💥تحریکیوں کے مجدد دین وملت حسن ترابی💥
👾دین کے مسلّمات اور احکام وفرائض کا مذاق اڑاتے ہوئے👾
تحریکیوں کے مجدد دین وملت حسن ترابی جس کی فضیلت میں تحریکیوں کے روحانی پیشوا یوسف قرضاوی نے باقاعدہ کتاب لکھی ہے اور جس کی تحریکیوں کے حماسی پیشوا خالد مشعل نے مجاہد اور مجدد دین وملت کے خطاب سے نوازا ہے کیوں کہ حسن ترابی دین کے اندر تجدید کا قائل ہے اور اس موضوع پر اس نے کئی ایک کتابیں بھی لکھی ہے جیسے: تجدید الدین، تجدید الفکر الاسلامی، تجدید اصول الفقہ اور التفسیر التوحدی وغیرہ۔
دیکھیں یہ بدقماش کس طرح سے دین کے مسلّمات اور احکام وفرائض کا مذاق اڑا رہا ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں جن کے ثبوت میں آخر میں ویڈیو لنک بھی موجود ہے:
1- مسیح الدجال کے خروج کا مذاق۔
2- یاجوج ماجوج کے خروج کا مذاق۔
3- دابة الأرض کے خروج کا مذاق۔
بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہا ہے (کل الاحادیث فاضیة) یعنی نعوذ باللہ ان ساری چیزوں سے متعلق ساری حدیثیں بکواس ہیں۔
4- عذاب قبر کا انکار کر کے مذاق اڑا رہا ہے یہ کہتے ہوئے کہ کیا قبر میں فرشتے آ کر حساب کتاب لیں گے کیا قیامت سے پہلے یہاں کوئی الگ ایک بڑی عدالت قائم ہوگی یعنی پھر قیامت کے دن کی عدالت کا کیا فائدہ؟!!!! آگے بول رہا ہے کیا یہی دین ہے؟ پھر تو اس میں تجدید کی ضرورت ہے۔
5- روزے اور نماز جیسی اہم عبادتوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔ نماز کے تعلق سے بول رہا ہے کہ یہ کیا اٹھک بیٹھک ہے یہ کیا انگلی ہلانا ہے !!!!!!
6- صفا مروہ کے درمیان سعی جیسی عبادت کا مذاق اڑا رہا ہے۔
7- رمی جمرات کا مذاق ہنس کر اڑا رہا ہے کہ کیا وہاں کوئی شیطان بیٹھا ہے کہ پتھر مارنے سے نکل کر بھاگ جائے گا۔ بڑی بے اعتنائی سے کہہ رہا ہے (اخوان هذه اعمال السلفيين) یعنی اے اخوانیو یہ سب سلفیوں کے کام ہیں۔
8- ذکر واذکار کا مذاق اڑا رہا ہے کہ یہ کیا چکر کہ انگلیوں پر اللہ کے ناموں کی رٹ لگائی جائے: سبسبسبسب۔ بول رہا ہے کہ اگر کوئی یا فلان یا فلان یا فلان کہتا رہے تو اسے کون پوچھے گا؟ یعنی اس مردود کے نزدیک یہی حال تسبیح و تحمید اور ذکر واذکار کرنے والوں کا ہے-
ان سارے دینی مسلمات، واجبات وفرائض کا انکار کرنے اور ان کا مذاق اڑانے کی وجہ سے علماء دین نے اس بد قماش کو بد دین، ملحد، زندیق اور مرتد تک کہا ہے انہیں علماء میں شیخ عبید الجابری ہیں جن کا بیان ویڈیو کے آخر میں دیا گیا ہے۔
حسن ترابی کے سارے ہفوات وبکواس، شیخ جابری کا فتویٰ اور خالد مشعل کی تعریف درج ذیل ویڈیو میں سن سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2106236336327942&id=100008247882910
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کی حفاظت فرمائے اور ان منافقوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
*****************************************
ایک اور"مجدّد"!!
