كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ
(سورہ الصف:٣)
محترم فراہی صاحب!
میرے مضامین پر نظر ڈالنے اور ان کا سرسری یا گہرائی سے مطالعہ کرنے پر آپ کا بہت بہت شکریہ۔ نیز میرے جوابی مضمون پر جواب الجواب لکھنے پر بھی بہت بہت شکریہ۔ لیکن آپ مزید شکریہ کے مستحق ہوتے اگر جواب مضمون کے محتوی اور اس کی عبارتوں تک محدود رہتا۔ مضمون کی بے جا اور مبنی بر غلط عبارتوں کا توڑ کیا جاتا۔ بہر حال اپنی اپنی فکر اپنا اپنا انداز۔ لیکن جواب الجواب میں آپ نے لپیٹنے کی اچھی کوشش کی ہے چلئے اسی بہانے لوگ ہم سب کے افکار ونظریات اور منہج سے واقف ہو جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ میں اسلام میں کسی فرقہ بندی کا قائل نہیں ہوں۔ کتاب وسنت پر مبنی صحابہ کرام اور سلف صالحین کے منہج کو باقی رکھنا اور صرف اسی کی روشنی میں اسلام کے حقیقی چہرے کو دنیا کے سامنے لانا میری خواہش اور اصلی ہدف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس منہج سے بھٹکے ہوئے لوگوں کے بارے میں ہی جوابی قلم اٹھاتا ہوں۔
در اصل 2016 میں اخوانیوں کے خلاف جب سے مملکہ نے کارروائی کی ہے تب سے مملکہ کے حکمرانوں، علماء ومشائخ اور سعودی عوام کے بارے میں پروپیگنڈوں کا ایک طومار باندھ دیا گیا۔ سعودی اچانک امریکی غلام ہوگیا، یہودیوں کا ایجنٹ ہو گیا، فلسطین کو یہودیوں کے ہاتھوں بیچ دیا، بنی بنائی مصری حکومت کو گرا دیا، عراق شام لبنان فلسطین لیبیا بلکہ برما ہو یا کہیں بھی مسلمانوں پر آئی تباہی کا ذمہ دار سعودی ہے۔ یمن کو تباہ کر رہا ہے۔ خود بلا حرمین کے اندر یورپی کلچر بکنی وبیچ کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ سعودی شاہی حکومت ڈکٹیٹر شپ میں بدل چکی ہے۔ ایک سرپھرے بد عقل نوجوان نے تنہا حکومت پر قبضہ جمانے کے لیے سارے مخالف شہزادوں اور وزراء کو پس زنداں کر دیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح کی خبریں پڑھتے پڑھتے سر پکتا رہا اور دیکھ دیکھ کر کڑھتا رہا کہ آخر جھوٹ، پروپیگنڈہ اور الزامات کی ایک حد ہوتی ہے۔ ساتھ ہی بہت سارے احباب کی طرف سے مطالبہ بھی آنے لگا کہ بلاد حرمین کی سچی تصویر دکھانے اور کتاب وسنت کی دفاع کرنے والے آخر اس کیا کر رہے ہیں۔ نوجوان سب تذبذب کا شکار ہو رہے ہیں۔
چنانچہ سچائی کو سامنے لانے کے لئے گزشتہ تقریباً چھ مہینے سے میں نے لکھنا شروع کیا۔ اسی لیے میرے کسی بھی مضمون نہ تو لال بجھکڑوں کی طرح فرضی کہانی شروع کر کے قارئین کو اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ نہ ہی کوئی مضمون ابتدائی طور پر ہجومی انداز میں ہے۔ ہر مضمون رد اور جواب پر مبنی ہے اور وہ بھی اکثر احباب کے مطالبات پر۔ (آل سعود اور علماء سعودیہ: الزامات اور جواب) سے لیکر آخری مضمون (خمینی رافضیت عالم اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ) تک دیکھ لیں۔
میرے مضامین کو پڑھ کر لوگوں کے شکوک وشبہات کافی دور ہوئے۔ انہیں عقدی اور فکری اعتبار سے منحرف شیعوں اور تحریکیوں کی حقیقت معلوم ہوئی کہ متبعین کتاب وسنت سلفیوں اور توحید پرستوں نیز مملکت توحید کے خلاف یہ کیا کیا سازشیں کر رہے ہیں۔
میں نے یہی کوشش کی ہے کہ ہر بات کا جواب دلیل، حوالے اور حقائق کی روشنی میں دیا جائے اور میں نے ہر مضمون اس کا پورا پورا خیال رکھنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کے بقول میری شاہ پرستی، انکی پزیرائی اور منہ بھرائی کتنی حد تک صحیح ہے اسے جاننے کے لیے میرا مضمون (سعودی نظام حکومت) کا مطالعہ کرنے سے سمجھ میں آ جائے گا نیز قارئین کو یہ بھی اندازہ ہو جائے گا کہ آپ خود اس الزام اور دعوے میں کتنا سچے ہیں۔ مضمون اس صفحے پر ہے؛
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1477137992399483&id=100003098884948
نیز فراہی صاحب نے میرے جس مضمون پر جواب الجواب لکھا ہے اس پر قارئین ایک نظر ڈال لیں تاکہ مضمون نگار کے فکری رجحان سے بھی اچھی طرح واقفیت ہو جائے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1594077557372192&id=100003098884948
میں سمجھتا ہوں فلسفیانہ موشگافیوں کے بجائے بحث وتحقیق اور رد وقدح کے اس دور میں جوابی مضامین لکھنے اور علمی انداز میں جواب الجواب لکھنا چاہیے جہاں دلائل کی روشنی میں گفتگو ہو۔ عقیدے، فکر اور منہج کی بات کی جائے۔ لہٰذا اگر کوئی فکری، عقدی، دینی اور نظریاتی اعتبار سے انحراف کا شکار ہو اور اس شخص کی وجہ سے امت کا ایک بڑا طبقہ شکوک وشبہات میں مبتلا ہو رہا ہو تو اس کی حقیقت بھی واضح کرنا ضروری ہونا چاہیے۔ اسلوب اور تحریری خامیوں کو اچھالا ہی اس وقت جاتا ہے جب آدمی دلائل وحوالوں، شواہد اور حقائق سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
اس پس منظر میں میرے تعلق سے شیخ شعبان صفاوی کا تبصرہ میرے خیال کی ترجمانی ہے آپ نے لکھا: (ابھی منافقانہ اسلوب سیکھنے میں انہیں وقت لگے گا وہ سوکھا ہی جلاتے مارتے ہیں بھگو کر جلانے مارنے کیلیے کسی صحافی سے ٹریننگ لینی پڑے گی ان کا ہر مضمون کسی نہ کسی پروپیگنڈہ کے جواب میں ہے. أسلوب بیان سے مجھے بھی اتفاق نہیں ہے مگر سچائی یہی ہے کہ انہیں لپیٹنے کا ڈھنگ نہیں آیا ہے جیسا آپ لوگوں کو آتا ہے... میں اس بات کا گواہ ہوں کہ جب اخبارات سیاہ ہو نے لگے واتساپ اور فیس بک کے جھوٹے پوسٹوں سے موبائل ھینگ ہونے لگی تب یہ قدم اٹھایا گیا.... اور آپ جسے جھوٹ کھ رہے ہیں تو اس کا کیا لوگ قرآن کو بھی جھوٹ کہتے تھے ذرا لفظوں سے کھیلنے اور سخن سازیوں سے کبھی فرصت ملے تو تحقیق کی دنیا میں قدم رنجہ فرماءییے تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوگا.)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1607600536019894&id=100003098884948
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق