السبت، 20 أكتوبر 2018

🎪ترکی کے بعد ناٹو تنظیم میں قطر کی شمولیت کا قصہ

🎪ترکی کے بعد ناٹو تنظیم میں قطر کی شمولیت کا قصہ 🎪
💥مسلم ممالک میں ترکی کے بعد گزشتہ منگل کو قطر کے وزیر دفاع خالد بن محمد العطیہ نے 29 ممالک پر مشتمل، مسلمانوں کی قاتل عسکری تنظیم ناٹو کے اندر دائمی ممبر شپ کیلئے اپیل کی تھی جسے یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ یہ تنظیم صرف یورپ اور امریکہ کیلئے خاص ہے۔ پوری تفصیل اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں: 
https://www.middle-east-online.com/الناتو-يرفض-انضمام-قطر
آگے قطری وزیر دفاع نے ڈینگ مارتے ہوئے کہا: "قطر أصبحت من أهم دول المنطقة في نوعية التسليح وتطمح لعضوية كاملة في حلف شمال الأطلسي. نحن في دولة قطر يوجد لدينا تعاون فعلي وحقيقي مع منظمة الناتو هو يتطور يوما عن يوم وقد يفضي إلى استضافة قطر لإحدى وحدات الناتو أو أحد مراكزه المتخصصة".
ترجمہ: مسلح ہونے کے اعتبار سے قطر خطے کے اہم ممالک میں شمار ہونے لگا ہے لہذا ناٹو میں مکمل ممبر شپ کا خواہاں ہے۔ عملی اور حقیقی ہر پیمانے پر ہماری حکومت کی جانب سے ناٹو کے ساتھ برابر تعاون جاری ہے اور دن بدن اس میں بہتری ہی آ رہی ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں قطر کے اندر ناٹو کے لئے کوئی ائیر بیس یا کوئی خاص سینٹر بنا دیا جائے۔ 
اس خبر کو ہندوستان کے اخبار میں بھی پڑھ سکتے ہیں:
https://www.google.co.in/amp/s/www.ndtv.com/world-news/qatar-wants-to-join-nato-its-defence-minister-says-on-first-anniversary-of-gulf-dispute-1863037%3famp=1&akamai-rum
💥معلوم ہونا چاہئیے کہ یہ عسکری تنظیم اپریل 1949 میں صلیبی ممالک کی طرف سے قائم کی گئی ہے جس کے مقاصد بظاہر کچھ بھی ہوں البتہ اصلی مقصد مسلمانوں کو ابھرنے نہ دینا ہے۔ چنانچہ عراق، افغانستان سے لیکر لیبیا اور سوڈان تک مسلمانوں کے خلاف اس کے خون آشام کردار ہی رہے ہیں۔ 
پس ایسی قاتل عسکری تنظیم میں شمولیت کے لیے قطر کا تڑپنا موجودہ وقت میں واقعی معنی خیز اور خطے میں ایک بھیانک کردار کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔  تو کیا ترکی اور قطر کا ایسی مسلم قاتل عسکری تنظیم میں شمولیت اختیار کرنا صحیح ھے؟

فیس بک پر بھی دیکھیں 

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!

 یاسر برہامی سلفی یا اخوانی؟!  مصر کے اندر سلفیت کا پلیٹ فارم اور چہرہ جمعية أنصار السنة المحمدية ہے..  اور اسکی معروف شخصیات ہیں... جیسے کہ...