(ندیم اختر مقیم سعودی عرب)
سید قطب اور حسن البنا کی تحریک سے جُڑا ہوا ہر شخص اپنے دورِ حیات میں کچھ بھی گل کھلائے لیکن جب وہ مرتا ہے تو مجدد بن کر ہی مرتا ہے، اس تحریک سے وابستہ ہر شخص کو شخصیات کے حق میں غلو کرنے میں نہ جانے کیوں اتنا مزہ آتا ہے،،،ایسا لگتا ہے کہ فلاں اور فلاں کے مرنے کے بعد دین تو اب ضائع ہی ہونے والا ہے اگر اس کے افکار کو نہ اپنا یا جائے،،،،!!فتنے اور گمراہی کی دعوت دینے والے اور حکام کے خلاف بغاوت کرنے پر جاہلوں کو ابھارنے والے لوگ ہمیشہ اس تحریک کے منظور ِ نظر رہے ہیں، حسن ترابی جیسے کئی بدنام زمانہ لوگوں کو بڑی محبت ملی ہے اس تحریک سے، شاید ہم ایسے دور میں ہیں جہاں امانت کو خیانت اور خیانت کو امانت کہنے کا چلن عام ہوگیا ہے۔
حسن ترابی کے گمراہ کن افکار و نظریات کو جانے بغیر یا اس سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کے بارے میں ایسی باتیں کہنا کہ گویا کہ وہ امت کو بہت بڑا سرمایہ دے گئے، اور تفہیم ِ دین اور اسلام کو عصری اسلوب میں پیش کرکے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا کہ رہتی دنیا تک اسے یاد رکھا جائے گا!!تحریکیوں کا یہ "مجدّد" اب تو دنیا میں نہ رہا لیکن جاتے جاتے اپنے چیلے چھوڑ گیا جو کچھ دنوں تک اسی کا کلمہ پڑھتے رہیں گے، سوڈان سے ظہور ہونے والا یہ "مجدّد" اپنے قلم کی سیاہی سے نہ جانے کتنے افکار کو سیاہ کرگیا۔
💥حسن ترابی کے گمراہ کن افکار ونظریات:
1- ایک مسلم کو اپنے دین سے مرتد ہونے کا جواز۔(جريدة المحرر عدد 263 في 24/2/1415هـ)
2- سارے سماوی دین کو بنام "اہل کتاب" ایک ہی دین سے موسوم کرنے کی دعوت۔(مجلة الوعي عدد 93 ص24)
3- قرآن وسنت میں جو کچھ ہے اس کو کافی نہ سمجھنے کا اعتقاد، اور زمانہ کے لحاظ سے فقہ جدید کی ضرورت۔(تجديد الفكر الإسلامي ص25)
4- دین کا زمانہٴ نبوت کے ساتھ کسی بھی دور میں نا مکمل اور اپنی آخری شکل میں موجود نہ ہونے کا اعتقاد۔ (تجديد الفكر ص38)
5- کتاب وسنت کے بنیادی اصول میں تبدیلی کی دعوت، اور عقیدہ وشریعت کی تطویر(تشکیل نو میں ) فکر ِ اعتزال کی دعوت۔(مجلة المجتمع الكويتية عدد 573)
6-علمی (یعنی سائنس وغیرہ کے متعلق) امور میں قول رسول پر کسی بھی کافر کے قول کو مقدم کرنے کا جواز! (محاضرة له بجامعة الخرطوم بتاريخ 22/10/1402هـ)
7- قرآن کی نبوی تفسیر پر یہ کہتے ہوئے طعن کرنا کہ وہ ہماری طرح انسان تھے ، انہوں نے زمانہ کے لحاظ سے قرآن کی تفسیر نہ کی کیونکہ انہیں آج کے زمانہ کی معرفت نہ تھی۔(محاضرة له بجامعة الخرطوم في 1/12/1415هـ)
8- قرآن کی تفسیر جدیدکی دعوت۔(المرأة بين تعاليم الدين وتقاليد المجتمع ص27)
9- معیار حق کوبدلنے کی دعوت کہ ہزار سال پہلے جو حق تھا ہوسکتا ہے وہ ابھی باطل ہوجائے، اور ہزار سال پہلے جو باطل تھا ممکن ہے وہ حق ہوجائے۔(تجديد أصول الفقه ص9)
10- عقائد سلف کو چھوڑ کر نئے عقیدہ کی دعوت۔(تجديد الفكر الإسلامي ص24-25)
11- عصری تقاضوں کے مطابق تطویر ِ دین (یعنی از سرِ نو تشکیل دین کی ضرورت) ، تبدیلیٴ احکام اور اس کو آسان بنانے کی ضرورت کی دعوت۔(تجديد الفكر الإسلامي ص132)
12- کتاب وسنت اور اجماع کی مخالفت کرتے ہوئے کسی مسلمان عورت کا یہودی یا نصرانی سے شادی کو جائز قرار دینا۔(مجلة الإرشاد اليمنية، محرم وصفر 1408ه)
13- ایک مرد کی گواہی دو عورتوں کے برابر کا تصور اوہام وخرافات ہے دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں! (جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427هـ)
14- حضرت عیسی علیہ السلام کا دنیا میں دوبارہ ظہور ہونے والی بات درست نہیں۔(جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427هـ)
15- شراب پینا جرم نہیں، الا یہ کہ وہ ظلم وزیادتی کا سبب بن جائے! (جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427ه)
16- حجاب صرف ازواج ِ مطہرات پر واجب تھا! (المرأة بين تعاليم الدين وتقاليد المجتمع ص27)
17- نماز میں مردوں کے لئے عورت کی امامت کے جواز کا فتویٰ اور یہ کہ عورت مرد کے بازو میں ٹھہر کا نماز ادا کرسکتی ہے۔(جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427هـ)
18- کتب تفاسیر پر طعن کرنا، اور یہ کہنا کہ یہ ساری کتابیں قصّے، کہانیاں اور شخصی آراء پر مبنی ہیں۔(محاضرة له بجامعة الخرطوم في 1/12/1415هـ)
19- جنت میں حور عین کے وجود کا انکار ۔(جريدة الشرق الأوسط عدد 9994 في 11/3/1427هـ)
*************************
یہ اور ان جیسےدیگر سیاہ افکار کے بطلان پر قرآن وحدیث سے دلائل کی چنداں ضرورت نہیں،دین سے تعلق رکھنے والا ادنی سا طالب علم بھی ان افکار کی گمراہی کو سمجھ سکتا ہے۔علماء سے دور رہ کر صرف زبان و بیان کے بل پر دین پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے والے کسی بھی شخص کی جھولی میں اسی طرح کے گمراہ کن خیالات پڑے رہتے ہیں۔ حسن ترابی کے مذکورہ افکار کو علامہ الشیخ عبد الرحمن بن سعد الشثری حفظہ اللہ نے اپنے ایک مضمون (ضلالات د. حسن بن عبد الله الترابي) میں مکمل حوالے کے ساتھ ذکر کیا ہے، جسے حوالہ چاہئے وہ شیخ کا مضمون پڑھ لے۔حسن ترابی کوئی نیا "مجدد" نہیں، اس سے پہلے بھی تحریکیوں کے کئی مجد دین دنیا سے تجدیدِ دین یعنی " تحریف ِ دین" کا تمغہ لے کر رخصت ہوگئے(فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر...)، ان مجددوں نے بھی صرف زبان کا سہارا لے کر دین کی تشریح کر ڈالی، اقوال صحابہ، اقوال فقہاء اور محدثین کو دین کی تشریح وتعبیر میں ذرا بھی لائق اعتناء نہ سمجھا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ یہ دین آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے اور تا قیامت رہے گا، دین کی تشریح میں اپنی من مانی کرنے والوں کو تاریخ نے کبھی بھی معاف نہیں کیا۔
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق