🎪شيرازِ افريقہ الجزائر كے اندر🎪
🚀رفض وتقليد اور تحريك وتصوف كے ايوانوں ميں زلزلہ برپا كيوں؟🚀
✍بقلم ڈاکٹر اجمل منظور
💥يہ حقيقت ہے كہ مذہب اسلام كے حقيقى چہرے كو گندلا كرنے اور توحيد پرستوں كو نشانہ بنانے كى خارجى اور داخلى ہر محاذ پر جتنى تخريبى كوششيں دور حاضر ميں كى جارہى ہيں ماضى ميں اس كى نظير ملنا محال ہے۔ مكار يورپ كا اباحيت زده الحاد ، استعماريت زده فكرى غلامى، شيوعيت وصہيونيت كا تار عنكبوت اور جديد صليبى يلغار اگر ايك طرف خارجى محاذ پر بے رحم يمدوت كى طرح منہ پھاڑے كھڑا ہے تو دوسرى طرف داخلى محاذ پر خمينيت زده كالى رافضيت ، قرضاويت زده حزبيت، خارجيت وتحريكيت ، اردگانيت زده الحادى صوفيت اور بدعيت وتقليديت زده اندھ بكھتى اكٹوپس كى طرح جال پھيلا ركها ہے جن كے سامنے اگر آج ہرتزل، كارل ماركس، ڈارون، چرچل، ہٹلر، ہلاكو، لويس تاسع، ازبيلا فرڈى نينڈ ، مير جعفر، مير صادق، ابن علقمى ، طوسى ، ابن سبا ، فيروز مجوسى اور ابن ابى سلول بهى ہوتے تو شرم وحيا كى بهيك مانگتے۔
ليكن وعده الہى (لا تزال طائفة) كے مطابق ايك گروه نے ہميشہ بلا خوف لومة لائم تمام محاذوں پر اعدائے اسلام كا ڈٹ كر مقابلہ كيا اور اسلام كے اس چشمۂ صافى كو مكدر ہونے سے بچائے ركها۔ اس كى جيتى جاگتى مثال آج افريقى ملك(الجزائز) ميں علامة الجزائر محمد على فركوس اور ماہر تجزيہ كار انور مالك كى ہے۔
ميڈيا كے اس دور ميں اب كسى كى مكارى چھپى ره جائے ايسا بہت مشكل ہے۔شرك وبدعت، رفض وتشيع، تقليد وشخصيت پرستى، حزبيت وخارجيت، تحريكيت واخوانيت اور صوفيت ورہبانيت كى پهس پھسى ديواريں كهوكهلى ہوتى جارہى ہيں اور تحقيق كے اس دور ميں عوام كا اعتماد ان خوشنما محلوں سے ايك ايك كركے ختم ہوتا جارہا ہے۔ توحيد كے متوالے سلفيان جزائز دين كے نام پر ٹھيكيدارى كرنے والوں كى عقيدت وتقدس كے دبيز پردوں كو ايك ايك كركے اتار رہے ہيں۔ ان كے ذريعے كى جانے والى كتاب وسنت كى واضح اور آسان تشريحات ، توحيد وعقيده پر دئيے جانے والے ان كے ليكچرز اور دروس ،احكام وسلوك اور اخلاق وآداب پر كى جانے والى سہل ترين ان كى تقريريں عوام كے دلوں كو اس طرح اپيل كر رہى ہيں كہ جب يہى سلفيان امت شرك وبدعت كى تباہيوں ، رفض وتقليد ،الحادى تصوف اور خارجى تحريكيت كى ہولناكيوں پر خطاب كرتے ہيں تو سماج كے اندر ايك اسلامى روحانى اور انقلابى جذبہ پيدا ہوجاتا ہے ۔ اور نتيجتاً رفض وتقليد اور تحريك وتصوف كے ايوانوں ميں زلزلہ برپا ہونے لگتا ہے۔ ان سلفيان افريقہ ميں اس وقت مصر كے شيخ رسلان اور الجزائر كے شيخ فركوس اور سياسى وقانونى تجزيہ كار انور مالك كافى شہرت كے حامل ہيں۔
💥ابھى گزشتہ ہفتے 21/مارچ كو شيخ محمد على فركوس حفظہ الله نے (اہل سنت والجماعت) كے عنوان سے خطاب كيا ہے جس ميں آپ نے صاف صاف صرف ان لوگوں كو شامل مانا ہے جو منہج سلف كى پيروى كرتے ہوئے خالص كتاب وسنت پر چلتے ہيں۔ آپ نے اہل سنت والجماعت سے ان تمام تقليدى اور فكرى جماعتوں اور تحريكوں كو اس سے خارج كرديا جو منحرف عقائد اور باطل افكار وخيالات كا مرقع ہيں۔
آپ كے الفاظ ہيں: "مجرَّدٌ مِنْ مَوروثاتِ مَناهجِ الفِرَق الضَّالَّة كالشيعة الروافض والمُرجِئةِ والخوارجِ والصُّوفيةِ والجهميةِ والمعتزلةِ والأشاعرة، والخالي مِنَ المناهج الدَّعْوية المُنحرِفة كالتبليغ والإخوان وغيرِهما مِنَ الحركات التنظيمية الدَّعْوية أو الحركات الثورية الجهاديةـ كالدواعش والقاعدة، أو مناهجِ الاتِّجاهات العقلانية والفكرية الحديثة، المُنتسِبين إلى الإسلام، والخارجَ على الأئمَّةِ المُكفِّرَ لهم، التاركَ لمناصحتهم والصبرِ على ظُلْمهم وجَوْرهم، والثائرَ عليهم بالمظاهرات والاعتصامات والإضرابات باسْمِ التصحيح والتغيير وَفْقَ ما تمليه الحُرِّيَّاتُ الديمقراطيةُ وما ترسمه مخطَّطاتُ أعداء المِلَّة والدِّين. ومَنْ يرفع شعارًا أو رايةً أو دعوةً غيرَ الإسلام والسنَّة بالانتماء إليها أو التعصُّب لها كالعلمانية والاشتراكية والليبرالية الرأسمالية، والوطنية والقومية، والديمقراطية والحزبية، والحداثة وغيرِها".
ترجمہ:اہل سنت والجماعت كے ماننے والے گمراه فرقوں كے موروثى منہج سے دور ہوتے ہيں۔ ان گمراه فرقوں ميں روافض شيعہ، مرجئہ، خوارج، صوفيا، جہميہ، معتزلہ اوراشاعره مشہور ہيں۔يہ اہل سنت منحرف دعوتى منہج سے بھى دور ہوتے ہيں۔ ان ميں تبليغى ، اخوانى اور ديگر وه تنظيمى، دعوتى، انقلابى اور جہادى جماعتيں اور تحريكيں آتى ہيں جو اسلام سے دور منحرف افكار وعقائد كے حامل ہيں جيسے القاعده اور داعش ۔ يہ اہل سنت ان جديد عقلانى فكرى ميلانات ورجحانات سے بهى دور ہوتے ہيں جن سے تعلق ركهنے والے گرچہ اسلام سے اپنے آپ كو جوڑتے ہيں ليكن حكام وقت كے خلاف وه خروج كے قائل ہوتے ہيں ، انكى تكفير كرتے ہيں، نہ انہيں نصيحت كرتے ہيں اور نہ ہى ان سے صادر ہونے والے ظلم وجور پر صبر كرتے ہيں، اعدائے اسلام كے سكهائے ہوئے سبق اور ان سازش كا شكار ہوكر جمہورى آزادى اور تغيير واصلاح كے نام پر حكام وقت كے خلاف مظاہرات اور بهوك هڑتال كرتےہيں۔ اسى طرح اہل سنت ان لوگوں سے بهى بہت دور ہوتے ہيں جو اسلام اور سنت رسول سے اپنے آپ كو جوڑنے كے بجائے غيروں كا سكها يا ہوا شعار، جهنڈا يا كوئى پكار لگاتے ہيں چاہے ان كا تعلق الحادى كميونزم ، اشتراكيت اورپونجى وادى لبرل ازم سے ہو يا اس كا تعلق قوم پرست وطنيت ، جمہورى حزبيت اورمغربى جدت پسندى وغيره سے ہو۔
💥الجزائر كے اندر ويسے تو مالكىوں كى تعداد سب سے زياده ہےليكن ايك اندازے كے مطابق سلفى بھى 20% كے لگ بهگ پائے جاتے ہيں جو كہ افريقہ كے اندر كسى ايك ملك ميں اتنى تعداد سلفيوں كى كم ہى ہى پائى جاتى ہے۔ ديكهيں اس ويب سائٹ كو:
https://m.arabi21.com/story/1080377
علامة الجزائر كے انہيں بيانات كى وجہ سے پورے افريقہ ميں زلزلہ برپا ہے ۔ سارے دشمنان سلفيت اہل سنت والجماعت كے اس شير كو گھيرنے كى كوشش كر رہے ہيں ۔ ميڈيا اور ذرائع ابلاغ كے اندر سارے خارجى ، تحريكى ، رافضى ، تقليدى اور صوفى بدعتى آپ پر طعن وتشنيع كر رہے ہيں ۔ اپنے مكروفريب اور تمام سازشى ہتھكنڈوں كو استعمال ميں لاتے ہوئے حكومتى اداروں ميں اجتماعى شكايات بهى كر رہے ہيں حالانكہ اب تك ان مير جعفروں اور ابن علقميوں كو كوئى كاميابى نہيں مل پائى ہے ۔ لے دے كے وزير برائے دينى امور محمد عيسى كا يہ بيان آيا ہے كہ سلفيت كے پيروكاروں كو چاہيئے كہ وه فقہى مسائل ميں اختلاف كى وجہ سے كسى كو گمراه نہ كہيں۔ وزير موصوف نے علامہ ابن عثيمين كے قول كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ سلفيوں كے بڑے علامہ كے نزديك سلفيت كتاب وسنت پر چلنے كا نام ہے نہ كہ دوسروں پر رد وقدح كرنے كا ، اور آگے يہ قول نقل كيا ہے: "السلفية اتباع منهج السلف عقيدة وقولاً وعملاً وائتلافاً واتفاقاً وتراحماً وتواداً، كما قال النبي عليه الصلاة والسلام: مثل المسلمين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم كمثل الجسد الواحد".
ترجمہ:سلفيت كہتے ہيں ہر طرح كے عقيدے ، قول وعمل، اتفاق واتحاد اور آپسى رحمت وشفقت ميں منہج سلف كى پيروى كرنے كو جيسا كہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے: آپسى محبت اور رحمت وشفقت ميں سارے مسلمانوں كى مثال ايك جسم كى طرح ہے۔
اور يہ پورا بيان بهى وزير موصوف نے كسى پريس كانفرنس ميں نہيں بلكہ اپنے فيس بك پيج پر دى ہے جسكا سلفيوں نے خير مقدم بهى كيا ہے۔ ديكهيں وزير موصوف كے اس پيج كو:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=10156609087693968&id=269031138967
💥اپنى سياسى اور دينى اہميت اور قدرتى محل وقوع كے لحاظ سے يہ ملك ہميشہ سے دشمنوں كى نظر ميں كھٹكٹتا رہا ہے۔ يورپى ملك فرانس كے ظالم سامراجيت سے ليكر آج تك يہ ملك سياسى ابترى سے باہر نہ نكل سكا ہے۔ مكار يورپ كے مشہور حربے( لڑاؤ اور حكومت كرو )نيز (ہميشہ كيلئے دست نگر بنانے كيلئے جاتے جاتے سرحدى تنازعہ ميں پھنسا كر ركهو )كے تحت اس ملك كو پڑوسى ملكوں خصوصا مراكش اور غير تسليم شده مغربى صحراء سےالجها ديا گيا جس ميں يہ آج تك جو جھ رہا ہے۔
دوسرى طرف فكرى اعتبار سے مختلف دين كے ٹھيكيداروں كى طرف سے جہاں اس ملك كو مختلف الجهنوں اور پريشانيوں كا سامنا ہے وہيں 1979 كے بعد خمينى رافضيت اور 2011 كے بعد خارجيت وتحريكيت سے سخت سياسى، سماجى ، معاشى اور فكرى دباؤ ميں ہے۔ رفض وتشيع كےپهيلنے اور اس كے خطرات كے پيش نظر خمينى ايران سے ماضى ميں سفارتى سطح پر تعلقات بهى ٹوڑے گئے ہيں۔ ليكن تحريكيوں كے واسطے پھر 2000 سے تعلقات بحال ہوگئے ہيں اور اسكے بعد سے دونوں مل كر اہل بيت كى محبت كی آڑ ميں صوفيت زده سنى عوام كو تحريكيت اور رافضيت كے دام ميں پھنسا رہے ہيں۔
ان سازشيوں كا بهانڈا پهوڑنے اور ان كے مكرو سازش كا پرده فاش كرنے كيلئے جب بهى كوئى غيور ِقوم وملت آگے آتا ہے اسے مختلف طعن وتشنيع كا نشانہ بنايا جاتا ہے اور اسكے خلاف الزامات واتہامات كى بارش كردى جاتى ہے۔انہيں غيوران قوم وملت ميں سے انور مالك كى شخصيت بهى ہے جنہوں نے خمينى رافضيوں كے ملك كے خلاف تمام سازشوں كا پرده فاش كيا ہے اور دستاويزى شكل ميں ايك كتاب تحرير كى جس كے اندر ان كى ايك ايك حركت كو شواہد اور حقائق كى روشنى ميں عياں كيا ہے۔ كتاب كا نام : (أسرار الشيعة والإرهاب في الجزائر) ہے۔
💥مناسب سمجهتا ہوں كہ اس كتاب كے بعض نقاط كى طرف اشاره كيا جائے تاكہ بهولے سنى مسلمانوں كے خلاف خمينى رافضيوں اور تحريكيوں كى سازش اور ان كے ہتهكنڈوں كا پرده فاش ہو اور ان كى چالوں سے امت مسلمہ آگا ه ہوكر اپنے دين ودنيا كى حفاظت كرسكے۔
1- 1979 ميں خمينى انقلاب كے بعد ولايت الفقيہ كے خطرناك نظريے پر قائم حكومت نے تحريكى مرشدوں كى تبريك وتعاون كے ساتھ عالم اسلام كے خلاف پورى دنيا ميں بزور طاقت رفض وتشيع پھيلانے كا جب سے اپنا ہدف بنايا ہےاسى وقت سے پورا عالم اسلام عموما اور عرب ممالك خصوصا ان كى سازشوں كا شكار ہوكر تباہى وبربادى كےدہانے پر پہونچے ہوئے ہيں۔
2- ملك میں موجود دہشت گرد تنظيموں سے ايرانى حكومت كے گہرے تعلقات رہے ہيں۔الجبهة الإسلامية للإنقاذ سے ليكر القاعده تك اس كے تار ملے ہوئے ہيں ۔ يہى وجہ ہے كہ وطن عزيز كواس سے سياسى اور سفارتى تعلقات توڑنے پڑے ہيں۔
3- مراكش اور بالخصوص الجزائر كے اندر رفض وتشيع اور بغض صحابہ پهيلانے كيلئے يہ روافض لبنان وشام كے شيعوں كا استعمال كرتے ہيں كبھى تو حزب الله اور حركة الجهاد الإسلامي كے رضاكاروں كے ذريعے اور كبهى انفرادى طور پر شيعہ تاجروں كے ذريعے۔
4- ام عبد الرحمن كے شيعہ بننے كا واقعہ واقعى افسوس ناك ہے كہ رافضيوں كے پهندے ميں پهنس كر كس طرح اسكا شوہر ايرانى سفارت خانے سے ملحق رافضى ثقافتى فرہنگ رافضى كتابيں گهر لايا كرتا تھا جن ميں اہل بيت سے محبت اور ان پر ظلم كى من گھڑت كہانياں ہوتى تهيں ۔ اس سے اندازه لگايا جاسكتا ہے كہ يہ روافض كس طرح سنى سماج ميں گھس كر صحيح العقيده مسلمانوں كے ذہنوں كو مسموم كركے اپنے دام ميں پهنساتے ہيں۔ اور يہ پورا كهيل تمام سنى ممالك ميں ايرانى سفارت خانوں سےملحق رافضى ثقافتى فرہنگ كے ذريعے كهيلتے ہيں۔
5- يہ روافض سنى مسلمانوں كے اندر گهسنے كے بعد قرآن وحديث سے اعتماد ختم كرنے كيلئے مختلف ہتهكنڈے اپناتے ہيں ۔ قرآن كو محرف بتاكر صحابہ كرام پر الزام لگاتے ہيں اور پهر موجوده قرآن كو نعوذ بالله ناقص كہہ كر اسے بدنام كرتے ہيں ۔ اس كے اندر اگر ايك طرف ام المومنين عائشہ رضى الله عنہا كے بارے ميں نازل آيتوں كو صحابہ كى طرف سے زيادتى مانتے ہيں تو دوسرى طرف سوره ولايت كو حذف كرنے كا الزام لگاتے ہيں ۔ قرآن كريم كے تعلق سے اس طرح كے مذموم پروپيگنڈه كرنے كيلئے جزائرى نوجوانوں كو اجرت پر خريدتے ہيں جو انٹر نيٹ اور سماجى سوشل ميڈيا كے ذريعے اس رافضى پروپيگنڈے كو جزائرى سماج ميں پھيلا كر بهارى قيمت وصول كرتے ہيں۔
6- اپنے رافضى اہداف كو حاصل كرنے كيلئے ايرانى روافض لبنانى شيعہ نوجوان خوبصورت لڑكيوں كو اجرت پر ليتے ہيں جو جزائرى نوجوانوں كو سوشل ميڈيا كے ذريعے اپنے دام فريب ميں پهنساتى ہيں۔ اس طرح كى ميڈيا كا پورا ايك نيٹ ورك ہے جس ميں ايران، لبنان ، بعض خليجى ممالك اور شام كے اندر ايرانى روافض كى سرپرستى ميں باقاعده كام ہوتا ہے۔ پہلے يہ نيٹ ورك كسى جزائرى نوجوان كا پتہ لگا كر لبنانى لڑكى كے حوالے كرے گا جو اسے اپنے فيس بك وغيره سوشل ميڈيا كے ذريعے پہلے اپنى محبت ميں گرفتار كرے گى پھر مكمل اپنے اعتماد ميں لينے كے بعد ابن تيميہ اور صحيح بخارى وغيره كو جلانے كا حكم دے گى پهر آخر ميں قرآن پاك كے جلاكر دكھانے كى ناٹك كرے گى ۔ اگر جزائرى نوجوان يہ سب حركت كرنے كيلئے تيار ہوجاتا ہے تو پھر اس كے خواہشات كو پورا كركے اس سے ہر طرح كے رافضى ہتهكنڈوں كو جزائرى سماج كے اندر استعمال ميں لايا جاتا ہے۔
7- جزائر كے اندر رافضى رسوم وخرافات كے منانے پابندى عائد ہے ليكن پھر بھى عاشوراء كے موقع پر چهپ كر سو سے ليكر دس تك كى تعداد ميں كسى مخصوص جگہ چھپ كر منا ہى ليتے ہيں جہاں اہل سنت كے خلاف اپنے بغض اور كينہ كو نكالنے كے ساتھ ساتھ صحابہ كرام پرتبرا بهى كرتے ہيں۔يہ روافض اپنے خرافاتى رسوم كو جواز كا درجہ دينے كيلئے مختلف سياسى جماعتوں، جمعيتوں اور طلبہ تنظيموں ميں جگہ بنانے كى كوشش كرتے ہيں اور ان سے شفقت ورحمت كى بهيك مانگتے ہيں۔
8- مصنف كے مطابق الجزائر كے روافض كى تعداد گرچہ تقريبا پانچ ہزار تك محدود ہے ليكن چونكہ ان ميں اكثريت ماہر پڑھے لكھے والوں كى تعداد ہے اور جس منظم انداز ميں ان ميں سے ہر فرد اپنا دينى فريضہ سمجھ كر كام كر رہا ہے اگر اس پر كنٹرول نہ كيا گيا تو اس سے جزائرى سماج كا مستقبل رافضى خطرات سے دوچار ہوكر رہے گا۔
9- الجزائر ميں موجود تمام شيعہ اثنى عشرى عقيدے كے حامل ہيں جو كٹر سنى دشمن رافضى كہلاتے ہيں اور يہى عقيده ايرانى سركار كا ہے ، اسى عقيدے كى بنياد پر خمينى انقلاب برپا كيا گيا تھا نيز اسى عقيدے پر مبنى حزب الله جيسى رافضى تنظيموں كا وجود آيا ہے۔ اسى فكر كے حامل رافضى ايجنٹ اور جاسوس پورے عالم اسلامى ميں بظاہر امريكہ اور اسرائيل سے دشمنى اور اہل بيت سے محبت كے نام پر سنى مسلمانوں ميں اپنے فاسد عقائد اور باطل افكار وخيالات كو پھيلاتے ہيں۔
10- يہ روافض بڑى مہارت سے جزائرى نوجوانوں سے چپكے سے ملاقات كرتے ہيں اور ان كى مادى ومعنوى مدد كركے پہلے اپنے جال ميں پهنساتے ہيں پهر تعليم كے نام پر بہتوں كو ايرانى يونيورسٹيوں ميں لے جاتے ہيں جہاں انہيں مفت تعليم كے ساتھ ان كے ہر طرح كى خواہشات كو پورى كرتے ہيں يہاں تك كہ وه وہاں سے اپنے ملك ميں آكر باقاعده رفض وتشيع كا داعى بن جاتا ہے۔اس جال ميں عام طور سے بے روزگار فالتو نوجوان پهنستے ہيں اور سنى تنظيميں اور جماعتيں اس سے بالكل بے خبر ہيں ۔
11- ملك ميں پهيلے صوفى درگاہوں اور مزاروں كے نام پر جهوٹے اولياء، اقطاب ، ابدال اور اوصياء ماننے والوں ميں اہل بيت اور وليوں كى من گھڑت كہانيوں كے ذريعے ان بدعتى اور خرافاتى عوام ميں جگہ بناتے ہيں۔ اس طرح باہم مشترك عقائد وافكار كے نتيجے ميں پكڑ مضبوط كرنے كے بعد شادى بياه تك كے راه ورسم بنانے ميں كاميابى حاصل كرليتے ہيں۔ پھر اسكے بعد اپنا وه كھيل كھيلنا شروع كرتے ہيں جس كے لئے وه يہاں آتے ہيں۔
12-روافض اپنے ساتھ ايسے قصہ گو واعظين اور ذاكرين كو بهى ركهتے ہيں جو لوگوں كو رافضى عقائد كے مطابق ان كے من گھڑت مہدى منتظر اور اولياء كے قصوں كے ساتھ ساتھ خوابوں پر مبنى واقعات گڑھ كر سناتے ہيں جو جاہل عوام ميں كافى مقبول ہوتےہيں اور اس كے ذريعے يہ روافض لوگوں كے دلوں كو نرم كرتے ہيں۔اور آخر ميں انہى من گھڑت قصوں اور كہانيوں پر مشتمل كتابيں اور پمفلٹ لوگوں ميں تقسيم كرتے ہيں۔
13- حد تو يہ ہوگئى ہے كہ یہ روافض ديگر ممالك كے طرز پر اس ملك ميں بهى عسكرى تنظيم بنانے كا باقاعده اراده ركھتے ہيں۔ چنانچہ حزب الله ايرانى،حزب الله لبنانى، حزب الله پاكستانى، حزب الله يمانى اور حزب الله شامى كے طرز پر حزب الله الجزائرى بنانے كے بارے ميں ان كے عسكرى رہنماؤں نے بيان بهى ديديا ہے۔ (جيسا كہ دوسرے افريقى ملك نائيجيريا كے اندر متشدد افريقى شيعہ ابراہيم زكزوكى كى قيادت ميں ان روافض نےايك منظم عسكرى تنظيم بنا ركهى ہے جس نے وہاں كى سركارى فوج سے كئى بار مسلح جهڑپ بهى كى ہے)۔
14- سياسى اور قانونى تجزيہ كار انور مالك نے آخر ميں كہا ہے كہ ان روافض سے نپٹنا وقت كى اہم ضرورت ہے ۔ اور اس كے لئے بالكل وہى تمام ہتهكنڈے اپنانے كى ضرورت ہے جن پر ہمارا دشمن عمل پيرا ہے۔ چنانچہ دعاة اور مبلغين كے ذريعے روافض كے خلاف عوامى بيدارى لانے ، ان كے مابين كتابيں اور پمفلٹ تقسيم كرنے اور ان كے فاسد عقائد سے لوگوں كو آگاه كرنے نيز ان سے متوقع خطرات سے آگاه كرنے كى ضرورت ہے۔ ان انفرادى كوششوں كے ساتھ ساتھ جماعتى اور سركارى كوششوں كى بهى ضرورت ہے ورنہ دير ہوجانے كى صورت ميں ملك كو تباه ہونے سے نہيں بچايا جا سكے گا۔ تفصيل كے لئے ديكهيں يہ ويب سائٹ:
http://www.alrased.net/main/articles.aspx?selected_article_no=501
https://www.aljazair24.com/national/35061.html/amp
💥علامة الجزائر اور انور مالك كا مختصر تعارف:
🌹علامہ فركوس:
غيور قوم وملت سلفيان جزائر ميں آپ كا شمار ہوتا ہے۔ آپ كا پورا نام ابو عبد المعز محمد على بن بوزيد بن على فركوس القبى ہے۔ آپ علامة الجزائر محمد على فركوس سے جانے جاتے ہيں۔
ملك كى آزادى ميں فرانسيسى ظالم استعمار كے خلاف آپ كى قربانىاں ناقابل فراموش ہيں۔ آپ علمى اور دينى خانوادے سے تعلق ركهتے ہيں۔ شرعى علوم كے حصول كے بعد آپ نے قانون اور مينيج مينٹ كى ڈگرى بهى حاصل كى۔ بعد ازاں آپ نے شرعى علوم ميں مہارت حاصل كرنے كيلئے مدينہ منوره كى مشہور يونيورسٹى جامعہ اسلاميہ تشريف لے گئے اور وہاں كى يونيورسٹى اور مسجد نبوى كے بڑے بڑے مشہور علماء اور شيوخ سے خالص شرعى علوم كو حاصل كيا ۔ آپ كے مشہور اساتذه ميں سے :
شيخ عطيہ بن محمد سالم ، قاضى محكمہ مدينہ منوره۔
شيخ عبد القادر بن شيبة الحمد، استاذ الفقہ والأصول بكليہ الشريعہ
شيخ ابو بكر الجزائرى، واعظ مسجد نبوى اور استاذ التفسير بكلية الشريعہ
شيخ محمد مختار الشنقيطى، استاذ تفسير بكلية الشريعہ، ومدرس بمسجد نبوى
شيخ عبد الرؤوف لبدى، استاذ اللغہ بكلية الشريعہ
شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز
شيخ حماد بن محمد انصارى وغيره
مدينہ منوره سے شرعى علوم حاصل كرنے كے بعد 1982 ميں اپنے وطن تشريف لے آئے اور اسى وقت سے كتاب وسنت پر مبنى سلفى منہج كو جزائر كے اندر پھيلانے ميں دل وجان سے مشغول ہيں۔ اور پورى ہمت اور بہادرى كے ساتھ اس ميدان ميں ڈٹ كر سارے مخالفين كا مقابلہ كر رہے ہيں۔
آپ تدريسى ميدان ميں كام كرنے كے ساتھ ساتھ تاليفى اور دعوتى ميدان ميں برابر كام كرتے رہے ہيں۔ چنانچہ تدريسى ميدان كے علاوه آپ خطابت ، صحافت اور تاليف وتصنيف كے ذريعے جس طرح سلفيت كى خدمت كى ہے افريقہ كے اندر اسكى نظير مشكل سے ملے گى۔ اور يہى چيز دشمنان سلفيت كى نگاه ميں كھٹك رہى ہے۔
ليكن الله كے لئے خالص كام كرنے والوں كا الله حامى ہوتا ہے اسكى مثال شيخ كے حاليہ خطاب سے لگايا جاسكتا ہے كہ جس طرح مخالفين نے آپ كو گھيرنے كى ناپاك كوششيں كيں اس سے كہيں زياده لوگ آپ كے حمايتى بن گئے اور سوشل ميڈيا سے ليكر سڑكوں تك آپ كيلئے لوگوں نے آوازيں اٹھائيں ۔ چنانچہ نوجوانوں نے باقاعده آپ كے حق ميں ٹويٹر پر (كلنا محمد على فركوس) كا ٹرينڈ چلاياجس سے آپ كى حقانيت تمام لوگوں كے سامنے كهل كر سامنے آگئى ۔
(آپ كے بارے ميں تفصيلى معلومات ويكى پيڈيا ميں آپ كا نام (محمد على فركوس) لكھ كر ديكها جاسكتا ہے)
🌹انور مالك:
آپكا اصل نام نوار عبد المالك ہے ۔ آپ جزائر كے مشہور صحافى اور سياسى وقانونى تجزيہ كار ہيں۔ يورپين اتحاد كى ماتحت چلنے والى تنظيم(Human Restart Organization) كے جنرل سكريٹرى بھى ره چكے ہيں۔ ايران كے ملكى اور عالمى جرائم سے لوگوں كو آگاه كرنے كيلئے پيرس ميں (المرصد الدولي لتوثيق وملاحقة جرائم إيران) كے نام سے ايك تنظيم بنائى گئى ہے جس كے صدر آپ ہی ہيں اور قانونى ماہر جناب اسماعيل خلف الله ہيں۔
جزائر كے اندر اخوانيوں سے كئى بار آپ نے مناظرے كئے جن كے اندر ان كے تمام سياسى گندے عزائم كا پرده فاش كيا ۔ 2011 كے اندر عرب ليگ كى طرف سے ملك شام ميں آپ كو نگراں بناكر بهيجا گيا تاكہ وہاں حقوق انسانى كى خلاف ورزياں ديكھ كر نوٹ كريں ليكن جب آپ نے وہاں ايران وشام كے روافض كے خلاف چارج شيٹ بنانا شروع كيا آپ كو ملك سے نكل جانے كيلئے بڑے پيمانے پر رافضيوں نے ہنگامہ كيا يہاں تك كہ آپ كو مستعفى ہونا پڑا۔ آپ پر كئى بار حملے بهى كئے گئے ليكن الله نے آپ كو محفوظ ركها۔
آپ نے بہت سارے عالمى مباحثے ميں شركت كى ہے ان ميں 7/فرورى 2017 كا جزيره ٹى وى چينل ميں (الاتحاه المعاكس)پروگرام ميں علمى مباحثہ كافى مشہور ہے جس ميں آپ نے كهل كر كہا كہ ايران دہشت گردوں كى سرپرستى كرتا ہے ، مشرق وسطى ميں امريكہ اور ايران كے مفادات ايك ہيں۔ آپ نے پروگرام اينكر (فيصل القاسم) سے سوال كيا كہ جورج بش نے ايران كو سونے كى تهالى ميں عراق كو سونپ ديا ، اوباما نے شام كو سونپ ديا اور ٹرمپ كون سا عربى ملك سونپنے والا ہے؟
آپ عالم عرب ميں اس وقت سلفى آئكن بنے ہوئے ہيں ۔ مملكت سعودى عرب كے كارناموں اور توحيد وكتاب وسنت پر مبنى ان كے عزائم كو پورى دنيا ميں پرچار كرتے ہيں نيز اخوانيوں اور رافضيوں كے ناپاك ہتهكنڈوں سے بهى لوگوں كو آگاه كرتے رہتے ہيں۔ سوشل ميڈيا پر فيس بك پيج (مالك أنور) اور ٹويٹر (@anwarmalek) پر آپ كو ديكها جاسكتا ہےجہاں آپ اپنے تجربات كى روشنى ميں دشمنان توحيد كے گھناؤنے عزائم سے لوگوں كو آگاه كرتے رہتے ہيں۔
آپ نے بہت سارى معركة الآراء كتابيں بهى تاليف كى ہيں جن ميں يہ چار بہت مشہور ہيں:
طوفان الفساد وزحف بن لادن في الجزائر
المخابرات المغربية وحروبها السرية على الجزائر
أسرار الشيعة والإرهاب في الجزائر
ثورة أمة : أسرار بعثة الجامعة العربية إلى سورية
دعا ہے كہ الله تعالى توحيد كے ان متوالوں كى حفاظت فرما اور ان جيسے غيوران قوم وملت كو بهٹكى ہوئى انسانيت كيلئے سہارا بنا نيز دشمنان توحيد كے تمام ناپاك سازشوں كو ناكام بنا كر ايك ايك كركے دنيا كے سامنے عياں كردے انك انت العلام الغيوب۔ آمين
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1609132065866741&id=100003098884948
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق