السبت، 20 أكتوبر 2018

مولانا عنایت اللہ سبحانی: سعودی ابتعاث سے کیوں نکالا گیا؟!🎪

🎪مولانا عنایت اللہ سبحانی: سعودی ابتعاث سے کیوں نکالا گیا؟!🎪
💥(بر صغیر کے تحریکیوں میں ایک معتمد شخصیت جناب عنایت اللہ سبحانی کی ہے۔ موصوف بڑے ترش مزاج مانے جاتے ہیں۔ کچھ ایام پہلے میرے پاس ایک مضمون آیا جس میں یہ وضاحت ھے کہ موصوف نے اسی رمضان میں کوالالمپور کے اندر ایک پروگرام میں تزکیہ کے موضوع پر خطاب کیا جس سے مجھے بعض عبادات وعقائد کا استخفاف اور احادیث کا انکار نظر آیا۔ بنا بریں مناسب سمجھا کہ ان جگہوں کی طرف اشارہ کر دیا جائے تاکہ لوگوں کو آگاہی ہو جائے نیز مولانا کے انفرادی افکار بھی سامنے آ جائیں۔)
💥حقیقت میں مولانا منکر حدیث ہیں۔ الاصلاح سرائمیر اعظم گڑھ سے فارغ ہیں۔پکے فراہی ہیں۔ حدیث کے بغیر تفسیر قرآن کے قائل ہیں۔ پکے مودودی بھی ہیں، الفلاح میں زمانے تک پڑھایا۔ کئی کتابیں لکھیں، کئی عربی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا، حسن البنا کی "مذکرات الدعاۃ" اور سید قطب کی خارجی کتاب "معالم  فی الطریق" کا شاندار ترجمہ بھی کیا۔ پھر اسی 80 کے دہے میں جامعۃ الامام سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کیا۔ اور سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے مبعوث ہوگئے۔ 
💥لوٹ کر جامعۃ الفلاح بلریا گنج اعظم گڑھ میں مدرس بنے۔ فراہی کے نظام القرآن کے فلسفے کا زور ہوا تو اسی رو میں بہہ کر منکر حدیث بن گئے۔ حقیقت رجم نام کی منحوس کتاب لکھ کر رجم اور اس سے متعلق سارے احادیث کو رد کر دیا۔ سعودی حکومت کی طرف سے تنبیہ کے باوجود بھی اپنے غلط موقف سے نہ ہٹے جسکی پاداش میں وزارۃ شئوون اسلامیہ سعودیہ کے ابتعاث سے نکال دیا گیا۔ مولانا بڑے پکے نکلے حالانکہ بعد میں آپ ہی کی جماعت والوں نے انکی کتاب پر رد لکھ دی اور اس طرح اپنی جماعت میں بھی غیر اہم ہوگئے۔ 
اس وقت سے آپ دشمن حدیث، دشمن سلفیت، دشمن سعودیہ ہیں۔ جب کہ آپ کا ایک بیٹا دو بھائی سب سعودی عرب کے خرچے پر وہاں کی یونیورسٹیوں میں پوری تعلیم حاصل کی ہے۔ 
غرور علم کا شکار ہیں اور ساتھ ہی روشن خیالی بھی عروج پر ہے۔ آپ بہت وسیع المشربی بھی ہیں ضرورت پر ہندؤوں کے پوجا ارچنا میں شرکت بھی کر لیتے ہیں۔ دیکھیں اس لنک کو:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1517371904960239&id=100000623319169
اور یہ تو تحریکیوں کی شان ہے کہ آسمانی آفات کے وقت مندروں کی صفائی بھی کردیتے ہیں۔ دیکھیں اس ویب سائٹ کو:
https://www.google.co.in/amp/www.thehindu.com/news/cities/chennai/muslim-group-cleans-floodhit-temples/article7959652.ece/amp/
💥اب آئیے اس مضمون کی طرف جو در اصل آپ کے ایک خطاب کا خلاصہ ہے جسے اس لنک پر دیکھا جا سکتا ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1742638542496668&id=100002516175767
اب آئیے ان جگہوں کو سامنے لائیں جہاں جہاں مجھے اعتراض ہے: 
💥🎤مولانا نے کہا: 
✍((سب سے بڑی غلط فہمی رمضان سے متعلق یہ عام ہے کہ رمضان زیادہ سے زیادہ ثواب اور اجر کمانے کا مہینہ ہے اور لوگ خوب نمازیں اور تلاوتیں اس غرض سے کرتے ہیں کہ خوب ثواب اکٹھا کر لیں حالانکہ رمضان کی اہمیت صرف اس لئے ہے کہ اس میں قرآن مجید نازل ہوا اور اس کا مقصد بھی صرف قرآن مجید سے جوڑنے اور اس کے تقاضے پورا کرنے کی کوششوں میں آسانی پیدا کرنا ہے۔))
✍کیا رمضان کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ اجر وثواب کمانے کیلئے اعمال صالحہ کا کرنا غلط ہے؟ 
اور ایسا جو کرے کیا وہ غلط فہمی میں مبتلا ہے؟ نیز یہ کیسی غلط فہمی تھی کہ جسے چودہ سو سالوں کے بعد آج تحریکی دور کرنے چلے ہیں؟ اور صرف اپنے ہی ملک میں نہیں بلکہ بیرون ممالک بھی دورہ کرکے اس "عظیم غلط فہمی" کو دور کرنے چلے جاتے ہیں۔ آخر تحریکیوں کا مسلمانوں کے خلاف کیسا خاص ایجنڈہ اور نصب العین ھے جس سے آج تک امت مسلمہ محروم رہی؟!
کیا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی درج ذیل دونوں حدیثیں بہت زیادہ اجر وثواب پر دلالت نہیں کرتی ہیں؟ 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " رواه البخاري 38 ومسلم 760
وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ " رواه مسلم 233
نماز اور تلاوت قرآن ہی دو ایسے عظیم اعمال ہیں جنہیں ہر روزے دار رمضان المبارک کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ انجام دیکر نیکی بٹورنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ان دونوں سے برگشتہ کر دیا جائے پھر سب کیلئے بچتا کیا ھے؟!
قرآن کے نزول کی وجہ سے رمضان کی اہمیت ھے اسے کون نہیں جانتا؟! پھر اس سے تلاوت سے برگشتہ کرنا کہاں سے لازم آتا ہے؟! نیز قرآن سے جوڑنے کا کیا مطلب ہے؟ اور کیا قرآن سے جڑنا صرف رمضان ہی کیلئے ھے؟! اسکی تلاوت، اس کی فہم اور عمل تو ہمیشہ کیلئے ھے۔ 
آخر تلاوت قرآن پر فضائل والی احادیث کا کیا جواب ہوگا؟
یقینا ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور رمضان کے ساتھ صحابہ کرام کے تعامل کو دیکھنا ہوگا۔ پھر سمجھ میں آئے گا کہ رمضان المبارک میں تلاوت ونماز کی کتنی اہمیت ھے۔ 
🎤مولانا نے کہا: 
✍((دوسری بڑی  غلط فہمی یہ ہے کہ یہ دعاؤں کے خوب قبول ہونے کا مہینہ ہے چنانچہ لوگ صبح شام دنیا جہاں کی دعائیں مانگنے میں گزارنے لگتے ہیں حالانکہ دعاؤں کی قبولیت کا کسی مہینے دن اور وقت سے سرے سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں۔))
(روزے کا مہینہ دعاؤں کے قبول ہونے کا مہینہ ہے) اسے جناب والا غلط فہمی قرار دے رہے ہیں۔ کیا یہ حدیث کے منکر نہیں ہیں؟ درج ذیل دونوں حدیثیں آخر کس بات پر دلالت کرتی ہیں؟ :
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ : ثلاثة لا تُرَدّ دَعوتهم - وذَكَر منهم - : الصائم حَـتَّى يُفْطِر.
وفي حديث عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنهما قال : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ : إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ.
(صبح شام دنیا جہاں کی دعائیں مانگنے میں گزارنے لگتے ہیں) کیا ایسا کہنا دعاؤں کا استخفاف نہیں ہے؟ الدعاء ھو العبادۃ اور الدعاء مخ العبادۃ کا آخر کیا مطلب ھے؟ 
ھل من مستغفر فاغفر لہ وھل من سائل فاعطینہ کا کیا مفہوم ھے؟ 
آخر اس آیت کا کیا جواب دیں گے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔ 
کہ جب بھی بندہ مجھے پکارتا ہے اسکی پکار سنتا ہوں۔ اب وہ وقت چاہے صبح کا ہو دوپہر کا ہو یا شام کا۔ 
اور کیا حضرت کی یہ بات صحیح ھے کہ دعاؤں کی قبولیت کا کسی مہینے دن اور وقت سے سرے سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں۔؟!
یہ بالکل مضحکہ خیز بات ہے اور سنگین بھی۔ کتنی حدیثوں کا انکار لازم آتا ہے اس عبارت سے۔ جامعۃ الامام سے پی ایچ ڈی کرنے والے سے ایسی توقع نہیں تھی۔ لیکن ایسے تحریکیوں کے لئے کچھ بھی غیر ممکن بھی نہیں ہے خاص طور سے جنہیں سعودی سے دھتکارا گیا ہو۔ 
💥آئیے ان احادیث پر ایک نظر ڈالتے ہیں جن کو حضرت تحریکی نے یا تو نظر انداز کر دیا یا انکار کردیا جن سے انکی قبولیت کے اوقات کا پتہ چلتا ہے، چنانچہ دعا کیلئے افضل اوقات یہ ہیں :
1/صبح سویرے کا وقت:
عن صخر بن وداعة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( اللهم بارك لأمتي في بكورها). قال: وكان إذا بعث سرية أو جيشا ، بعثهم أول النهار . وكان صخر رجلا تاجرا ، وكان إذا بعث تجارة بعثها أول النهار ، فأثرى وكثر ماله . رواه أبو داود والترمذي .
2/رات کے آخری پہر کا وقت: 
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏:‏ ‏(‏يتنزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر فيقول من يدعوني فأستجيب له، من يسألني فأعطيه من يستغفرني فأغفر له‏)‏‏.‏ رواه البخاري‏. 
3/جمعہ کے دن کے آخری لمحات:
عن أبي هريرة أن النبي قال : " إن في الجمعة ساعة لا يوافقها عبد مسلم يسأل الله فيها خيراً إلا أعطاه إياه.  وهذا الوقت إما بعد جلوس الإمام على المنبر إلى إن ينتهي من الصلاة. وإما من بعد العصر إلى غروب الشمس. 
4/بارش ہونے کا وقت: 
سهل بن سعد مرفوعاً : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( ثنتان ما تردان : الدعاء عند النداء ، وتحت المطر ) .  رواه الحاكم في "المستدرك" (2534) والطبراني في "المعجم الكبير" (5756) وصححه الألباني في "صحيح الجامع" (3078 ).
والدعاء عند النداء : أي وقت الأذان ، أو بعده .
وتحت المطر : أي عند نزول المطر.
5/اذان اور اقامت کے درمیان والا وقت: 
كما مر.
6/ فرض نمازوں کے بعد: 
وسئل رسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله أيّ الدعاء أسمع؟ أي أرجى إجابة. قال صلى الله عليه وسلم : "جوف الليل ودبر الصلوات المكتوبات" أي وراء الصلوات المفروضة. 
💥اور ایسے حالات جن میں دعاؤں کی قبولیت کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: 
مظلومیت کی حالت:
سفر کی حالت:
روزہ کی حالت:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ثلاث دعوات مستجابات : دعوة الصائم ، ودعوة المظلوم ودعوة المسافر " .
مجبور اور مشکل میں پھنسے ہونے کی حالت:
 أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ. 
اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرنا: 
عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: قال رسول اللهِ صلى الله عليه وسلم: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، إِلاَّ قَالَ الْمَلَكُ: وَلَكَ بِمِثْلٍ» (صحيح مسلم)
💥🎤مولانا نے کہا: 
✍((ساتھ ہی انہوں نے دعاؤں کے تعلق سے اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا کہ دعا بلا کسی جد و جہد کے اور پلاننگ کے خدا سے مانگنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ دعا کے ساتھ کھیل ہے۔ دعا دراصل سخت جد و جہد کے راستے میں آنے والی مشکلات کو آسان بنانے کے لئے خدا سے گریہ و زاری کا نام ہے۔))
اس عبارت میں نعوذ باللہ دعاؤں کی مذمّت اور ان احادیث وآیات کا انکار ہے جن سے ہمہ وقت اللہ کا ذکر کرنا اسے پکارنا اور اس سے دعاء واستغفار کرنا ثابت ہوتا ہے۔ آنجناب کے بقول کیا دعا صرف مشکلات کے وقت ہی اللہ کو یاد کرنے کا نام ہے۔ پھر ان آیات و احادیث کا کیا جواب دیں گے؟: 
﴿ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ﴾ [غافر:60]، 
وقال تعالى: ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ﴾ [البقرة:186]
عن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ((مَن سرَّه أن يستجيبَ الله له عند الشدائد والكرب، فليكثر الدعاء في الرخاء))۔
وقال - صلى الله عليه وسلم -: ((تعرَّف إلى الله في الرخاء يَعْرِفْك في الشدة))۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا ﴾ [الزمر: 8].
﴿ فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ ﴾ [العنكبوت: 65]۔ 
مذکورہ بالا دونوں آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ صرف مصیبت کی گھڑی میں اللہ کو پکارنا کفار ومشرکین کی علامت ہے۔ 
💥🎤مولانا نے کہا: 
✍((تزکیہ سے متعلق اہم رکاوٹوں میں آپ نے اس تصور کی طرف اشارہ کیا کہ مسلمانوں کے لئے صرف جنت ہے اور جہنم باقی تمام قوموں کے لئے ہے۔))
میں نہیں سمجھتا کہ مسلمانوں کا یہ ایک عام تصور ھے کہ جنت صرف انہیں کیلئے ہے اور باقی دیگر نسل وقوم کیلئے جہنم ہے۔ اور کیا مسلمان کسی خاص نسل وقوم کا نام ہے جیسا کہ آنجناب کی بات سے مترشح ہوتا رہا ہے؟! بہت ساری قومیں گزری ہیں جو ایمان لا کر عمل کے ذریعے اپنے رب کو راضی کرکے جنت کا مستحق ہوئیں۔ 
اور اگر ماضی کے اقوام کو نہ بھی مراد لیا جائے تو پھر اس وقت کیا اسلام لائے بغیر کوئی جنت کا مستحق ہو سکتا ہے؟! 
(إن الدين عند الله الإسلام) اور (ومن يرغب عن ملة إبراهيم إلا من سفه نفسه) جیسی آیات کا کیا مطلب رہ جائے گا؟ نیز (لو كان أخي موسى حيا ما وسعه إلا اتباعي) جیسی احادیث کا کیا جواب دیں گے بزرگ تحریکی صاحب؟!
یا آنجناب اس طرح کا عالمی بیان دیکر وحدت ادیان کے نظریہ کا پروان چڑھانا چاہتے ہیں؟ کیوں کہ تحریکیوں سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ 
💥🎤مولانا نے کہا: 
✍((دوسرا بہت عام لیکن تزکیہ کی راہ کی بڑی رکاوٹ یہ تصور ہے کہ جس نے بھی کلمہ پڑھ لیا رسول اس کی شفاعت کر دیں گے۔ حالانکہ شفاعت سرے سے کسی کے کام نہیں آئے گی۔ خود اللہ کے رسول صلعم نے اپنی بیٹی اور چچا کو آگاہ کر دیا تھا کہ دیکھو میں تمہارے کسی کام نہیں آنے والا ہوں قیامت کے دن۔ اپنی تیاری خود کرو۔))
(جس نے بھی کلمہ پڑھ لیا رسول اس کی شفاعت کر دیں گے۔) کیا یہ تصور غلط ہے؟ کیا کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں کی سفارش رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کریں گے؟ اس حدیث کا آخر کیا مطلب ہے:
روى البخاري (44) ومسلم (193) عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ وَيَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ وَيَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ ).
مذکورہ اور دیگر دوسری روایتوں کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے کلمہ گو مسلمانوں کو جہنم سے نکالا جائے گا۔ 
ایسی صورت میں کیا آنجناب شفاعت کے منکر تو نہیں ہو رہے ہیں؟ اور دوسرے جملے سے تو یہی یقین ہو رہا ہے کہ شفاعت کے منکر کلی طور پر ہیں۔ حالانکہ شفاعت اپنے متنوع انواع کے ساتھ اسکے دلائل قرآن وحدیث میں بھرے پڑے ہیں۔ شفاعت کے انکار سے قرآن وحدیث کے واضح اور صریح نصوص کا بھی انکار لازم آئے گا۔ 
جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فاطمہ سے عمل پر ابھارنے کا تعلق ہے تو اس سے شفاعت کا انکار لازم نہیں آتا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ بے عملوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہنم میں جانے سے نہیں روک سکتے۔ چنانچہ اعمال حسنہ کے ذریعے انسان جہنم سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ اگر بات ویسے ہی ہوتی جیسا موصوف بتانا چاہتے ہیں تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابو طالب کیلئے شفاعت کا وعدہ نہیں کرتے حالانکہ وہ ایمان بھی نہیں لائے تھے۔ 
روى البخاري ومسلم عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم وذُكر عنده عمه أبو طالب، فقال: ((لعله تنفعه شفاعتي يوم القيامة فيجعل في ضحضاح من النار يبلغ كعبيه، يغلي منه أم دماغه)).
یہ روایت واضح طور پر بتا رہی ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے ابو طالب کا عذاب ہلکا ہوجائے گا۔ 
💥🎤مولانا نے کہا:
💥((آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلم امت صرف جنت میں محل تعمیر کرنے اور کمروں کی گنتی گننے میں مصروف رہتی ہے اور یہ فضائل اعمال کے نہایت غلط اور نقصاندہ تصور کی دین ہے ورنہ ایک مسلم تو ہمیشہ اس بے چینی اور فکرمندی کی زندگی گزارتا ہے کہ خدا اسے جہنم سے بچا لے۔))
پہلے جملے سے کیا جنت کی بے وقعتی اور اسکا استخفاف نہیں ہو رہا ہے؟! اور کیا اللہ تعالیٰ سے صرف جنت مانگنا بے ادبی ہے؟!  اس میں میں کیا غلط اور نقصان ہے؟ اور مولانا نے کہاں سے یہ سروے کر کے پتہ لگا لیا کہ سارے مسلمان صرف جنت ہی کا سوال کرتے ہیں جہنم سے پناہ نہیں مانگتے؟!
نیز کیا مسلمان صرف جہنم سے ہی پناہ مانگتا ہے جیسا کہ مولانا کا دعویٰ ہے؟! کیا یہ تصوف کی دین نہیں ہے۔ آخر اس میں اور اس صوفیانہ کلام میں کیا فرق ہے؟!
مری اوقات کہاں تجھ سے میں جنت مانگوں
التجا ہے کہ دوزخ سے بچا لے یا رب
نیز کیا کتاب وسنت اور مسنون دعاؤں میں صرف دوزخ ہی سے پناہ مانگتا بتایا گیا ہے؟! ایسا بالکل نہیں ھے۔ دونوں میں توازن ھے۔ قرآن میں بھی سورہ اسراء 57 میں یہ صراحت موجود ہے: (ویرجون رحمتہ ویخافون عذابه). یعنی ایک مسلمان امید اور خوف دونوں کا پتلا ہوتا ہے۔ اور شاید سب سے زیادہ مانگی جانے والی دعا (ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار) میں بھی جنت کا سوال اور عذاب دوزخ سے پناہ موجود ھے۔ 
بلکہ بعض حدیث میں پورے وثوق کے ساتھ جنت ہی نہیں بلکہ جنت میں اعلی مقام جنۃ الفردوس مانگنے کی تلقین کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ دیکھیں یہ بعض نصوصِ:
-(إذا سألتم الله فأعظموا الرغبة وسلوا الفردوس الأعلى فإن الله لا يتعاظمه شيء).
-حديث أبي هريرة (إذا دعا أحدكم فلا يقل اللهم اغفر لي إن شئت ولكن ليعزم وليعظم الرغبة فإن الله عز وجل لا يتعاظمه شيء أعطاه).
-حديث أبي هريرة في أثناء حديث (فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس فإنه أوسط الجنة وأعلى الجنة).
-حديث أنس (إذا دعا أحدكم فيلعزم المسألة في الدعاء ولايقل اللهم إن شئت فأعطني فإن الله لا مستكره له۔) 
فکر جنت سے بے توجہی نیز عبادتوں کا مقصد صرف حب الہی بتانا یہ صوفیوں کا ڈھونگ ہے۔ رابعہ بصریہ  ویسے نہیں پانی اور آگ لیکر نکلی تھی کہ جہنم کو بجھا دیں اور جنت کو آگ لگا دیں۔ نعوذ بااللہ۔ 
دعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ہم سب کو فکر صحیح اور کتاب وسنت کا حقیقی پیروکار بنائے۔ آمین

فیس بک پر بھی دیکھیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...