہا: ((نحن نؤكد بأن نحن نرید الدولة المصرية الوطنية الديموقراطية الدستورية الحديثة۔۔۔۔۔۔ ولا يوجد في الإسلام ولا في العالم ما يسمى دولة دينية۔۔۔۔۔۔۔البرلمان هو الذي يسن القوانين))
ترجمہ: ہم بڑی تاکید سے کہہ رہے ہیں کہ ہم مصر کے اندر ایک وطن پرست، جدت پسند قانونی جمہوری حکومت لانا چاہتے ہیں۔ ۔۔۔ اسلام بلکہ دنیا کے اندر کوئی بھی دینی حکومت نہیں پائی جاتی ہے۔۔۔۔۔ پارلیمنٹ ہی ہمارا دستور ساز ہوگا جہاں سے قوانین بنائے جائیں گے۔ دیکھیں اس ویڈیو کو:
https://youtu.be/5HR90c0OShM
🎤🙋مرسی نے کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا: ((ليس هناك خلاف بين عقيدة المسلمين وعقيدة المسيحيين.))
ترجمہ: مسلمانوں کے عقیدے اور عیسائیوں کے عقیدے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دیکھیں یہ ویڈیو:
https://youtu.be/hpQNELdQFZk
🎤🙋حسنی مبارک کے دور حکومت کے سفیر یاسر رضا کو ہٹا کر اسرائیل میں مرسی حکومت نے نئے سفیر عاطف محمد کو متعین کردیا، حالانکہ مرسی نے تعلقات ختم کرنے کی بات کی تھی۔ پڑھیں اس خبر کو: ((يلتقي سفير حكومة الإخوان الجديد عاطف سالم المعين من قبل حكومة مرسي برئيس إسرائيل في تل أبيب بعد انتهاء فترة السفير السابق ياسر رضا)).
🎤🙋 مرسی نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار ہی نہیں رکھے بلکہ نئے سفیر کو اسرائیلی صدر شمعون پیریز کے نام محبت کا پیغام بھی دیا: ((وسلم السفير الجديد رسالة مرسي إلى شمعون بيريز رئيس إسرائيل.)).
خط کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں:
((من محمد مرسي رئيس جمهورية مصر العربية
إلى صاحب الفخامة السيد شيمون بيريز رئيس دولة إسرائيل۔
عزيزي وصديقي العظيم..
لما لي من شديد الرغبة في اظهار علاقات المحبة التي تربط لحسن الحظ بلدينا قد اخترت السيد السفير عاطف محمد سالم سيد الاهل ليكون سفير فوق العادة ومفوضاً من قبلي لدى فخامتكم.
وإن ما خبرته من اخلاصه وهمته، وما رأيته من مقدرته في المناصب العالمية التي تقلدها لما يجعل لي وطيد الرجاء في أن يكون النجاح نصيبه في تأديته المهمة التي عهدت إليه فيها..
ولاعتمادي على غيرته وعلى ما سيبذل من صادق الجهد ليكون أهلا لعطف فخامتكم وحسن تقديرها أرجو فخامتكم أن تتفضلوا فتحوطوه بتأييدكم، وتولوه رعايتكم، وتتلقوا منه بالقبول وتمام الثقة ما يبلغه إليكم من جانبي، ولا سيما إذا كان لي الشرف بأن يعرب لفخامتكم عما أتمناه لشخصكم من السعادة ولبلادكم من الرغد.
صديقكم الوفي
محمد مرسي
تحريرا بقصر الجمهورية بالقاهرة
في 29 شعبان 1433
19 يوليو 2012))
ترجمہ: مصری صدر محمد مرسی کی طرف سے اسرائیلی صدر عالی جناب شمعون پیریز کی طرف۔
میرے معزز اور عظیم دوست!
دل کی گہرائیوں سے محبت بھرا پیغام آپکی خدمت میں پہونچا رہا ہوں اس بات کی خبر دیتے ہوئے کہ میں نے آپکی خدمت میں اپنے ملک کی طرف سے عاطف محمد سالم کو سفیر بنا کر بھیجا ہے۔
انکے بلند ترین حوصلے، اخلاص نیز اونچے عہدوں پر رہ کر کام کرنے کی صلاحیت کو میں نے پرکھا ہے جس سے مجھے قوی امید ہے کہ موصوف جس خدمت کیلئے مامور کئے گئے ہیں اسے بحسن وخوبی انجام دیں گے۔
موصوف کی غیرت اور سچی کاوشوں پر مجھے بھروسہ ہے کہ وہ آپکی محبت اور عقیدت کے اہل ہوں گے۔ اور آنجناب سے بھی مجھے یہی امید ہے کہ موصوف کو مکمل تائید اور خصوصی رعایت حاصل رہے گی۔ بنا بریں میں نے موصوف کے ذریعے جو بھی پیغام آنجناب کی خدمت میں بھیجا ہے اسے شرف قبولیت بخش کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں گے۔
یقینا میرے لئے یہ شرف کی بات ہے کہ میں آنجناب کیلئے اور آنجناب کے ملک کیلئے سعادت مندی اور خوشحالی کی تمنا کروں۔
آپکا وفادار دوست
محمد مرسی
تحریر کردہ: قصر الجمہوریہ، القاھرہ۔
مورخہ: 29 شعبان 1433ھ
19 جولائی 2012ء
http://archive.almanar.com.lb/article.php?id=329001
اس خط کے منظر عام پر آنے کے بعد اسکی خوب مخالفت کی گئی اور اسکے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے لیکن حکومت اسکا انکار کرتی رہی۔ لیکن اسرائیلی حکومت نے خود اسکا اعتراف کر کے مرسی حکومت کو ایکسپوز کر دیا۔ کیوں کہ خط پر مرسی کی دستخط اور سرکاری مہر موجود ہے۔ اسکا اصلی فوٹو ایڈ کر دیا گیا ہے۔
🎤🙋 نئے سفیر نے صدارتی محل میں اسرائیلی صدر سے ملاقات کر کے مرسی حکومت کی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:
((نحن ملتزمون بتنفيذ جميع القرارات السابقة ونلتزم بمعاهدات السلام مع إسرائيل.))
ترجمہ: ہم پچھلے تمام قراردادوں کو نافذ کرنے کے پابند ہیں اور اسی طرح اسرائیل کے ساتھ تمام امن معاہدات کی بھی پاسداری کرنے کے پابند ہیں۔
🎤🙋 مکمل اطمینان کے بعد اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے کہا: ((لسنا ضد الإخوان المسلمين. وقد تعهدت حكومة مرسي باحترام دولة إسرائيل.))
ترجمہ: ہم اخوانیوں کے خلاف بالکل نہیں ہیں۔ کیوں کہ مرسی حکومت نے اسرائیلی حکومت کے احترام کا وعدہ کیا ہے۔
💥اسرائیل سے اخوان المسلمین کی گہری دوستی:
امریکہ کی طرف سے اخوان المسلمین پر بین لگانے پر مرسی نے اسرائیل کا بھر پور استعمال کیا تھا تاکہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈالے۔ اور اسرائیل نے اسکے لئے پوری کوشش بھی کی۔
اسرائیل نے کہا کہ اخوان کے آنے سے خطے میں ہماری بڑی مدد ہوئی ہے۔ (أن وجود الإخوان للحكم كان مفيدًا، ضاربًا المثل بما حدث أثناء "حرب غزة 2012" أثناء حكم مرسى، وكيف ساعد مرسى فى إقناع حماس بوقف إطلاق الصواريخ على إسرائيل.)
ترجمہ: مرسی حکومت کا بڑا فائدہ یہ رہا کہ اسی حکومت کے دوران 2012 میں معرکۂ غزہ پیش آیا اور اسی مرسی حکومت نے اسرائیل کے خلاف میزائل استعمال کرنے پر حماس کو روک دیا۔
(ووجود الإخوان فى الحكم كان يمنح اسرائيل قدرة الحفاظ على اغتصابهم لحقوق الشعب الفلسطينى.)
ترجمہ: اور حکومت میں اخوانیوں کے رہنے سے فلسطینیوں کے حقوق کو غصب کرنے میں اسرائیلی حکومت کو طاقت ملتی رہے گی۔
ساری تفصیل اس ڈاکیومنٹری ویڈیو کلپ میں دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=169835447186377&id=100024797670854
💥حکومت بننے کے بعد مرسی نے سب سے پہلا سرکاری دورہ ایران کا کیا اور یہ ایک تاریخی دورہ تھا جسکا ایران شدت سے انتظار کر رہا تھا۔ کیوں کہ حسنی مبارک نے ایران سے سارے تعلقات توڑ رکھے تھے۔ رافضیوں کی شدت سے خواہش تھی کہ اخوانیوں کی حکومت آئے۔ انکا منحوس مقصد پورا ہوا اور مرسی نے وہاں جاکر سارے تعلقات بحال کر لئے۔ رافضی سیاحوں اور حسینیات پر جو پابندی حسنی مبارک نے لگا رکھی تھی مرسی نے آکر ساری پابندیوں کو ہٹا دیا اور تحریکی نعرہ (شیعہ سنی بھائی بھائی) کے تحت مرسی نے ایران کو اپنا دوست ملک بنا لیا۔ پوری تفصیل اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://www.google.co.in/amp/s/amp.france24.com/ar/20120828-مرسي-زيارة-إيران-عدم-الانحياز-السعودية-الخليج-علاقات-قطر-سوريا-السنة-الشيعة-الإخوان-المسلمين
یہی وجہ ہے کہ مرسی اخوانی کی حکومت آنے پر ایران کے اندر حکومتی پیمانے پر خوشی منائی گئی جگہ جگہ خوشی کی محفلیں لگائی گئیں ۔ مبارکبادیاں دی گئیں۔ اس ویڈیو کلپ کو دیکھیں:
https://youtu.be/ZKpIz8--nso
(جاری ہے)
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق