السبت، 20 أكتوبر 2018

رمضان کا چاند : یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔

🎪یہ تو ہونا ہی تھا🎪
💥اس سال رمضان کیلئے روزے کے تعلق سے چاند کے مسئلے کو لیکر ہنگامہ ہوا۔ اور چاند دیکھنے والوں کی گواہیوں کو رد کر کے روزہ رکھنے سے منع کیا گیا اور رکھنے والوں کا روزہ تڑوایا گیا۔ لیکن جب دوسرے دن چاند ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک آسمان میں پورے آب وتاب سے چمکتا رہا تو جاکر لوگوں کو یقین ہوا کہ گڑبڑی ضرور ہوئی ھے۔ 
اسی وقت سے یہ اندازہ تھا کہ آگے چل کر آخری عشرے کی طاق راتوں میں اور عید منانے میں بھی ایسے ہی اختلاف ہوگا۔ لیکن اچھا ہوا کہ طاق راتوں میں سمجھوتہ ہوگیا لیکن عید منانے میں اختلاف ہوکر رہا۔ اگر انا اور شخصیت پرستی غالب نہ ہوتی تو اسے بھی نصوص کی روشنی میں حل کیا جا سکتا تھا۔ 
دور نبوی کا واقعہ مشہور ہے، روایت کچھ اس طرح ہے: 
عن أنس قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمُومَتِي مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : " أُغْمِيَ عَلَيْنَا هِلالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا ، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ ، فَشَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلالَ بِالأَمْسِ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا مِنْ يَوْمِهِمْ ، ثُمَّ لِيَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ إِلَى مُصَلاهُمْ . 
ترجمہ: انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے انصاری چچاؤں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہمارے اوپر شوال کا چاند مشتبہ ہو گیا تو اس کی صبح ہم نے روزہ رکھا، پھر شام کو چند سوار آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور دوسرے دن صبح عید کے لیے نکلیں۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة ۲۵۵ (۱۱۵۷)، سنن النسائی/صلاة العیدین ۱ (۱۵۵۸)، (تحفة الأشراف: ۱۵۶۰۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۵۷، ۵۸) (صحیح)
💥گرچہ کچھ لوگوں کو رات میں پتہ چل چکا تھا لیکن بہت سے لوگوں کو آج دن میں پتہ چلا اس لئے اختلاف سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ مرکزی جمعیت کے اعلان پر (یعنی آج روزہ توڑ دیں اور کل سب عید منائیں گے) بھروسہ کرکے اتحاد کا مظاہرہ کرتے۔ اور جسکا پورا نہیں ہوا وہ ایک روزہ قضا کرلیتے۔  اس میں زیادہ اختلاف کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ زندگی کا نادر واقعہ ہے۔ ایسا ہمیشہ ہونے والا نہیں ہے ان شاء اللہ۔ ممکن ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہو کیوں کہ سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ اللہ ان کے ذریعے بھی اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
******************"**"**"*****"***"********
💥ایک مسلم کے دل کی آواز۔💥
*غلطی چاند کی یا چاند کمیٹی کی*
کل ۲۹ رمضان المبارک کو مغرب کی نماز کے بہت لوگوں نے مئو میں چاند دیکھنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوئے۔ اور سب سے پہلے خبر آئی مبارکپور املو سے چاند دیکھے جانے کی اور لکھنؤ سے معتبر اور مستند خبر بھی ملی اور بھی بہت سارے مقامات سے چاند کی تصدیق ہوئی لیکن کئی ایک مقامات پر مطلع صاف نہیں تھا  ایسے میں یہ ضروری تھا کہ ہلال کمیٹی سر جوڑ کر مل جل کر کوئی فیصلہ کرتی۔ 
جب اتنے مقامات سے شہادتیں موصول ہوئیں تو میری اپنی رائے کے مطابق سب کو ایک ساتھ سر تسلیم خم کردیناچاہیئے تھا اور اعلان کردینا چاہیئے تھا کہ جمعہ کو عید کی نماز ادا کی جائے گی۔ 
لیکن فیصلے لینے میں کچھ زیادہ ہی تاخیر ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا بہت ساری کمیٹیوں نے الگ الگ فرمان جاری کرنا شروع کردیا۔ اور امت کے اندر اختلاف کی ٹھیک ویسی ہی لہر دوڑی جو لہر کچھ دنوں پہلے رمضان کے چاند کو لیکر دوڑ ی تھی۔ 
اس دن میرا یہ گمان تھا کہ آج جتنا اختلا ف ہوا شاید اس پر کچھ بحث ومباحثہ ہوگا اور آئندہ ایسا نہیں ہوگا اس پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی
لیکن کیا پتہ تھا کہ اگلے چاند کے لئے اس سے زیادہ اختلاف ہوگا۔  
اس بار یہی دیکھنے میں آیا کہ بات کسی کی انا کی آڑے آگئی کسی کے ناک کٹنے کی بات آگئی ورنہ جتنی شہادتیں موصول  ہوئی تھیں بلا چوں چرا کے اس کو تسلیم کیا جانا چاہیئے تھا۔ جب رمضان کے لئے تمل ناڈو سے شہادت موصول ہوسکتی ہے تو پھر عید کے لئے مبارکپور اور لکھنؤ اور آس پاس کے علاقوں کی شہادت قابل قبول کیوں نہیں ۔ صرف اس لئے کہ چاند دیکھنے والوں میں اکثریت اہل حدیثوں کی تھی؟ ؟؟؟ 
رات میں سوشل میڈی پر مذاق اڑایا گیا کہ ان اہلحدیثوں کو چاند رات میں نہ کس نے دکھا دیا 
کیا یہ کھلا مذاق نہیں؟؟؟
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں سے جو آج اہل حدیثوں کو گالیاں دے رہے ہیں کہ جن لوگوں نے چاند کے لئے ۱۱ بجے رات میں دیوبند میں میٹینگ کی ان کے لئے  ۱۱ بجے رات میں چاند کون لارہا تھا؟ ؟؟
 لیکن یہاں بات صرف انا پرستی کی تھی کیونکہ دیوبند نے اعلان کردیا تھا کہ جمعہ کو ۳۰ واں روزہ ہوگا اور سنیچر کو عید منائی جائے گی۔  اور اسی کی  آڑ میں وہ سب کچھ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ 
آج بہت سارے عید کی نماز ادا کریں گے۔ بہت سارے لوگ روزے سے ہوں گے۔ کچھ روزے سے نہیں ہوں گے لیکن عید کی نماز کل سنیچر کو ادا کریں گے۔  کیا یہ مسلمانوں کے حق میں درست ہے۔ کیا یہ غیر مسلموں کے لئے ایک اور موقع ہم نے فراہم نہیں کیا؟
اس پر ہم کو پھر سے غور کرنا ہوگا کہ کیا آئندہ پھر ہم کوئی موقع دیں گے  یا پھر اس پر قابو پایا جائے گا.....
اللہ ہم سب کی عبادتوں کو شرف قبولیت سے نوازے 
اور عمل صالح کی توفیق دے ۔ آمین.......

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...