🎪کیا قرضاوی صاحب دودھ کے دھلے ہیں؟!🎪
💥دراصل تحریکی قرضاوی صاحب کو عالم اسلام کے روحانی پیشوا کے طور پر پروجیکٹ کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ انکی غلطیوں پر پردہ ڈال کر انہیں ایسا فرشتہ صفت انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جس سے غلطی ہونے کا امکان ہی نہ ہو۔ بعض تو غلو اور اندھ بھکتی میں یہاں تک کہتے پھر رہے ہیں کہ انکے پاؤں کے گرد کے برابر بھی نہیں پہونچا جا سکتا۔
قرضاوی صاحب علم کے پہاڑ ہیں، ان کے پاس حکمت کا سمندر ہے، فصاحت و بلاغت کے آسمان پر فائز ہیں۔ تو کیا اس وجہ سے ان سے غلطی نہیں ہو سکتی؟! اور کیا انکی غلطیوں پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا؟! کتاب وسنت کے خلاف انکے افکار غلطاں کی کیا نشاندھی نہیں کی جا سکتی؟!
💥چنانچہ انہوں نے اسلام میں حرام کردہ گانے اور موسیقی کو حلال کردیا، ہمیشہ ہمیش کیلئے اجنبیہ عورتوں سے حرام کردہ مصافحہ کو بھی حلال کردیا، واضح نصوص کی روشنی میں رجم کی حقیقت کو ماننے سے صاف انکار کردیا، حکام کے خلاف احتجاج، مظاہرے اور خروج کرنے کے صرف قایل ہی نہیں بلکہ نوجوانان امت کو ایسے منع کردہ اور ہلاکت خیز امور پر ابھارتے بھی ہیں۔ اور تو اور قرضاوی صاحب پہلے معمر قذافی سے خوب دوستانہ ملاقاتیں کرتے ہیں پھر اسی کے قتل کا فتویٰ بھی صادر کرتے ہیں۔ کیا زمانے نے اس سے بھی بڑی منافقت دیکھی ہے اور وہ بھی "آسمان وپہاڑ سے بھاری بھرکم علم و حکمت والے علامۃ الدھر" کی طرف سے کہ جس سے دوستی کرے اسی کو قتل کرنے کا فتویٰ بھی صادر کرے۔ اب انکی غلطیوں کو سامنے لانے والے کیا غلطی پر ہیں؟
💥قرضاوی صاحب نے تو 2011 کے عرب فسادیہ کے موقع پر عرب حکمرانوں کے خلاف نوجوانوں کو ابھارا تھا اور کہا تھا کہ موجودہ حکومتوں کو ختم کرکے عوام پسند حکومت بناؤ، ان ساری سازشوں کا پول قطر میں موجود روسی وزیر خارجہ نے کھولی۔ دیکھیں اس ویڈیو کو:
https://twitter.com/fozansf/status/987196696504537089?s=09
کیا اگر ایسے لوگوں کو جلد از جلد ایکسپوز نہ کردیا جائے تو پتہ نہیں کتنے مسلم حکمرانوں کے خلاف قتل کا فتویٰ صادر کردیں اور انکے نوجوان چیلے، اندھ بھکت اور عقیدت مند حصول جنت کی خاطر مسلمانوں کا خون بہاتے رہیں۔ دیکھیں اس ویڈیو کو جس میں کہہ رہے ہیں کہ قذافی کو مارنا ضروری ھے جس سے بھی ہو سکے گرچہ ایک ہی گولی ضرور مارے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ اسے دیکھ کر خود فیصلہ کریں کہ قرضاوی کتنے بڑے پارسا ہیں یا کتنے بڑے منافق خارجی ہیں:
https://twitter.com/AhmedMousa_1/status/987008389585735680?s=09
مزکورہ ٹیوٹر لنک پر موجود تبصروں کو بھی دیکھیں تاکہ قرضاوی صاحب کے تعلق سے مزید جانکاری حاصل ہو۔
فیس بک پر بھی دیکھیں
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق